ویکسین تنازع

تحریر: محمد شاہد علی مصباحی (جالون)
نائب صدر: تحریک علمائے بندیل کھنڈ

ابھی ویکسین آئی نہیں، اور آپ پر لازم بھی نہیں کیا گیا کہ لگانی ہی ہوگی؛ پھر بھی اس میٹر پر پبلسٹی کے لیے اچھل کود کرنا میڈیا کو مواد دینا ہے۔ اور اس میڈیا کو جو بھوکے بھیڑیے کی طرح اسی انتظار میں ہے کہ کب قوم مسلم کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ہاتھ آئے اور ووٹرز کو پولرائز کیا جاسکے۔

مگر ہمارے نام نہاد قائدین کائنات (ہاں! آپ نے درست پڑھا، "قائدین کائنات” ہی لکھا ہے مگر شاید ان کی شان میں یہ لقب بھی بونی لگے، مگر میری ڈکشنری میں اس سے بڑا لفظ ہے نہیں جس سے ان عظیم ترین میڈیائی قائدین کو ملقب کرسکوں اس لیے معذرت خواہ ہوں۔) کی یہ بیان بازیاں دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے جیسے قوم مسلم میں کوئی بات پرائیویٹ ہے ہی نہیں! ہر بات ایسی ہے جو پوری دنیا تک پہنچنا لازمی ہے۔

اب ان میڈیائی و سوشل میڈیائی عظیم قائدین کو یہ بات کون سمجھائے کہ موقع محل بھی کوئی شے ہے۔ اگر ایسا بول دیا گیا تو گستاخی کے مرتکب ہوجائیں گے۔

کیسے سمجھایا جائے کہ کسی بھی معاملے میں پہلے پوری تحقیق کرلیں اور پھر حکمت عملی کے تحت کوئی بیان جاری کیا جائے، تاکہ اس بیان کے منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔

مگر ہمارے یہاں تو "قائد اعظم کائنات” بننے کا ایسا شوق چڑھا ہوا ہے کہ کوئی بات ڈھنگ سے سنی بھی نہیں ہوتی اور ٹی وی پر بیان دے دیا جاتا ہے۔ کہ کہیں کوئی اور اس موقع کا فایدہ نہ اٹھالے۔
میں سوال کرنا چاہتا ہوں کہ کیا حکمت عملی اور منصوبہ بندی فضول کی چیزیں ہیں؟
کیا ان سے کوئی فائدہ نہیں؟
کیا امت کا ہر مسئلہ ٹی وی پر لے جانا ضروری ہے؟
کیا بغیر ٹی وی اور سوشل میڈیا پر تشہیر کیے ہم کام نہیں کرسکتے؟
ضرور کرسکتے ہیں مگر ہمیں "قائد اعظم کائنات” کیسے سمجھا جائے گا؟
قوم کی ناؤ ڈوبتی ہو تو ڈوب جائے ہمیں تو پبلسٹی بٹورنی ہے۔

اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے واسطے قوم کی فکر کریں اور مسلم مخالف قوتوں کو مواد فراہم نہ کریں۔

میڈیا کی رپورٹ دیکھ کر بڑی تکلیف میں یہ چند سطریں لکھ دی ہیں بری لگیں تو معاف فرمائیں!

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے