ماں نے اپنے بیٹے سے شادی کیوں کی ؟

از قلم: خبیب القادری مدناپوری، بریلی شریف یوپی بھارت

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بہت سے علوم اور بہت سے اختیارات عطا فرمائے ہیں۔

خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ جو فاتح خیبر بھی ہیں اور داماد پیغمبر بھی، آپ کے متعلق پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انا مدینۃ العلم وعلی بابہا (میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ)

امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ میں آئے تو آپ کے پاس لوگ جمع ہو گئے؛ ایک روز امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد ایک شخص سے فرمایا کہ فلاں قصبہ میں جاؤ او وہاں ایک مسجد ہے جس کے پہلو میں ایک مکان واقع ہے اس میں ایک عورت اور مرد باہم لڑ رہے ہیں انہیں میرے پاس لے آؤ
وہ شخص وہاں گیا اور ان دونوں کو ساتھ لے آیا
امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا آج تمہارا جھگڑا طول پکڑ گیا ہے نوجوان نے جواب دیا اے امیر المؤمنین میں نے اس عورت سے نکاح کیا لیکن جب میں اس کے پاس آیا تو مجھے اس سے سخت نفرت ہوگئی اگر یارا نہ ہوتا تو میں اسے اسی لمحہ اپنے پاس سے دور کر دیتا ہے
اس نے میرے ساتھ جھگڑنا شروع کر دیا حتیٰ کہ آپ کا فرمان پہنچ گیا _ امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اہل مجلس کو مخاطب فرماتے ہوئے فرمایا : کہ یہ شخص بہت سی باتیں کہنا چاہتا ہے لیکن یہ نہیں چاہتا کہ اس کی باتیں کوئی اور بھی سن لے یہ سنا تو تمام حاضرین وہاں سے چلے گئے اور صرف دونوں باقی رہ گئے امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس عورت کی طرف منہ کر کے پوچھا اس نوجوان کو پہچانتی ہو ؟ اس نے جواب دیا نہیں جناب
امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا میں تمہیں بتاؤں تاکہ تم اسے پہچان لو لیکن شرط یہ ہے کہ خواہ مخواہ انکار نہ کرنا؟ اس عورت نے عرض کی حضور آپ کی بات کا بلاوجہ انکار نہ کرو گی ؛ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تم فلاں بنت فلاں نہیں ہو؟ اس نے ہاں حضور وہی ہوں امیر المؤمنین حضرت علی نے فرمایا تمہارا ایک چچا زاد بھائی نہ تھااور تم ایک دوسرے کو بہت چاہتے تھے اس نے کہا ہاں جناب آپ نے فرمایا ایک رات تو کسی کام کو باہر آئی تو اس نے تجھے پکڑ کر تجھ سے جماع( زنا) کیا جس کے نتیجہ کے طور پر تو حاملہ ہو گئی یہ واقعہ تو نے اپنی ماں کو بتایا لیکن ماں نے اس راز کو پوشیدہ ہی رکھا جب وضع حمل کا وقت آیا تو رات کا وقت تھا تیری ماں تجھے گھر سے باہر لے گی تیرے یہاں بچہ پیدا ہوا تو نے اسے کمبل میں لپیٹ کر دیوار کے پیچھے پھینک دیا جہاں سے آدمی آتے جاتے تھے وہاں ایک کتا آیا جس نے اسے سونگھا تونے اس کتے پر پتھر دے مارا جو بچے کے سر پر لگا جس سے وہ زخمی ہو گیا تیری ماں نے اپنے ازاربند سے کچھ کپڑا پھاڑ کر اس کے سر کو باندھ دیا پھر تم دونوں واپس چلی آئیں
اور پھر تمہیں اس کا کوئی پتہ نہ چلا _ اس عورت نے جواب دیا ہاں سرکار ایسا ہی ہوا تھا لیکن اے امیر المؤمنین اس واقعہ کی میرے اور میری ماں کے علاوہ کسی کو خبر نہ تھی آپ نے فرمایا جب صبح ہوئی تو فلاں قبیلہ اس لڑکے کو اٹھا کر لے گیا اور اس کی تربیت کی یہاں تک کہ وہ جوان ہوگیا اور ان کے ساتھ ہی کوفہ میں آیا اور اب تجھ سے شادی کر لی پھر آپ نے اس نوجوان سے فرمایا ذرا اپنا سر ننگا کرنا اس نے سر ننگا کیا تو زخم کا اثر نمایاں تھا آپ نے فرمایا یہ تمہارا لڑکا ہے اللہ تعالیٰ نے اسے حرام چیز سے محفوظ رکھا اب جا اسے لے جا
(اختیارات و تصرفات صفحہ 142 143 ؛ شواہد النبوۃ صفحہ 281 )
خلاصہ۔ اللہ تعالیٰ جل مجدہ الکریم کریم نے امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو علم غیب عطا فرمایا کہ کب زنا ہوا کب شادی ہوئی کہاں لڑائی ہوئی سب امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتا دیا
ذاتی علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے
اور اللہ تعالیٰ نے عطائی علم اپنے نیک بندوں کو عطا فرمایا ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نیم روافض کا حکم شرعی

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ چند سالوں سے سنی کہلانے والوں میں ایک طبقہ اسلاف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے