افسوس کہ زندگی کا ایک سال اور کم ہوگیا

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سال 2020؁ کا اختتام اور سال 2021؁ کا آغاز ہورہا ہے۔ اِس سلسلے میں پوری دنیا میں نئے سال کے استقبال کے لئے جشن کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اِس ’’احمقانہ جشن‘‘ میں پوری دنیا کے مسلمان اور مسلم ممالک بھی شامل ہوتے ہیں۔ غیر مسلموں کے مذاہب میں اِس سلسلے میں کوئی رہنمائی نہیں ہے اِس لئے وہ ایسے ’’احمقانہ جشن‘‘ مناتے ہیں لیکن حیرت تو مسلمانوں پر ہوتی ہے کہ اُنہیں اﷲ تعالیٰ نے ایک مکمل دین عطا کیا ہے اور اِس سلسلے میں بھی رہنمائی فرمائی اِس کے باوجود وہ غیر مسلموں کی نقل میں اُن کے جیسی حرکت کررہے ہیں۔ نئے سال کا ’’احمقانہ جشن‘‘ دراصل عیسائیوں کی پیداوار ہے اور وہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا جشن کئی دنوں تک کرسمس کے تہوار کے طور پر مناتے ہیں اور سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز کا ’’احمقانہ جشن‘‘ منا کر اِس کا اختتام کرتے ہیں۔
یہ انسان کی فطرت ہے کہ’’ محکوم قوم‘‘ ہمیشہ ’’حاکم قوم‘‘ کے افکار ، نظریات اور رسومات سے ذہنی طور پر متاثر ہوتی ہے اور لاشعوری طور سے ’’حاکم قوم‘‘ کے اُن تمام افکار ، نظریات اور رسومات کو قبول کرتی جاتی ہے۔ اِس کا سب سے بڑا ثبوت اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بتایا کہ بنی اسرائیل ملک مصر میں قبطیوں کے ساتھ رہتے رہتے اُس کے افکار ، نظریات اور رسومات سے ذہنی طور پر اتنے متاثر ہوگئے تھے کہ قبطیوں کے جھوٹے معبود گائے اور بچھٹرے کی عظمت اُن کے ذہنوں میں لاشعوری طور پر بس گئی تھی۔ اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کے سامنے بنی اسرائیل کے حالات اِس لئے بیان فرمائے کہ اِن سے سبق حاصل کرو اور تم اِن کی طرح نہیں کرنا۔ اِس کے باوجود ہم مسلمان وہی سب کام کررہے ہیں جو بنی اسرائیل نے کیا تھا۔ پوری دنیا پر عیسائی حاوی ہیں اور زیادہ تر ممالک اُن کی برتری تسلیم کرتے ہیں ، اُن ممالک میں بہت سارے مسلم ممالک بھی شامل ہیں۔ اِسی لئے لاشعوری طور سے پوری دنیا عیسائیوں کے افکار و نظریات اور رسومات سے ذہنی طور پر متاثر ہیں اور اُن کی نقل کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اِسی طرح ہمارے ملک میں غیر مسلموں کے ساتھ رہتے رہتے مسلمان بھی اُن سے لاشعوری طور پر متاثر ہوگئے ہیں اور اُن کی رسومات وغیرہ کو اپنانے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے ملک کے غیر مسلم حضرات خوشی کے موقع پر آتشبازی کرتے اور پٹاخے وغیرہ پھوڑتے ہیں اور اُن کی نقل میں ہم مسلمان بھی اپنی خوشی کے موقع پر بلکہ نکاح جیسے مقدس فریضہ کی ادائیگی کے وقت بھی آتشبازی کرتے اور پٹاخے وغیرہ پھوڑتے ہیں۔
عیسائی دنیا کرسمس کے ساتھ ساتھ نئے سال کا ’’احمقانہ جشن‘‘ مناتی ہے اور اُن کی نقل کرتے ہوئے پوری دنیا بھی ’’احمقانہ جشن‘‘ مناتی ہے جن میں ہم مسلمان بھی شامل ہیں۔ 31دسمبر کی رات پوری دنیا میں کھربوں کھربوں روپیئے نہیں بلکہ ڈالرز کی آتشبازی کی جاتی اور شراب پی جاتی ہے اور طرح طرح کی خرافات کرتے ہوئے ’’احمقانہ‘‘ جشن‘‘ منایا جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ 31دسمبر کی رات پوری دنیا میں انسانیت بری طرح سے شرمسار ہوتی ہے اور ابلیس شیطان اور اُس کے شاگرد بے انتہا خوشیاں مناتے ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اِس ’’انسانیت سوز جشن‘‘ میں مسلمان بھی خوشی خوشی شریک ہوتے ہیں اور ’’جدیدیت‘‘ اور ’’آزاد خیالی‘‘ کے نام پر ہر طرح کی فحش حرکتیں کرتے ہیں۔ اِس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم نے قرآن پاک کو پس پشت ڈال دیا ہے اور مغربی تعلیم اور مغربی تہذیب کو اپنا لیا ہے۔ ہم مسلمان اپنی ثقافت کو بھول گئے ہیں اور نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ ہم اپنی مادری زبان اور دینی زبان بھی بھولتے جارہے ہیں اور ہم اپنے گھروں میں مادری زبان کہنے کے بجائے عیسائیوں کی انگریزی زبان کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
اﷲ تعالیٰ نے ہم مسلمانوں کو ایک مکمل دین عطا فرمایا ہے اور اس میں ہر طرح کے احکام ہیں۔ اسلام میں سالگرہ منانا یا نئے سال کا ’’احمقانہ جشن‘‘ منانے کا کوئی حُکم نہیں ہے لیکن ہمارا یہ حال ہوگیا ہے کہ ہم پیدائش کی سالگرہ مناتے ہیں ، شادی کی سالگرہ مناتے ہیں اور پتہ نہیں کون کون سی سالگرہ مناتے ہیں۔ یہ سب قرآن پاک سے دُوری اور ’’حاکم قوم‘‘ کی نقل کرنے کی وجہ سے ہورہا ہے اور ہم مسلمان اپنے دین سے دُور اور باطل سے قریب ہوتے جارہے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کی نعمت اِس لئے عطا فرمائی ہے کہ ہم اسلام کو سمجھیں اور اُس کے مطابق دنیا میں زندگی گزاریں اور اپنے اہل و عیال ، پڑوسیوں ، رشتہ داروں ، شہر والوں اور خاص طور سے غیر مسلموں کو بھی اسلام کے بارے میں بتائیں اور انہیں سمجھائیں کہ اگر آپ اسلام کے مطابق زندگی نہیں گزاریں گے تو کل آخرت میں جہنم کی آگ میں جلنا پڑے گا۔ دنیا کی زندگی تو چند سال کی ہے اور زیادہ سے زیادہ سو100سال عُمر ملے گی اُس کے بعد تو انسان اتنا ضعیف اور کمزور ہوجاتا ہے کہ وہ خود بھی نہیں جینا چاہتا لیکن آخرت کی زندگی کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے۔
ہر آنے والا نیاسال ہمارے لئے یہ ’’لمحۂ فکریہ‘‘ لے کر آتا ہے کہ ہماری زندگی کا ایک سال کم ہوگیا ہے۔اگر اﷲ تعالیٰ نے دنیا میں ہماری زندگی سو 100سال رکھی ہے تو اُس میں سے ایک سال کم ہوگیا ہے۔ ہمیں ہر آنے والے نئے سال کے آغاز میں یہ غور وفکر کرنا چاہیئے کہ گزرا سال میں نے کس طرح گزارا؟ کیا میں نے پورا سال اﷲ کے احکامات کے مطابق گزارا یا چند مہینے گزارے یا چند ہفتے گزارے یا چند دن گزارے؟ اور میں نے اﷲ کی نافرمانی کرتے ہوئے اور شیطان کی اطاعت کرتے ہوئے پورا سال گزارا یا چند مہینے گزارے یا چند ہفتے گزارے یا چند دن گزارے؟ اگر ہم نے گزرے سال کا زیادہ تر وقت اﷲ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے گزارا ہے تو اﷲ کا شکر ادا کریں اور کوشش کریں کہ پورے سال کے جو کم دن ہم نے اﷲ کی نافرمانی میں گزارے ہیںآنے والے سال اُن دنوں کو بھی اﷲ کی اطاعت میں گزاریں۔ ہر آنے والا نیا سال ہمیں یہ دعوت دیتا ہے ہم گزرے ہوئے سال کا حساب اکیلے میں بیٹھ کر ضرور کریں۔
آج ہم مسلمانوں کا یہ حال ہوگیا ہے کہ ’’جدیدیت‘‘ اور ’’آزادخیالی‘‘ کے نام پر ہم اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کررہے ہیں۔ ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں غیروں کی نقل کرنے میں فخر محسوس کررہے ہیں۔ ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہمارا رہن سہن غیروں کی طرح ہو ، لباس غیروں کی طرح ہو ، ہئیر اسٹائل وغیرہ ہو ، ہم اپنی شادیوں میں غیروں کی طرح دولہا اور دلہن کو بٹھانے لگے ہیں حتیٰ کہ ہم جو بات کرتے ہیں اُس میں بھی زیادہ تر الفاظ غیروں کی زبان کے ہوتے ہیں۔ ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنا زیادہ تر وقت کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ اور موبائل پر عجیب عجیب خرافات کرتے ہوئے گزارتے ہیں اور باطل طاقتیں ’’انٹرنیٹ‘‘ کے ذریعے بالکل خاموشی سے لاشعوری طور پر انہیں اسلام سے دُور کرتے جارہے ہیں۔ یہاں تک کہ ہماری یہ حالت ہوگئی ہے کہ اگر کوئی مسلمان ہمیں اِن سب خرافات سے روکنے کی کوشش کرتا ہے اور اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کو کہتا ہے تو اسے ’’قدامت پسند‘‘ اور ’’بنیاد پرست‘‘ اور نہ جانے کیسے کیسے القاب سے نوازا جاتا ہے۔
آج ہماری زندگی کا ایک سال اور کم ہورہا ہے اور ہم دھیرے دھیرے اپنی موت کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں اِس دنیا میں اِس لئے بھیجا ہے کہ ہم یہاں ایسی کمائی کریں کہ آخرت کی زندگی میں ہمیں کامیابی حاصل ہو۔ ابھی بھی وقت ہے اور موقع ہے کہ ہم ذرا اکیلے میں بیٹھ کر غوروفکر کریں کہ جو سال ہماری زندگی سے کم ہوگیا ہے اُس میں ہم نے آخرت کے لئے کیا کمایا اور کیا گنوایا؟ ہمارا جو دن اﷲ کی اطاعت میں گزرا وہ ہم نے کمایا اور جو دن اﷲ کی نافرمانی میں گزرا وہ ہم نے گنوایا۔ یہ حساب کرنے کے بعد یہ عہد کریں کہ آنے والا نیا سال ہم پورا سال اﷲ کی اطاعت میں گزاریں گے۔ ان شاء اﷲ۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

اغراض و مقاصد کی تکمیل کے اہم نقاط

تحریر: آبیناز جان علیموریشس 2011کی ایک پرانی ڈائری کی ورق گردانی کرتے ہوئے مجھے پرودکٹیومسلم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے