حسن اخلاق: اسلام میں ایک عظیم نعمت

ازقلم: ہما عائشہ
خانقاہ قادریہ راہ سلوک، قادری نگر، سوتیہارامسلم ٹولہ، سیتامڑھی(بہار)

اسلام میں اخلاقیات کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ایمان وعقائد کی درستی کے بعد نیک اعمال وافعال کرتے ہوئے جب تک ایک مسلمان حسن اخلاق جیسی صفت سے متصف نہ ہو جائے اس کی زندگی دوسروں کے لیے نمونہ عمل نہیں بن سکتی،جب کہ ہر مسلمان دین کا داعی ہے۔اس لحاظ سے ہرمسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اخلاق حسنہ سے آراستہ وپیراستہ کرے۔ابتدائےاسلام میں جہاں مجاہدین اسلام کی کوششوں سے اسلام کی ترویج واشاعت ہوئی وہیں زمانہ خیرالقرون کے نیک سیرت داعیان اسلام کے اخلاق حسنہ کی تلوار سے بھی اسلام خوب خوب پھیلا۔
یوں تو تمام مذاہب میں حسن اخلاق کوجگہ دی گئی ہےلیکن مذہب اسلام میں اس کی اہمیت وافادیت کو قرآن کریم اور احادیث نبویہ کی روشنی میں جس طرح اجاگرکیاگیاہےوہ آب زرسےلکھنے،دل کے دل میں بسانےاوراس پرعمل کرنے کے قابل ہے، کیو ں کہ مذہب اسلام ایک مکمل اور مستحکم دین ہے ۔اس میں زندگی کے تمام طور طریقے تفصیلاً بیان کیے گئے ہیں، تاکہ صاف ستھرا اور منظم معاشرہ کی تشکیل ہو سکے۔
چنانچہ جب ہم قرآن پاک میں حسن اخلاق کی افادیت واہمیت کے بارے میں غور کرتے ہیں تو ہمیں بے شمار آیاتِ کریمہ سے پتہ چلتاہے کہ اللہ تعالیٰ نےحسن اخلاق کواپنےبندوں کے لیے کافی اہم بنایاہے۔
قرآن مقدس میں حسن اخلاق کی اہمیت:
قرآن پاک میں ہے: إنّک لعلٰی خُلُق عظیم( سورۃالقلم : ۵٢)
یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ حسن اخلاق کے عظیم مرتبہ پر فائز ہیں۔
حدیث رسول میں حسن اخلاق کی اہمیت:
عن ابی الدرداء عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: مامِن شیء أثقلُ في الميزان من حُسن الخُلق ( ابوداؤد ،رقم٤٧٩٩)
” ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میزان میں کوئی چیز بھی اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی نہ ہو گی ۔”
عن عائشۃَ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہاقالت :سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : إن المؤ من لیدرک بحُسن خُلقہ درجۃ الصائم القائم ۔( ابوداؤد، رقم ٤٧٩٨)
” حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ بندہ مومن حسن اخلاق سے وہی درجہ حاصل کرلیتاہے جو دن کے روزوں اور رات کی نمازوں سے حاصل ہوتاہے ۔”
حدیث شریف: ابن ابی دنیا نے” قضاءالحوائج” اور ابو الشیخ نے ” ثواب” میں امام جعفرصادق سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان کسی مسلمان کادل خوش کرتاہےتواللہ تعالیٰ اس خوشی سے ایک فرشتہ پیداکرتا ہے جو اللّہ تعالی کی مدح وستائش کرتارہتاہےیہاں تک کہ جب وہ شخص قبر میں چلے جاتاہےتووہ اس کے پاس آکر کھڑاہو جاتاہےاور کہتاہے کہ مجھے پہچانا نہیں؟ وہ مسلمان پوچھتاہے کہ تم کون ہو؟ وہ کہتاہے:کہ میں وہ خوشی ہوں جوتونے فلاں مسلمان کے دل میں داخل کی تھی،اس لیے آج میں تیرا جی (دل)بہلا کر تیری وحشت دور کروں گا تجھے حجت سکھاؤں گا، تجھے نکیرین کے جواب کے وقت حق بات پر ثابت قدمی عطا کروں گا، روز قیامت، میں تیرے ساتھ رہوں گا اور تیرے پروردگارکے حضور تیری سفارش کروں گا اور تجھے جنت میں تیرامکان دکھاؤں گا( موسوعۃ رسائل ابن ابی الدنیا، ج:٢، ص:٨٦)
جب حضرت عمر فاروق ر ضی اللّہ تعالٰی عنہ اپنے عہد خلافت میں بیت المقدس تشریف لے گئے تو عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان سے مصر پر فوج کشی کی اجازت حاصل کرلی اور چارہزاراسلامی لشکرکولےکرمصر کی جانب بڑھے اور مقام” عین شمس ” اورمصر کی فوجی چھاؤنی ” فرما ” پر اسلام کا پرچم لہرادیا مگر اسکندریہ جہاں شاہ مصر” مقوقس” مقیم تھااسلامی لشکر کو اس کی فتح یابی کے لیے شدید انتظارکرنا پڑا- بالآخر اللّہ جل مجدہ نے تین مہینے کے محاصرے کے بعد اسکندریہ کا دروازہ بھی مسلمانوں کے لیے کھول دیااور فتح نصیب ہوئی-
حضرت عمروبن عاص کو جب اسکندریہ کی فتح یابی کی خوش خبری ملی تو اللّہ تعالیٰ کا شکر بجا لائے اورجلد از جلداسکندریہ پہنچنے کی تیاری شروع کردی ،لشکرکو کوچ کاحکم دے دیاگیا، تمام لشکری اپنے اپنے سازوسامان سمیٹنے اور کوچ کی تیاری میں مشغول ہوگئے، خیمے اکھاڑے جانے لگے، جانورں کی پیٹھ پر سامان لد گئے- حضرت عمروبن عاص نے بھی اپناخیمہ اکھاڑنے کا حکم دے دیاتھا کہ اچانک سےحضرت عمروبن عاص کی نظر خیمے کے اندر موجود ایک گھونسلے پر پڑی جس میں کبوتر نے انڈا دے رکھا تھا، حضرت عمروبن عاص سوچ میں پڑگئے کہ اگر یہ خیمہ کھول دیا گیاتو کبوتر کاگھراجڑ جائےگا اور ایک مسلمان کے ہاتھ سے ایک بے زبان پرندے کو تکلیف پہنچے گی- فوراًسپاہیوں کو خیمہ اکھاڑنے سے روک دیااور فرمایا:کہ اس خیمہ کو نہ اکھاڑو، اسے یوں ہی چھوڑدو، تاکہ ہمارےمہمان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے، اوراس طرح صرف ایک کبوترکے آرام وآسائش کی خاطر اس خیمے کو وہیں چھوڑدیاگیا جو میدان جنگ میں سپاہی کے لیے نہ صرف سردی اور گرمی سے بچنے کا ذریعہ ہوتا، بلکہ بسااوقات قلعہ کاکام بھی کرتا ہے – اسکندریہ سے واپسی پر حضرت عمروبن عاص نے اسی مقام پر ایک شہر کی تعمیر کا حکم دیا- عربی زبان میں خیمہ کو” فسطاط” کہتے ہیں، اس لیے وہ مقام کبوتر کے اسی خیمے کی نسبت سے ” فسطاط” کے نام سے مشہور ہوا جو آج تک مسلمانوں کے حسن اخلاق کا گواہ ہے( معجم البلدان، یاقوت الحموی، جلد: ٤،ص٢٦٣)
اس سے معلوم ہوتاہے کہ مسلمانوں کا حسن اخلاق اتنا عظیم رہاہے کہ ان کے ہاتھوں پرندے تک محفوظ اور مامون تھے مگر دور حاضر کا بہت بڑا اور بُرا المیہ ہے کہ آج کا مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں پریشان ہے، اس لیے ہمیں ان باتوں سے نصیحت حاصل کرنی چاہیے کہ ہمارے ہاتھوں سے کسی بھی مخلوق کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔
لہذاایک سچے مسلمان کو چاہیے کہ وہ ایمان وعقیدے کی درستگی کے ساتھ فرائض و واجبات اور نوافل کا اہتمام کرے، لیکن یاد رکھیے! کہ حقوق اللّہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی ادا کرے اور اپنے آپ کو حسن اخلاق سے مکمل طور پر اس طرح آراستہ وپیراستہ کرے کہ لوگ اس کی عادات واطوار کو دیکھ کر اسلام کی طرف راغب ہوں۔
شعر: عظمت اخلاق میں مضمرہےقوموں کاکمال
صاحب خُلق حسیں ہےصاحب حسن وجمال
خُلق حسنہ درحقیقت نام ہے ایمان کا
یعنی بداخلاق انساں یارہےشیطان کا
الله تعالیٰ ہرمسلمان کو بصدق صاحب خُلُق عظیم، حسن اخلاق جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمائے۔آمین بجاہ جدالحسن والحسین۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

استقبالِ رمضان اور لاک ڈاؤن

تحریر: شگفتہ عبدالخالق، ممبرامضمون نگار معلمہ اور داعیہ بھی ہیں۔ جوں ہی حکومت کی طرف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے