غزل: میرا بھی نام ہے جوانوں میں

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان

میرا بھی نام ہے جوانوں میں
رہتا ہوں گُم سدا خیالوں میں

جب کبھی اُس سے میری ہوگی بات
رت بدل جائے گی سوالوں میں

آئے دن اُس سے ملنا مُشکل ہے
اِس لئے اب وہ آتی خوابوں میں

لِکھ دُوں میں اک کتاب اُس کے نام
تاکہ ہو چرچا میرا یاروں میں

مجھ کو مل جائے پیار تو یارو
بس رہوں گا سدا بہاروں میں

جب کبھی مل وہ جاتی ہے مجھکو
بات سب ہوتی ہےاشاروں میں

اب تُو فیضان کام ایسا کر
دنیا میں نام ہو مثالوں میں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پکار: اس بار خاموشی کہے گی

میراروڈ: نظمیں، اشعار، غزلیں، کہانیاں وغیرہ ہماری زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے