درس گاہ نبوت کے تربیت یافتہ صحابہ کرام

تحریر: محمد طفیل ندوی
جنرل سکریٹری: امام الہند فاؤنڈیشن، ممبئی

عہدصحابہ ؓ کےمسلمان کس قدرمفلس تھے جھونپڑیوں اورکمبل کے خیموں میں رہنےوالے تمدن کی شان وشوکت سےنا آشنا،نہ ان کے لباس اعلی،نہ غذااعلی ،نہ ہتھیاراعلی،نہ سواریاں شاندار ، مگران کی دھاک اورساکھ دنیا میں تھی وہ بعدکےکسی عہدمیں نصیب نہیں ہوئی ان کے پاس دولت نہ تھی مگر کریکٹر کی طاقت تھی جس نے دنیامیں اپنی عزت اورعظمت کاسکہ بٹھادیاتھا بعدوالوں کےپاس دولت آئی حکومت آئی تمدن کی شان وشوکت آئی مگرکوئی چیز بھی کریکٹر کی کمزوری کابدل فراہم نہ کرسکی۔
دنیاکےکسی بھی بادشاہ نے ایسے اوصاف جمیلہ ،ایسی پاکیزہ سیرتوں اورایسے برگزیدہ محاسن کاخیالی پیکر نہیں تیارکیاہوگا جس کانمونہ ان کی ذات میںموجودتھا دنیاکے اگرتمام ادیب جمع ہوکر انسانیت کاکوئی بلندترین نمونہ پیش کرنےکی کوشش کریں توان کاتخیل اس بلندی تک نہیں پہنچ سکتا جہاں واقعاتی زندگی میں وہ لوگ موجودتھے جوآغوش نبوت کے پروردہ اورتربیت یافتہ تھے اوردرسگاہ محمدی ﷺ سے فارغ ہوکر نکلےتھے ان کاقوی ایمان، ان کاعمیق علم، ان کاخیر پسنددل ،ان کی ہرتکلف اورریاء ونفاق سے پاک زندگی، انانیت سے ان کی دوری ،ان کاخوف خدا ،ان کی عفت وپاکیزگی اورانسان نوازی ،ان کے احساسات کی نزاکت ولطافت ،ان کی مردانگی وشجاعت، ان کا ذوق عبادت اورشوق شہادت، ان کی دن کی شہسواری اورراتوں کی عبادت گذاری،متاع دنیا اورآرائش زندگی سے بےنیازی،ن کی رعایا پروری وراتوں کی خبرگیری ،اوراپنی راحت پر ان کی راحت کوترجیح ایسی چیزیں ہیں کہ اگلی امتوں اورتاریخ میں ان کی نظیر نہیں ملتی ۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعوت ورسالت کے ذریعے ایساصالح فرد پیداکیاجوخداپر ایمان رکھنےوالا ،اللہ کی پکڑ سے ڈرنیوالا، دیندار وامانت دار، دنیا پر آخرت کوترجیح دینےوالا،مادیت کے مظاہر کونظر حقارت سے دیکھنےوالا ا،وران مادی طاقتوں پرایمانی اورروحانی قوت سے فتح پانیوالا، جس کاایمان اس پرتھا کہ دنیااس کیلئے پیداکی گئی ہے اوروہ آخرت کیلئے بنائے گئے ہیں چنانچہ جب یہ فرد تجارت کےمیدان میں آتاہے توراست باز اورامانت دار تاجرہوتاہے اوراگراس کوفقروفاقہ سے واسطہ پڑتاتووہ ایک شریف ومحنتی انسان نظرآتاوہ جب کسی علاقے کاحاکم ہوتاتو ایک محنتی اوربہی خواہ عامل ہوتا ،وہ جب مالدارہوتاتوفیاض اورغمخوارمالدار ہوتا ،جب وہ مسند قضا اورعدالتی کرسی پر بیٹھتاتوانصاف دوست اورمعاملہ فہم قاضی ثابت ہوتااسےسیادت وریاست ملتی تووہ متواضع اورشفیق وغمخوار حاکم اورسردار ہوتا اورجب وہ عوام کے مال کاامانت داربنتا تومحافظ اورصاحب فہم خازن ہوتایہی وجہ ہےکہ اللہ تعالی نے انہیں کئی مقامات پر ’’اولئک ھم المفلحون،اولئک ھم المتقون،اولئک ھم الراشدون،اولئک ھم الفائزون،اولئک ھم المھتدون بولااوراولئک کتب فی قلوبھم الایمان ‘‘اللہ تعالی نے ان کے دلوں میں ایمان لکھ دیا۔
اگرمسلمانوں میں کسی ایسے طبقےکی تلاش کی جائے جومقام ومنصب کےاعتبارسے زیادہ بلندمقام رکھتاہوتوان میں اول مقام صحابہ کرام ؓ کاہے صحابہ وہ ہیں جن کے بارےمیں رسول اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا’’اصحابی کالنجوم‘‘میرےصحابہ ستاروں کےمانند ہیں رسول اکرم ﷺ کےاس ارشادفرمانےسےیہ بات واضح ہوجاتی ہےکہ مسلمانوںمیں صحابہ کامقام بہت نمایاہے ’’مااناعلیہ واصحابی‘‘والی حدیث سےبھی مقام کاپتہ چلتاہےاس حدیث سےبھی صحابہ کےمقام ومنصب کااندازہ کیاجاسکتاہے کہ عبداللہ بن مسعودؓ سےروایت ہےکہ ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺ سےسوال کیاگیاکہ سب سےبہترلوگ کون ہیں اس کےجواب میں آپ نے فرمایا’’خیرالقرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم‘‘میرے زمانےکےلوگ سب سےبہترہیں پھروہ لوگ جواس زمانےسےملےہوئےہیں پھروہ لوگ جوان کے زمانےسےمتصلہیںیعنی رسول اکرم ﷺ نےاپنے زمانے کےمسلمانوں کوسب سےبہترقراردیا ظاہرہےکہ آپ کے دورکے لوگوں سےمرادصحابہ ؓ ہیں صحابہؓ کےبعد تابعین ہیں اورتابعین کے بعد تبع تابعین ہیں ۔
جہاں تک صحابہ ؓ کےمختلف مراتب ودرجات ہیں تووہ ان کی قربانیوں اورسبقت فی الاسلام ،فضل وتقدم، ایمان ویقین، ایثارواخلاق اوراعمال کے تفاوت سےہیں یہ اللہ تعالی کامعاملہ ہے جس کے مقام کوچاہے بلندوبالاکردے،البتہ کسی ادنی صحابی کابھی مقابلہ بڑےسے بڑاولی عبادت گذار مجاہد متقی اورعظیم سےعظیم ترتابعی یہاں تک کہ حضورﷺ کے زمانے کے اس شخص سےبھی نہیں کیاجاسکتاجنہیں زمانہ توملا مگررویت کی بات حاصل نہ ہوسکی یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہےکہ اگر سبھی ایک ہی موقع پرایمان لےآتے اورایک ہی حال سے گذرتےتوغلطیاں نہ ہوتیں تویہ بات نزول قرآن وشریعت سےٹکراتی یہاں تک کہ ارتداداوراس کے بعد اس سے واپسی پرمعافی یاتعزیرات وحدود والے معاملات پر ان کی تنقیذ یہ سب دینی حکمت ومصلحت کاحصہ ہیں مگروہ سب اللہ کے ہاں مقبول اوردوسروں سے بہت اونچے مقام پرہیں اورجن صحابہ ؓ کواقتدار ملاانہوں نےاس فریضہ کوقرآن وسنت کےمطابق انجام دینےکی کوشش کی مگر وہ اس سلسلہ میں ہمیشہ خائف رہے رضی اللہ عنھم ورضواعنہ‘‘
اس میں کوئی دورائےنہیں کہ کسی شاعرنےبھی اپنے شاداب تخیل مواج طبیعت اورشعری صلاحیت سےکام لیکر ایسے اوصاف جمیلہ ایسی پاکیزہ سیرتوں اورایسے برگزیدہ محاسن کاخیالی پیکر نہیں تیارکیاہوگاجس کانمونہ ان کی ذات میں موجودتھادنیاکےاگرتمام ادیب جمع ہوکر انسانیت کاکوئی بلندترین نمونہ پیش کریں توان کاتخیل اس بلندی تک نہیں پہونچ سکتا جہاں واقعاتی زندگی میں وہ لوگ موجودتھے جوآغوش نبوت کے پروردہ اورتربیت یافتہ تھے اورجودرسگاہ محمدی ﷺ سےفارغ ہوکرنکلےتھے ان کاقوی ایمان، ان کاعمیق علم ،ان کا خیرپسنددل ،ان کی ہرتکلف اورریاءونفاق سےپاک زندگی، انانیت سے ان کی دوری ،ان کاخوف خدا ،ان کی عفت وپاکیزگی، اورانسان نوازی، ان کے احساسات کی نزاکت ولطافت، ان کی مردانگی وشجاعت ،ان کاذوق عبادت اورشوق شہادت ،ان کی دن کی شہسواری اورراتوں کی عبادت گذاری ،متاع دنیا اورآرائش زندگی سے بےنیازی ،ان کی عدل گستری ورعایا پروری وراتوں کی خبر گیری، اوراپنی راحت پران کی راحت کوترجیح ایسی چیزیں ہیں کہ اگلی امتوں اورتاریخ میں ان کی کوئی نظیرنہیں ملتی ۔
صحابہ کرام ؓ کی دنیا وآخرت میں کامیابی وسرفرازی کاعنوان اتباع سنت ہےیہی اتباع ہردور ہرزمانہ میں سربلندی اورخوش نصیبی کی کنجی ہےاگرکسی کوعہد رسالت نہ مل سکا توپھر ان کیلئے عہد صحابہ معیارعمل ہے کیوں کہ صحابہ کرام ؓ کی پاکیزہ جماعت سیرۃ النبی ﷺ کاعملی پیکر ہے،ہرطرح سے پرکھنے جانچنےکےبعد ان کو نسل انسانی کےہرطبقہ کے واسطے ایمان وعمل کامعیار بنایا گیاہے خود رسول اللہ ﷺ نے ان کی تربیت فرمائی اوراللہ رب العزت نے ان کے عمل وکردار ،اخلاق واطوار ،ایمان واسلام اورتوحید وعقیدہ ،صلاح وتقوی کوباربارپرکھا پھراپنی رضا وپسندیدگی سے ان کوسرفرازفرمایا کہیں فرمایا ’’اولئک الذین امتحن اللہ قلوبھم للتقوی‘‘کہ یہی لوگ ہے جن کے دلوں کے تقوی کواللہ نے جانچاہے ،کہیں فرما یا’’امنواکماآمن الناس‘‘کہ اےلوگوایسے ایمان لائوجیساکہ محمد کےصحابہ ایمان لائے ہیں تو کہیں فرمایا ’’اولئک ھم الرشدون‘‘یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔
یہ سب اسلئے کہ سیرت النبی ﷺ کاعکس جمیل تھے ان کی عبادت میں ہی نہیں بلکہ چال ڈھال میں بھی ان کانورجھلکتاتھا یہی سبب ہےکہ خودرسول کائنات ﷺ نے فرمایا’’اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اہتدیتم‘‘میرےصحابہ ستاروں کےمانندہیں جن سےبھی اقتداءومحبت کاتعلق جمالوگے ہدایت پاجائوگے ۔
چونکہ صحراوجنگل میں سمت معلوم کرنےکیلئے ستاروں کی رہنمائی حاصل کی جاتی ہے اسی لئے صحابہ کرام کوستاروں سے تشبیہ دی گئی ہےکہ وہ نفوس قدسیہ شرک وکفر کے صحراءمیں مینارئہ ایمان ہیں ۔
قرآن مجید اورحضورﷺ کی صحبت سے صحابہ کرامؓ میں ایمان واطاعت اور احکام الہی کاایسا مزاج بن گیاتھا جیسافطرت انسانی میں پیدائشی طورپر ہوتاہے کہ ان سے ایمان کی کمزوری یا اطاعت میں کوتاہی کی گنجائش نہیں رہی تھی ان کی طرف سے کامل اطاعت کاظہور سخت سےسخت موقع پر ہوااوران کو ایمان اوراطاعت رسول ﷺ کے کئی سخت امتحانوں سے گذرناپڑا اوروہ ان سب میں کامیاب ہوئےجس کے تین نمونے سب سے زیادہ سخت رہے ،ایک بدرکامعرکہ کہ مسلمانوں کو اپنی تعدادکی کمی کاپورااحساس تھا اورتدبیرجنگ کے لحاظ سے اپنی ناکامی اورشکست کاپوراخطرہ محسوس ہورہا تھا اوراس جنگ سے بچنےکاموقع بھی تھا کہ یہ مشورہ دیتے کہ مدینہ لوٹ جائیں وہاں مضبوطی رہےگی ،لیکن اپنےنبی کی بات مانی اورشکست کاخطرہ ہوتےہوئےبھی تیارہوگئے ،دوسرابڑاامتحان خندق کامعرکہ تھا جہاں نصف مہینےنہایت ہمت شکن حالات میں میدان جنگ میں ڈٹےرہنےکاامتحان تھا جس کی سختی کاذکر خودقرآن مقدس میں ہے اورتیسراامتحان صلح حدیبیہ کے موقع پر پیش آیا جس میں ان کے ذہنوں پرسخت ترین بوجھ پڑا اورانہوں نے اف نہ کیا اس طرح آپ کے صحابہ کرام کی جوجماعت بنی وہ ایمان اورمحبت رسول اورآپ کے لائے ہوئے دین اسلام کی پیروی میں ناقابل تسخیر پہاڑکی طرح تھی اوربتدریج اتنی بڑی تعداد میں یہ جماعت تیارہوئی کہ تاریخ انسانی میں ایسی صالح اورپختہ ایمان اوردین میں پختگی کی کوئی مثال نہیں ملتی اوریہ دراصل اللہ تعالی کی طرف سے تھا جس نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ کےبعد کسی نبی کےآنےکی ضرورت نہیں اورآپ کی صحبت ورہنمائی حاصل کرنیوالوں کی جماعت کوایسے صفات وکردارکابنادیا کہ وہ نبوت کی صحیح نیابت کرتےہوئے اس دین کو اوراعلی انسانی صفات کو آگےبڑھائیں اس کےافرادمیں سے ہرایک اپنی جگہ آفتاب وماہتاب تھا ۔
خلفائے راشدین اورصحابہ کرام ؓ کی سیرت کے مختلف پہلو اوران کے محاسن اخلاق کتابوں میں متفرق ومنتشرموجودہیں ،ان سب کوجمع کرکے ہم اپنے ذہن میں ایک فرد کی مکمل زندگی اورپوری تصویر تیارکرسکتےہیں لیکن خوش قسمتی سےان میں سے ایک ’’سیدناعلی ابن طالب ؓ‘‘کاپورااخلاقی سراپااوران کی زندگی کی تصویر ہمارے لٹریچر میں موجود ہے اس کوپڑھیں اوردیکھیں کہ ایک انسان کی سیرت واخلاق کی اس سے زیادہ حسین ودلکش تصویرکیاہوسکتی ہے اورنبوت نے اپنی تعلیم وتربیت اوراپنی مردم سازی وکیمیا گری میں کیسے یادگارنمونے چھوڑے ہیں ان کی خدمت میں شب وروزرہنے والے ایک رفیق ضراربن ضمرہ اس طرح ان کی تصویر کھینچتےہیں ’’بڑےبلندنظر ،بڑےعالی ہمت ،بڑےطاقتور،جنچی تلی گفتگوفرماتے ،حق وانصاف کے مطابق فیصلہ فرماتے،زبان ودہن سےعلم کاچشمہ ابلتا،ہرہراداسے حکمت ٹپکتی ،دنیااوربہاردنیاسے وحشت تھی ،رات اوررات کی تاریکی میں خوش رہتے،آنکھیں پرآب،ہروقت فکروغم میں ڈوبے ہوئے،رفتارزمانہ پر متعجب ،نفس سے ہروقت مخاطب ، کپڑا وہ مرغوب جوموٹاجھوٹاہو،غذاوہ مرغوب جوغریبانہ اورسادہ ہو، کوئی امتیازی شان پسندنہیں کرتےتھے ،جماعت کےایک فردمعلوم ہوتےتھے ،ہم سوال کرتےتویہ جواب دیتے،ہم حاضرخدمت ہوتے توسلام ومزاج پرسی میں پہل کرتے،ہم مدعوکرتےتودعوت قبول کرتے ،لیکن اس قرب ومساوات کےباوجود رعب کایہ عالم تھا کہ بات کرنےکی ہمت نہ ہوتی اورسلسلئہ سخن کاآغازکرنامشکل ہوتا ،اگرکبھی مسکراتےتودانت موتی کی لڑی معلوم ہوتے،دینداروں کی عزت اورمساکین سے محبت کرتےلیکن اس تواضع ومسکنت کے باوجود کسی طاقت اوردولت مند کی مجال نہ تھی کہ ان سے کوئی غلط فیصلہ کروالےیاان سے کوئی رعایت حاصل کرلےاورکمزورکوہروقت ان کے عدل وانصاف کابھروسہ تھا۔
میں قسم کھاکرکہتاہوں کہ میں نے ان کوایک شب ایسی حالت میں دیکھا کہ رات نے اپنی ظلمت کےپردے ڈال دیئےتھے اورستارےڈھل چکےتھے ،آپ اپنی مسجدکے محراب میں کھڑےتھے داڑھی مٹھی میں تھی،اس طرح تڑپ رہےتھے جیسے سانپ نے ڈس لیاہو ،اس طرح رورہےتھے جیسےدل پر چوٹ لگی ہو اس وقت میرےکانوں میں ان کے یہ الفاظ گونج رہےہیں ’’اےدنیا ! اےدنیا! کیاتومیراامتحان لینےچلی ہے اورمجھےبہکانےکی ہمت کی ہے مایوس ہوجا، کسی اورکوفریب دے ،میں نے توتجھےایسی تین طلاقیں دی ہیں جن کے بعد رجعت کاکوئی سوال نہیں ،تیری عمرکوتاہ،تیراعیش بےحقیقت ،تیراخطرہ زبردست،ہائےزادراہ کس قدرکم ہے ،سفرکتنا طویل اورراستہ کتناوحشت ناک ہے ‘‘
نبوت کایہ کارنامہ زمانہ بعثت اورپہلی صدی ہجری کیساتھ مخصوص نہیں ،آپ کی تعلیمات نے اورآپ کے صحابہ کرام نے زندگی کے جونمونےچھوڑے تھے وہ مسلمانوں کی بعدکی نسلوں اوروسیع عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں ہرشعبہ زندگی اورصنف کمال میں عظیم انسان پیداکرتےرہے جن کی انسانی بلندی شک وشبہ اوراختلافات سے بالاترہے،اس لازوال ’’درسگاہ نبوت‘‘کے فضلاء اورتربیت یافتہ اپنے اپنے زمانے کی زیب وزینت اورانسانیت کے شرف وعزت کاباعث ہیں ،کسی مورخ اورکسی بڑے سےبڑے مصنف اورمحقق کی یہ طاقت نہیں کہ ان لاکھوں اہل یقین اوراہل معرفت کے ناموں کی صرف فہرست بھی پیش کرسکے ،جواس تعلیم کے اثرسے مختلف زمانوں اورمختلف مقامات پرپیداہوتےرہے ،پھر ان کے مکارم اخلاق ،ان کی بلندانسانیت ،ان کے روحانی کمالات کا احاطہ توکسی طرح ممکن نہیں ، ان کے حالات کوپڑھ کر عقل حیران ہوتی ہے کہ یہ خاکی انسان روحانی ترقی ،نفس کی پاکیزگی ،حوصلہ کی بلندی ،انسان کی ہمدردی ،طبیعت کی فیاضی، ایثاروقربانی، دولت دنیاسے بےنیازی ،سلاطین وقت سےبےخوفی ، خداشناسی وخدادانی اورغیبی حقیقتوں پر ایمان ویقین کے ان حدوداوربلندیوں تک بھی پہونچ سکتاہے ان کے یقین نے لاکھوں انسانوں کے دلوں کویقین سے بھردیا ،ان کے عشق نے لاکھوں انسانوں کے سینوں کوعشق کی حرارت اور سوزسےگرم کوروشن کردیا ، ان کے اخلاق نے خونخواردشمنوں کوجاں نثاراورلاکھوں حیوان صفت انسانوں کوحقیقی انسان بنادیا ،ان کی صحبت اوران کے فیض وتاثیرنےخداطلبی اورخداترسی اورانسان دوستی کاعام ذوق پیداکردیا ۔کروڑوںدرودو سلام نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس پراور آپ کی تربیت یافتہ مقدس ومنفر دصحابہ کرام کی جماعت پر۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ذکی احمد، شخصیت اور شاعری: ایک مطالعہ

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے