میراروڈ میں سدھ بھاؤنا منچ کے قیام کے لئے میٹینگ کا انعقاد

میرا روڈ: ہماری آواز(ساجد محمود شیخ) 30 دسمبر// میراروڈ میں سدھ بھاؤنا منچ کے قیام کے لئے ایک میٹینگ رکھی گئی ۔ جس میں سبھی مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ پروگرام کی شروعات کرتے ہوئے سدھ بھاؤنا منچ ممبئی کے ناظم جناب شاکر شیخ صاحب نے کہا کہ اوپر والے نے ہمیں دنیا میں بھیجنے سے پہلے ہی ہمارا رشتہ آپس میں جوڑ دیا اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے دستورِ ہند میں ہم بھارتی لکھ کر ہم لوگوں کو ایک لڑی میں پرویا۔ انہوں نے کہا کہ آج نفرت پھیلائی جارہی ہے۔مگر سماج میں نفرت پھیلانے والوں کا فیصد بہت کم ہے ۔ کوئی بھی انسان برا نہیں ہوتا۔ ہمیں مل جل کر نفرت کو ختم کرنا ہوگا۔ مشہور سماجی تجزیہ نگار جناب غلام عارف صاحب نے کہا کہ آج سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہنے کامقابلہ چل رہا ہے جس سے لوگوں کا دماغ خراب ہوریا ہے  ۔انہوں نے کہا کہ مسلمان اپنے آپ کو مظلوم سمجھتے ہیں۔ اور ہندو سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کو بہت زیادہ رعایت دی گئیں ہیں۔ مذہب کا استعمال نفرت پھیلانے کے لئے ہو رہا ہے ۔ انہوں نے گاندھی جی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار جب ستیہ گرہی مشتعل ہوگئے اور توڑ پھوڑ کی تو گاندھی جی نے ستیہ گرہ واپس لے لی،اور کہا کہ میں عدم تشدّد کے راستے سے انصاف کی لڑائی نہیں لڑنا چاہتا۔ ہمیں چاہئے کہ پرامن طریقہ سے اپنی بات رکھیں۔ ونچت اگھاڑی کے مہندر چافے نے کہا کہ ہمیں مذہب نہیں دیکھنا چاہیے ۔ ہمیں صرف انسانیت کو دیکھنا چاہیئے ۔ہمیں ایسے منچ کی تلاش میں رہنا چاہئے۔ بامسیف کے نمائندے نے کہا کہ ہمارے ملک و سماج کی صورتحال بہت خراب ہے۔ہمیں اس صورتحال کی حل نکالنا چاہئے ۔ جو لوگ سماج کو آپس میں لڑا رہےہیں وہی ملک کے اصل دشمن ہیں ۔مشہور سماجی کارکن ڈاکٹر عظیم الدین صاحب نے پروگرام کے آرگنائزر  کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام کی ہمیں بے حد ضرورت ہے ۔ پروگرام میں جماعتِ اسلامی میراروڈ کے امیر عطاء الحق اور سوشل ورکر انجم شیخ نے خطاب کیا ۔ شرکائے میٹینگ کو میٹینگ کی شروعات میں پھولوں کے گلدستے پیش کرتے ہوئے پُرتپاک استقبال کیا گیا اور خوردونوش تقسیم کی گئی ۔ یہ پروگرام جماعتِ اسلامی میراروڈ کے دفتر اسلامک سنٹر میں رکھا گیا تھا۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

لاک ڈاؤن کے سبب ہر شعبہ متاثر، پولیس انتظامیہ کی سختی سے پھیری والے بے حال

نالاسوپارہ:25اپریل، ہماری آواز(نامہ نگار) کورونا کے بڑھتے معاملوں کے پیش ریاست بھر میں 15 دن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے