عرش اعظم کے سایے میں کون ؟

تحریر: محمد عبد المبین نعمانی مصباحی
دارالعلوم قادریہ، چریاکوٹ مئو،یوپی

آدمی جب مصیبت میں ہوتاہے تو اس سے بچنے اور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے یعنی جاے پناہ ڈھونڈتا اور اگر اسے کہیں پناہ مل جاتی ہے تو اپنی خیر سمجھتا ہے، قیامت کی ہولناکی جسے فزعِ اکبر (بڑی گھبراہٹ) کہا گیا ہے۔قیامت کے میدان کی منظر کشی کرتے ہوئے صدر الشریعہ علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:
’’یہ میدانِ حشر ملکِ شام کی زمین پر قائم ہوگا۔ زمین ایسی ہموار ہو گی کہ اِس کنارہ پر رائی کا دانہ گر جائے تو دوسرے کنارے سے دکھائی دے، اُس دن زمین تانبے کی ہوگی، اور آفتاب ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا۔
راوی حدیث نے فرمایا: میل سے مراد سُرمہ کی سلائی ہے یا میلِ مُسَافت۔ اگر میل مسافت بھی ہو تو کیا بہت فاصلہ ہے؟ کہ اب چار ہزار برس کی راہ کے فاصلہ پر ہے اور اِس طرف آفتاب کی پیٹھ ہے، پھر بھی جب سر کے مقابل آجاتا ہے، گھر سے باہر نکلنا دشوار ہوجاتا ہے، اُس وقت (یعنی قیامت کے دن) کہ ایک میل کے فاصلے پر ہوگا اور اُس کا منہ اِس طرف (یعنی ہماری طرف) ہوگا، تپش اورگرمی کا کیا پوچھنا؟
اور اَب مِٹی کی زمین ہے، مگر گرمیوں کی دھوپ میں زمین پرپاؤں نہیں رکھا جاتا، اُس وقت (یعنی قیامت کے دن) جب تانبے کی ہوگی اور آفتاب کا اتنا قرب ہوگا، اُس کی تپش کون بیان کرسکے…؟ اللہ عزوجل پناہ میں رکھے۔ بھیجے کھولتے ہوں گے۔ اور اس کثرت سے پسینہ نکلے گا کہ ستّر گز زمین میں جذب ہوجائے گا۔ پھر جو پسینہ زمین نہ پی سکے گی وہ اوپر چڑھے گا، کسی کے ٹخنوں تک ہو گا۔ کسی کے گھٹنوں تک۔ کسی کے کمر کمر، کسی کے سینہ، کسی کے گلے تک، اور کافر کے تو منہ تک چڑھ کر مثلِ لگام کے جکڑ جائے گا،جس میں وہ ڈبکیاں کھائے گا۔اس گرمی کی حالت میں پیاس کی جو کیفیت ہوگی محتاجِ بیان نہیں۔
زبانیں سُوکھ کر کانٹا ہوجائیں گی، بعضوں کی زبانیں منہ سے باہر نکل آئیں گی، دل اُبل کر گلے کو آجائیں گے، ہر مبتلا بقدرِ گناہ تکلیف میں مبتلا کیا جائے گا،
جس نے چاندی سونے کی زکوٰۃ نہ دی ہو گی اُس مال کو خوب گرم کرکے اُس کی کروٹ اور پیشانی اور پیٹھ پر داغ کریں گے،
جس نے جانوروں کی زکوٰۃ نہ دی ہوگی اس کے جانور قیامت کے دن خوب تیار ہو کر آئیں گے اور اس شخص کو وہاں لٹائیں گے اور وہ جانور اپنے سینگوں سے مارتے اور پاؤں سے روندتے اُس پر گزریں گے، جب سب اسی طرح گزر جائیں گے پھر اُدھر سے واپس آکر یوہیں اُس پر گزریں گے، اسی طرح کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ لوگوں کا حساب ختم ہو،
پھر باوجود ان مصیبتوں کے کوئی کسی کا پُرسانِ حال نہ ہوگا، بھائی سے بھائی بھاگے گا، ماں باپ اولاد سے پیچھا چھڑائیں گے، بی بی بچے الگ جان چُرائیں گے۔
ہر ایک اپنی اپنی مصیبت میں گرفتار، کون کس کا مدد گار ہوگا۔ حضرت آدم علیہ السلام کو حکم ہو گا، اے آدم! دوزخیوں کی جماعت الگ کر، عر ض کریں گے: کتنے میں سے کتنے؟ ارشاد ہوگا: ہر ہزار سے نو سو ننانوے۔
یہ وہ وقت ہو گا کہ بچے مارے غم کے بوڑھے ہوجائیں گے، حمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا، لوگ ایسے دکھائی دیں گے کہ نشے میں ہیں، حالانکہ نشے میں نہ ہوں گے، لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔
غرض کس کس مصیبت کا بیان کیا جائے، ایک ہو، دو ہوں، سو ہوں، ہزار ہوں تو کوئی بیان بھی کرے، ہزارہا مصائب اور وہ بھی ایسے شدید کہ الاماں الاماں
اور یہ سب تکلیفیں دو چار گھنٹے، دو چار دن، دو چار ماہ کی نہیں، بلکہ قیامت کا دن کہ پچاس ہزار برس کا ایک دن ہوگا، قریب آدھے کے گزر چکا ہے اور ابھی تک اہلِ محشر اسی حالت میں ہیں۔ اب آپس میں مشورہ کریں گے کہ کوئی اپنا سفارشی ڈھونڈنا چاہیے کہ ہم کو اِن مصیبتوں سے رہائی دلائے۔‘‘ (بہار شریعت، مطبوعہ دعوت اسلامی، ج:۱، ص: ۵۳۔۴۳۱)
اس کے بعد شفاعت کی حدیثیں بیان ہوئی ہیں، میرا مقصود محض یہ دکھانا ہے کہ قیامت کی ہولناکی اور پریشانی میں مخلوق کا کیا حال ہوگا، اس کٹھن گھڑی میں کون نہیں چاہے گا کہ اسے امن وامان اور سکون کا سایہ ملے تو ایسے وقت میں جہاں نجات کی اور بھی بہت سی صورتیں پیش آئیں گی وہیں بعض مخصوص اعمال صالحہ کے عامل عرش کے سایے میں جگہ پائیں گے جہاں عرش الٰہی کے علاوہ اور کہیں سایہ نہ ہوگا، ان اعمال حسنہ کا ذکر اللہ کے پیارے محبوب داناے غیوب ﷺ نے پہلے ہی فرما دیا ہے، اس مختصر رسالے میں انھیں اعمال کا بیان جن کے صدقے میں بندہ مومن سایہ عرش الہی کا امید وار ہوجاتا ہے۔
ایسے ہی خوش نصیبوں کی طرف کلام الہٰی میں یوں اشارہ کیا گیا ہے۔
’’مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیْرٌ مِّنْہَا وَ ہُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ (النمل: ۲۷/۸۹)
جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور ان کو اس دن کی گھبراہٹ سے امان ہے۔ (کنز الایمان)
یعنی ہم نیکی کرنے والوں کو ان کے عمل کی جو جزا ہونی چاہیے اس سے بڑھ کر عطا فرمائیں گے اور انھیں قیامت کی گھبراہٹ سے امن دیں گے اور عرش کے سایے سے بڑھ کر امن وامان کہاں ہوگا، یہاں اجمال ہے اور احادیث میں انھیں نیکیوں کی تفصیل ہے۔
عرش کیا ہے؟
عرش کریم اور عرش عظیم خداے قدیر کا عرش ہے جس پر اس کی خاص تجلی ہے اور یہی اس کی قدرت عظیمہ عامہ پر دال ہے۔ عرش الہٰی کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ ساری کائنات اس میں سما جائے پھر بھی جگہ باقی رہے۔ عرش کا لغوی معنیٰ چھت چھانی کے لیے بھی ہیں اور تخت کے بھی، تخت پر قابض ہونا تصرف وقدرت پر بھی دلالت کرتا ہے، ذیل میں لغات القرآن کی مشہور کتاب ’’المفردات للراغب الأصفہانی‘‘سے عرش کا معنی ومطلب نقل کیا جاتا ہے۔
عرش سے کنایہ عزت، غلبہ اور مملکت کی طرف بھی ہوتا ہے کہا جاتا ہے۔ ثلّ عرشہ اس کا تخت ہلاک ہو گیا، یعنی اس کی حکومت ختم ہو گئی۔
عرش اللہ:اللہ کے عرش سے کیا مراد ہے اس کی حقیقت انسان نہیں جان سکتا سواے لفظ کے، اور یہاں وہ معنی مراد نہیں جو عوام کے وہم وگمان میں ہے اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالی کو عرش اٹھاے ہوتا جب کہ وہ محمول ہے یعنی فرشتے اٹھاے ہوئے ہیں۔(اور یہ جسم وجسمانیات پر دلالت کرتا ہے جس سے اللہ تعالی پاک ومنزہ ہے۔)
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عرش فلک اعلیٰ کو کہتے ہیں اور کرسی فلک الکواکب (ستاروں کے آسمان) کو کہتے ہیں۔ سرکار ﷺ کے اس قول سے استدلال کیا ہے کہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمین کرسی کے کنارے ایک چھلے کی طرح ہے جو چٹیل میدان میں ڈال دیا گیا ہو، اور کرسی بھی عرش کے مقابلے میں ایسی ہی ہے۔
’’وَّ کَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآئِ‘‘ (ھود: ۷/۱۱)
اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ سے معلوم ہوا کہ عرش جب سے پیدا ہوا پانی ہی پر ہے۔
اللہ تعالیٰ کا قول: ’’ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْد‘‘(بروج:۸۵/۱۵)
اور رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ (غافر:۴۰/۱۵)
اور اس سے ملتے جو اور اقوال ہیں کہا گیا ہے کہ ان سب میں اشارہ یہی ہے کہ ان سے اس کی مملکت، اور غلبہ ہے،سے یہ مراد نہیں کہ عرش اللہ عزوجل کا مستقر اور ٹھکانا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک اور بلند ہے۔(المفردات فی غریب القرآن، ص: ۳۰۔۳۲۹، مطبوعہ مصر)
بہر حال یہ بات ثابت ہے کہ عرش اعظم بھی مخلوق ہے دیگر مخلوقات کی طرح عرش اعظم کو چار فرشتے کندھوں پر اٹھاے ہوئے ہیں اور جب قیامت آئے گی تو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔(الملفوظ از اعلی حضرت قدس سرہ: ۴/۵۸)
غرض یہ بات مسلمات سے ہے کہ عرش مخلوق ہے اور اس کی وسعت اتنی ہے کہ سارا جہاں اور کرسی اس میں سما جائے، اللہ تعالی اپنے محبوب بندوں کو اس کا سایہ عطا فرمائے گا، آقاے کائنات ﷺ نے مختلف اوقات اور متعدد بار ان خوش نصیبوں کا ذکر فرمایا ہے جنھیں قیامت کے دن عرش الہٰی کا سایہ ملے گا، ایسے ستر اعمال کا تذکرہ دسویں صدی ہجری کے مجدد حضرت امام عبد الرحمن جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ (متوفی: ۱۱۹ھ) نے اپنے ایک مستقل رسالے ’’تمہید الفرش فی الخصال الموجبۃ لظل العرش‘‘ کے نام سے تصنیف فرمایا ہے جس میں ایسے ستر خوش نصیبوں کا بیان ہے جو سایہ عرش سے شاد کام ہونے والے ہیں، یہ ان کی اپنی کوشش ہے، تلاش وجستجو کے بعد مزید کا بھی پتہ چل سکتا ہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے