ٹویٹر کو اپنی طاقت بنائیں!!

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

سوشل میڈیا کی اہمیت اور دائرہ لگاتار بڑھتا جارہا ہے۔ایک زمانے میں پڑوسی کی خبر پڑوسی کو بھی آسانی سے نہیں مل پاتی تھی مگر سوشل میڈیا کی وسعت کا کمال ہے کہ ایک ملک کی خبر چند منٹوں میں دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے۔
سوشل میڈیا کے دامن میں فیس بک، واٹس اپ، ٹیلی گرام،انسٹا گرام، یوٹیوب اور ٹویٹر وغیرہ شامل ہیں۔مگر تمام ذرائع میں ٹویٹر نے سب سے زیادہ اہمیت اور طاقت حاصل کی ہے۔ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا ذرائع میں بنیادی فرق اس بات کا ہے کہ دیگر فورم تفریح (Entertainment) کے لیے زیادہ استعمال ہوتے ہیں جبکہ ٹویٹر کا استعمال خبروں، سیاسی اور سماجی معلومات کے لیے زیادہ ہوتا ہے۔ٹویٹر کو تفریح سے بچانے کے لیے ہی اس پر 140 حروف لکھنے کی پابندی لگی ہوئی ہے۔تاکہ لوگ جو لکھیں کام کی بات لکھیں۔ٹویٹر پر بڑے سائز کے آڈیو/ویڈیو بھی اپلوڈ نہیں کیے جاسکتے۔دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ ٹویٹر اپنے فورم پر مختصر اور معلوماتی پوسٹ چاہتا ہے۔اپنی اِنہیں خوبیوں کی وجہ سے ٹویٹر، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے متوازی میڈیا (Parallel Media) بن کر ابھرا ہے۔ٹویٹر کی اسی طاقت کا اثر ہے کہ سیاسی لیڈران ، فلمی اداکار اور کھیل سے وابستہ افراد پریس نوٹ کی بجائے ٹویٹ کر دیتے ہیں۔بڑے بڑے نیوز ہاؤس خبروں کے لیے ان کے ٹویٹر ہینڈل چیک کرتے ہیں۔ان کے ٹویٹ کی بنیاد پر ہی خبریں چلاتے اور چھاپتے ہیں۔
عام آدمی لیڈروں/اداکاروں جتنا مشہور ومعروف نہیں ہوتا اس لیے اُسے اتنی اہمیت بھی نہیں ملتی کہ ان کا ٹویٹر ہینڈل چیک کیا جائے مگر ٹویٹر نے عام آدمی کو اپنی طاقت دکھانے کے لیے ہیش ٹیگ (#Hashtag) نامی ایسا آپشن دیا ہے۔جس کے ذریعے آپ کسی بھی معاملے کو موضوع سخن ( topic of conversation) بنا کر دوسرے لوگوں کو بھی اس سے جوڑ سکتے ہیں۔اگر چند لوگ مل کر کسی ایک موضوع پر گفتگو/ٹویٹ/اظہار خیال شروع کردیں۔ایک دوسرے کے ٹویٹ کو شئیر/ساجھا کرتے رہیں تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ موضوع ملکی سطح پر ٹرینڈ کرنے لگتا ہے۔ٹرینڈ لگاتار جاری رہے،لوگ مسلسل جڑتے رہیں تو مذکورہ موضوع (ہیش ٹیگ) پورے ملک اور کبھی کبھی پوری دنیا میں چرچا کا موضوع بن جاتا ہے۔یہ سب کچھ عام لوگوں کے اتحاد کی طاقت سے ہوتا ہے۔ایک بار کوئی ہیش ٹیگ موضوع سخن بن جائے تو نیوز چینل والے بھی اسے خبر بنانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ٹویٹر کی یہی خوبی اسے دیگر سوشل میڈیائی فورم سے ممتاز کرتی ہے۔ٹویٹر کی اس خوبی کی حالیہ مثال "روشن مستقبل دہلی” کا ٹرینڈ تھا۔جو مدھیہ پردیش حکومت کے مسلم دشمن رویے کے خلاف چلایا گیا تھا۔ایم پی میں شدت پسندوں نے پولیس کی موجودگی میں مسلم آبادیوں میں گھس کر دنگا فساد کیا۔مسلمانوں کو چِڑھانے کے لیے مسجد کے پاس ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کیا اور بھڑکاؤ نعرے بازی کی۔پولیس انتظامیہ نے ظالموں کو روکنے کی بجائے مظلوموں کو ہی نشانہ بنایا اور انہیں ہی گرفتار کیا۔زعفرانی دہشت گردی کے سارے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل تھے مگر کسی بھی میڈیا ہاؤس نے نام کو بھی خبر نہیں چلائی۔الٹا مظلوم مسلمانوں کو ہی مورد الزام ٹھہرایا۔سیاسی لیڈروں نے بھی طوطا چشمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتنے بڑے ظلم و ستم کا ذرہ برابر بھی نوٹس نہیں لیا۔
اس کھلی ہوئی زیادتی کے خلاف "روشن مستقبل” نے یکم جنوری 2021 کو ٹرینڈ چلانے کا فیصلہ لیا۔دوپہر 2:30 سے ٹرینڈ شروع ہوا۔عام لوگ اس ظلم و زیادتی سے سخت ناراض تھے اس لیے ٹرینڈ میں شامل ہوتے گئے۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ ہیش ٹیگ ملکی سطح پر ٹرینڈ کرنے لگا۔جب بات دور تک پھیل گئی اور عوامی غصے کا احساس ہوا تو سیاسی لیڈروں نے بھی آواز اٹھائی۔ٹرینڈ چلتے دیکھ کئی یوٹیوبر نے ایم پی حکومت کے خلاف نیوز اسٹوری چلانا شروع کردی۔اس کے بعد بے شرم میڈیا کو بھی اس خبر کو چلانا پڑا۔اس ٹرینڈ میں تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار ٹویٹ ہوئے۔یعنی ایم پی حکومت کے خلاف ڈیڑھ لاکھ لوگوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔اسی ناراضگی کا اثر تھا کہ حکومت نے بادل نخواستہ زعفرانی دنگائیوں کو گرفتار کرنا شروع کیا۔یہ سب کچھ ٹویٹر کی طاقت اور اس کے صحیح استعمال کا نتیجہ تھا۔خوشی کی بات یہ ہے کہ پورا ٹرینڈ علما اور ائمہ نے چلایا۔علماے کرام کا ماڈرن دنیا کے ڈیجٹل پلیٹ فارم کو اتنی مہارت کے ساتھ استعمال کرنا ان لوگوں کو منہ توڑ جواب بھی ہے جو علما اور ائمہ کو دو رکعت کے امام سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ایسے لوگوں کو اپنی فکر کا زاویہ درست کرنا چاہیے۔
ہماری قوم کے وہ نوجوان جو راتوں رات جاگ کر فلموں اور گیم کھیلنے میں وقت گنواتے ہیں، وہ اپنا قیمتی وقت ٹویٹر جیسے فورم کے لیے نکالیں۔اور درست استعمال کرکے اپنی قوم اور ملک کے لیے اچھے کام انجام دیں۔اچھی اور مفید معلومات عام کریں اور اپنے آس پاس ہونے والی سیاسی وانتظامی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں۔

یاد رکھیں! جس قوم کے نوجوان اپنا وقت ناچ گانے اور تماشوں میں گزارتے ہیں وہ قوم دن بدن پستی میں گرتی جاتی ہے۔وہی قومیں مشکلوں سے لڑ پاتی ہیں جس کے نوجوان اپنے وقت کا صحیح استعمال کرتے ہیں۔اس لیے ڈجیٹل پلیٹ فارم کا اچھا استعمال کریں اور خود کو اپنے اور سماج کے لیے مفید بنائیں۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے