ٹویٹر چلائیں، مگر دھیان سے!!

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

عالمی فورم پر اپنی بات رکھنے کے لیے ٹویٹر سب سے بڑا اور معتبر نام ہے۔اس فورم پر دنیا کے تمام سربراہان مملکت ، حکومتی وزارتیں ، تجارتی کمپنیاں ، خفیہ ایجنسیاں ، ممبران پارلیمنٹ و اسمبلی حتی کہ آپ کی تحصیل وضلع کے تھانے اور پولیس افسران بھی موجود ہیں۔اسی فورم پر دنیا کے بڑے بڑے اخبار ، نیوز چینل اور صحافی بھی موجود ہیں۔اس لیے یہاں کی خبر بڑی جلدی وائرل ہوجاتی ہے اور کئی بار یہاں کی بنیاد پر بریکنگ نیوز تک بن جاتی ہیں۔کسی بھی منسٹر ، نیتا اور صحافی کو ٹیگ کرکے اس تک اپنی بات بہ آسانی پہنچائی جاسکتی ہے۔

یہ بات آپ اچھی طرح جان چکے ہیں کہ ٹویٹر پر حکومت وانتظامیہ دونوں موجود ہیں اس لیے آپ کی کہی ہوئی بات آن ریکارڈ ہوتی ہے۔یوں تو سوشل میڈیا کے کسی فورم پر ایسی بات کرنا مناسب نہیں ہے جس پر قانونی گرفت ہوسکتی ہو۔لیکن دیگر فورم کے بالمقابل ٹویٹر زیادہ سنجیدگی اور سمجھ بوجھ کا مطالبہ کرتا ہے
اس لیے اس فورم کو استعمال کرتے ہوئے کچھ چیزوں کا دھیان رکھنا بے حد ضروری ہے تاکہ کسی ممکنہ پریشانی یا قانونی گرفت میں نہ آسکیں۔
🔹کبھی بھی کسی مذہب یا مذہبی شخصیات کو نشانہ نہ بنائیں۔
🔹کسی کی ذاتی زندگی پر حملہ کریں نہ کسی کی نجی معلومات عام کریں۔
🔹تنقید کریں مگر قانونی دائرے میں۔
🔹ملک کے حساس اور نازک ایشوز پر بات نہ کریں۔
🔹ان باکس(DM) میں ملک کے حساس معاملات پر بات کرنے والے کو فوراً بلاک کردیں۔
🔹 لڑکیوں کی آئی ڈی سے آنے والے مسیج اور کالنگ آفر کو پہلی فرصت میں اگنور/بلاک کریں۔
🔹ایسا کوئی بھی مواد/آڈیو/ویڈیو نہ ڈالیں جو قانونی زد میں آسکتا ہو۔
🔹کسی بھی بھڑکاؤ پوسٹ/ کو ری ٹویٹ (شئیر) نہ کریں۔
🔹صدر مملکت/وزیر اعظم /وزیر اعلیٰ جیسے آئینی عہدوں پر غیر مہذب اور غیر قانونی کمنٹ نہ کریں۔

کئی بار نئے یوزر (User) جب اس فورم پر آتے ہیں تو کچھ آئی ڈیز کی بھڑکاؤ پوسٹ اور گالی گلوچ والے کمنٹ دیکھ کر طیش میں آجاتے ہیں اور ترکی بہ ترکی اسی لہجے میں مَنتری سَنتری سب کے بارے میں اناپ شناپ کمنٹ کر دیتے ہیں۔ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ افراد جوش وجذبات میں جہاد جیسے موضوع پر غیر حکیمانہ پوسٹ اور گفتگو شروع کردیتے ہیں۔

خوب یاد رکھیں!

ٹویٹر پر آپ کے مخالفین نے آئی ٹی سیل بنا رکھے ہیں۔جو دِہاڑی مزدور کی طرح فی ٹویٹ پیسے پاتے ہیں۔یہ لوگ فرضی آئی ڈی سے جان بوجھ کر بھڑکاؤ پوسٹ ڈالتے ہیں۔کئی بار ان باکس آکر آپ سے مسلمان بننے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔اگر آپ نے جواباً کسی نیتا ، منتری یا پولیس کو گالی/دھمکی دی یا میسج کے جواب میں مسلمان بنانے کی بات کی تو یہ فوراً ہی آپ کے ٹویٹ کا اسکرین شاٹ لیکر پولیس میں شکایت کر دیتے ہیں۔اور آپ پر وزیر اعظم/ وزیر اعلیٰ کو گالی دینے/دھمکانے یا تبدیلی مذہب پر ابھارنے کا کیس درج کرادیتے ہیں نتیجتاً آپ بیٹھے بٹھائے ناگہانی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں۔اس لیے جوش پر ہوش کو غالب رکھیں۔کسی بھی قیمت پر کسی کے بہکاوے/ اکساوے میں نہ آئیں۔فرضی آئی ڈیز اور بھڑکاؤ مسیج کرنے والوں کا منہ بند کرنے کے دیگر راستے بھی ہیں۔جس سے ان کی بدتمیزیوں کا بھرپور جواب دیا جاسکتا ہے۔
جتنے بھی نئے یوزر (user) آرہے ہیں وہ اپنے پیش رو افراد کی پوسٹ/کمنٹ کا انداز دیکھیں اور اسی طرح خود بھی کریں۔آپ دستوری وقانونی دائرے میں اپنی بات رکھیں۔کسی نیتا/افسر یا محکمہ کی شکایت کرنا ہو یا تنیقد، لہجہ سنجیدہ اور الفاظ ہمیشہ محتاط ہوں۔تاکہ آپ کی بات کو رد کرنا کسی کے لیے آسان نہ ہو۔سنجیدہ لب ولہجہ کے ساتھ کسی لیڈر ،منسٹر یا پولیس افسران کو ضرور ٹیگ کریں۔اس سے آپ کی آواز مؤثر بھی ہوگی اور قوم کے لیے مفید بھی ثابت ہوگی۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے