ڈاکٹر ریحان غنی اور فردنامہ پروفیسر عبدالمغنی

تحریر: ریاض فردوسی، پٹنہ 9968012976

نیپولین بونا پاٹ نے کہا تھا کہ
I fear three newspapers more than a hundred thousand bayonets
’’لاکھوں سنگینوں سے زیادہ میں تین اخبار سے خوف زدہ رہتا ہوں‘‘


صحافت خود نمائی ،صنعت نہیں ایک مہم کی حیثیت کی حامل ہے،اخبارات اور رسائل کاروبار نہیں ،عوام کی رہنمائی اور معلومات کاذریعہ ہیں،ایک ذمہ دار صحافی سیاسی،سماجی،معاشی اور فرقہ وارانہ معاملوں سے الگ ہو کر حق اور صداقت کو سامنے لاتا ہے۔وہ نہ کسی کی ناراضگی کی پرواہ کرتا ہے اور نہ کسی رشتے کے ٹوٹ جانے کی فکر ہوتی ہے،خوف اور لالچ سے مستثنیٰ ہو کر اس راہِ پرخار پر چلتا چلا جاتا ہے۔ سچ کی راہ میں ہر دشواریوں کا جواں مردی سے مقابلہ کرتا ہے۔صحافت ایک مشن ہے،صحافی اس کے معاون ۔اردو ،صحافت کے اس عظیم مشن میں ہمیشہ مددگاررہی ہے۔
صحافی اپنا کام خوش اسلوبی سے انجام دینے کے بعد بہت ہی معمولی تنخواہ پاتے ہیں، وہ بھی وقت پر نہیں ملتی ، اپنے گھر والوں کی کفالت کرنامشکل ثابت ہوتا ہے، زندگی ہمیشہ پریشان کن ماحول میں بسرہوتی ہے۔یہ دل خراش صورت حال میدان صحافت میں قدم رکھنے والوں کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے، ان کے پختہ ارادوں کو کمزورکرتی ہے اور انہیں کسی دوسرے شعبہ میں کرئیر بنانے کے لیے ذہن نشین کراتی ہے، جس پر بسا اوقات وہ تیار بھی ہوجاتے ہیں اور صحافت حق پرست صحافی کی خدمات سے محروم ہو جاتی ہے ،یا وہ صحافی چاپلوس اور دولت پرست ہوجاتاہے۔یہ صورت حال جمہوریت کے لیے تشویشناک ہے، اس سے جمہوریت کے مستقبل پر آمریت کے کالے بادل چھا چکے ہیں،صحافت آج آزاد نہیں ہے۔صحافت جمہوریت کا چوتھا ستون ہے، اور یہ ستون اگر گر جائے گا، تو جمہوریت کی خوبصورت عمارت بدنمااور دھبہ دار ہوجائے گی، اور اس کی کیفیت فالج زدہ آدمی سی ہو جائے گی، صحافیوں کی تحقیق، تلاش و جستجو اور محنت ملک کو بہت سے مسائل سے بچاتی ہے۔
صحافت کے اس عظیم مشن کو ڈاکٹر ریحان غنی نے بخوبی اور پورے مستعدی کے ساتھ انجام دیا ہے۔جو بات پیش کی حق اور صداقت کی روشنی میں پیش کی۔نہ قرابت داری کا خیال کیا نہ کسی تعلق کی پرواہ کی۔جو بات کہی سچائی کی روشنی میں کہی ۔سچ کو سچ کہا ،جھوٹ کوجھوٹ کہا۔اس پرخطر راہ میں طرح طرح کی دشواریوں کا سامنا کیا،معاشی تنگی برداشت کئے،لیکن کبھی اپنے اور اپنی اہلیہ و بچوں کے دامن کو داغ دار نہیں ہونے دیا۔تمام حالات کو صبر استقامت سے گزار لیا۔اگر بندہ حق پر ڈٹارہے تو اللہ کی مدد ضرور آتی ہے ،بشرطِ صبر استقامت کے ساتھ قائم رہا جائے،بقول ڈاکٹر ریحان غنی کے صبر۔ مصیبت اورپریشانی کے شوروغل کرنے کا نام نہیں ،صبر ماتم زدہ رہنے کا نام نہیں،بلکہ صبر ایسا ہو کہ خاندان والے اور اپنے عزیز رشتے دار چہرادیکھ کر ،گفتگو کر کے بھی حالت کی واقفیت نہ پا سکے۔
کچھ اشخاص اپنی صلاحیتوں کی وجہ کر رہنما بنتے ہیں اور کچھ دوسروں کی کوششوں سے۔کچھ شخصیات اپنی خداداد صلاحیتوں،اخلاص وللہیت، دینی و ادبی،ثقافتی و سماجی سرگرمیوں اور خدمت خلق کی بنا پر عزت اور شہرت حاصل کرتے ہیں۔ڈاکٹر ریحان غنی ان چند شخصیات میں شامل ہیں،جو کبھی بھیڑ کا حصہ نہیں ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر ریحان غنی علمی اور مذہبی گھرانہ کے چشم و چراغ ہیں۔علمی و ادبی،سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں سے رشتہ استوار رکھتے ہیں، دینیات،سماجیات،شعر وشاعری اور دیگر اصناف ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں،تحقیق و تصنیف سے قارئین کو نوازتے رہتے ہیں،اکثر اپنی گراں قدر بیش قیمتی گفتگو،مضامین و مقالات اور دو ٹوک کے ذریعہ مذہبی، علمی و ادبی اور ثقافتی پروگراموں کی قدر و قیمت میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔
ہر انسان کی زندگی کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک ظاہری اور دوسرا باطنی۔ظاہراََوہ خوبیاں ہیں ،جنہیں دیکھ کر عوام و خواص متاثر ہوتے ہیں۔ لیکن باطنی خوبیوں کا پتہ اس شخص سے ملاقات اور معاملات کے بعد ہی ملتا ہے۔ظاہری خوبیوں کی خوبصورتی کا اثر چند وقت کے لئے ہوتا ہے، لیکن باطنی خوبیوں کا اثر پائیدار ہوتا ہے۔ڈاکٹر ریحان غنی دونوں طرح کی خوبیوں کے مالک ہیں۔
ڈاکٹر ریحان غنی کی شخصیت میں صداقت،توجہ و یکسوئی،مثبت رویہ،انصاف پسندی،خلوص،صبر و توکل،خوش مزاجی،خدمت خلق،زندہ دلی،اعتدال پسندی و میانہ روی،وقت کاصحیح استعمال،نرمی ورحمدلی،چھوٹوں سے شفقت،بڑوں کا احترام،کفایت شعاری، عفوودرگزر پنہاں ہیں۔ذات و برادری اور مسلکی تعصب نے لوگوں کو جدا جدا کر رکھا ہے،الا ماشاء اللہ ہی باتوفیق الا اللہ کوئی شخص ہی اس لعنت سے محفوظ ہے۔لیکن ڈاکٹر ریحان غنی ان واہیات باتوں سے ہمیشہ الگ رہتے ہیں۔ڈاکٹر ریحان غنی میں نہ کسی قسم کامسلکی تعصب،نہ ذات و برادری کا ناپاک تعصب اور برتری موجود ہے۔سب سے یکساں ملتے ہیں،ذات و برادری کا ذکر بھی اگر کوئی کرے تو تبصرہ نہیں کرتے،خاموشی اختیار کر لیتے ہیں،ان بے کار اور بدبودار باتوں سے چہرے پر ناگواری اور کراہیت کے آثار نمودار ہوتے ہیں۔ہمیشہ شکوہ شکایت اور چغل خوری سے دور رہتے ہیں۔ڈاکٹر ریحان غنی لوگوں کی اصلاح بہت ہی محبت اور میٹھے الفاظ میں کرتے ہیں۔ڈاکٹر ریحان غنی کی زبان آسان اورسلیس اور دل پر اثرکرنے والی ہوتی ہے۔
ان کی اصلاحی باتوں میں تنقید کا پہلو ہوتا ہے نا کہ تنقیص کا۔مضامین اور دو ٹوک کسی بھی مسلک کے خلاف ہو کر نہیں لکھتے۔کسی بھی خاص مسلک یا برادری کو نشانہ نہیں بناتے۔کامل اور مکمل ذات صرف نبی کریم ﷺ کی ہی ہے۔باقی ہم سب میں کچھ نہ کچھ کمی ضرور ہے۔
ڈاکٹر ریحان غنی فردنامہ میںپروفیسر عبد المغنی کے بارے میں مختصر تعارف یوں پیش کرتے ہیں۔پروفیسر عبد المغنی : ایک نظر میں!
نام : ابو المبروسید عبد المغنی
قلمی نام : عبد المغنی
والد کا نام : مولانا سید عبد الرئوف ندوی
وطن : اورنگ آباد ، بہار
تاریخ پیدائش 4جنوری 1936ء
تاریخ وفات : 5 ستمبر 2006 ء
تدفین : شاہ گنج قبرستان ، پٹنہ
اورنگ آباد سے پٹنہ منتقلی : 1949ء
درجہ مولوی میں داخلہ : مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ ، پٹنہ1949ء
عالم : بہار ااسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ 1953ء
بی اے انگریزی آنرز : 1958ء پٹنہ یونیورسیٹی،پٹنہ
ایم اے انگریزی : 1960ء پٹنہ یونیورسیٹی پٹنہ
لکچرر کی حیثیت سے تقرر : 1961ء پٹنہ یونیورسیٹی
پی ایچ ڈی : 1978ء پٹنہ یونیورسیٹی
یونیورسیٹی پروفیسر : 1996ء
ملازمت سے سبکدوشی : جنوری 1996ء بحیثیت انگریزی پروفیسر
وائس چانسلر : ایل این متھلا یونیورسیٹی دربھنگہ
(جولائی 1996ء سے مئی 1999ء)
صدر انجمن ترقی اردو بہار : 1975ء سے تاحیات( یعنی 31سال صدر رہے)
اور صدر حلقہ ادب بہار
اعزازات وایوارڈ : (۱) غالب ایوارڈ ، ایوان غالب ،نئی دہلی 2000ء
(۲) شکھر سمان، راج بھاشا، حکومت بہار 2000ء
کسی انسان کی شخصیت کا سب سے بہترین پہلو اس کے خلوتی زندگی کا ہوتا ہے ۔آدمی تعلیمی وقت یا لوگوںکے سامنے کسی طرح سے رہے لیکن گھر میں بالکل اپنی اصلی حالت میںرہتا ہے۔لاکھ خود کو پردے میں چھپا لے گھر یلوں زندگی میں اس کے کردار کا سارا پہلو کھل کر سامنے آتا ہے۔ڈاکٹر ریحان غنی پروفیسر عبدالمغنی کے خلوت کے شب وروز کا نقشہ یوں بیان کرتے ہیں!
’’ ڈاکٹر عبد المغنی کا بولنا، چلنا، اٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا، رہنا سہنا، لیٹنا اور سونا سب ایک نپے تلے اور اصول وضوابط کے پیمانے میں گھر ا ہے اور یہ ان ک زندگی کے شب و روز کی فطرت اور عادت بن گئی ہے۔ خوبی یہ پائی جاتی کہ وہ حد اعتدال سے تجاوز نہیں کرتے۔ ڈاکٹر عبد المغنی وقت کے سخت پابند ہیں اور بعض وقت اس ہندوستانی عوام کے مزاج کے مطابق دوستوں کے لیے وہ تکلیف دہ ہو جایا کرتے ، مگر اُنہیں اس کی فکر اور نہ ہی پرواہ ہوتی۔ مثلاً اگر جلسہ میں انہیں مدعو کیا گیا تو وہ وقت کی پابندی کے ساتھ حاضر ہوتے اور اگر انہیں صدارت، یا تقریر کرتی ہوتی تو وہ اسی پابندی سے شروع کرتے اور تقریر و غیرہ کر کے صاحب جلسہ سے اجازت لے کر وہاں سے روانہ ہوجاتے۔ وہ اگر کسی سمینار اور سمپوزیم میں شریک ہوتے تو وقت کی پابندی کا لحاظ رکھتے اور وہاں کے منتظمین اور سامعین سے بھی وہ اس کی امید کرتے کہ وقت کی پابندی کریںگے۔ وہ وقت کی پابندی کی بنیاد پر کسی وقت اور کسی حالت میں مصالحت کرنے کو تیار نہیں رہتے۔ وہ زیادہ تر اپنی تقریر، یا مقالہ پڑھنے کے بعد جلسہ گاہ میں رکتے نہیں اور قیام گاہ چلے آتے۔ وہ اپنی ذاتی امور بھی اسی پابندی سے انجام دیتے۔‘‘(شخصیت اور کردار، از: شبر امام سنہ اشاعت1993ء صفحہ۔124)
پروفیسر عبدالمغنی کی خود اعتمادی کے متعلق ڈاکٹر ریحان غنی یوں رقم طراز ہیں!
پروفیسر عبد المغنی کی خود اعتمادی بھی مشہور تھی اور ’’انا‘‘ بھی۔ شبر امام( کئی کتابوں کے مصنف اور ادیب) نے بھی ان کے انقال کے بعد ایک مضمون لکھا تھا، جس میں انہوں نے پروفیسر عبد المغنی کی خود اعتمادی کا خاص طور پر ذکر کیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں:عبد المغنی حد سے زیادہ خود اعتمادی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے، اس خود اعتمادی کا تعلق جہاں تک ان کی ذات سے تھا، وہ کامیاب اور سر بلند رہے۔ اس خود اعتمادی کا تعلق کسی دوسری ذات سے وابستہ ہو تا تو انہوں نے ہمیشہ دھوکا کھایا۔ یہ حادثہ کئی بار ہوا تھا، اس کے باوجود بھروسہ کرتے تھے، کیوں کہ انہیں خود پر اعتماد تھا۔ وہ زمانہ شناس سے زیادہ خود شناس تھے۔وہ اردو زبان وادب کے فروغ ورتقا کے سلسلے میں ہر ایک کے وعدے پر بھروسہ کر لیتے تھے، جس کی مثال انجمن ترقی اردو، بہار کی گذشتہ چند سال کی ریشہ دوانیاں ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو اس سلسلے میں کافی صدمہ رہا ۔ وہ اصرف اور صرف مسلمان تھے اور مسلمانوں کے حقوق کے لیے جدو جہد کرتے رہتے تھے۔ ‘‘(مضمون ’’ ایک ستون گرا، ایک چراغ اور بجھا‘‘ از: شبر امام)
ڈاکٹر ریحان غنی پروفیسر صاحب کے کئے ہوئے کارناموںکو ان ان الفاظ میں اس طرح پیش کرتے ہیں! پروفیسر عبد المغنی کا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے جدیدیت کے نام پر اردو ادب میں کیے جانے والے نئے نئے تجربات کے منفی اثرات سے نہ صرف اردو کے ادیبوں ، شاعروں اور قلم کاروں کو ہوشیار کیا بلکہ اس کے خلاف سینہ سپر ہو کر کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے جدیدیت کے خلاف اپنے موقف کو تحریک کی شکل دی۔ انہوں نے انجمن ترقی اردو بہار کے ادبی ادارے ’’ حلقہ ادب بہار‘‘ کے ترجمان ’’ مریخ ‘‘ میں مسلسل اداریے لکھ کر اور مضامین شائع کر کے اردو میں کلاسیکی ادب کے حق میں فضا بندی کی اور ادب کو غارت کرنے والی ادبی تحریک کے منفی اثرات سے قلم کاروں کو ہوشیار اور چوکس کیا اور اس تحریک کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے۔ پروفیسر عبد المغنی نے ترقی پسندی اور جدیدیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:
’’حقیقت یہ ہے جس طرح ترقی پسندی مغربی ممالک سے در آمد کی گئی، اسی طرح جدیدیت بھی در آمد کی گئی۔ پہلا رجحان روسی اشتراکیت کے زیر اثر ابھرا تھا تو دوسرا امریکی سر مایہ داری کے زیر اثر۔ دونوں صورتوں میں فکر ونظر کے پیمانے دیار غیرسے مستعار تھے(ماہنامہ’’ مریخ‘‘شمارہ جنوری ۔ اگست 1990ء صفحہ:7)
پروفیسر عبدالمغنی مشوروں کا بیان جوانہوں نے تنقید نگاروں کے متعلق فرمایا ہے ،ڈاکٹرریحان غنی اس فردنامے میں اس طرح سے پیش کرتے ہیں!
پروفیسر عبدالمغنی نے تنقید نگاروں کو مغرب میں نہیں بلکہ کلاسیکی ادب میں اپنی قدریں تلاش کر نے کا مشورہ دیا ۔ انہوں نے لکھا:۔ نئی تنقید کو بھی اپنی قدریں اپنے کلاسیکی ادب اور اس کی تہذیبی قدروں میں تلاش کر نی اور اس زبان میں گفتگو کر نی ہوگی جو اردومعاشرے کی جانی پہچانی اور مانی ہوئی زبان ہے(مریخ، ستمبر 1994ء ، صفحہ : 6)
بہار میں اردو کی بقاء کے لئے پروفیسر عبدالمغنی کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ،ایک زمانہ دراز تک انہوں نے اردو کے وجود کو زندہ اور پابندہ قائم رکھنے کے لئے متواتر محاذآرائی کی ہے۔چند ایک مشورے سے بھی جو اردو کے فروغ میں کا رآمد ثابت ہونگے ان کو بھی بنا کسی خوف کے لوگوں کے درمیان پیش کیاہے۔ڈاکٹر ریحان غنی ان کے مشورے کو یوں بیان کرتے ہیں!
’’ اردو ذریعہ تعلیم کے لیے پرائمری اسکولوں کا قیام واستحکام وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس کو پورا کرنے کے لیے نام نہاد اور پرفریب انگریزی میڈیم کے سراسر جاہلانہ اور احمقانہ طلسم سے نکلنا ہوگا۔ واقعہ ہی ہے کہ مشنری اسکول بھی اپنی ظاہری شان وشوکت کے باوجود انگریزی نہیں سکھاتے۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر یہاں کے تعلیم یافتہ آئندہ تعلیم، یا زندگی کے کسی دائرے میں آگے نہیں بڑھتے۔ مغرب زدہ لوگوں کے لیے شاید یہ انکشاف ہو۔ بہر حال دنیا بھر کے ماہرین تعلیم کا متفقہ فیصلہ ہے کہ پرائمری ایجوکیشن مادری زبان میں ہونا چاہیے۔ تاکہ بچے کا ذہن صحیح طور پر بن سکے اس لیے کہ جو زبان گھر میں بولی جاتی ہے وہی موثر ذریعہ تعلیم بن سکتی ہے، جب کہ ایک مضمون کے طور پر کوئی دوسری زبان پڑھائی جاسکتی ہے اور ابھی ہندوستان میں کچھ دن اور انگریزی پڑھائی جانی چاہیے ، اس لیے کہ اعلیٰ تعلیم میں اردو کے سرکاری قتل کے بعد کوئی دوسری زبان آزادی کے بعد بھی نصف صدی میں انگریزی کی جگہ نہیں لے سکی، حالانکہ آزادی سے قبل مرحومہ عثمانیہ یونیورسیٹی حیدر آباد نے آرٹس اور سائنس سبھی کے لیے اعلیٰ تعلیم اردو میں دلائی تھی اور وزیر اعلیٰ سے وزیر اعظم تک آزادی کے دور میں بھی پیدا کیے۔‘‘(مریخ شمارہ جون۔اگست 2000 ء صفحہ ۔4)
پروفیسر عبد المغنی کی زندگی ایک خاص نصب العین کی پابند رہی ۔ انہوں نے جو مقصد حیات طے کیا تھا، اس میں وہ بہت حد تک کامیاب رہے ۔ انہوں نے آخر وقت تک اپنے ادبی نظریہ اور اسلامی فکر سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ اپنے سخت موقف کی وجہ سے حالانکہ انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن وہ اپنے موقف پر آخر وقت تک قائم رہے اور حلقہ ادب بہار کے رسالہ ’’مریخ‘‘کے صفحات کو بھی اپنے موقف کا پابند بنائے رکھا۔ اردو ادب کو گمرہی سے بچایا اور اسے صرا مستقیم پر چلنا سکھایا۔ یہ اُن کا بڑا کارنامہ ہے جسے ادبی دنیا ہمیشہ یاد رکھے گی۔
پروفیسر عبد المغنی کی تحریروں کی مختلف زاوئے سے قلم بند کئے ہوئے مضامین کی تقریباََ تمام فرہست اس فردنامہ میں موجود ہے۔ڈاکٹر ریحان غنی نے دن ورات کی بے انتہا محنت سے اسے ایک کتاب میں اکٹھا کیا ہے۔یہ ان کا عظیم کارنامہ ہے،جو مستقبل میں تحقیق کرنے والے طلباء کے لئینعمت عظیم ثابت ہوگی۔فردنامہ میں پروفیسر عبدالمغنی کے مضامین کو اس طرح قلم بند کرتے ہیں!
’’ پروفیسر عبد المغنی نے ’’ مریخ‘‘ میں ایک طرف جہاں مختلف شخصیات پر مضامین قلمبند کیے ہیں، وہیں اس کے علاوہ انہوں نے برناڈشاہ (1976)مولانا مودودی (1989) قرۃ العین حیدر (1991) ٹیپوسلطان (1991) اورنگ زیب(1992)محمود غزنوی (1993) اور فیض احمد فیض (2001)جیسی عبقری شخصیتوں پر باضابطہ کتابیں بھی لکھیں۔ انہوں نے ایسے ادیبوں اور شاعروں پر بھی توجہ دی، جنہیں لوگوں نے دانستہ، یا نادانستہ طور پر نظر انداز کر دیا تھا۔ ان میں مشہور افسانہ نگار شین مظفر پوری بھی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہیں اردو کے نقادوں نے وہ مقام نہیں دیا، جو انہیں ملنا چاہیے تھا لیکن پروفیسر عبد المغنی نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے شین مظفر پوری اور ان کے فن پر ایک جامع مقالہ قلمبند کر کے ان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ پروفیسر عبد المغنی سے ڈاکٹر نسیم اختر نے ایک تفصیلی انٹرویو لیا تھا۔ اس انٹر ویو میں انہوں نے پروفیسر عبد المغنی سے دریافت کیا تھا کہ اورنگ زیب، ٹیپوسلطان، یا محمود غزنوی پر آپ کی جو کتابیں ہیں، ان کے محرکات کیا تھے؟ اس سوال کے جواب میں پروفیسر عبد المغنی نے کہا تھا کہ:
’’ یہ تاریخی کتابیں ہیں اگر چہ اور نگ زیب پر کتاب مختصر ہے، لیکن اس میں جو مواد میں نے پیش کیا ہے وہ دیکھنے کاہے کہ اور نگ زیب میں جو بہت مشہور مورخ سمجھے جاتے ہیں سر جادو ناتھ سرکار، میں نے ان پر سخت تنقید کی ہے اور دستاویزی طریقے پر دکھایا ہے کہ انہوں نے غلط تعریف کی ہے اور نگ زیب کے بارے میں ایک مثال تو یہ ہوئی۔ اس کے علاوہ بھی محمود غزنوی ہیں، یا ٹیپو سلطان ہیں، ان پر جو کچھ بھی لکھا ہے، اگر کوئی غلط مواد میرے سامنے ہے تو میں نے اس پر تنقید بھی کی ہے اور کچھ Soruceکے حوالے پیش کیے ہیںکہ میں جو کچھ کہہ رہاہوں کیوں وہ صحیح ہے اور دوسرے لوگوں نے جو لکھا ہے، کیوں وہ غلط ہے، اس کا میں نے تجزیہ کیا ہے، تحقیق کی ہے اور حوالے دیے ہیں وہ اپنی جگہ ہے۔‘‘(باتیں، انٹرویو کا مجموعہ : ڈاکٹر نسیم اخترصفحہ 94 )
ڈاکٹرریحان غنی پروفیسرعبدالمغنی کے تبصروں کو اس حوالے سے بیان کرتے ہیں!’’ پروفیسر عبد المغنی کے تبصرے کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ تبصرہ کرتے وقت مصنف یا مرتب کا تعارف بھی کراتے ہیں اور ان کا نقطۂ نظر بھی واضح کر دیتے ہیں۔ مثلا پروفیسرممتاز حسین کے تنقیدی مضامین کے مجموعہ ’’ نقد حرف‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ:پروفیسر ممتاز حسین اردو کے ان معدودے چند ناقدوں میں ایک ہیں ، جو کافی مطالعہ وتفکرسے کام لیتے ہیں اور سالہا سال سے اپنے مخصوص نقطۂ نظر کے مطابق تنقیدادب کے فکر انگیز نمونے پیش کرتے رہے ہیں ، اگر چہ بعض اوقات وہ اپنے مباحث کو ان کے منطقی نتائج تک نہیں لے جاتے، یا اپنا موقف پورے طور پر واضح نہیں کرپاتے۔ بہر حال وہ جس موضوع پر لکھتے ہیں، اپنے سوچے سمجھے ہوئے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور دوسرے ناقدین بالخصوص مغربی ادبا کے اقوال بھی جا بہ جادرج کر کے ان کی تشریح کرتے ہیں(مریخ ، اگست، دسمبر 1986ء ، صفحہ 53)
پروفیسر عبدالمغنی حالاں کہ اپنے تنقیدے نظریے اوراپنی خاص اسلامی فکر کے مبلغ نہیں تھے،لیکن ان کی کوشش یہی تھی کہ اردو شعروادب اپنی خاص خشبوسے جاناپہچاناجائے،وہ اپنے اوپر ’ ’مغربیت ‘‘
طاری نہ کرے۔اسی نظریے کو ڈاکٹر ریحان غنی فردنامہ میں ذکر کرتے ہیں!
پروفیسر عبد المغنی کے تنقیدی مضامین کے مجموعہ کے مطالعہ سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ انہوں نے تنقید کے تعلق سے اپنا جو نظر یہ بنایا تھا، اس پر وہ آخر وقت تک قائم رہے اور ان کی فکر سے جو بھی نظریے ٹکرائے، ان کو انہوں نے یکسر مسترد کر دیا اور اپنے نظریہ سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ وہ علامہ اقبال کو غزل گوئی کی قدیم روایت میں انقلاب برپا کرنے والا شاعر تسلیم کرتے ہیں۔ اپنے ایک مضمون ’’ مجروح کی غزل گوئی ‘‘ میں پروفیسر عبد المغنی لکھتے ہیں کہ :’’ انہوں نے (اقبال)جدید نظم نگاری کے ساتھ ساتھ غزل گوئی کی قدیم روایت میں ایک ایسا انقلاب بر پا کر دیا کہ اس کے بعد اردو غزل وہ رہی ہی نہیں ، جو غالب اور ان کے کم عمر معاصرین تک رہی تھی۔ نہ صرف یہ کہ تخیل اور موضوع کے لحاظ سے اقبال کے بے مثال تغزل نے ایک بالکل نیا نظام قائم کیا، بلکہ اسلوب کے اعتبار سے بھی تازہ استعارات کے علاوہ فرسودہ استعارات میں تازہ مفاہیم پیدا کردیے۔(مریخ، جون ۔ اگست 2000 ء ، صفحہ 5)
پروفیسر عبد المغنی کے چند تصانیف۔۔۔ نقطہ نظر،جادہ اعتدال،ہندوستان میں مسلم اقلیت کا مسئلہ،برناڈ شاہ،تشکیل جدید،معیار و اقدار،اقبال اور عالمی ادب،اقبال کا نظام فن،تنقید مشرق،طرز تعلیم،قرآن کا تصورجنس،تصورات،مابعد صنعتی معاشرہ اور اسلام،مولانا ابوالکلام آزاد،ذہن وکردار،دہشت پسندی اور اسلام،مولانا مودودی کی ادبی خدمات،قرآن مجید کا ادبی اعجاز،اسلوب تنقید،تنویر اقبال،عظمت غالب،فیض کی شاعری،تہذیبوں کا تقابلی مطالعہ،بہار میں اردو کا سرکاری استعمال،محمود غزنوی،تنقیدی زاویے،ٹیپو سلطان،قرآن کیوں پڑھیں؟ وغیرہ وغیرہ
ڈاکٹر ریحان غنی اردو صحافت میں مستند،معتبر اور معروف شخصیت ہیں۔ ڈاکٹر ریحان غنی چار دہائیوں سے اردو صحافت کی خدمت کر رہے ہیں۔پروفیسر عبد المغنی کا انتقال سے قبل آخری انٹرویو ڈاکٹر ریحان غنی نے ہی لیا تھا۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ذکی احمد، شخصیت اور شاعری: ایک مطالعہ

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے