پاکستانی ڈرامہ(سیریل):غلط فہمیاں اور ازالے (آخری قسط)

از قلم: بنت مفتی عبدالمالک مصباحی، جمشیدپور

چوتھی غلط فہمی : ہم سیریل یوں ہی دیکھ لیتے ہیں کوئی لت اور عادت تھوڑی ہے –
ازالہ : یہ تو واقعی صرف دل بہلانے والی بات ہے ورنہ کون نہیں جانتا کہ ڈرامے کی چاہے جتنی قسطیں ہوں ہر قسط کے اختتام پر میں کوئی ایسا شوشہ ضرور چھوڑا جاتا ہے جس کو دیکھتے ہی اگلے قسط کی شدت سے انتظار رہتی ہے؛
اب اگر کوئی قسط وار دیکھے بھی اور یہ کہے کہ مجھے لت اور عادت نہیں ہے تو اسے جھوٹ اور فضول گوئی نہیں تو اور کیا کہیں گے –

پانچویں غلط فہمی : پاکستانی ڈراموں میں وقت کم لگتا ہے کیوں کہ یہ ہفتہ واری یا ہفتے میں تین چار دن ہی آتے ہیں اسی لیے ہم پاکستانی سیریلز ہی دیکھتے ہیں تاکہ زیادہ وقت ضائع نہ ہو –
ازالہ : اللہ اکبر! ہفتے کے 45 منٹ یا تین چار دن میں روزانہ 30-35 منٹ کو ضائع کرنے بلکہ فحاشی اور گناہ کا نظارہ کرنے، اس کی تعریف کرنے، اس کی حوصلہ افزائی کرنے اور اس کو بڑھاوا دینے کو آپ کم سمجھ رہی ہیں!
ایسا کام جس میں دین و دنیا کا کوئی فائدہ نہ ہو سوائے نقصان کے اس میں اتنا زیادہ وقت برباد کرنا آپ کو آج ہلکا اور کم معلوم ہو رہا ہے حالاں کہ "اہل جنت کو تو جنت میں اپنی زندگی کے ان لمحات پر بھی بڑی حسرت ہوگی جو انھوں نے اللہ کی یاد سے آباد کیے بغیر گزار دیا ہو تو اس کی حسرت انھیں جنت میں بھی ستائے گی”(مخلصا کنز العمال ١/٤٢٢، الحديث ١٨٠٤) اب ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جنھوں نے اپنی قیمتی زندگی کے بے شمار انمول لمحات کو گناہ میں گزارا ہوگا!

اللہ خیر فرمائے اور ایسی سوچوں سے نجات عطا فرمائے تاکہ گناہوں سے بچنا اور نصیحتیں قبول کرنا آسان ہو جائے کیوں کہ غلط فہمیوں میں خوش رہنا اور باطل تاویلات سے مطمئین ہو جانا یہ بڑے خطرے کی بات ہے –

یہ پانچ بنیادی سوچیں اور باتیں تھی ان افراد کی جو سیرلیز دیکھتے ہیں؛ ان سیریلز اور ڈراموں کے منفی اثرات سے کون واقف نہیں لیکن اس کے باوجود ہر آئے دن ہزاروں نئی نئی سیرلیز اور ڈرامے لانچ ہو رہے ہیں؛ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟؟
اس کی وجہ ہر دیکھنے والا/والی بھی ہے کہ آپ کے دیکھنے سے ان ڈائریکٹرز و ایکٹرز کا فائدہ ہو رہا ہے، آپ ان کو سپورٹ کر رہے ہیں اور آپ کی حوصلہ افزائی سے یہ فحاشی عام سے عام تر ہوتی جا رہی ہے؛ لہٰذا غور کریں!!

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

رمضان کریم اور ہم: ایک جائزہ

تحریر: منزہ فردوس بنت عبدالرحیمایم. اے. سال اول آکولہ مہاراشٹرا ایک بار پھر عظمتوں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے