نعت رسول: میری آنکھوں کو جو طیبہ کا نظارا ہوتا

نتیجۂ فکر: محمد جیش خان نوری امجدی، مہراج گنج

میری آنکھوں کو جو طیبہ کا نظارا ہوتا
مرتبہ پھر تو  مرا  اور بھی اعلی ہوتا

آمنہ بی کے دلارے دو جہاں کے پیارے
تم نہ آتے تو زمانے میں اندھیرا ہوتا

مل ہی جاتا ہمیں چھٹکارا غمِ دنیا سے
شاہِ کونین کو جو دل سے پکارا ہوتا

زندگی میری سنور جاتی اے شاہِ عالم
کاش طیبہ میں بلا لیتے تو اچھا ہوتا

سر جھکا کر یہ سرِحشر کہےگا نجدی
کاش سرکار کو دنیا ہی میں مانا ہوتا

بوسہ دینے کو ملک آتےمری آنکھوں کو
سر پہ نعلینِ شہِ دیں جو اٹھایا ہوتا

صدقے آقا کے پہنچ جاتا جو طیبہ نوری
اپنی پلکوں سے وہ گلیوں کو بہارا ہوتا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تبصرہ بر "شعر کیسے بنتا ہے” از شہزاد احمد کھرل شاذ

الحمدللہ آج بتاریخ 17/ اپریل 2021 بروز سنیچر استاد محترم جناب شہزاد احمد کھرل شاذ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے