کسان(Farmer) بھارت کی آن، بان اور شان ہیں

از قلم: محمد اشفاق عالم نوری فیضی
رکن:مجلس علمائے اسلام مغربی بنگال شمالی کولکاتا نارائن پورزونل کمیٹی کولکاتا۔136
رابطہ نمبر۔9007124164

کسان ہر وہ شخص جو مٹی کو سونا بنانےکی صلاحیت رکھتا ہے جو بنجر زمین کو اپنی محنت سے سر سبز میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے کسان کہلاتا ہے۔ ایک کسان کی زندگی بہت کٹھن اور بیش بہا مسائل میں گھری ثابت ہوتی ہے کیونکہ وہ صبح سویرے سورج کی روشنی آسمان افق پر نمودار ہونے سے پہلے اٹھتا ہے اور سورج ڈھلنے تک اپنی فصل کو ہمیشہ بہتر سے بہتر رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس پوری دنیا میں کسان کی ہی مرہون منت ہے جس ملک کی زراعت کو دیکھیں یا اس ملک کے کسان کو دیکھیں اگر اس ملک کا کسان خوشحال ہے تو سمجھیں سارا ملک خوشحال ہے۔ بعض اوقات کسان کو اپنی فصلوں سے بھاری نقصان بھی اٹھانے پڑتے ہیں اور بعض اوقات بھاری نفع بھی ملتا ہے مگر وہ ہمیشہ اپنی محنت جاری رکھتا ہے۔
لیکن ان ساری محنتوں اور کسان کی کوششوں کے باوجود خود کسان اپنے حقوق کی وصولیابی سے محروم ہے ۔ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوے کسان اپنی مانگوں کے ساتھ دہلی میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کی اہم مانگ ہے کہ ان کا قرض معاف کیا جائے۔ معلوم ہو کہ مرکزی حکومت کی جانب سے زراعت سے متعلق تین بل ،کسان پیداوار ٹریڈاور کامرس (فروغ اور سہولت) بل 2020ء کسان (امپاورمنٹ اور تحفظ empowerment and protection) پرائس انشورنس کنٹریکٹ اور زرعی خدمات بل 2020ء اور ضروری اشیاء ( ترمیم edit) بل 2020 ءکو گزشتہ 22 ستمبر کو صدر جمہوریہ نے منظوری دے دی تھی جس کے خلاف کسانوں مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کسانوں کو اس بات کا خوف ہے کہ انڈین گورنمنٹ ان قوانین کے ذریعے ایم ایس پی دلانے کے لیے نظام کو ختم کر رہی ہے اور اگر اس کو لاگو کیا جاتا ہے تو کسانوں کو تاجروں کے رحم پر جینا پڑے گا۔ دوسری جانب مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی مودی گورنمنٹ بار بار اس سے انکار کیا ہے۔گورنمنٹ ان قوانین کو "تاریخ ذرعی اصلاح ” کا نام دے رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ زرعی پیداوار کی فروخت کے لئے ایک متبادل نظام بنا رہے ہیں۔

کسان تنظیموں نے کہا ہے کہ گورنمنٹ نئے زرعی قوانین میں” بے مطلب ترمیم” کرنے کی بات کو تو دہراے، کیونکہ انہیں پہلے ہی خارج کیا جا چکا ہے، بلکہ بات چیت کو بحال کرنے کے لیے تحریری طور پر ٹھوس پیش کش لے کر۔گورنمنٹ کی بات چیت کی پیشکش پر دبے جواب میں کسان رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر انہیں کوئی ٹھوس تجویز ملتا ہے تو وہ کھلے ذہن سے بات چیت کیلئے تیار رہیں، لیکن یہ صاف کہا کہ وہ متنازعہ قوانین کو پوری طرح سے رد کرنے اور ایم ایس پی کے لیے قانونی گارنٹی سے کم پر کچھ بھی قبول نہیں کریں گے۔

نیا قانون کیا ہے ؟
انڈین پارلیمان نے ستمبر 2020ء کے تیسرے ہفتے میں زراعت کےمتعلق یکے بعد دیگرے تین بل متعارف کراے جنھیں فورا قانونی حیثیت دے دی گئی۔ ان میں ایک زرعی پیداوار اور تجارت اور کامرس قانون 2020ء ہے جبکہ دوسرا کسان(امپاورمنٹ اور پروٹیکشن empowerment and protection) زرعی سروس قانون 2020ء ہے جس میں قیمت کی یقین دہانی اور معاہدے شامل ہیں۔تیسرا قانون ،ضروری اشیاء ( ترمیمی) قانون ہے۔
پہلے قانون میں ایک ماحولیاتی نظام بنانے کے لیے ایک دفعہ موجود ہے جہاں کسانوں اور تاجروں کو مارکیٹ کے باہر فصلیں فروخت کرنے کی آزادی ہوگی۔ ان کی دفعات میں ریاست کے اندر اور دو ریاستوں کے مابین تجارت کو فروغ دینے کے بارے میں کہا گیا ہے جس کی وجہ سے مارکیٹنگ اور نقل و حمل کے اخراجات کو کم کرنے کی وجہ سے مارکیٹنگ اور نقل و حمل کے اخراجات کو کم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔کسان( امپاورمنٹ پروٹیکشن Empowerment and protection) زرعی قانون 2020ءمیں زرعی معاہدوں پر قومی فریم ورک مہیا کیا گیا ہے۔اس بل سے کاشتکاروں کو زرعی مصنوعات، فارم خدمات، زرعی کمپنیوں ، پروسیسرز ، تھوک فروشوں، بڑے خوردہ فروشوں اور برآمد کنندگان کی فروخت میں شامل ہونے کا اختیار دیا گیا ہے۔معیاری بیج کی فراہمی کو یقینی بنانا، تکنیکی مدد اور فصلوں کی صحت کی نگرانی کے ساتھ معاہدہ کرنے والے کسانوں کو قرض کی سہولیات اور فصلوں کے انشورنس فراہم کی جاۓگی۔ضروری اشیاء( ترمیمی) قانون 2020ء کے تحت اناج،دالیں، خوردنی تیل ،پیاز،آلو کو اشیائے ضروریہ کی فہرست سے نکالنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ ان قوانین پر ملک میں منقسم رائے مانی جاتی ہے ملک وزیراعظم نریندرمودی کا دعویٰ ہے کہ ان قوانین سے جو اصلاحات کی جارہی ہے وہ زراعت کے شعبے کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہونگے۔ دوسری طرف ملک کی حزب اختلاف نے ان قوانین کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ یہ کسانوں کے لیے ایک طرح سے موت کا پروانہ ثابت ہوں گے۔

ملک میں کسانوں کی تنظیمیں بھی ان پر احتجاج کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ غیر منصفانہ ہیں اور ان سے کسانوں کا استحصال ہوگا۔قانونی اصطلاحات کی خاص معاشی ماہرین نے جزوی طور پر ان کا خیرمقدم کیا لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس کام کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا یہ طریقہ کار درست نہیں ہے اور اس سے متوقع نتائج حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔کسان کا مطالبہ ہے کہ وہ دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں یکجا ہو کر اپنا پرامن مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ دہلی کے مضافاتی علاقے براری جائیں پھر ان سے بات چیت ہوسکتی ہے۔نئے زرعی قوانین کے خلاف دہلی ہریانہ کی سنگھ بارڈر پر کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔ اسی کے ساتھ سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان کسان دہلی،اترپردیش، غازی پور اور غازی آباد سرحد پر اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دراصل وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت کسانوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے لیکن پہلے انہیں سنگھو اور ٹکڑی سرحدوں سے دہلی کے براری میدان میں آنا ہوگا۔ ہریانہ حکومت نے کسانوں کو دہلی آنے سے روکنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہی اور اب وہاں کی کھاپ برادری نے بھی کسانوں کی تحریک کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے خبردار کسانوں کی تاریخ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کھاپ برادری نے کسانوں کی تحریک کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔کھاپ برادری دہلی کے نواح میں جانوں پر مشتمل بہت با اثر برادری ہے۔

ایگریکلچرل پروڈیوسس مارکیٹنگ کمیٹی قانون,(Agriculture Producess Marketing Committee Law):-
بھارت میں تقریبا 55 برس پرانے ایگریکلچر پروڈیوسس مارکیٹنگ کمیٹی کی رو سے کسان اپنی پیداوار کو ملک کی 7000 سے زائد سرکاری منڈیوں میں کمیشن ایجنٹ کے ذریعے فروخت کرتے ہیں۔ اس کا مقصد انہیں بڑے ادارہ جاتی خریداروں کی استحصال (Exploitation) سے بچانا ہے۔ حکومت کی دلیل ہے کہ کمیشن ایجنٹوں کا خاتمہ ہو جانے سے کسانوں اور صارفین دونوں کو فائدہ ہوگا ۔تاہم زرعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں کیونکہ جہاں بھی اس طرح کا تجربہ کیا گیا ہے وہاں کسانوں کا یہ نقصان ہو رہا ہے۔

نقصان کیسے؟(How the Damage):-
کسان نیوز چینل کی چیف ایڈیٹر سر ہرویر سنگھ نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا اس طرح کا نظم صرف اور بہار میں ہے لیکن اس سے نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ مکی کے 1765 روپے فی کوئنٹل کم از کم سرکاری قیمت کے مقابلے میں بہار کے کسانوں کو مکی کی اپنی فصل 900 روپے فی کوئنٹل فروخت کرنی پڑی ہرویر سنگھ کہتے ہیں کہ اگر بھارت میں اپنی عضوعات خود فروخت کرنے کا یہ نظام مثالی ہوتا تو بہار کے کسان ہر سال برباد نہیں ھوتے۔

کسانوں میں غربت(Poverty amongs Farmer):-
بھارت میں تقریبا 85 فیصد کسان کافی غریب ہیں ۔ان کے پاس پانچ ایکڑ سے بھی کم زمین ہے اور ان کے لئے اپنی پیداوار کو فروخت کرنے کے سلسلے میں بڑے خریداروں سے معاملہ طے کرنا مشکل ہوگا۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام میں کمیشن ایجنٹ مشکل گھڑی میں کسانوں کی مالی مدد کرتے ہیں تاہم بڑی کمپنیوں سے اس طرح کسی انسان ہمدردی کی امید رکھنا فضول ہے۔
بھارت میں حکومت زرعی پیداوار کے ہر سال ایک کم از کم قیمت( ایم ایس پیM.S.P) طےکرتی ہے۔جس سے کسانوں کو کافی فائدہ ہوتا ہے مودی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ایم ایس پی ختم نہیں کریں گی لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ نۓ ذرعی قوانین میں اس کا ذکر نہیں ہے۔کسانوں کی طرف سے ان قوانین کی مخالفت کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے۔

ماہرین کی رائے(Expert Opinion):-
زرعی امور کے ماہر ہرویر سنگھ کہتے ہیں ایم ایس پی لفظ کہ اس قانون میں کہی ذکر ہی نہیں ہیں۔ میری پچھلے دنوں وزیر زراعت سے بات چیت ہوئی تھی، ان کا کہنا تھا کہ ایم ایس پی کوئی قانون نہیں ہے یہ ایک اسکیم ہے’ ہرویر سنگھ کے مطابق چونکہ یہ ایک اسکیم (schem) ہے اس لئے حکومت جب چاہے کسی اسکیم کو صرف دو سطری حکم سے ختم کرسکتی ہے۔
130 کروڑ آبادی والے بھارت میں تقریباً 50 فیصد افراد زراعت پر منحصر ہیں جن کا کہنا ہے کہ لوگ فی الحال ذراعت کو اپنا کام سمجھ کر کرتے ہیں لیکن جب بڑی کمپنیاں اس کاروبار سے وابستہ ہو جائیں گی تو ان لوگوں کی حیثیت یومیہ مزدور جیسی ہو جائیں گی۔یہ بھارت کے سوشل سیکورٹی اور فوڈ سیکورٹی دونوں کے لیے ہلاکت خیز ہوگا۔

تاریخی اقدام(A Historic Step)اور ہمارا اظہار خیال:-
تجربہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی زراعت سے متعلق ان قوانین کو تاریخی حیثیت کا حامل قرار دے رہے ہیں لیکن اس سے پہلے بھی انہوں نے بڑے کرنسی نوٹوں پر پابندی( نوٹ بندی)، جی ایس ٹی،ایل پی جی (رسوئی گیس) پٹرول، ڈیزل، آلو پیاز، کی قیمت میں حد سے زیادہ اضافہ اور پھر کرونا کی وجہ سے لا ک ڈاؤن کو تاریخی بتائے ہوئے بے شمار فائدے گنواے تھے جس کا حشر ہمارے سامنے ہے اور ہاں کبھی این آرسی، سی اے اے جیسے قوانین کے فوائد شمار کراکے ہندوستان کے عوام کے اوپر زبردستی نافذ کرنا چاہتے ہیں اور لمبی مدت تک کے لئے وزیر اعظم کی کرسی پر اپنے آپ کو قابض دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور ہاں یہ بھی یاد رہے کہ مودی حکومت نے ان زرعی قوانین کو گزشتہ جون میں ہی آرڈیننس کی شکل میں نافذ کر دیا تھا لیکن اب انہیں باضابطہ قانونی شکل دیا جا چکا ہے۔ جسکی مخالفت میں آج تقریبا 25/دنوں سے ہندوستان کے کسان دہلی میں پہنچ کر سرحد بارڈر پر احتجاج کر رہے ہیں اور احتجاج بھی کیوں نہ ہو جبکہ انہیں کسانوں کو ہندوستان کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے جبھی تو انکی شان میں نعرہ بلند ہوتے دیکھا جاتاہے "جے جوان جے کسان” آج ہماری اچھی زندگی گزر رہی ہے تو انہیں کی مرہون منت ہے لیکن افسوس صد افسوس مودی کی آنکھ اب تک بند پڑی ہے اس کڑاکے کی ٹھنڈک میں اپنے مطالبات کو رکھتے ہوئے درجنوں مظاہرین کی جانیں جا چکی ہیں لیکن یہ مودی حکومت ہے کہ کان میں تیل ڈال کے پوری کابینہ نیند کی آغوش میں جاچکے ہیں، یہ حکومت شاہین باغ کے مظاہرین کی طرح سمجھ رہے ہیں ،یہ کسان ہے جس طرح بنجر زمین میں انہیں زراعت لگانا آتاہے ایسے ہی کھیتوں میں لگے ہوئے سرسبز فصلوں کو کاٹنا بھی آتاہے اگر انکے مطالبات پورے نہ ہوئے تو اپنے ہسوے اور ہل بیل لیکر مودی کی سرسبز شاداب حکومت کو تہس نہس کر نے کے لئے بھی انکے پاس طاقت ہے، یہ اپنی حکومت کے نشے میں کب تک چور رہینگے۔اور آے دن کبھی ،دلتوں،سکھوں ،مسلمانوں اور ہندوستان کے کسانوں پر ظلم وزیادتی کرتے رہیں گے۔؀

ظلم وہ ظلم ہے ابھرے گا تو دب جائے گا
خون وہ خون ہے جو ٹپکے گا تو جم جاے گا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

زندگی کا سفر

تحریر: ابوالمتبسِّم ایاز احمد عطاری، پاکستان بچہ پیدا ہوتا ہے ابتداء ماں کی گود میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے