نظم: مرے رب کی پیاری عنایت ہے بیٹی

نتیجۂ فکر: شمس الحق علیمی شمسیؔ، مہراج گنج

مرے رب کی پیاری عنایت ہے بیٹی
کبھی مت یہ سوچو ہلاکت ہے بیٹی

اے لوگو یہ باتیں سبھی پرعیاں ہیں
ہمارے گھروں کی شرافت ہے بیٹی

نہ مارو اُسے تم شکم کے ہی اندر
وہاں بھی خدا کی امانت ہے بیٹی

جو درگور کرتے تھے بیٹی اُنہیں بھی
نبی نے بتایا سعادت ہے بیٹی

نبی کی مبارک حدیثوں سے ثابت
جہنم سے کرتی حفاظت ہے بیٹی

جو دختر کو اپنی ہےصالح بناتے
تو دوزخ سے واللّٰہ براءت ہے بیٹی

صحابی کے قصّے کو سن کر نبی نے
کہا تھا سنو اب سعادت ہے بیٹی

یقیناً خدا تُجھ کو بخشے گا شمسی
تمھارے لئے بھی بشارت ہے بیٹی

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مجھے یاد ہے سب

تحریر: زاہدہ محبوب، کرلا ممبئی مجھے اچھے سے یاد ہے، 2020 کا وہ لاک ڈاؤن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے