مومن کے لیے سعد اور نحس نہیں

تحریر: ریاض فردوسی، پٹنہ ؛9968012976

اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ نہ چاہ۔یقینا اللہ بڑا علیم و حکیم ہے۔(سورہ۔دہر۔آیت۔30)
اگر اس دنیا میں ہر انسان کو یہ قدرت حاصل ہوتی کہ جو کچھ وہ کرنا چاہے،وہ اسی وقت اپنی طاقت و قوت سے کر سکتا ہے جبکہ اللہ بھی یہ چاہے کہ انسان کو وہ کام کرنے دیا جائے۔تب ہی ہو سکتا ہے۔اللہ کی مشیت ساری مشیتوں پر غالب ہے۔نہ سورج کی مجال ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت کرسکتی۔ ہر ایک اپنے خاص دائرے میں گردش کرتا ہے۔(سورہ۔یٰس۔آیت۔40)
حضرت مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر یوں بیان کرتے ہی۔””اس کا اصل مقصد علم ہئیت کے حقائق بیان کرنا نہیں ہے بلکہ انسان کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اگر وہ آنکھیں کھول کر دیکھے اور عقل سے کام لے تو زمین سے لے کر آسمان تک جدھر بھی وہ نگاہ ڈالے گا اس کے سامنے خدا کی ہستی اور اس کی یکتائی کے بے حد و حساب دلائل آئیں گے اور کہیں کوئی ایک دلیل بھی دہریت اور شرک کے ثبوت میں نہ ملے گی۔ ہماری یہ زمین جس نظام شمسی میں شامل ہے اس کی عظمت کا یہ حال ہے کہ اس کا مرکز، سورج زمین سے 3 لاکھ گنا بڑا ہے، اور اس کے بعید ترین سیارے نیپچون کا فاصلہ سورج سے کم از کم 2 ارب 79 کروڑ 30 لاکھ میل ہے۔ بلکہ اگر پلوٹو کو بعید ترین سیارہ مانا جائے تو وہ سورج سے 4 ارب 60 کروڑ میل دور تک پہنچ جاتا ہے۔ اس عظمت کے باوجود یہ نظام شمسی ایک بہت بڑے کہکشاں کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ جس کہکشاں (Galaxy) میں ہمارا یہ نظام شمسی شامل ہے اس میں تقریباً 3 ہزار ملین (3 ارب) آفتاب پائے جاتے ہیں، اور اس کا قریب ترین آفتاب ہماری زمین سے اس قدر دور ہے کہ اس کی روشنی یہاں تک پہنچنے میں 4 سال صرف ہوتے ہیں۔ پھر یہ کہکشاں بھی پوری کائنات نہیں ہے، بلکہ اب تک کے مشاہدات کی بنا پر اندازہ کیا گیا ہے کہ یہ تقریباً 20 لاکھ لولبی سحابیوں (Spiral nebulae) میں سے ایک ہے، اور ان میں سے قریب ترین سحابیے کا فاصلہ ہم سے اس قدر زیادہ ہے کہ اس کی روشنی 10 لاکھ سال میں ہماری زمین تک پہنچتی ہے۔ رہے بعید ترین اجرام فلکی جو ہمارے موجودہ آلات سے نظر آتے ہیں، ان کی روشنی تو زمین تک پہنچنے میں 10 کروڑ سال لگ جاتے ہیں۔ اس پر بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انسان نے ساری کائنات دیکھ لی ہے۔ یہ خدا کی خدائی کا بہت تھوڑا سا حصہ ہے جو اب تک انسانی مشاہدے میں آیا ہے۔ آگے نہیں کہا جا سکتا کہ مزید ذرائع مشاہدہ فراہم ہونے پر اور کتنی وسعتیں انسان پر منکشف ہوں گی۔ تمام معلومات جو اس وقت تک کائنات کے متعلق بہم پہنچی ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پورا عالم اسی مادے سے بنا ہوا ہے جس سے ہماری یہ چھوٹی سی ارضی دنیا بنی ہے اور اس کے اندر وہی ایک قانون کام کر رہا ہے جو ہماری زمین کی دنیا میں کار فرما ہے، ورنہ یہ کسی طرح ممکن نہ تھا کہ ہم اس زمین پر بیٹھے ہوئے اتنی دور دراز دنیاؤں کے مشاہدے کرتے اور ان کے فاصلے ناپتے اور ان کی حرکات کے حساب لگاتے۔ کیا یہ اس بات کا صریح ثبوت نہیں ہے کہ یہ ساری کائنات ایک ہی خدا کی تخلیق اور ایک ہی فرمانروا کی سلطنت ہے؟ پھر جو نظم، جو حکمت، جو صناعی اور جو مناسبت ان لاکھوں کہکشانوں اور ان کے اندر گھومنے والے اربوں تاروں میں پائی جاتی ہے اس کو دیکھ کر کیا کوئی صاحب عقل انسان یہ تصور کر سکتا ہے کہ یہ سب کچھ آپ سے آپ ہو گیا ہے؟ اس نظام کے پیچھے کوئی حکیم، اس صنعت کے پیچھے کوئی صانع، اور اس مناسبت کے پیچھے کوئی منصوبہ ساز نہیں ہے؟””
نحوست تو دراصل انسان کے عمل میں ہوتی ہے کہ وہ خالق کائنات کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے، باوجود یکہ وہ اپنے وجود اور بقا کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کا محتاج ہے اور ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ وہ بھی موت کا مزہ چکھ لے گا اور اس کے بعد انسان کو اپنی زندگی کے ایک ایک لمحہ کا حساب اللہ تعالیٰ کو دینا ہوگا۔ انسان کی زندگی کا جو وقت بھی اللہ کی ناراضگی میں گزرا دراصل وہ منحوس ہے نہ کہ کوئی مہینہ یا دن۔ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’نہ کوئی بیماری متعدی ہے اور نہ الّو منحوس ہے اور نہ ہی ماہ صفر۔‘‘ (یہ سن کر) ایک دیہاتی نے عرض کیا، اللہ کے رسول! ان اونٹوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو ریگستان میں رہتے ہیں اور وہ ہرن معلوم ہوتے ہیں، اس میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو جاتا ہے تو وہ انہیں بھی خارش لگا دیتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’تو پھر پہلے (اونٹ) کو کس نے خارش زدہ کیا؟‘‘ کوئی بیماری متعدی نہیں(اور وہ کسی کو اس وقت تک نہیں لگتی جب تک کہ اللہ نہ چاہے) پرندوں سے فال لینے، اسی طرح الو اور ماہ صفر کی نحوست کی کوئی حیثیت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نفس کو پیدا کیا اور اسکی زندگی، اس کے مصائب اور اس کی روزی لکھدی ہے‘‘(او کما قال صلی اللہ علیہ وسلم) (رواہ البخاری۔ ترمذی/ ابوداؤد)
وہ کہنے لگے ہم تو تیری اور تیرے ساتھیوں کی بدشگونی لے رہے ہیں، آپ نے فرمایا تمہاری بدشگونی اللہ کے ہاں ہے، بلکہ تم فتنہ میںپڑے ہوئے لوگ ہو‘‘ (النمل۔ 47)
جب ان پر خوشحالی آجاتی تو کہتے کہ یہ تو ہمارے لئے ہونا ہی چاہئے اور اگر ان کو کوئی بدحالی پیش آتی تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے۔ یاد رکھو کہ ان کی نحوست اللہ تعالیٰ کے پاس ہے لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ (الاعراف 131)
بستی والوں نے کہا: ہم نے تو تمہارے اندر نحوست محسوس کی ہے۔یقین جانو اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم پر پتھر برسائیں گے، اور ہمارے ہاتھوں تمہیں بڑی دردناک سزا ملے گی۔(سورہ۔آیت۔18)
خشکی اور تری، ہر جگہ لوگوں کے اعمال کے نتیجے میں فساد چھا گیا ہے، تاکہ اللہ ان کی بعض کرتوتوں کا مزا چکھائے، تاکہ یہ رجوع کریں۔(سورہ۔روم آیت۔41)
ابو داؤد میں روایت ہیکہ زمین پر ایک حد کا قائم ہونا زمین والوں کے حق میں چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔ یہ اس لیے کہ حد قائم ہونے سے مجرم گناہوں سے باز رہیں گے۔ اور جب گناہ نہ ہونگے تو آسمانی اور زمینی برکتیں لوگوں کو حاصل ہونگی۔کافروں نے ان رسولوں سے کا کہ تمہارے آنے سے ہمیں کوئی برکت و خیریت تو ملی نہیں۔ بلکہ اور برائی اور بدی پہنچی۔ تم ہو ہی بدشگون اور تم جہاں جاؤ گے بلائیں برسیں گی۔ سنو اگر تم اپنے اس طریقے سے باز نہ آئے اور یہی کہتے رہے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔ اور سخت المناک سزائیں دیں گے رسولوں نے جواب دیا کہ تم خود بدفطرت ہو۔ تمہارے اعمال ہی برے ہیں اور اسی وجہ سے تم پر مصیبتیں آتی ہیں۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ یہی بات فرعونیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے مومنوں سے کہی تھی۔ جب انہیں کوئی راحت ملتی توکہتے ہم تو اس کے مستحق ہی تھے۔ اور اگر کوئی رنج پہنچتا تو حضرت موسی اور مومنوں کی بدشگونی پر اسے محمول کرتے۔ جس کے جواب میں جناب باری نے فرمایا یعنی ان کی مصیبتوں کی وجہ ان کے بد اعمال ہیں جن کا وبال ہماری جانب سے انہیں پہنچ رہا ہے۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی سے یہی کہا تھا اور یہی جواب پایا تھا۔ خود جناب پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی کہا گیا ہے جیسا کہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے یعنی اگر ان کافروں کو کوئی نفع ہوتا ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر کوئی نقصان ہوتا ہے تو کہتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے۔فاجر شخص کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ اس کے مرنے پر بندے شہر درخت اور جانور سب راحت پالیتے ہیں۔ علامہ ابن کثیر تفسیر ابن کثیر میں یوں لکھتے ہیں۔مسند امام احمد بن حنبل میں ہے کہ زیاد کے زمانے میں ایک تھیلی پائی گئی جس میں کجھور کی بڑی گھٹلی جیسے گہیوں کے دانے تھے اور اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ اس زمانے میں اگتے تھے جس میں عدل وانصاف کو کام میں لایا جاتا تھا۔اسی طرح ماہ صفر کو منحوس سمجھنا یا کسی دن کو منحوس جاننا شریعت اسلامیہ میں حرام ہے کیوں کہ اس میں شرک کہ شمولیت ہے۔ مفتی عبدالرحیم ؒ فرماتے ہیں’’مسلمانوں کے لئے آخری چہار شنبہ کے طور پر خوشی کا دن منانا جائز نہیں‘‘۔’’شمس التواریخ‘‘وغیرہ میں ہے کہ 26صفر پیر کو آں حضرتﷺنے لوگوں کو رومیوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا اور27صفر منگل کو اْسامہ بن زید رضی اللہ عنہ امیرِلشکر مقرر کیے گئے۔28صفر چہار شنبہ کو اگرچہ آپ ﷺ بیمار ہوچکے تھے لیکن اپنے ہاتھ سے نشان تیار کر کے اْسامہ کو دیا تھا۔ابھی (لشکر کے)کوچ کی نوبت نہیں آئی تھی کہ آخر چہار شنبہ اور جمعرات میں آپ ﷺ کی علالت بہت زیادہ علیل ہوگئی اور کہرام سا مچ گیا۔ اسی دن عشاء سے آپﷺ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے پر مقرر فرمایا (شمس التواریخ)۔اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ28 صفر کو چہار شنبہ (بدھ) کے روز آنحضرت ﷺکے مرض میں زیادتی ہوئی تھی اور یہ دن ماہِ صفر کا آخری چہار شنبہ تھا۔یہ دن مسلمانوں کے لئے تو خوشی کا ہے ہی نہیںالبتہ یہود وغیرہ کے لئے شادمانی کا دن ہو سکتا ہے۔اس روز کو تہوار کا دن ٹھہرانا، خوشیاں منانا، مدارس وغیرہ میں تعظیم کرنا، یہ تمام باتیں خلافِ شرع اور ناجائز ہیں(فتاویٰ حقانیہ،کتاب البدعۃ والرسوم وکذا فی فتاویٰ رحیمیہ،ما یتعلق بالسنۃ والبدعۃ)۔حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:آدم کی اولاد زمانہ کو گالی دیتی ہے، اور زمانہ کو برا بھلا کہتی ہے، حالانکہ زمانہ تو میں ہوں، رات دن کی گردش میرے ہاتھ میں ہے۔ (بخاری)ماہِ صفر المظفرکو منحوس سمجھنا یا کسی دن مہینے اور سال کویہ خلافِ اسلام عقیدہ ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ صفرالمظفر اور نہ تو کسی اور ماہ میں نہ تو آسمان سے بلائیں اترتی ہیں اور نہ آخری بدھ کو اوپر جاتی ہیں اور نہ ہی ہادء برحق محمد رسول اللہ ﷺ کو اس دن مرض سے شفاء یابی ہوئی تھی بلکہ موئرخین نے لکھا ہے کہ28صفر کو آنحضرت ﷺ بیمار ہوئے تھے۔حاکم نے روایت کی ہے کہ پیغمبرﷺ آخری چہار شنبہ(بدھ) کو بیمار ہوئے، یعنی بیماری نے شدت اختیار کی اور تاریخ میں یہ مسطور ہے کہ یہود نے اس دن خوشی منائی اور دعوتیں تیار کیں اور یہ ثابت نہیں کہ اہلِ اسلام نے اس کے مقابل کوئی کارروائی کی۔وھو المؤفق(فتاویٰ فریدیہ، کتاب السنۃ و البدعۃ)۔
متفق علیہ کی روایت ہے کہ مسلمان کو جو رنج اور دکھ اور فکر اور غم اور تکلیف اور پریشانی بھی پیش آتی ہے، حتیٰ کہ ایک کانٹا بھی اگر اس کو چبھتا ہے تو اللہ اس کو اس کی کسی نہ کسی خطا کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ رہے وہ مصائب جو اللہ کی راہ میں اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے کوئی مومن برداشت کرتا ہے، تو وہ محض کوتاہیوں کا کفارہ ہی نہیں ہوتے بلکہ اللہ کے ہاں ترقی درجات کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ تصور کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وہ گناہوں کی سزا کے طور پر نازل ہوتے ہیں۔حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے منقول ہے کہ اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو زبان میں ہوتی اور فرمایا کہ زبان سے زیادہ کوئی شے طویل عرصہ تک قیدو بند کی محتاج نہیں(کیونکہ بے شمار گناہوں کا تعلق اسی زبان سے ہے)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی بر حق ﷺنے ارشاد۔فرمایا:چھوت چھات کوئی چیز نہیں، بدشگونی کوئی چیز نہیں، ہامہ (الو سے بدشگونی لینا) اور صفر (ماہ صفر کو منحوس سمجھنا) کوئی چیز نہیں‘‘ (متفق علیہ)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرما یا: بدشگونی کے سبب جو کوئی کسی کام سے رک گیا اس نے شرک کیا۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا (ایسے موقع پر) یہ کہنا چاہیئے (ترجمہ) ” اے اللہ! تیری بھلائی کے سوا کوئی بھلائی نہیں، کوئی شگون نہیں مگر تیرے سے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں” (مسند احمد/ ابو داؤد) ایک دوسری روایت میں یہ دعا پڑھنے کا بھی ذکر ہے۔ (ترجمہ)” اے اللہ! تیرے سوا کوئی بھلائی عطا نہیں کرتا اور نہ کوئی برائی کو تیرے سوا دور کرسکتا ہے۔ حصول نفع کی کوئی طاقت اور ضرر کو دفع کرنے کی کوئی قوت تیرے سوا کسی میں نہیں”۔موت وحیات کا ایک وقت متعین ہے جو نہ ایک لمحہ پہلے آسکتی ہے نہ ایک لمحہ بعد۔ اسی طرح بیماری اور مصیبت کا دینے والا بھی اللہ ہی ہے۔ جب تک اللہ کا فیصلہ نہ ہو کوئی شخص بیماری اور مصیبت میں گرفتار نہیں ہوسکتا۔اگرچہ اس بیماری یا مصیبت میں خود انسان کے اپنے اعمال، گناہ اور دوسری بہت ساری چیزیں سبب بن سکتی ہیں۔ انسان چونکہ کمزور واقع ہوا ہے اسلئے ایسے اسباب کو اختیار کرنے سے خصوصیت کے ساتھ روکا گیا جو اس کے عقیدہ کے بگاڑ کا بھی سبب بنیں۔ چنانچہ جن کا ایمان اور قضا ء و قدر پر یقین پختہ ہو۔ اللہ پر توکل اور بھروسہ کا مل ہو تو ایسے صاحب ایمان و یقین بندے کو کبھی متعدی امراض والے بیماریوں کے ساتھ رہتے اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے بھی ہیں۔ ایک مرتبہ آپﷺنے ایک جذامی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھایا، اپنے برتن میں اس کا ہاتھ داخل کرکے فرمایا کہ اللہ کا نام لے کر اور اس پر اعتماد اور توکل کرتے ہوئے کھاؤ(ترمذی / ابوداؤد)اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ۔جذامی سے ا یسے بھاگو جیسے تم شیر سے بھاگتے ہو”(او کماقال صلی اللہ علیہ وسلم)بارہ مہینوں میں بعض کو بعض پر فضلیت و برتری تو حاصل ہے لیکن کوئی مہینہ اور وقت منحوس نہیں۔حق بات تو یہ کہ جس دن اللہ کے آگے سر نہ جھکایا جائے۔(پانچ وقت کی نماز کے ذریعے)خلوص اور اخلاص کے ساتھ وہ دن منحوس ہے،ایک مسلمان کے لئے۔

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزاروں سجدوں سے دیتا آدمی کو نجات

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے