غزل: وقت کا نور سفر غائب ہے کیوں

از: سید اولاد رسول قدسی مصباحی
نیویارک امریکہ

وقت کا نور سفر غائب ہے کیوں
کٹ چکی ہے شب سحر غائب ہے کیوں

قریہ قریہ ہے خطیبوں کا ہجوم
پر خطابت کا اثر غائب ہے کیوں

رو رہی ہے میرے گھر کی اینٹ اینٹ
سب سلامت ہے ،حجر غائب ہے کیوں

جملہ اصناف سخن کی بزم میں
سب ہیں شامل نثر پر غائب ہے کیوں

ہر طرف ماتم بپا ہے باغ میں
گل تو ہیں لیکن ثمر غائب ہے کیوں

محو گردش ہے فلک پر یہ سوال
چودہویں کی شب قمر غائب ہے کیوں

پوچھتا ہے ہر بشر سے خود بشر
عہد رفتہ کا بشر غائب ہے کیوں

قدسیؔ ایسی ہے مسلط بے گھری
گھر بھی ہے حیراں کہ گھر غائب ہے کیوں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں محمد شعیب رضا

محمد شعیب رضا نظامی فیضی ہماری آواز اردو،ہندی ویب پورٹل و میگزین کے بانی و چیف ایڈیٹر ہیں۔ رابطہ نمبر: 09792125987 (ادارہ)

یہ بھی پڑھیں

بزمِ ایوانِ غزل کا ماہانہ طرحی مشاعرہ کا انعقاد

سعادت گنج/بارہ بنکی:6اپریل، ہماری آواز(پریس ریلیز) بزمِ ایوانِ غزل کا ماہانہ طرحی مشاعرہ آئیڈیل انٹر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے