مجاہد ملت کی دینی و ملی خدمات

از: شمیم اختر مصباحی(اڈیشا)،استاذ: مرکزی دار القراءت،جمشید پور

امام التارکین حضرت  مجاہد ملت  مولانا حبیب الرحمن قادری  عباسی علیہ الرحمہ (ولادت ۱۳۲۲ھ/۱۹۰۴ء- وصال ۱۴۰۱ھ/۱۹۸۱ء)اپنی گوناگوں صلاحیت، مجاہدانہ عزیمت، مومنانہ بصیرت، علم و فن میں مہارت ، کردار و عمل کی پاکیزگی و طہارت اور سرکار دو عالم ﷺ سے والہانہ محبت و عقیدت میں اپنی مثال آپ تھے۔حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ  ان نفوسِ قدسیہ میں سے تھے جنھوں نے اپنی پوری زندگی دین ِ حق کی نشر و اشاعت ،  رسول گرامی وقارﷺ کی عظمت و رفعت کا پرچم بلند کرنے ، قوم و سماج کی  فلاح و بہبود اور خدمتِ خلق کے لیے قربان کردی  تھی۔آپ   کا  دل ہمیشہ قوم کی فلاح و بہتری کے لیے بے تاب رہتا تھا، آپ نے اپنی  حیاتِ مستعار میں بہت سی دینی ، ملی ،سماجی  او راصلاحی خدمات انجام دی ہیں ،ذیل میں آپ کی خدمات کا مختصر سا جائزہ قارئین کی خدمت میں  پیش کیا جارہا ہے۔

آل انڈیا تبلیغ سیرت:حضرت مجاہد ملت علیہ الرحمہ  ایک زندہ  دل مردم قلندر تھے ،آپ  ہمیشہ قوم مسلم کی سربلندی ، ہمہ جہت ترقی   اور فلاح  وبہبود کے لیے  فکر مند رہتے تھے ، چناں چہ آپ نے قومی  و ملی  ضرورت کے پیش نظر   درس گاہی زندگی  کو خیراباد کہہ کر  میدان عمل میں کود پڑے ،چوں کہ  یہ  برطانوی سامراج اور  تقسیم ہند کے بعد کا دور تھا،مسلمانوں کا با اثر طبقہ ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان  جا چکا تھا اور مسلمانوں  کا  دینی  اور ملی شیرازہ بکھر چکاتھا، ایسے ماحول میں   حضور مجاہد ملت  اور اکابر علماے کرام نے مسلمانوں  کی صالح رہنمائی ،مسلم معاشرے میں دینی اقدار و مذہبی جذبات  بیدار کرنے  اور  سیرت مصطفی کی شمع فروزاں کرنے کے لیے  ‘‘ کل ہند  تبلیغ سیرت ’’ کی بنیاد ڈالی،   اور  مدت العمر  اس کی صدارت  فرماتے رہے۔

اغراض و مقاصد آل انڈیا تبلیغ سیرت : (۱)مسلمانوں کے اصلاح  عقائد و اعمال و تنظیم و اتحاد کی کوششیں (۲) ہر زبان جس  میں اسلامیات کا عظیم الشان  ذخیرہ ہے اس کی بقا و تعلیم کی تدبیریں (۳) اصلاح و ترقی مدارس، تمام مدارس دینیہ کو منظم کر کے ان کے نصاب  میں یکسانیت پیدا کرنے کی صورتیں۔(۴)مساجد و مقابر اور خانقاہوں اور مسجدوں و قبرستانوں کو ہر قسم کی دست برد سے بچانے اور ان کو ان کے مصرف پر لگانے  کے لیے جد و جہد ۔(۵)اشاعت  و تبلیغ، انجمن کے مقاصد سے روشناس کرانے کے لیے پریس اور اخبار جو کانفرنس کا ترجمان ہو جاری  کرنے کی تدبیریں اور ملک کے ہر حصہ میں انجمن کی شاخوں کے بڑھانے کے لیے  جد جہد۔

مذکورہ  بالا اغراض و مقاصد  کی تہہ میں پنہاں حضرت مجاہد ملت کے سوز دروں  کو پڑھا  اور محسوس کیا  جاسکتا ہے ، کس طرح  کا  درد  اور فکر اپنے  اندر  رکھتے تھے! اس سے آپ کی  ہمہ جہت کوششوں  اور تحریکی خدمات کا اندازہ لگا یا جا سکتا ہے، بہر حال تبلیغ سیرت  کی تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہوئے  اس کا  مرکزی دفتر الہ آباد میں قائم کیا  گیا  اور  متعددصوبوں میں  اس کی شاخیں قائم ہوئیں،  ہر جگہ سے وسیع پیمانے پر کام کرنے کے لیے  زبردست تحریک  چلائی گئی  ،جابجا دینی اجلاس کے ذریعہ  لوگوں کے ایمان و عقائد  کی حفاظت کی گئی  اور علاقائی ، صوبائی اور ملکی سطح پر مسلمانوں  کو در پیش مسائل   اور  حقوق کی بات اٹھائی گئی ،اس تحریک  نے اپنے محدود وسائل  کے باجود  زبردست کا میابی حاصل کی،ایک محتاط اندازے کے مطابق  اس وقت  ۳۰۰ /سے  زائد مدارس و مکاتب  اس کے تحت  چل رہے تھے اور اس کے  تحت  گشتی  جلسوں کا انعقاد  وسیع پیمانے  پر کیا گیا   جس  کے ذریعہ   سیرت  مصطفی ﷺ کو گھر گھر پہچانے کی کوشش کی گئی  ، یقیناًاس نے  سر زمین ہند میں ملت اسلامیہ  کی نمایاں خدمات  انجام دی جو آب زر سے لکھنے کے لائق  ہے۔

خاکسارانِ حق:حضرت  مجاہد ملت علیہ الرحمہ   صرف ایک دینی  ومذہبی پیشوا نہیں تھے  بلکہ آپ ایک سچے قائد و راہنما تھے،آپ  نے معاشرتی  ،رفاہی امور کی انجام دہی  اور فرقہ وارانہ فسادا ت کے روک تھام کے لیے  ۱۳۹۲ھ/ ۱۹۷۲ء میں ایک رفاہی تنظیم ‘‘ خاکسارانِ حق  ’’ کے نام سے قائم کی   جس نے  مختلف موقع پر بلا لحاظ مذہب  و ملت  انسانی فلاح و بہبود  کی  بے مثال خدمات انجام دی ، آپ نے پوری زندگی  اس کی امارت و قیادت فرمائی ،اس  کا خاکی رنگ کا ڈریس کوڈ متعین کیا اور دفاع کے لیے  ہاتھ میں ‘‘ بیلچا’’ کا تصور پیش کیا ، یہ خاکساران حق  قدرتی آفات ، فرقہ وارانہ فسادات کے وقت ، بزرگوں کے اعراس کے موقع پر   اور دینی  و مذہبی  کانفرنسوں  کے لیے  نیم فوجی دستہ کی طرح  رضا کارانہ کام کرتی تھی،ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے با ضابطہ اس کا پریڈ ہوتا تھا اور حضرت کی پر جوش تقریر ہوتی تھی،خدمات کے آداب و اصول بتائے جاتے  تھے ، اس نے  ۱۹۸۰ء میں مرادآباد    کے  مسلم کُش فرقہ  وارانہ فساد میں اپنی  جان  ومال کی بازی لگا کر  مسلمانوں کو تحفظ فراہم کیا  اور  اسی طرح فیروزآباد  فرقہ وارانہ فساد میں بر وقت مورچہ بندی کی وجہ  سے  مسلمان ایک بڑے جانی مالی  نقصان   سے دوچار ہونے سے محفوظ رہے  ، یقیناً  یہ اپنے آپ  میں زبردست کام تھا، اگرنوجوان  نسل نے  اسے کشادہ قلبی سے قبول کیا ہوتا اور اس کی رکنیت حاصل  کرکے اسے فروغ دینے کی کوشش کی ہوتی  واقعی یہ ایک  نمائندہ رفاہی و فلاحی تنظیم ہوتی ،  لیکن ہم دوسروں کی رفاہی تنظیموں   کے متعلق  گفتگو کرتے ہیں  اور  پڑھتے ہیں لیکن اپنے اسلاف کی خدمات کو فراموش کیے ہوئے ہیں۔ 

مجاہد ملت اورسیاست:حضرت مجاہد ملت علیہ الرحمہ نے  قوم مسلم  کی ترقی ، فلاح  اور بہبود کے لیے صالح پاکیزہ سیاست بھی کی ہے ،  آپ  دین کا درد اور ملت کی تڑپ رکھنے والے مدبر  ودانا سیاست داں   تھے،آپ نے ہمیشہ حق کی لڑائی لڑی اور پوری زندگی  حق کے لیے آواز بلند کرتے رہے، آپ   ‘‘ افضل الجہاد کلمۃ عدل عند سلطان جائر ’’ کے  سچے علمبردار  تھے ،دینی  معاملات ہو یا  دنیوی  ہر وقت  حق و انصاف  کا شیوہ اپنائے رکھتے تھے،کبھی بھی  ذاتی  منفعت  کا پاس و لحاظ  نہ رکھا نہ کبھی ارباب حکومت سے مرعوب ہوئے ، آپ کانگریس کی گندی  اور جانب دارانہ  سیاست سے اچھی طرح واقف تھے  اور ہر محاذ پر   اس کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرتے رہے،اس کی مثال سماعت فرمائیں جس میں آپ کی  حق گوئی  اور بے باکی کو دیکھا  جاسکتا  ہے۔۱۹۷۷ء  عام چناؤ سے پہلے  آپ نے ایک وفد ( جس میں مولانا ناصر فاخری  الہ آباد ،حاجی  شریف  احمد خاں پیلی بھیت، مشتاق احمد خاکسار  فیض آباد شامل تھے) کے ساتھ  پرائم  منسٹر ہاؤس نئی دہلی  میں آر کے دھون، بنسی لال، عبد الرحمن انتولے وغیرہ سے ملاقات کی اور بلا خوف کہا: ‘‘ تیس سال سے جتنے فسادات ہوئے سب کانگریس نے کرائے ، جتنے بچے  یتیم ہوئے  اور جتنی عورتیں  بیوہ ہوئیں سب تمھاری پارٹی  اور پولس نے کیا، میں تمھاری پارٹی میں شریک ہونے نہیں آیا ہوں صرف ایک دینی ضرورت کے تحت یہاں آیا ہوں۔’’ اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں،ہم غیروں کی سیاسی  تاریخ  اور سیاسی لیڈران  کے متعلق پڑھتے اور بیان کرتے  رہتے ہیں لیکن اپنے اسلاف کی تاریخ  کو بھولا بیٹھے  ہیں، یہ ایک زندہ قوم کی مثال نہیں ، میں بتاتا چلو ں کہ مجاہد  ملت علیہ الرحمہ  ایک مجاہدِ آزادی  بھی تھے  اور تحریک آزادی  میں برابر کے شریک تھے  لیکن جس طرح تحریک آزادی  میں کانگریس کو سربراہی حاصل تھی اسی طرح  آزادی کے بعد بھی  پورے ملک میں کانگریس ہی کی  حکومت بنی ؛ اس لیے کانگریس سے جڑے لیڈران ہی مجاہدین آزادی اور فریڈم  فائٹر کہلائے ،حضور مجاہد ملت علیہ  الرحمہ  نے انگریز حکومت کے ذریعہ  ۱۹۳۰ء میں نافذ کیے گئے   ‘‘ واٹر ٹیکس ’’ کے خلاف احتجاج    کیا   اور ضلع بھدرک میں ان کی قیادت  فرما رئی ، جس  کی وجہ  سے آپ جیل   گئے اور قوم کی خاطر صعوبتیں برداشت کیں اور  مسلسل برطانوی سامراج  کے خلاف آواز بلند کرتے رہے لیکن خود کو کسی سیاسی پارٹی  سے  انتساب نہیں کیا نہ ہی  کسی سیاسی پارٹی کے  آلہ کار بنے ، اگر یہ واقعہ کسی کانگریسی لیڈر کے ساتھ پیش ہوتا تو وہ فریڈم فائٹر ہوتا ، بہر حال  آپ نے قوم کی فلاح بہبود کے لیے سیاست میں حصہ لیا لیکن آپ نے کبھی  بھی قوم کا سواد نہیں کیا ، یقیناً آپ کی ذات آج کے مسلم قائدین کے لیے  نمونہ ہیں  جو  چند ٹکوں میں اپنی  ضمیر کا سودا کر  دیتے ہیں۔

حبیب المطابع اور مکتبۃ الحبیب:حضرت مجاہد ملت علیہ  الرحمہ  ہمہ جہت شخصیت تھے ،آپ دین و سنیت کے فروغ کے لیے  ہر طریقۂ  کار کو بروے کار لانے کی کوشش کرتے تھے ،آپ نشر و اشاعت  اور کتب و رسائل کے تقاضوں سے اچھی  طرح  واقف تھے  جیساکہ آپ نے  تبلیغ سیرت  کے پانچ نکاتی  اغراض و مقاصد میں ملاحظہ   کیا، آپ نے  اس کی اہمیت  پر پوری  توجہ فرمائی کہ نشر و اشاعت کے سلسلے میں ایک پریس بھی نصب کیا جائے  اور شاندار  مکتبہ  بھی قا ئم کیا جائے ۔چنا چہ  آپ نےجامعہ حبیبیہ  کے لیے انگلینڈ سے ایک ‘‘ لیتھو پریس ’’ منگوایا مگر چوں کہ اس وقت جامعہ  میں نصب کر نے کے لیے معقول بندوبست  نہ تھا؛ اس لیے  یہ پریس ایک عرصہ تک ایک مقامی شخص کی تحویل  میں رہا،پھر جب جامعہ  میں مستقل ایک کمرہ تیا ر ہو گیا تو   اسے   جامعہ میں نصب کیا گیا ، حبیب  المطابع کا نام دیا گیا  اور مکتبۃ الحبیب  کے نام سے ایک مکتبہ قائم کیا گیا، درسی و غیر درسی کتابوں کی اشاعت عمل  میں آئی  ، اس نے اپنے معیاری طباعت سے اپنا ایک امتیازی حیثیت حاصل کیا۔ یقیناً اپنے آپ میں یہ ایک شاندار اور منفرد کام تھا۔

عصری اداروں کا قیام:حضور مجاہد ملت علیہ  الرحمہ  علم دوست انسان تھے ،آپ کو  علما ور اہل علم سے گہرا لگاؤ اور بڑی محبت تھی؛اس لیے آپ نے علم خواہ  دینی ہو یا عصری،کی نشر و اشاعت  میں بڑ چڑھ  کرحصہ لیا ،مدارس ،مساجد،اسکول اور کالج کی تعمیر و ترقی میں اپنا مال خرچ کیا،اپنے مریدین و متوسلین کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ، دھام نگر ہائی اسکول ، دھام نگر  کالج ،بھگوان پور  ایم۔ای اسکول،دکھن باڑ اسکول  کے قیام میں آپ نے زمینیں وقف کیں  اور مالی تعاون بھی فرمایا۔شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ  کی درگاہ کو غیر مسلم قابضین سے آزاد کرایا:۱۹۴۷ ء میں تقسیم ہند کا روح فرسا واقعہ پیش آیا ، اس کے بعد بڑی تعداد میں مسلمانوں نے نقل مکانی کی ،اپنے املاک اور اوقاف چھوڑ کر پاکستان ہجرت کر گئے ،باز آباد کاری کے نام پر غیر مسلم مہاجروں کو مسلمانوں کے  املاک مل گئے  اور بعض جگہ انھوں نے خود ہی قبضہ کر لیے، اسی طرح انھوں نے محقق علی الاطلاق شیخ عبد  الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ  کے مزار مقدس کو  بھی اپنے قبضہ میں لے لیا،ادھر مجاہد ملت علیہ الرحمہ کو خبر ہوئی تو آپ بہت پریشا ن ہوئے چوں کہ  اس وقت تقسیم ہند   اور فرقہ ورانہ فساد کی وجہ سے حالات کشیدہ تھے، جوں ہی حالات ساز گار ہوئے تو آپ نے کوششیں تیز کردی کیوں کہ  مسلم اوقاف کی حفاظت و صیانت آپ کی مشن کا حصہ تھا، بالآخر  ایک مشہور سیاسی لیڈر جناب سکندربخت صاحب کی مدد سے درگاہ کو قابضین  سے آزاد کرایا اور خاص اپنی جیب سے خرچ کر کے مزار شریف کی گنبد کو دوبارہ تعمیر کرایا ملخصاً۔(تبلیغ سیرت کا مجاہد ملت نمبر،ص: ۳۶۵، مضمون نوشاد عالم چشتی صاحب)

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ذکی احمد، شخصیت اور شاعری: ایک مطالعہ

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے