ارتقاء انس تعلیم کے ذریعے ہوتا ہے

تحریر: محمد مکی القادری گورکھپوری
پرنسپل: دارالعلوم اہلسنت نورالاسلام بلرام پور یوپی

باسمہ تعالی
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
اما بعد
فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
طلب العلم فریضہ علی کل مسلم ومسلمہ


قارئین! تعلیم ہی ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے زندگی کی جنگ لڑی اور جیتی جاسکتی ہے۔ ہمیں جنگی بنیادوں پر نوجوانوں کے لیے تعلیم کی فراہمی کی کوشش کرنی چاہیے۔
قرآن کا پہلا لفظ جو غارِ حراء میں گونجا۔ وہ ’’اقرا‘‘ تھا یعنی ’’پڑھیے‘‘۔ خالقِ کائنات کا پہلا حکم اورنبی کریمﷺ نے ہر مسلمان مرد وعورت پرحصول علم فرض قرار دیا۔ ہمارا طبقاتی معاشرہ اس کے کئی اسباب میں سے ایک ہے،نیزتعلیم ایک بنیادی ضرورت ہے جو مسلمان مرد اور عورت دونوں پر فرض ہے۔ انسان کو سچائی کی پہچان‘ حقائق کا ادراک اور معاشرے میں مہذب زندگی گزارنے کا سلیقہ علم ہی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا راز بھی علم ہی ہے علم کے ذریعہ ہی آدمی ایمان ویقین کی دنیا آباد کرتا ہے ،بھٹکے ہوے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے، بروں کو اچھا بناتا ہے، دشمن کو دوست بناتاہے ، بے گانوں کو اپنا بناتا ہے اور دنیا میں امن وامان کی فضاء پیدا کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حاملین علم کی قرآن وحدیث میں بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اسے دنیوی و اخروی بشارتوں سے نوازاگیا ہے۔ قرآن کہتا ہے:
”یَرْفَعِ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْرٌ.“(المجادلہ:۱۱)
(تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جن کو علم عطا ہواہے ،اللہ اس کے درجات بلند فرمائے گا اورجو عمل تم کرتے ہو اس سے اللہ باخبر ہے۔)
دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے:
”قُلْ ہَلْ یَسْتَوِیْ الَّذِیْنَ یَعْلَمُونَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُونَ إِنَّمَا یَتَذَکَّرُ أُوْلُوا الْأَلْبَاب.“ (الزمر:۹)
(اے نبی،کہہ دیجیے کیاعلم رکھنے والے(عالم) اور علم نہ رکھنے والے (جاہل) برابر ہوسکتے ہیں۔نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔)
تاریکی اور روشنی کی مثال دے کر عالم اور جاہل کے فرق کو واضح کیا گیاہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:
”قُلْ ہَلْ یَسْتَوِیْ الأَعْمَی وَالْبَصِیْرُ أَمْ ہَلْ تَسْتَوِیْ الظُّلُمَاتُ وَالنُّور.“(الرعد:۱۶)
(کہہ دیجیے،کیا برابر ہوسکتے ہیں اندھا(جاہل) اور دیکھنے والا(عالم) یا کہیں برابر ہوسکتا ہے اندھیرا اور اجالا۔)
اس طرح کی بہت ساری آیتیں ہیں جن میں عالم اور جاہل کے فرق کو واضح کیا گیا ہے اور ان کے درجات کے تعین کے ساتھ مسلمانوں کو حصول علم کے لیے ابھارا گیا ہے۔
اس سلسلے میں کثرت سے احادیث بھی وارد ہوئی ہیں جن میں اہل علم کی ستائش کی گئی ہے اور انہیں انسانیت کا سب سے اچھا آدمی قرار دیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول فرماتے ہیں:
” وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعابِدِ ،کَفَضْلِی عَلَی اَدْنَاکُمْ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم: اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ وَاھْلَ السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضِیْنَ حَتَّی النَّمْلَةَ فِی جُحْرِھَا وَحَتَّی الْحُوْتَ لَیُصَلُّوْنَ عَلی مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَیْرَ.“(۳)
(اورعابد پر عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنی پر۔ یقینا اللہ عزوجل ،اس کے فرشتے اور آسمان وزمین والے حتیٰ کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلی تک لوگوں کے معلم کے لیے بھلائی کی دعاء کرتی ہیں
دوستان محترم ! حالتِ کفر میں قرآن سن کر لوگوں کے دلوں میں انقلاب پیدا ہوجاتا تھا اور آج پیدائشی و خاندانی مسلمانوں پر کچھ اثر نہیں پڑتا اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آج ہم نے ساری چیزوں کو بس ایک رسم بناکر رکھ دیا، یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہم نے علم کے مقام کو بھلادیا علم کے مقاصد کو بھلادیا جلسے و جلوس کا اہتمام کرتے ہوئے بھی اس کے مقاصد کو موت کے گھاٹ اتار دیا یعنی مذہب اسلام کا نعرہ لگانے کے باوجود بھی ہم مذہب اسلام کے فرامین پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں نبی اکرم سے محبت کا دعویٰ کرنے کے باوجود بھی نبی کی سنتوں کو اپنانے کیلئے تیار نہیں اولیاء کرام کے آستانوں پر جانے کے باوجود بھی اولیاء کرام کی تعلیمات پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں بلکہ انکے آستانوں کو ہم نے سیر و تفریح کا ذریعہ بنالیا جبکہ غوث اعظم سیدنا عبد القادر جیلانی ، غریب نوازخواجہ معین الدین چشتی ،خواجہ قطب الدین بختیار کاکی،خواجہ علاؤ الدین صابر کلیری، خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی، مخدوم جہانگیر اشرف سمنانی رحمہم اللہ جیسے جلیل القدر بزرگان دین جن کی قبروں پر رب قدیر انوار رحمت کی بارش فرمائے یہ بزرگانِ دین علم سے پوری طرح آراستہ و پیراستہ تھے اپنے اپنے وقت کے بڑے بڑے مشائخ و امام تھے اور آج کچھ بہروپئے علم سے کوسوں دور رہ کر رنگ برنگ کے لباس میں ملبوس ہوکر، بڑے بڑے بال بڑھا کر، ہاتھوں میں کڑا، انگلیوں میں درجنوں انگوٹھیاں پہن کر، کلائیوں اور گردنوں میں مختلف قسم کے موتی اور جنگلی جڑی بوٹیوں کا جھمڑا پہن کر کہتے ہیں کہ شریعت اور ہے،، طریقت اور ہے،، جبکہ یہ سراسر بیحیائی ہے اور جہالت ہے بلکہ شریعت کی مخالفت ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ شریعت کے بغیر طریقت مل ہی نہیں سکتی مذکورہ بزرگان دین نے علم حاصل کیا اور اسلام کی تعلیمات کو پوری دنیا میں پھیلایا اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی اور دین کی دعوت دی،، پتہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دین کی دعوت عام کرنے میں بھی علم کی ضرورت ہے رزق حلال و حرام کی تمیز کیلئے علم کی ضرورت ہے یعنی علم سرمایہ ہے اور علم دین عظیم سرمایہ ہے جو علم حاصل کرنے سے محروم رہا تو وہ گویا ایک فرض کی ادائیگی سے محروم رہا اور وہ بھی ایسا فرض ہے جس سے دیگر فرائض کی معلومات حاصل ہوتی ہے اور اسی معلومات کے مطابق ڈنکے کی چوٹ پر کہا جاتا ہے کہ جس کے سینے میں قرآن و حدیث کا علم نہیں ہے تو وہ ولی نہیں ہوسکتا اور جس نے قرآن و حدیث کا علم حاصل کئے بغیر تصوف میں قدم رکھا تو اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا اس لئے سب سے پہلے علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے پھر عمل کرنے کی ضرورت ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرنے کی ضرورت ہے کہ ائے اللہ میرے علم میں تیری رحمتیں شامل حال رہیں تاکہ زبان حق بات بولے اور دل حب نبی سے روشن رہے۔ مقام احترام: علم کی رسائی کیسے کی جا سکتی ہے تو دیکھیں
علم کا براہ راست تعلق صرف انسان سے ہوتا خواہ وہ اپنی پہچان کسی بھی حوالے سے کراتا ہو جیسے رنگ، نسل، زبان، مذہب، سوچ، فکر، خیال وغیرہ سے لیکن جب وہ انسان اپنے آپ کو علم سے منسلک کرتا ہے تو علم کے سامنے وہ صرف ایک انسان ہوتا ہے جو اُس تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے جس کے لیے اُسکے پاس تمام ضروری آلات اور اوزار موجود ہوتے ہیں جو حواسِ خمسہ اور حواسِ محرکہ کہلاتے ہیں۔ جب کسی انسان کو اس بات کی ادراک حاصل ہوجاتی ہے کہ علم تک رسائی صرف اُسی وقت ممکن ہوگی جب وہ صرف بطور ایک انسان کے علم کے سامنے دوزانوں ہوگا تو پھر علم اُسکے اندر اس طرح سے اُترتا چلا جاتا ہے جیسے پانی کا ڈول کنواں میں ڈالا جاتا ہے۔ پھر علم ہوتا ہے اور وہ انسان ہوتا ہے جو علم کے وہ وہ روپ ایجادات کی شکل میں دوسرے انسانوں کے سامنے پیش کرتا ہے کہ سب حیران و ششدر رہ جاتے ہیں۔ یہ معاشروں کا سادہ اور بھولا پن ہوتا ہے کہ وہ اُس انسان کو کبھی رنگ، نسل، زبان سے اور کبھی مذہب، سوچ، فکر، خیال سے پہچانتے اور پکارتے ہیں مگر وہ انسان خود کو علم سے ہی منسلک رکھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ علم کیا ہے مگر ہر ایک کے پاس اس بات کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی عمل کا انتخاب کرسکتا ہے کہ:
۱- ایجادات کون کررہا ہے یعنی اُسکی پہچان کیا ہے؟
۲- ایجادات کیسے ہو رہی ہیں یعنی علم کے کیا کیا ذرائع استعمال ہورہے ہیں؟
۳- ایجادات کیوں ہو رہی ہیں یعنی زندگی وقت کے کس دور میں سے گزر رہی ہے؟
خلاصہ: ایک خاص تناظر میں ایجادات “کون کر رہا ہے” اہم انتخاب ہے مگر کچھ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ کی اس انتخاب میں دلچسپی کم ہوتی جاتی ہے اور آپ کی توجہ “ایجادات کیسے ہورہی ہیں” پر چلے جاتی ہے جو پہلے والے انتخاب سے زیادہ دلچسپ ہے کیونکہ اس میں آپ کو علم کے مختلف ذرائع سے آگاہی حاصل ہوتی ہے لیکن جب آپ تیسرے انتخاب پر آتے ہیں کہ “ایجادات کیوں ہو رہی ہیں” تو اصل میں یہ اپنے اندر سب سے زیادہ دلچسپی کا سامان رکھتا ہے کیونکہ اس میں زندگی کے ارتقاء کا وہ منظر نامہ سامنے آتا ہے جیسے وہ سمجھتا اور دیکھتا ہے جو اُس انسان کو خوشی سے پاگل کر دیتا ہے پس جو بھی “ایجادات کر رہے ہیں، کیسے ہو رہی ہیں اور کیوں ہو رہی ہیں” کو کرنے والے ہیں وہ سب کے سب انسانیت کے محسن ہیں اور ان سب کو دل کی گہرائیوں سے سلام
اللہ رب العزت ہم سب کو علم نافع اور عمل صالح کی مکمل سعی پیہم کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے اسلاف کو بہترین صلہ عطا فرمائے، اور ہم سب کے لیے علم کو نجات کا باعث بنائے ۔ آمین یا رب العالمین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پہلی درس گاہ کو معیاری بنائیے

ازقلم: شیبا کوثر (آرہ، بہار) کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں درس گاہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے