عظمت والدین قرآن و حدیث کی روشنی میں

از قلم: خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786

اولاد پر ماں باپ کا حق نہایت ہی عظیم تر ہے؛ والدین اللہ تعالیٰ کا بیش بہا عطیہ ہیں؛ دونوں کے مراتب کو اللہ تعالی نے یکجا اور کہیں جداگانہ بیان فرمایا ہے؛ ماں وہ عظیم ہستی ہے جس کا حق باپ سے بھی بڑھ کر ہے؛ماں بچے کو پیٹ میں رکھتی ہے اور کمزوری پر کمزوری ؛ضعف پر ضعف کا سامنا کرنا پڑتا ہے؛ جتنا حمل بڑھتاہے؛ اس کا ضعف بھی اتنا ہی ترقی کرتا ہے؛ اسی تفصیل کو قرآن مجید بیان فرماتا ہے کہ

"اور ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا؛ کمزوری پر کمزوری جھیلتی ہوئی ؛اور اس کا دودھ چھوٹنادو برس میں ہے ؛یہ کہ حق مان میرا اپنے ماں باپ کا "
(کنزالایمان پارہ 21 سورہ لقمان آیت 14)
اللہ تعالیٰ جل مجدہ الکریم نے ماں باب دونوں کے حق میں تاکید فرماکر پھرخاص طور پر ماں کا الگ تذکرہ فرمایا اور ان سختیوں اور تکلیفوں کا ؛ جو اسے حمل و ولادت اور دو برس تک اپنے خون کا عطر یعنی دودھ پلانے میں پیش آئیں اس کا ذکر کر کے یہ اعلان فرمایا کہ ماں کا حق اولاد پر بہت ہی اہم اور نہایت ہی اعظم ہے ؛ماں کا حق باپ کے حق سے زائد ہے ؟اس کے متعلق حدیث پاک میں آیا ہے کہ
” ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں کس کے ساتھ بہتر سلوک کرو؟ اور کون میرے بہترین سلوک کا سب سے زیادہ حق دار ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ تم اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کرو ؛ پھر اس نے کہا پھر کس کے ساتھ ؟ تو فرمایا کہ اپنی ماں کے ساتھ ؛ تو اس نے کہا پھر کس کے ساتھ؟ تو فرمایا اپنی ماں کے ساتھ؛ تو اس نے کہا پھر کس کے ساتھ؟ تو( چوتھی مرتبہ میں) فرمایا پھر اپنے باپ کے ساتھ”( مشکات شریف جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 418 بحوالہ بخاری و مسلم)

اللہ تعالی جل جلالہ و عم نوالہ نے ماؤں کی نافرمانیوں اور فضول قیل وقال اور بے مطلب سوال اور مال کو برباد کرنے کو حرام فرمایا ہے ؛ جیسا کہ حدیث پاک میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ” اللہ تعالی نے تمہارے لئے ماؤں کی نافرمانیوں کو؛ اور لڑکیوں کو زندہ دفن کردینے کو؛ اور کسی کو کچھ نہ دینے اور دوسروں سے مانگنے کو اور فضول قیل و قال کو ؛ اور کثرت سوال کو؛ اور مال کے برباد کرنے کو حرام فرمادیا ہے” (مشکات شریف شریف جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 119 بحوالہ بخاری و مسلم)

اللہ تعالی نے ماں کا رتبہ بہت اونچا و صاحب فضیلت رکھا ہے ماں کی غیر موجودگی( یعنی بعد وفات) ماں کا مقام خالہ کو حاصل ہے اسی طرح حدیث پاک میں ہے کہ "
ایک شخص نے سوال کیا یارسول اللہ ﷺ مجھ سے ایک گناہ ہو گیا ہے تو کیا میری توبہ ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کیا تمہاری ماں ہے؟ تو اس نے کہا نہیں ؛ تو فرمایا کیا تمہاری خالہ ہے؟ تو اس نے کہا "ہاں ” تو آپ نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ حسن سلوک کرو( تو تمہاری توبہ قبول ہو جائے گی)
اسی طرح ایک شخص نے جہاد میں جانے کے متعلق حضورﷺ سے مشورہ طلب کیا تو آپ نے فرمایا کہ کیا تمہاری ماں ہے ؟ تو اس نے کہا جی ہاں تو آپ نے فرمایا : تم اس کی خدمت کو لازم پکڑو ؛ اس لیے کہ تمہاری جنت اس کے قدموں کے نیچے ہے ” (مشکات شریف جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 420 421)

ایک روایت اس طرح ہے
” ایک شخص نے دربار رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ماں باپ کے انتقال کے بعد کوئی طریقہ ان کے ساتھ نیکو کاری کا باقی ہے جسکو میں بجالاؤ ں؟
تو آپ نے فرمایا چار باتیں ہیں
نمبر1 ان پر نماز جنازہ پڑھنا ؛
نمبر 2 ان کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہنا ؛
نمبر 3 ان کی وصیت کو پورا کرنا؛
نمبر4 ان کے رشتہ داروں اور دوستوں سے نیک برتاؤ قائم رکھنا "( شرح الحقوق لطرح العقوق بحوالہ حقیقی )
ماں ایسا انمول ہیرا ہے جس کا بدل نہیں؛ ماں وہ نعمت ہے کہ جس نعمت پر جتنا شکریہ ادا کیا جائے وہ کم ہے ؛ماں باپ کی رضامندی میں اللہ تعالی کی رضامندی ہے ؛ ماں باپ کی ناراضگی میں اللہ تعالی کی ناراضگی ہے ؛
اور ماں باپ کا دل دکھانے والا دنیا میں بھی خسارے میں رہتا ہے اور آخرت میں بھی اس کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا ؛دنیا میں اگر جس نے ماں کا دل دکھادیا ؛ بوقت نزع روح قبض ہونے میں مشکلات درپیش ہوئیں چنانچہ مندرجہ ذیل حدیث پاک سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے "حدیث پاک میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن اوفی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم سید عالم ﷺ کے دربار میں ایک شخص نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ایک جوان پر سکرات موت کی حالت ہے؛ اس کو کلمہ پڑھنے کے لیے کہا جاتا ہے؛ مگر اس کی زبان نہیں چلتی ؛حضور سید ﷺ نے فرمایا کیا وہ زندگی میں کلمہ نہیں پڑھتا تھا؟ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ پڑھتا تھا ؛ تو حضور ﷺ نے فرمایا جب وہ زندگی میں پڑھتا تھا تو اب( یعنی موت کے وقت) کس چیز نے اسے روکا ؟ اتنا فرما کر اللہ کے محبوب ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے؛ اور ہم سب بھی حضور ﷺ کے ہمراہ چل پڑے
حضور اکرم ﷺ اس جوان کے مکان پر تشریف لے گئے ؛اور فرمایا : اور اے لڑکے کہ "لا الا الہ اللہ محمد رسول اللہ” لڑکے نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ زبان نہیں چلتی؛ حضور ﷺ نے فرمایا کیا بات ہے؟ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ماں کی نافرمانی کے باعث’ حضور ﷺ نے پوچھا تیری ماں کیا زندہ ہے؟ اس لڑکے نے کہا ہاں’
حضور اکرم رحمت ﷺ نے اس کی والدہ کو بلا کر فرمایا: کہ کیا یہ تمہارا لڑکا ہے ؟ بوڑھی عورت نے کہا ہاں؛ یا رسول اللہ ﷺ ؛ حضور ﷺ نے فرمایا اگر آگ کا دہکتاہوا الاؤ ہو اور تم سے کہا جائے کہ لڑکے کو معاف کر دو ؟ ورنہ تمہارے سامنے تمہارے اس لڑکے کو آگ کے الاؤ میں ڈال کر جلا دیا جائے گا؛ تو تم کیا کرو گی؟
بوڑھی عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں اس کو معاف کردونگی؛ سرکار پاک ﷺ نے فرمایا تو سن لو دنیا کی آگ سے کہیں زیادہ سخت جہنم کی آگ ہے ؛ کیا اپنے لڑکے کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اور اس کے دہکتے ہوئے انگاروں میں جلتا ہوا پسند کروں گی ؟
بوڑھی عورت کی ممتا جوش میں آ گئی عرض کیا یا رسول اللّٰہ ﷺ میں حضور کو گواہ بناتی ہوں کہ میں نے اپنے لخت جگر ؟ نور نظر کو معاف کر دیا؛ اور اس سے راضی ہو گئی ؛سرکار پاک ﷺ نے جوان سے کلمہ پڑھنے کو فرمایا تو فورا اس کی زبان کھل گئی اور پورا کلمہ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” پڑھا
حضور رسول الراحت ؛نبی رحمت ﷺ نے فرمایا اللہ کا فضل ہے کہ میری وجہ سے یہ لڑکا جہنم کے دردناک عذاب سے نجات پا گیا ” (تنبیہ الغافلین ؛
الحجۃ الواضحہ فی اثبات الفاتحہ ؛
حیات الشہداء والموتی ؛
ماں کی ممتا باپ کا پیار)

لب لباب ؛ماحصل؛ مقصد؛ مطلب؛ خلاصہ کلام یہ ہوا
والدین اللہ تعالی کی عطا کردہ وہ عظیم نعمت ہیں جن کے وجود سے اولاد کا وجود ؛ وجود میں آیا ؛
ماں باپ کی تعظیم کرنا؛ ان کی اطاعت کرنا؛ ان کی فرمانبرداری کرنا ؛یہ اللہ رب العزت اور اس کے محبوب پاک کے فرامین کی فرمانبرداری ہے ؛والدین کی رضا میں رب تعالی کی رضا ہے ؛
والدین کی ناراضگی میں رب تعالیٰ کی ناراضگی ہے ؛
کتنی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے اولاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ مشکلات کو برداشت کریں ؛ صبر کرں؛ پر والدین کی نافرمانی نہ کریں ؛
جن کے والدین زندہ ہیں وہ اپنے ہیرے جیسے والدین کی قدر کریں؛ خدمت کریں؛ ان سے دعائیں لیں ؛ اور جن کے والدین اس دنیا سے جا چکے ہیں وہ اپنے والدین کے لئے دعائے مغفرت کریں ؛ انکے نام سے صدقات و خیرات کریں؛ اور تمام اعمال صالحہ کا ایصال ثواب ان کے لیے کریں

اللہ تعالی راہ راست کی ہدایت عطا فرمانے والا ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے