کیا شـادی سے پہلے ہـونے والـی بیـوی کـو دیکھنـا جـائز ہـے؟

تحریر: خبیب القادری مدناپوری، بریلی شریف یوپی بھارت

شریعت اسلامیہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد کسی بھی ایسی عورت سے شادی کرسکتا ہے جو نہ اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو اور نہ کسی وقتی عارض کی وجہ سے حرام ہو؛؟ قـــــــرآن مجـید میـں اللــہ تعـــالٰی نے اس کا ذکر فرمایا ہے "فانکحوا ماطاب لکم من النساء (سورۃ النساء آیت 3)
"تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آجائے اس سے نکاح کر لو”

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا نکاح سے پہلے ہونے والے بیوی کو دیکھنا جائز ہے یا نہیں؟
اس کا جواب یہ ہے نکاح سے پہلے مرد کا عورت کو دیکھنا جائز ہے
احادیث کریمہ میں نہایت صراحت کے ساتھ اس کا ذکر ملتا ہے چنانچہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے
(1) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا خطب أحدکم المرأۃ فان استطاع ان ینظرالی مایدعوہ الی نکاحھا فلیفعل قال فخطبت جاریۃ فکنت اتخبالھاحتی رأیت منھا مادعانی الی نکاحھا وتزوجھا فتزوجتھا (سنن ابی داؤد حدیث 2082)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو پیغام نکاح دے تو اگر ممکن ہو اسکو ایک نظر دیکھ لے اس کے بعد نکاح کرے حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے ایک لڑکی کو نکاح کا پیغام دیا اور میں نے اس کو چھپ کر ایک نظردیکھ لیا یہاں تک کہ میں نے اس میں وہ چیز پائی جو نکاح کا سبب بنی پھر میں نے اس سے نکاح کر لیا "
بلکہ اس مضمون کی اور بھی احادیث ہیں جن میں نکاح سے قبل عورت کو دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے سب کے حوالے ملاحظہ فرمائیں
جامع ترمذی حدیث 1087
سنن نسائی حدیث 3235
سنن ابن ماجہ حدیث 1866
صحیح مسلم حدیث 1424 سنن نسائی حدیث 3234
سنن ابن ماجہ حدیث 1865
صحیح ابن حبان حدیث 4043
المستدرک للحاکم حدیث 2697
سنن ابن ماجہ حدیث 1864
صحیح ابن حبان حدیث 4042
مسند احمد بن حنبل حدیث 24000
المعجم الاوسط حدیث 911
مسند احمد بن حنبل 24001
شرح صحیح البخاری لابن بطال جلد 7 صفحہ 237

نوٹ ان مزکورہ کتابوں کے پیش کردہ حوالہ جات میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ جس عورت سے نکاح کا ارادہ ہو اس کے چہرے کی طرف دیکھنا جائز ہے

جمہور علماء کے نزدیک قبل از نکاح مخطوبہ عورت کو دیکھنا چاہئے حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں
شرح صحیح البخاری لابن بطال جلد 7 صفحہ 236
المنھاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج جلد 9 صفحہ 210
الشرح الکبیر لابن قدامۃ جلد 20 صفحہ 28
البحر الرائق شرح کنز الدقائق جلد 3 صفحہ 144
حجۃ اللہ البالغۃ جلد 2 صفحہ 192
خـــــــــلاصــــــــہ کـلام ایک نظــــــــــر میــں
شریعت اسلامیہ کا قبل از نکاح مخطوبہ عورت کی طرف دیکھنے کو جائز قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ پیغام نکاح دینے والے مرد کے دل میں الفت و محبت کے جذبات پیدا ہوں اور وہ اس عورت کو اپنی پسند اور رضا سے اپنائے تاکہ بعد میں ناپسند یدگی کی وجہ سے ندامت و شرمندگی کا سامنا نہ ہو
لیکن مغربی تہذیب تو اس بات کی اجازت دے رہی ہے کہ مرد عورت کو نکاح سے پہلے ایک دوسرے کے ساتھ ایک عرصہ تک وقت بھی گزارنا چاہیے باہم پیار و محبت کے تعلقات رکھنا چاہیے تاکہ اچھی طرح ایک دوسرے کی طبیعت اور مزاج کا علم ہوجائے مگر اسلام اس طرح کے تعلقات کو بے حیائی اور کبیرہ گناہ قرار دیتا ہے
لب لباب
مذکورہ احادیث و اقوال کی روشنی میں یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ
شادی سے پہلے ہونے والی بیوی کو ایک نظر دیکھنا مستحب بلکہ سنت بھی ہے
اور اس میں ڈھیروں فائدے بھی ہیں
حوالہ جات کے مطابق تفصیل پڑھیں آپ پر ظاہر ہو جائے گا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

روزے کی حالت میں علاج کے کچھ نئے مسائل (قسط نمبر1)

تحریر: (مفتی) محمد انور نظامی مصباحیقاضی ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ روزہ کی حقیقتصوم(روزہ) کا لغوی معنی،، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے