ہمارے معاشرے کے بگاڑنے میں ہمارا اہم کردار

از قلم: خبیب القادری، مدناپور بریلی شریف

آج ہمارے معاشرے میں طرح طرح کی برائیاں جنم لے رہی ہیں جن کے ذمہ دار ہم خود بھی ہیں۔
ہمارے یہاں اولاد پیدا ہوتی خوشیاں منائی جاتی ہیں، اور منانی بھی چاہیے مگر جب یہ اولاد کچھ بڑی ہو جائے تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کو آداب و تربیت سکھائیں اسلامی تعلیم سے آراستہ کرایٔںں برائیوں سے گریز کرنے کی نصیحتیں کریں گناہوں کا ڈر ان کے اندر پیدا کرائیں توبہ و استغفار کرنے کی عادت ڈلواںٔیں اعمال صالحہ کرنے کی طرف ان کو مائل کرائیں مگر اس کے برعکس ہم نے اپنے معاشرے کو خود ہی خراب کر لیا ہے۔
چھوٹے چھوٹے بچوں کو بڑے بڑے موبائیل دے کر جوعمر تہذیب؛ اخلاق؛ بھائی چارگی ؛قال اللہ قال رسول حاصل کرنے کی ہے وہ موبائل میں صرف ہو رہی ہے۔ اب آپ ہی بتائیے وہ سادہ لوح چھوٹا بچہ جو بہت سی خرابیوں کو جانتا بھی نہیں تھا اب موبائل کے ذریعے وہ سیکھ گیا اس کا ذمہ دار کون ہے؟
سوشل میڈیا پر بہت اچھی سے اچھی اور خراب سے خراب اشیاء ہمہ وقت موجود ہیں اور بچہ چھوٹا ہے اورشیطان موقع تلاش کر رہا ہے
آ پ ہی بتائیے اس بچہ کے دل میں شیطان کیا نعت و تقریر کے وسوسے ڈالے گا
یا
گیم ؛کارٹون؛ گانے؛ فلمیں؛ گندے چٹکلے وغیرہ؟شیطان تو اپنا پورا کام کرے گا
یاالخصوص ایک برائی یہ ہے کہ بچے کو ان لمیٹڈ ریچارج کرا کر دیا جاتا ہے اب ریچارج ہو گیا باپ نے سوچ لیا کہ میں بری الذمہ ہو گیا اب وہی بچہ باپ کے کرائے ہوئے ریچارج سے کتنی غلطیاں کرے گا؟
اس کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا؟
جب وہی بچہ بڑا ہوجاتاہے تو ماں باپ کو تکلیفیں اٹھانی پڑتی ہیں
مثلا کوئی تو ماں باپ کو گھر سے نکال دیتا ہے کوئی دروازے پر لا کر چھوڑ دیتا ہے کہ اب آپ کا ٹھکانہ دروازے پر ہی ہے
ماں باپ ماں باپ کو کتنی تکلیفیں اٹھانی پڑتی ہیں؟
اس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جس کے ساتھ یہ گزرا ہو
وہی لڑکا لمبے لمبے ناخن ؛ لمبے لمبے بال رکھتا ہے؛ کان میں بندا یا دریا پہنتا ہے جسم پر ٹیٹو بنواتا ہے اور اگر وہ لڑکیاں ہوتی ہیں تو چست اور باریک کپڑے پہنتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے کپڑے؛ بڑے بڑے گلوں کے کپڑے اور آدھی آستین کے کپڑے پینتی ہیں اور اپنے آپ کو بڑی قابل اور عقل مند سمجھتی ہیں اور بال چھوٹے چھوٹے رکھتی ہیں جو بال عورت کی زینت ہیں ان کو چھوٹا مردوں کی طرح کرا لیتی ہیں بعض جگہ تو پلکوں اور بھوؤں کے بالوں کوبھی کٹوا دیتی ہیں۔ حالانکہ ایسے مرد و زن پر حدیث پاک میں لعنت آئی ہے
پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ایسے مرد و زن پر لعنت ہے جو ایک دوسرے کی وضع قطع استعمال کرے”
دوسرے مقام پر فرمایا:
"جو جس قوم کی مشابہت کرے گا اس کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا”
ذکر کردہ یہ تمام چیزیں یہودونصاریٰ کی ایجاد کردہ اور اعمال کو رائیگاں کردہ ہیں
ہمیں اس سے گریز کرنا لازم وضروری ہے

کاش اگر ہم نے بچوں کو نماز؛ روزہ؛ حج؛ زکوٰۃ کی تعلیم دی ہوتی ؟
اخلاق حسنہ کا پیغام دیا ہوتا تعلیم و تربیت سکھائیں ہوتی ہے
تو آج ہمارا بچہ مسجد کا نمازی بھی ہوتا رمضان شریف کے روزے بھی رکھتا اور دوسروں کو نصیحتیں بھی کرتا مگر افسوس آج ہمارے معاشرے میں ایک برائی اور بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے؛ وہ یہ کہ اگر کوئی مرد یا کسی کا بچہ کوئی غلط کام کرے تو دوسرا اس کو نصیحت نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ اپنے کو سدھار لو دوسرے سے کیا مطلب؟
حالانکہ اللہ تعالی نے ہمیں اور آپ کو امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پیدا کیا
"جس کا مطلب ہے لوگوں کو اچھائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا”
یہ امت محمدیہ کے لیے اللہ کی طرف سے حکم ہے

اگر باپ نماز پڑھتا ہے تو اولاد سے نہیں کہتا باپ روزہ رکھتا ہے تو اولاد سے نہیں کہتا اگر باپ ہی اولاد کو نصیحت نہیں کرے گا تو کون کرے گا؟

ہم امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ہماری ذمہ داریاں بھی ہیں

لہذا اپنی اولاد کو سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے دور رکھو! خود بھی محفوظ رہو اور اپنی اولادکو بھی محفوظ رکھو!

ورنہ خود کیے کا علاج کہاں ہوتا ہے؟

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے