کسان بل مضر یا مفید

تحریر: شمیم اختر مصباحی،استاذ: مرکزی دار القرات، جمشید پور

نریندر مودی کی قیادت میں بھاجپا سرکار نے  رواں سال  ستمبر کے مہینے میں تین کسان دشمن   متنازع Bill متعارف کرایا جسے دونوں ایوانوں  سے پاس کرا کر صدر جمہوریہ کے ذریعہ قانونی شکل دی گئی ہے۔

کسان بل  میں  دو بل  اور ایک ترمیمی  بل شامل ہیں:

(۱The Farmer Produce Trade and( Commerce(Promotion&Facilitation)2020, یعنی زرعی پیداوار، تجارت اور کامرس قانون(فروغ اور سہولت کاری)۲۰۲۰۔

اس قانون میں ایک ایسے نظام کو بنانے کا التزام ہے  جہاں کسانوں اور تاجروں کو ریاستی حکومت  کی زیر نگرانی APMC مارکیٹ کے باہر فصلیں فروخت کرنے کی آزادی ہو گی اور  بین ریا ستی اور اندون ریاست  زرعی پیداوار کی مارکیٹنگ کی مکمل آزادی  حاصل ہوگی۔

پس منظر:

بھارت میں  کسانوں کو  زرعی پیداوار کی فروخت کے سلسلے میں ایک خاص طریقہ کار سے گزرنا پڑتا  تھا، کسانوں  کے لیے طے شدہ  اے پی ایم سی مارکیٹ کے احاطوں سے  باہر  زرعی پیداوار فروخت کرنے  پر پابندیاں عائد تھیں  تاکہ کسانوں کو مہاجنوں اور دلالوں کے استحصال سے  محفوظ رکھا جاسکے، سرکار زرعی پیداوار کی ایم ایس پی یعنی کم سے کم امدادی قیمت(Minimum Support Price) جاری کردیتی تھی  تاکہ کسان کا نقصان نہ ہو اور ہر ریاست کے اے پی ایم سی  مارکیٹ سے متعلق الگ  الگ قوانین تھے نیز  بین ریاستی زرعی پیداور کی فروخت پر پابندی تھی۔

(۲)The Farmer( Empowerment & Protection)Agreeement on price Assurance & Farm services Bill,2020 یعنی کسان ( خود مختاری اور تحفظ) قیمتوں کے تیقن  اور کھیتی سے متعلق خدمات بل ۲۰۲۰۔

اس قانون میں زرعی معاہدوں پر قومی فریم ورک مہیا کیا گیا ہے،اس سے کاشتکاروں کو زرعی مصنوعات، فارم خدمات، زرعی کاروباری کمپنیوں، پروسیسرز، تھوک فروشوں، بڑے خوردہ فروشوں اور برآمد کنندگان کی فروخت میں شامل ہونے کا اختیار دیا گیا ہے۔

پس منظر:

اس سے پہلے کارپوریٹ کمپنیاں براہ ِراست  کسانوں سے معاہدہ نہیں کر سکتی  تھیں، انھیں تھوک بازار اور لائسنس یافتہ  تاجروں سے  زرعی پیداوار  اور فصلیں خرید نی  پڑتی  تھیں ، کسانوں کو فصلوں کے نقصان پر سرکاری امداد اور سبسڈی کا  فائدہ حاصل ہوتا تھا اور کوئی بڑی پرائیوٹ کمپنی  زرعی پیداوار کی جمع خوری نہیں کرسکتی تھی۔

(۳)Essential Commodities Act,1955 AMENDMENT 2020, یعنی ضروری اشیا ترمیمی بل ۲۰۲۰۔

ضروری اشیا (ترمیمی) قانون 2020 کے تحت اناج، دالیں، خوردنی تیل، پیاز آلو کو اشیائے ضروریہ کی فہرست سے نکالنے کا انتظام کیا گیا ہے۔

پس منظر:

دوسری جنگ عظیم کے دوران ضروری اشیا کی  بہت قلت ہوئی  چناں چہ اکثر ممالک نے اس سے متعلق قانون بنائے  اور بھارت نے بھی 1955میں اشیاے ضروری کا قانون متعارف کرایا جس  کی وجہ اشیاے ضروری  کو جمع  کرنا قانونی جرم  قرار پایا، اب اس بل میں ترمیم ہو چکی ہے  اور اناج، دالیں ،خوردنی تیل ، پیاز  اور آلو کو اشیاے ضروری کی فہرست سے باہر کردیا گیا ہے۔

مذکورہ قوانین کے نقصانات:

(۱)حکومت  ہر سال زرعی پیداوار  کی کم سے کم امدادی قیمت جاری کر دیتی ہے جس سے کسانوں کو بہت فائدہ ہوتا ہے جب کہ  کسان  بل میں ایم ایس پی (MSP)کا کوئی ذکر نہیں  ہے، سرکار اگر چہ لاکھ دعوی کرے کہ ہم اسے نہیں ختم  کر رہے ہیں ،اس کا دعوی نوٹ بندی کی طرح ایک جملہ ہے ۔ 

(۲)سرکاری منڈیاں  ختم  ہوجائیں گی  یعنی  اے پی ایم سی بازار ختم ہوجا ئیں گے ، اس  سےچھوٹے  کسانوں  کو بہت نقصان ہوگا ،چھوٹے کسانوں کی تعدا د دو تہائی ہے یعنی  85% کسانوں کے پاس  5 ایکڑ  سے کم زمین ہے، بہار میں اے پی ایم سی مارکیٹ کام نہیں  کر رہا ہے ،پچھلے سال مکئی کی ایم ایس پی ریٹ  فی کوئینٹل 1765  روپےتھا لیکن کسانوں کو 900    روپے فی کوئنٹل  بیچنی پڑی۔جب یہ سرکاری منڈیاں ختم ہوجائیں  گی تو یہ منڈیاں بھی پرائیوٹ منڈیوں میں تبدیل ہوجائیں گی اور قیمت اور ریٹ ان کے ہاتھوں میں ہوگا ، کسانوں  کواپنے پیداوار اونے پونے داموں پر بیچنے پڑیں گے، اسے ایک مثال سے سمجھیے: جیسے سرکاری اسکول  اور پرائیویٹ اسکول ، آج سے تیس سے چالیس سال پہلے  سرکاری اسکول میں وہی معیاری تعلیم تھی جو آج پرائیویٹ ادارے فراہم کرتے ہیں  لیکن جب سے  تعلیم کو  پرائیویٹائز  کیا گیا تو آج تعلیم  اتنی مہنگی ہوگئی کہ ایک غریب آدمی وہاں اپنے بچوں کو پڑھا نہیں سکتا اور اس پر سرکار کچھ کر نہیں سکتی  کیوں کہ وہ پرائیویٹ ہیں اسی طرح   سرکاری منڈیوں  کو ناکارہ بنانے کے لیے منڈیوں کے خرید و فروخت کی اجازت دی  گئی ، جب یہ ٹھپ ہو جائے گا  یعنی اس کی حیثیت موجودہ سرکاری اسکول کی طرح  ہوجائے گی  تو اسے یا تو بیچ دیا جائے گا یا پرائیویٹ کمپنی کو لیز پر دے دیا جائے گا ۔

(۳)زرعی سیکٹر  کو  پرائیویٹ کمپنیوں  کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی طرف مضبوط قدم ہے ،ابھی کسان  اپنے کھیتوں میں کام کر رہا ہے لیکن جب   کسانی کی لاگت نہیں اٹھا پائے گا تو زمین بٹائی یا کمپنی کو دے  کر  خود مزدوری کرے گا۔

(۴)اناج  اور اشیاے خوردنی کی جمع خوری میں اضافہ ہوگا  اور ریٹ پرائی ویٹ کمپنیوں کے ہاتھ میں  ہوگا۔

(۵)اس سے غریب مزید غربت کے دلدل میں پھنس جائے گا اور امیر کے  دولت میں بے تحاشہ اضافہ ہوگا، اس کو  ایک مثال سے سمجھیے کہ  ابھی  پچھلے  دو  سہ ماہی سے بھارت کی GDP صفر میں  چل رہی ہے  جب کہ  سینسکس  47000سے اوپر چل رہا ہے ،پچھلے  سال سینسکس 25000 کے آس پاس چل رہا تھا، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق  صرف 2% لوگ  شیئر بازار میں  کاروبار کرتے ہیں، اس سے اندازہ لگائیں  کہ کارپوریٹ سیکٹر  اور امیروں  کو کتنا  فائدہ ہو  رہا ہے  کیوں کہ بھاجپا سرکار کارپوریٹ  کے ہاتھوں بکی ہوئی ہے اور ان کے لیے قانون بنا رہی ہے ۔

(۶)کنٹریکٹ فارمنگ میں بڑی کمپنیاں چھوٹے کسانوں سے زمین لے  کر ایک بڑا فارمنگ ایریا تیار کریں گی ، بڑی بڑی مشینوں کا استعمال ہوگا اور کسان مالک سے مزدور  بنیں گے یا  کسان  خود کنٹریکٹ پر کاشت کاری کرے گا  تو یہاں کیا بونا  ہے، دام کیا ہو گا ، سب کمپنی طے کرے گی اور یہ ڈیل ایک کسان جو نا خواندہ  اور غریب  ہے ، اس کے درمیان اور اس کمپنی کے درمیان ہوگا جو پیسے والی    ہے، اس میں کسانوں کا سراسر نقصان ہوگا۔

(۷)کنٹریکٹ بیس فارمنگ میں باہمی تنازع کو کسان  عدالت نہیں لے جاسکتا ہے بلکہ ضلع ادھیکاری جیسے سب ڈویزنل  مجسٹریٹ ، کلکٹر اور  ایڈیشنل کلکٹر جو  کلکٹر کے ذریعہ منتخب کیا گیا ہو،  کے پاس ہی پیش کر سکتا ہے ، یہاں بھی کسانوں کو اپنے ادھیکا رسے محروم رکھا گیا ہے ۔

(۸)اشیاے ضروری میں ترمیم ہو چکی ہے ؛ اس لیے کالا بازاری بڑھے گی ، بڑی کمپنیاں سستے داموں میں خرید جمع کر لیں گی  پھر دام بڑھنے پر مارکیٹ میں لائیں گی  ، اس  سے عام جنتا پر مہنگائی کی مار پڑے گی۔

APMC  مارکیٹ کیا ہو تا ہے؟

Agricultral Produce Market Committee(APMC)  (  زرعی پیداوار مارکیٹ کمیٹی) بازار   ریاستی  قوانین  کے تحت  قائم کی گئی منڈیاں  ہیں جہاں  کسان ریاستی  حکومتوں  کے لائسنس یافتہ   ایجینٹ یا تاجروں کوہی اپنے پیداوا ربیچنے کے پابند  ہیں،اے۔ پی۔ ایم۔ سی۔ کے دو بنیادی اصول  ہیں:(۱)کسانوں کو بیچولی اور مہاجنوں کے استحصال سے بچانا   تاکہ وہ  بہت کم قیمت پر بیچنے پر مجبور نہ ہوں (۲) تمام زرعی پیداوار کو  سب سے پہلے منڈی میں لانے کو یقینی بنانا تاکہ بولی  کے ذریعہ اس کی خرید و فروخت ہو سکے۔ ان قوانین سے کسانوں کے ساتھ ساتھ عوام الناس  پر بھی زبردست منفی اثر پڑے گا،مہنگائی بڑھے گی،خود کشی کی شرح میں اضافہ ہوگا۔ یوں ہی بے روزگاری  کی شرح  بڑھنے کی وجہ سے چوری،قتل،لوٹ مار، اسمگلنگ کے واقعات میں بے تحاشا اضافے  ہوں گے،یہ ساری چیزیں ایک صالح معاشرے کے لیے زہر ہلال ہیں؛ اس لیے ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ان قوانین کی سختی سے مخالفت کریں اور  عوام میں بیداری لائیں۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے