الله کی نشانیاں(قسط نمبر8) اوزون کی تخلیق

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

زمین پر حیات کی تخلیق
ہماری زمین پر حیات بھی اﷲ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے زمین پر حیات کی تخلیق اُسی وقت شروع کی جب زمین پر دن اور رات کی تخلیق کی۔ جب ہماری زمین کے اطراف گردش کرنے والا ملبہ مکمل طور سے ہٹ گیا تو ہماری زمین پر سورج کی روشنی پڑنے لگی اور ہماری زمین کی محوری گردش کی وجہ سے زمین پر دن اور رات ہونے لگے۔ اُس وقت ہماری زمین کی فضا نہیں تھی بلکہ اُس پر بہت بڑے بڑے سمندر اور اور جوہڑ تھے۔ آسان طریقے سے یوں سمجھ لیں کہ پوری زمین پانی سے ڈھکی ہوئی تھی اور اُس پانی کے درمیان جگہ جگہ بہت بڑے بڑے جوہڑ (کیچڑ کے تالاب) تھے۔ جب ہماری زمین پر دن اور رات ہونے لگے تو سورج کی روشنی کی وجہ اُس پر تبدیلیوں کا عمل ہونے لگا۔ جہاں جہاں سورج کی روشنی پڑتی تھی وہاں وہاں سمندروں اور جوہڑوں میںاﷲ تعالیٰ کے حُکم سے کیمیائی عمل ہونے لگا۔ اِس کیمیائی عمل سے اﷲ تعالیٰ نے ہماری زمین پر حیات کی تخلیق فرمائی اور اِس کیمیائی عمل سے ہماری زمین کی فضا بھی تخلیق فرمائی۔جب ہماری زمین پر سورج کی روشنی پڑتی تو اُس جگہ ’’عمل تبخیر‘‘ شروع ہوجاتا اور جب رات ہوتی تو اُس جگہ دوسرا عمل شروع ہوجاتا۔ یہ ہماری زمین پر حیات کی تخلیق کا ابتدائی دور تھا جس میں ہزاروں سال لگے۔ سورج کی ’’الٹرا وائلٹ‘‘ (بالائے بنفشی) روشنی (جو بہت ہی زہریلی ہوتی ہے) براہ راست سمندروں اور جوہڑوں پر پڑ رہی تھی جس کی سے جوہڑوں اور سمندروں میں حیات کا مآخذ وقوع پذیر ہوا۔ پوری زمین پر حیات کی تخلیق ہونے لگی اور پہلی زندہ اشیاء کسی ’’یک خلیہ نامیاتی جسم‘‘ جتنی پیچیدہ ہرگز نہیں تھیں لیکن حیات کی انتہائی سادہ صورت بھی نہ تھیں۔ حیات کے آغاز کے دنوں میں سورج سے آنے والی چمک دار الٹرا وائلٹ روشنی ابتدائی ماحولیات کے ہائیڈروجن سے بھر پور سادہ ’’مالیکیولز‘‘ کو توڑ کر علیحدہ کر رہی تھی۔ ٹوٹنے والے ٹکڑے اﷲ کے حُکم سے زیادہ سے زیادہ ’’مالیکیولز‘‘ کی صورت میں دوبارہ جڑ رہے تھے۔ اِس ’’نوعمل کیمیا‘‘ کی پیدا وار سمندروں اور جوہڑوں میں تحلیل ہونے لگی اور درجہ بدرجہ بڑھتی ہوئی پیچیدگی والا ’’نامیاتی سوپ‘‘ بننے لگا۔ اِس طرح دھیرے دھیرے اﷲ کے حُکم سے ایک ایسا مالیکیول بن گیا جو سوپ میں موجود دوسرے ’’مالیکیولز‘‘ کو ’’تعمیراتی بلاک‘‘ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنی ہی خام سی نقول بنانے کا اہل تھا۔ یہ سب سے پہلا ’’ڈی این اے‘‘ D.N.A (ڈی آکسی رائبو نیو کلینک ایسڈ) تھا بلکہ یہ ’’ڈی این اے‘‘ کا ابتدائی مورث اعلیٰ تھا اوراِسی سے زمین پر اﷲ تعالیٰ نے حیات کو بڑھایااور سمندری مخلوق اور کیڑے مکوڑوںکو پیدا فرمایا۔ ہماری زمین پر ابتدائی حیات کے ابتدائی افعال بہت ہی مدھم تھے اور ہزاروں سال تک وقوع پذیر ہوتے رہے۔ یہ تمام عرصہ اﷲ تعالیٰ کا ایک دن تھا اور اِسی کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :’’منگل کے دن مکروہ چیزوں (سمندری مخلوق اور کیڑے مکوڑوں) کو پیدا فرمایا۔‘‘
اوزون کی تخلیق
اوزون کی تخلیق بھی اﷲ کی ایک نشانی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے حکم سے جب ہماری زمین پر سورج کی روشنی پڑنے لگی تو وہ سیدھی زمین پر پڑ رہی تھی ۔ یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ ہمارے سورج سے جو روشنی ہماری زمین پر آتی ہے وہ اتنی زہریلی ہوتی ہے کہ اُس کی وجہ سے زمین پر تمام جاندار اور درخت ،پیڑ پودے ختم ہوجائیں گے ۔ اُس وقت یہی زہریلی روشنی براہ راست زمین پر پڑ رہی تھی اور پوری زمین پانی سے ڈھکی ہوئی تھی اور اُس پر صرف سمندری درخت اور سمندری مخلوق تھی ۔ اب زمین پر دو بہت بڑے عمل شروع ہوئے ۔ پہلا عمل یہ کہ سورج کی روشنی کی گرمی کی وجہ سے پانی بھاپ بن کر اُڑنے لگا اور زمین پر سے پانی ہٹنے لگا ۔ سب سے پہلے ہماری زمین کے اُس حصے سے پانی ہٹا ۔ یا وہ حصہ پانی کے باہر آیا جہاں آج’’ خانۂ کعبہ‘‘ ہے ۔ جو پانی بھاپ بن اُڑا اُس کا زیادہ تر حصہ قطبین یعنی قطب شمالی اور قطب جنوبی پر برف کی شکل میں جم گیا ۔ ہماری زمین پر دوسرا سب سے بڑا عمل یہ ہوا کہ سمندری درختوں نے سورج کی روشنی کو جذب کر کے آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو خارج کرنا شروع کیا ۔چونکہ زمین پر دن اور رات ہو رہے تھے ۔ اِس لئے یہ سمندری درخت دن میں آکسیجن خارج کرتے تھے اور رات میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے تھے ۔یہ دونوں گیسیں زیادہ پیدا ہوتی تھیں اور اِن کے علاوہ بھی بہت سی گیسیں زمین پر پیدا ہونے لگیں ۔جن کی وجہ سے ہماری زمین پر ہوا پیدا ہوئی اور فضا بن گئی ۔اِس فضا کی وجہ سے ’’اوزون‘‘ کی تخلیق ہوئی ۔ اوزون ہماری زمین کو پوری طرح سے ڈھانپے ہوئے ہے۔
اوزون کس طرح بنتی ہے
اﷲ تعالیٰ نے ہماری زمین کے اطراف ایک نہ دکھائی دینے والاخول بنایا ہے ۔ہمارے سورج کی زہریلی روشنی جب اس خول سے ٹکراتی ہے تو یہ خول زہریلی روشنی کو صاف کر کے ہماری زمین کی طرف آنے دیتا ہے اور زہریلے مادّوں کو خلاء کی طرف واپس بھیج دیتا ہے اور یہ خول ’’اوزون‘‘ ہے۔اﷲ تعالیٰ نے ’’اوزون‘‘ کو اِس طرح پیدا کیا کہ سورج سے آنے والی ہائیڈروجن گیس جب زمین سے اُٹھنے والی آکسیجن سے ٹکرائی تو دونوں میں ٹوٹ پھوٹ ہونے لگی اور اِسی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے ’’اوزون‘‘ پیدا ہوئی ۔اوزون کا فارمولہ O3 (او تھری)ہے یعنی اﷲ تعالیٰ نے ’’اوزون‘‘ کو کا سالمہ آکسیجن کے تین ایٹموں سے بنایا ہے ۔ جب ہم آکسیجن کے تین ایٹموں کو ملائیں گے تو ’’اوزون‘‘ بن جائے گی ۔اﷲ تعالیٰ آکسیجن کے ہر سالمہ کو اُس کے دو ایٹموں سے بنایا ہے ۔اِس طرح ہم ’’اوزون‘‘ کو آکسیجن کا ’’ڈیوڑھا‘‘ کہہ سکتے ہیں ۔ ماہرین فلکیات اور سائنسدانوں نے جب اوزون کے سالمے میں سے آکسیجن کا ایک ایٹم الگ کیا تو وہ آسانی سے الگ ہوگیا لیکن نتیجے میں اوزون کے سالمے کا خاتمہ ہو گیا اور آکسیجن کا سالمہ وجود میں آگیا ۔جب اُسے پھر سے اوزون بنانیکی کوشش کی گئی تو بہت زیادہ ’’انرجی‘‘ کی ضرورت پیش آئی اور یہ انرجی ہمیں سورج سے وہیں ملتی ہے جہاں ’’اوزون ‘‘کا خول ہے ۔باقی ان شاء اﷲ اگلی قسط میں۔
٭…٭…٭

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

قرآن کا حکم ہے سائنس پڑھو

تحریر: محمد شہادت حسین فیضی، کوڈرما جھارکھنڈ وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراورہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے