جمعیت علماء روتہٹ حلقہ نمبر 3/کی میٹنگ کاانعقاد اور ممبر سازی کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل!

روتہٹ/نیپال: ہماری آواز(انوارالحق قاسمی) 30 دسمبر//
نیپال کی باوقار تنظیم "جمعیت علماء نیپال "کے متحرک وفعال کارکنان ان دنوں ممبر سازی مہم کولےکر کافی حرکت میں ہے۔
اور امید قوی ہےکہ "جمعیت "جمعیت سےوابستہ افراد کی انتھک محنتوں اور عزم راسخ بےنیل ومرام کے ذریعہ مدت قریب ہی سے مسلمانوں کےقلب ودماغ پرحکمرانی کرنے لگےگی،اور ان کی آواز کوکبھی دبنے نہیں دےگی، ان شاء اللہ ۔
ممبرسازی مہم کےعنوان پر یکےبعد دیگرے ضلع روتہٹ کےحلقہ نمبر 2/ اور حلقہ نمبر 4 /کی میٹنگ گذشتہ دنوں میں منعقد ہوچکی ہے ۔
اور آج بتاریخ 29/دسمبر بروز منگل کو جمعیت علماء روتہٹ حلقہ نمبر 3/کی ایک اہم مٹینگ مدرسہ رفیق العلوم /لچھمی پورمیں منعقد ہوئی ۔
جس کی صدارت حضرت مولانا محمد شوکت صاحب قاسمی مدنی نے فرمائی۔
مجلس کاآغازثانی سدیس حضرت مولانا وقاری اسرارالحق صاحب قاسمی کی مسحور کن تلاوت قرآن سےہوا،اور متصلاہی جامعہ ہذا کے ایک طالب علم نے شان رسالت میں نذرانہ عقیدت پیش کیا ۔
بعدہما میٹنگ اپنے مقصد اصلی کی طرف گامزن ہوگئی۔
چناں چہ جمعیت علماء نیپال کےسکریٹری حضرت مولانا وقاری حنیف عالم صاحب قاسمی ،مدنی نے”جمعیت علماء نیپال” کی "حالیہ خدمات” پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا :کہ حضرات! جمعیت کی خدمات ڈھونڈنے کے لیے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے،قریب ہی میں یعنی ضلع باراکےموضع” سنت پور”میں قادیانیوں کا ان دنوں غلبہ ہورہاتھا،اوروہ لوگ بڑے ہی آب و تاب کےساتھ ایک مسجدبھی تعمیر کرارہےتھے،ایسے موقع سے وہاں بتاریخ 22/دسمبر بروز منگل کوجمعیت کے متحرک وفعال افراد پنہچے اور صحیح صورت حال سے باخبر ہونے کےبعد ،یہ لوگ سی ڈیو کے پاس پہنچے اور انہیں کہا:کہ حقیقتایہ لوگ مسلمان نہیں ہیں،مگر یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہہ رہےہیں،اور اسلام کےنام پر سچے،پکے مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہ رہے ہیں، افسوس کہ یہ لوگ مسجد بھی تعمیر کرارہےہیں،جلد ازجلد تعمیری کام پرپابندی عائد کی جائے اور انہیں یہاں سےجلد بھگایاجائے۔
چناں چہ ایسا ہی ہوا: یعنی ان کی بن رہی مسجد کواکھاڑ دیاگیا،اور ان قادیانیوں کووہاں سے بھگادیاگیا۔
حضرت نے مزید فرمایاکہ ایک وہ بھی دور تھا کہ پہاڑی کمیونٹی کے لوگ پہاڑی علاقہ میں مسلمانوں کی آمد سے دہشت محسوس کرتےتھے اور انہیں اسامہ بن لادن کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہاکرتےتھے:کہ امن کے دشمن اسامہ بن لادن کے ہم خیال لوگ آگئےہیں؛مگر اب الحمدللہ” جمعیت علماء نیپال "کی شبانہ روز محنتوں اور جہد مسلسل کے ذریعے مسلمانوں کےتئیں پہاڑی کمیونٹی کےلوگوں میں مرسوخ بداعتقادیاں ختم ہوگئیں اور آج وہی لوگ ہم مسلمانوں کوامن کاداعی اور بھگوان خیال کرتے ہیں، نتیجتامسلمانوں کا وہ لوگ بےحداکرام بھی کرتے ہیں ۔
واضح رہے کہ” جمعیت علماء نیپال "اس طرح کی بےشمار خدمات انجام دےچکی ہیں ۔
جمعیت علماء نیپال کے مرکزی ممبر حضرت مولانا محمد عزرائیل صاحب مظاہری نےسامعین سے مخاطب ہوکرکہا:کہ رندرحیمی کے دور سے لےکر آج تک ملک میں کئی ایک تنظیمیں قائم ہوئیں؛ مگرسوائے "جمعیت علماء نیپال” کے کسی بھی تنظیم کو چندرنگاہ پور سے آگے جانے اور بڑھنے کاموقع نہیں ملا ہے۔
یہ "جمعیت علماء نیپال” کی مقبولیت کی روشن دلیل ہے کہ اسے بیرون ملک کے افراد بھی بخوبی جانتے ہیں۔
حضرت نے سلسلہ کلام کوجاری رکھتے ہوئےفرمایا:کسی بھی تنظیم کاسب سے نمایاں جوہر اس کے ممبران ہوتے ہیں، جس قدر ممبران کی کثرت ہوگی ،اسی قدر تنظیم مضبوط اور مستحکم ہوگی؛اس لیے اول وہلہ میں جو سب سے ضروری چیز ہے،وہ ممبر سازی ہے اور اسی تحت اس مجلس کاانعقاد بھی ہواہے۔
تو ہر شخص کوشش یہ کریں کہ زیادہ سے زیادہ افراد اس ممبر سازی مہم میں حصہ لیں اور جمعیت کاممبر بنیں؛تاکہ جمعیت اعلی طریقہ پرمسلمانوں کی نمائندگی کرسکے اور اس تنظیم کے صدر :حضرت اقدس مولانا محمد عبد العزیز صدیقی صاحب اور جنرل سیکرٹری :حضرت مولانا مفتی محمد خالد صدیقی صاحب کل حکومت سے ایک نئے آن و بان کے ساتھ یہ بتلا سکیں کہ میرے ساتھ بھی تیس لاکھ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہے؛اس لیے ہم مسلمانوں کابھی پورا پورا حق دو! !ورنہ ہم بھی اپنے حقوق کی بازیابی کےلیے سرعام احتجاج کریں گے۔
حضرت قاری شہاب الدین صاحب عرفانی نےکہا:کہ ملک نیپال میں ہماری تعداد 12/فی صدہے ؛مگر افسوس کہ ہم حکومت کی نظر میں بس 4/ہی فی صد ہیں ۔
مگر 2078 میں ،جومردم شماری ہوگی ؛اس کے لیے ہم ابھی سےسعی پیہم کریں اور ہر ہر مسلمان تک یہ آوز پہنچائیں، کہ اس مردم شماری میں ہرمسلمان "مذہب” کی جگہ” مسلمان””قومیت "کی جگہ "اسلام "اور "زبان”کی جگہ "اردو لکھوائے۔
اور دیگر شرکاء نے بھی مثلا:حضرت مولانا ضیاء اللہ صاحب مظاہری، مولانا وصیع اللہ صاحب قاسمی،مولانا ظفیر صاحب،انجینئر عبدالجبارصاحب، مولانا محمد جواد صاحب مظاہری، مولانا محمد صابر صاحب مظاہری، مولانا محمد نورالاسلام صاحب قاسمی، قاری اسرافیل صاحب، بدرالدین صاحب قاری بشیر احمد صاحب، مولانا نظرےعالم صاحب قاسمی،مولانا امجد صاحب قاسمی اپنےقیمتی مشوروں سے نوازا۔
اور پھر ممبر سازی کےلیےچند افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل ہوئی ،جن کے اسماء مندرجہ ذیل ہیں :
حضرت قاری اسرافیل صاحب (صدر)حضرت مولانا ومفتی معین الدین صاحب (معاون صدر)مولانا کوثر صاحب(معاون صدر)رستم صاحب، اطیع اللہ صاحب، حسین اخترصاحب،مولانا عبدالباری صاحب، حاجی وصی اختر صاحب،مکھیا داؤد صاحب، حاجی نیک محمد صاحب،محمد اسلام، ذکر اللہ، لال محمد، عزیز، مولانا اعجاز الحق، سیم الدین، ڈاکٹر اسرافیل، مولانا سراج صاحب، جمشید، مفید،سلام، کمال الدین، سمیع اللہ، مولانا عبداللہ، ابوجعفر،مولوی روز محمد،مولانا سمیع اللہ، مولانا ظہیرالدین،منیف،فیروز، زبیر، معصوم، لئیق الرحمان، پھول محمد، شیخ امر اللہ، نیک محمد صاحب۔
اور مجلس کااختتام حضرت مولانا قاری محمد ساجد صاحب کی پرمغز دعا پرہوا۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مظلوم فلسطینیوں کے لہو کا ایک ایک قطرہ کل بروز قیامت طاقت و قوت رکھنے والے مسلم حکمرانوں سے انتقام لے گا

تحریر: آصف جمیل امجدی فلسطین سے مسلمانوں کی مذہبی اور اخلاقی تاریخ وابستہ ہے۔یہ وہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے