غوث اعظم ایک عالم جو ہزار عابد پر افضل ہے

تحریر: شہادت حسین فیضی، کوڈرما جھارکھنڈ
ولایت کے لیے علم کی ضرورت
علم اور ولایت کا اسلامی نظریہ
علم سینہ اور سفینہ کی حقیقت

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔۔
(1)خبردار اللہ کے ولیوں کو نہ کچھ خوف ہے اور نہ غم۔
ولی وہ ہیں جو اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالی سے ڈرتے ہیں۔(یونس‌آیت63،62)
(2) اللہ تعالی سے اس کے بندوں میں وہی زیادہ ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ (الفاطرآیت: 28)
(3) اور اللہ تعالی ولی ہے ان مسلمانوں کا جو ڈرنے والے ہیں (الجاثیة آیت:19)
(4) اور اللہ تعالی ولی ہے ایمان والوں کا کہ انہیں اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے.(البقرہ آیت:257)
مذکورہ پانچ آیتوں کا ترجمہ و تفسیر پڑھنے کے بعدیہ بات سمجھ میں آتی ہےکہ ایمان، قرآن و سنت کا علم، اوراللہ تعالی کا خوف یہ تین چیزیں جن لوگوں میں جتنی زیادہ ہوگی وہ اللہ تعالی کا اتنا زیادہ مقرب بندہ ہوگا۔ وہی ولی، قطب اور غوث ہوگا۔ اس کی سب سے بہتر مثال حضرت الشیخ عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانی رحمتہ اللہ علیہ کی ذات گرامی ہے۔ علم اور مرتبہ غوثیت و قطبیت کے بارے میں خود غوث اعظم کا یہ شعر ملاحظہ کریں۔
درست العلم حتی صرت قطبا
نلت السعد من مولی الموالی
میں پڑھتا رہا اور(اللہ تعالی کا خوف بڑھتا گیا) یہاں تک کہ میں قطب ہوگیا اور میں نے یہ نیک بختی اللہ تعالی کے فضل سے حاصل کی کہ اس نے مجھے حصول علم کی توفیق بخشی.
دراصل علم دو طرح کی صفتوں سے متصف ہے اور اس کے نتائج بھی دو طرح کے ہوتے ہیں:ایک وہ علم جس سے خوف خدا حب رسول، اخلاق حسنہ اور تواضع و انکساری میں اضافہ ہو۔ اس علم سے غوثیت، قطبیت اور ولایت حاصل ہوتی ہے۔ جس کی مثال بشمول غوث اعظم تمام اولیاء کرام ہیں۔ اور دوسرا وہ علم جس سے اللہ تعالی کی نافرمانی، غرورو تکبر، خود غرضی اور خود سری پیدا ہوتی ہے۔ وہ علم دنیا میں بھی ناکام بناتا ہے اور آخرت میں بھی جہنم جانے کا سبب بنتا ہے۔ اس کی مثال شیطان لعین ہے۔ اور ایسا ہی وہ عابد جو قرآن و سنت کے علم کے ساتھ عبادت کرتا ہے وہ ولی، غوث اور قطب بنتا ہے۔ اور جو شخص جہالت کے ساتھ عبادت کرتا ہے اس کا زندیق و گمراہ ہونے کا خدشہ زیادہ رہتا ہے۔ اور ایسےجاہل عابد و زاہد کبھی کبھی اپنے لیے بھی مضر ہوتے ہیں اور قوم و ملت کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ اور جب ایسے لوگ پیر بن کر رہبری کرنے لگیں تو اس کے اثرات اور زیادہ برے ہوتے ہیں۔ اس بابت کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہم اور آپ اسے دیکھ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ احادیث کریمہ بھی پڑھتے چلیں۔
(1)علم والوں کی فضیلت جاھل عابدوں پر ایسی ہی ہے جیسے کہ میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ پر ہے (سنن دارمی جلد اول صفحہ نمبر 82)
(2) ہر چیز کا ایک ستون ہے اور اسلام کا ستون فقہ کا علم ہے۔اور ایک فقیہ ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے شیطان پر ( بيهقي جلد 2 صفحہ نمبر 267 /جامع ترمذی صفحہ نمبر 384)
(3) آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم والے کی فضیلت عابد پر 70 درجہ زیادہ ہے۔( مجمع الزوائد جلد اول صفحہ نمبر 122۔
(4) حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوذر تم صبح کو قرآن کی ایک آیت سمجھ کر پڑھ لو تو وہ تمہارے لیے سورکعات نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور اگر علم کا ایک سبق پڑھ لو تووہ تمہارے لیے ہزار رکعات پڑھنے سے بہتر ہے (سنن ابن ماجہ صفحہ نمبر 20)
(5) حضرت عبداللہ بن عمر بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی بندوں کے سینوں سے علم نہیں نکالے گا بلکہ علماء کو اٹھا کر علم اٹھا لے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں بچے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے، ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے ہی جواب دیں گے تو وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ ( صحیح بخاری جلد اول صفحہ نمبر 20)
اس تعلق سے سینکڑوں احادیث کریمہ ہیں تاہم ان پانچ احادیث کریمہ سے ہی بات صاف ہو گئی کہ جہالت دنیا کی سب سے بڑی بیماری ہے۔ جہالت دنیا و آخرت کو برباد کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اور اگر جاھل رہبر ہو جائے خواہ دین کا ہو یا دنیا کا تو اس قوم یا ملک کی تباہی یقینی ہے۔
آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب علم والے کم ہوں گے اور کم علم یا جاہل لوگ کثرت عبادت پر فخر کریں گے اور اپنی کم علمی کو چھپانے کے لیے کثرت سے یہ جملہ استعمال کریں گے کہ میں کسی درسگاہ کا طالب علم نہیں ہوں تو کیا ہوا؟ میرے پاس اولیائے کاملین کا علم ہے۔ جس کو علم سینہ کہا جاتا ہے۔ میرے پاس حقیقت و معرفت کا علم ہے۔ اور جب ان کی غیر شرعی حرکات و سکنات کی گرفت کی جاتی ہے تو گرفت کرنے والے فقہا کو علماء ظواہر کہہ کر انہیں مسترد کرتےہیں۔ لیکن مذکورہ احادیث کریمہ جس میں ان عابدوں پر علم والوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور یہ بتایاگیا ہے کہ علم کے بغیر عبادت ناقص ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانی رحمتہ اللہ علیہ مسلسل تیس سال تک درسگاہوں میں جاکر اساتذہ کے سامنے زانوئے ادب طے نہ کرتے۔
آئیے ایک نظر ان کی تعلیمی سفر پہ ڈالتے ہیں۔
مستند روایت کے مطابق آپ کی پیدائش جیلان میں470 ہجری کو ہوئی اور یہ بھی ایک مستند واقعہ ہے جس کی تصدیق جدید میڈیکل سائنس بھی کرتی ہے کہ بچہ جب ماں کے شکم میں ہوتا ہے تو اس وقت کا ماحول اور اس کی ماں کے کردار و عمل کا اثر اس کے بچے پر ہوتا ہے۔ چونکہ حضرت غوث اعظم کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ ام الخیر عابدہ زاہدہ اور متقیہ تھیں۔ نماز پنجگانہ کے ساتھ دیگر اوراد و وظائف کی پابند تھی۔ ہر دن قرآن مقدس کی تلاوت فرماتی تھیں۔پھر کیا تھا اس کا ایسا اثر ہوا کہ حضرت غوث اعظم ماں کے شکم میں ہی قرآن سن کر ،قرآن سے مانوس ہوچکے تھے۔ ماں کی گود سے ہی مذہب اسلام کو اپنی والدہ کے ذریعہ عملی شکل میں دیکھ کر اور سن کر سیکھ رہے تھے۔ اور چار سال کی عمر کے بعد باضابطہ مکتب جاکر حصول علم میں مشغول ہوئے۔ خاندانی پاکیزگی اور حسن و جمال کے ساتھ والدین کے اخلاق حسنہ اور تقوی شعاری بھی بچے کو دستیاب ہو جائے تو یہ سونے پہ سہاگ کا کام کرتا ہے۔ چناچہ غوث اعظم کا یہ شعر ملاحظہ کریں۔
نبی ہاشمی مکی حجازی
ھوجدی نلت بہ الموالی
میرے جد امجد نبی ہیں ہاشمی و مکی اور حجازی ہیں میں نے ان کی تقدس مآبی سے ہی یہ مرتبہ پایا ہے۔ اعلی نسب، پاکیزہ ماحول خداداد ظاہری ومعنوی حسن و جمال، فہم و فراست کے امین،ظاہری و باطنی جاہ و جلال کے مالک، ان ساری خوبیوں کے باوجود تسلسل کے ساتھ 18 سال کی عمر تک جیلان میں زیر تعلیم رہے اور مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے اپنی مادر مشفقہ سے اجازت لے کر بغداد تشریف لے جاتے ہیں۔ بغداد میں موجود تمام اکابر علماء، مفسرین، محدثین، مجتہدین، ائمہ فقہ، ائمہ راہ سلوک، کے ساتھ تمام صوفیاء و صلحا کی بارگاہ میں حاضر ہو کر 12سال دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہوکر،پورے انہماک و خود سپردگی بلکہ ماہی بے آب کی طرف حصول علم‌ کی تڑپ کے ساتھ پڑھنے میں مصروف رہے۔مزید بیس سال تک شریعت و طریقت کی عملی تربیت حاصل کرنے کے لیے انہوں نے عرب و عجم کا سفر کیا،حرمین شریفین میں حاضری دی۔ اور 521 ہجری میں جب ان کی عمر تقریبا 50 سال کی ہوئی تو بغداد میں باب الشیخ کی مسجد میں دین کی تبلیغ کے لیے خطاب شروع کیا۔ اور 527 ہجری سے ساتوں دن بشمول جمعہ 13 موضوعات پہ کتاب پڑھایا کرتے تھے۔ جس میں عبادات، معاملات، معاشیات، سماجیات وغیرہ تمام مروجہ علوم و فنون شامل تھے۔گویا کہ حضرت غوث اعظم کی پوری زندگی پڑھنے اور پڑھانے میں گذری ہے۔
بغداد کی تعلیمی دورانیہ جو تقریبا بارہ سال کا ہےغوث اعظم کے لیے بہت ہی پر تعیش اور آرام دہ نہیں تھے بلکہ ہزار مشکلوں کے بعد بھی انکاحصول علم میں مصروف رہنا علم سے شغف کا پتہ دیتا ہے۔انتہائی سخت اور کٹھن مراحل کے باوجود وہ حصول علم میں مشغول رہے۔ بطور دلیل ایک واقعہ پیش ہے۔ حضرت ابوبکر تمیمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت شیخ نے مجھ سے یہ واقعہ بیان کیا کہ قیام بغداد کے دوران مجھ پر ایک ایسا سخت وقت گزرا کہ میں چند روز تک کچھ نہیں کھایا حتی کہ ایک دن بھوک کی شدت سے دریا کے کنارے آیا تاکہ گری پڑی گھاس پھوس سے بھوک کا ازالہ کر سکوں، لیکن جس جگہ میں پہنچا وہاں مجھ سے پہلے کچھ لوگ پہنچے ہوئے تھے۔ میں انہیں درویشوں کی جماعت سمجھ کر زحمت میں ڈالنا مناسب نہیں سمجھا اور واپس شہر آ گیا اور ایک مسجد میں داخل ہوا جو "ریحانین”کے بازار میں تھی۔ اس وقت میں بھوک سے نڈھال تھا اور میرے لیے دست سوال دراز کرنا بھی محال تھا،اس لیے میں صابر و شاکر ہوکرا یک کونے میں بیٹھ گیا۔کہ ایک عجمی نوجوان روٹی اور بھونا ہوا گوشت لے کر مسجد میں داخل ہوا اور کھانے بیٹھ گیا۔ اس کو دیکھ کر بھوک کی شدت میں اضافہ ہوا۔ لیکن میں خود کو ملامت کرتا ہوا رخ پھیر کر بیٹھ گیا۔ پھر اچانک وہ نوجوان میری جانب متوجہ ہو کر کہنے لگا "آئیے بسم اللہ کیجئے” پہلے میں نے انکار کیا پھر اس کے اصرار کرنے پر مجبورا کھانے میں شریک ہوگیا۔اس نوجوان نے دریافت کیا کہ آپ کیا کرتے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ میں فقہ کا طالب علم ہوں۔ پھر میں نے ان سے کہا کہ آپ اپنا تعارف بھی پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں جیلان کا رہنے والا ہوں۔ اور کئی دنوں سے عبدالقادر نام کے نوجوان کو تلاش کر رہا ہوں۔ میں نے کہا کہ میں ہی عبدالقادر ہوں تو وہ پریشان ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ بھائی میں آپ کو تلاش کر رہا تھا اور جب مجھ پر فاقے کی وجہ سے مردے کا کھانا بھی حلال ہوجاتا تو، میں آپ کی رقم سے کھانا خرید کر کھا لیتا تھا۔ خدا کی قسم آپ کی رقم سے یہ آخری کھانا خرید کر لایا ہوں آپ اپنا کھانا کھا رہے ہیں اور میں آپ کا مہمان ہوں۔( قلائدالجواہر صفحہ 35)
ان مشکلات کے باوجود حضرت غوث اعظم کا حصول علم میں مشغول ہونا علم کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ علم کے بغیر نہ دنیا کی کامیابی حاصل ہوتی ہے اور نہ آخرت کی۔ اگر بغیر علم کے یہ سب کچھ حاصل ہونا ممکن ہوتا تو حضرت غوث الاعظم مادر زاد ولی ہونے کے باوجود اتنی مشقت کیوں اٹھاتے؟۔ اورجو یہ دعوی کرتے ہیں کہ میرے پاس علم سینہ ہے اور میں اسی سے کامیاب ہوں۔ دراصل ایسا کہنے والے کذاب اورجھوٹے ہیں، نہ یہ ولی ہیں اور نہ ہی ان کے پاس علم سینہ ہے۔ بلکہ یہ شیطان کے جال میں پھنسے ہوئے شکار ہیں۔ اوراسی کا آلۂ کار بن کر بشکل شکاری دوسروں کو پھنساتے ہیں۔
خود کہ گم کردہ راہ است،کرارہبری کند؟
حضرت غوث اعظم جب تقریر فرماتے تو سامعین میں سے چار سو علماء حضرت غوث اعظم کے تقاریر کو لکھا کرتے تھے حضرت شیخ موفق الدین بن قدمہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سے تلمذ حاصل کرنے کے لیے بغداد گیا تو انھوں نے بہت شفقت کی۔ گھر سے کھانا بھجوا تے، نماز کے وقت باہر تشریف لاتے اور امامت فرماتے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے کبھی بھی امامت و خطابت وغیرہ کا نذرانہ نہیں لیا۔ حضرت علامہ ابن نجار فرماتے ہیں کہ حضرت غوث اعظم نے فرمایا کہ جب میں نے تمام اعمال میں چھان بین اور تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ سب سے بہتر عمل کھانا کھلانا اور حسن اخلاق سے پیش آنا ہے۔ کہ اگر میرے ہاتھ میں ساری دنیا کی دولت دے دی جائے تو میں اس کو بھوکوں کو کھانا کھلانے میں خرچ کر دوں۔ دنیا کے تمام بزرگوں کے یہاں کم و بیش لنگر کا اہتمام ہوتا ہے شاید اس کی وجہ یہ حدیث ہے۔ کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے دنیا میں کسی کی پیٹ کی آگ بجھائی تو اللہ تعالی اس پر جہنم کی آگ بجھا دے گا۔
آپ کی دیہات میں کاشت کے لیے بہت زمین تھی وہاں سے جو غلہ آتا تھا وہ سب لنگر کے لیے وقف تھا۔ اور اپنے گھریلو اخراجات کے لیے کپڑے کی تجارت کیا کرتے تھے۔
غوث اعظم اپنے وقت کے مفتی اعظم بھی تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک سوال کا حل پیش فرمایا جس کا حل اس وقت کے بڑے بڑے علماء کرام پیش کرنے سے عاجز تھے۔ واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے قسم کھا کر کہا کہ میں حضرت ابو یزید بسطامی سے بہتر ہوں، نہیں تو تم کو طلاق مغلظہ ہے۔ سبھی علماء نے جواب دیا کہ تمہاری بیوی تم پر حرام ہو گئی ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ تمہاری بیوی تم پر حلال ہے۔ تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ تم کئی اعتبار سے ان سے افضل ہو۔ اس لیے کہ تم نے نکاح کیا ہے، ان کا نکاح نہیں ہوا تھا۔ تم اپنی اولاد کو کھلانے کی فکر کرتے ہو۔ اور ان کی اولاد نہیں تھی۔ اور یہ سب آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور تم نے یہ سنت ادا کیا ہے اور ابو یزید بسطامی اس سے محروم تھے (قلائدالجواہر صفحہ نمبر 449)۔
الغرض علم روشنی ہے اور اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لیے اس کا حصول لازمی ہے۔ اور جہالت تاریکی ہے اور کوئی اس تاریکی میں رہ کر اللہ تعالی کا قرب حاصل نہیں کرسکتا۔
حضرت غوث پاک رحمتہ اللہ تعالی علیہ کا تقریبا 92 سال کی عمر میں 11 ربیع الثانی 561ھ کو بغداد میں وصال ہوا۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ذکی احمد، شخصیت اور شاعری: ایک مطالعہ

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے