جیسی کھوج ویسے لوگ

ازقلم: بنت مفتی عبدالمالک مصباحی، جمشیدپور

لڑکی بہت سیدھی سادی ہے اس لیے ہمیں یہ رشتہ منظور نہیں، لڑکا داڑھی والا ہے اس لیے ہمیں پسند نہیں، سب تو ٹھیک ہے لیکن لڑکی ذرا کم بولتی ہے اس لیے ہمارے لائق نہیں، سب پسند آیا مگر لڑکے کی سیلری ذرا اور ہونی چاہیے، جی! لڑکی کی تعلیم، اس کا اخلاق اور اس کا خاندان سب ٹھیک ہے لیکن مَین لڑکی ہی گوری اور اچھی خاصی خوبصورت نہیں ہے اس لیے ہم دوسری دیکھتے ہیں؛ وغیرہ وغیرہ ایسی فضول کی لاکھوں کمیاں-

یہ وہ جملے تھے جو ہمارے معاشرے میں عام سے عام تر ہیں اور انھیں سب ناقص سوچوں کی وجہ سے معاشرے میں ویسے ہی نوجوان پیدا ہو رہے ہیں جن کی تلاش ہے؛ انھیں کو اہمیت دی جا رہی ہے جن میں حقیقی کمیاں عروج پر ہوں تو اب آپ بتائیں کہ ہمارے بچے کیسے بننے کی کوشش کریں گے؟ محض پرست نہیں تو اور کیا؟

جب ہم اسلامی حدود میں رہنے والی لڑکیوں کے سیدھی سادی ہونے کو عیب دار قرار ہونا دیں گے تو_ لڑکیاں چالک اور مکر و فریب والی ہی ہوں گی نا! پھر وہ والدین پھر بعد میں شوہر اور سسرال والوں کو دھوکہ دینے کے علاوہ کیا دے سکتی ہے؟

جب ہم خود داڑھی والے نوجوانوں کی تحقیر کریں گے تو_ پھر ہمارے بچے کس طرح بشوق داڑھی رکھنے کے لیے تیار ہوں گے؟ اب عورتوں کی صورت والے نوجوان بھلا لڑکیوں کو پریشان نہیں تو اور کیا کریں گے!

جب ہم فضول گوئی سے پرہیز کرنے والی بچیوں کی کم گوئی کو عیب قرار دیں گے تو_ پھر لڑکیاں تیز طرار کیسے نہیں نکلیں گی؟ پھر ماں باپ، ساس سسر اور شوہر کو اس کی زبان درازی سی تکلیف نہیں ہوگی تو اور کیا!

جب ہم ہر خوبی اور تمام صلاحیتوں کو نظر انداز کر کے صرف سیلری اور پیسے پر توجہ رکھیں گے تو_ ہمارے بچے جائز اور نا جائز، حرام و حلال مال کی فکر کہاں رکھیں گے؟ پھر بچے یہ کیسے نہیں سوچیں گے کہ لوٹ پاٹ، مار پیٹ اور دھوکہ دہی اور اس قسم کی کتنی ہی برائیاں کیوں نہ کرنی پڑے لیکن مالدار تو بننا ہی ہے!

جب ہم "اسلام آیا کالے گورے کا فرق مٹا” کے نعرے لگانے والے ہی صرف ظاہر پرستی میں مبتلا ہوں گے اور رنگ کے کالے ہونے سے تمام دیگر خوبیوں کو بھول جائیں گے، ذرا کم خوبصورتی کی وجہ سے بچیوں کی دل آزاری کریں گے تو_ ہماری بچیاں دن و رات بیوٹی پالرز کے چکر نہیں لگائیں گی تو اور کیا کریں گی؟ پھر ہماری نسل کس طرح صرف خوبصورتی کے پیچھے نہیں بھاگے گی!

الغرض_ ایسی بے شمار سوچیں ہیں جو ہم میں جڑ پکڑ چکی ہیں جن کی وجہ سے ہماری نسلیں ہر اعتبار سے کھوکھلی ہوتی جا رہی ہے – اصلاح معاشرہ میں سوچوں اور خیالوں کے اصلاح کی بھی خاص ضرورت ہے تاکہ اعمال و کردار خود بخود سنور جائیں اور معاشرے میں اچھے افراد پیدا ہوں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

رمضان کریم اور ہم: ایک جائزہ

تحریر: منزہ فردوس بنت عبدالرحیمایم. اے. سال اول آکولہ مہاراشٹرا ایک بار پھر عظمتوں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے