عآپ اور ایم۔آئی۔ایم۔ کے اعلان سے بی۔جے۔پی۔ کو بوکھلاہٹ کیوں؟

ظفر احمد خان کبیرنگری
چھبرا، دھرم سنگھوا بازار ،سنت کبیر نگر، یوپی

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے 15 دسمبر 2020 بروز منگل ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اترپردیش میں 2022 کے اسمبلی انتخابات میں پہلی بار قسمت آزمائی کرے گی، انہوں نے کہا کہ عآپ کو دہلی میں گزشتہ  آٹھ سالوں میں تین بار حکومت بنانے کا موقع ملا ہے، پنجاب میں بھی عآپ حزب اختلاف کی مرکزی جماعت بن کر ابھری ہے، کیجریوال نے کہا کہ دہلی میں مقیم یوپی کے بہت سے بھائی اور بہنوں اور تنظیموں کی خواہش ہے کہ پارٹی کو یوپی میں الیکشن لڑنا چاہئے، تا کہ دہلی کی عوام کو دی جانے والی سہولیات یوپی میں رہنے والے خاندانوں کو بھی مل سکیں، کیجریوال نے کہا کہ دہلی میں لوگوں کو جو سہولیات میسر ہیں وہ ابھی تک یوپی میں نہیں مل پائی ہیں، انہوں نے کہا کہ آج یو پی کو ترقی کی راہ پر چلنے سے گندی سیاست اور بدعنوان لیڈران نے  روک رکھا ہے، ورنہ جب دہلی کے عوام کو 24 گھنٹے مفت بجلی مل سکتی ہے، محلہ کلینک کھل سکتا ہے اور سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر ہوسکتی ہے، تو یوپی میں یہ سب کیوں نہیں ہوسکتا؟ وہیں کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے بھی 2022 کے انتخابات میں قسمت آزمائی کا اعلان کیا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اویسی نے چھوٹی پارٹیوں سے اتحاد کے ساتھ الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے جبکہ کیجریوال نے اپنے بل بوتے پر بغیر کسی کے ساتھ اتحاد کیے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا، آئین ہند اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کوئی کہیں سے بھی الیکشن لڑ سکتا ہے اور اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں، اسد الدین اویسی نے کہا کہ اس سے پہلے بھی ہم نے الیکشن میں حصہ لیا تھا لیکن کامیابی نہ مل سکی، اور اس کے بعد پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں بعض مقامات پر کامیابی ملی، اس لئے ہم اپنی پارٹی کو اور مضبوط کرکے پھر حصہ لینے اور قسمت آزمانے آرہے ہیں جو ہمارا جمہوری اور آئینی حق ہے، اسد الدین اویسی کی اوم پرکاش راجبھر سے لکھنؤ میں ملاقات کے بعد اترپردیش میں ناقدین کا ٹولہ سرگرم ہوگیا ہے، اتر پردیش حکومت میں وزیر محسن رضا نے اتر پردیش میں ہورہے نئے سیاسی اتحاد کو  تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملک توڑنے والوں کا اتحاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ ایک پلیٹ فارم پر آرہے ہیں، 
اتر پردیش اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر محمد شوکت نے ریاست میں انتخابات لڑنے کیلئے سماج وادی، بی ایس پی اور رالود(راشٹریہ لوک دل) کے مابین ہونیوالے اتحاد کو مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ 4فیصد جاٹوں کی نمائندگی کرنیوالے راشٹریہ لوک دل کے ساتھ تو گٹھ بندھن کرلیا گیا مگر 22فیصد مسلمانوں کی نمائندگی کرنیوالی پارٹی کو علیحدہ رکھا گیا۔ شوکت نے کہا کہ اگر بی جے پی کو شکست دینا ہے تو مسلمانوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بہرحال ان دونوں پارٹیوں کے اعلان کے بعد مقابلہ سخت ہونے والا ہے، کیونکہ پہلے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کا مقابلہ کانگریس سماجوادی اور بہوجن سماج پارٹی سے تھا، لیکن اب اس میں مزید دو پارٹیوں کا اضافہ ہو گیا جس سے بظاہر بی جے پی بوکھلائی آئی نظر آ رہی ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ یو پی بی جے پی کے مختلف لیڈران الٹے سیدھے بیانات دے رہے ہیں، جیسا کہ کیشو پرساد موریہ اور سدھارتھ ناتھ سنگھ کے بیانات سامنے آ چکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ کیجریوال سے دہلی تو سنبھالی نہیں جا رہی ہے یوپی میں آنے کی کیا ضرورت ہے، یوپی بی جے پی کے رہنما نریندر سنگھ دیوڑی نے کہا کہ دہلی فسادات کے دوران عوام نے اروند کیجریوال کی سیاست کا اصل چہرہ دیکھا ہے، اترپردیش کے عوام بہت سمجھدار ہیں اور ایسی پارٹی کو کوئی موقع نہیں دیں گے جس کے رہنما اس طرح کے تشدد پر یقین رکھتے ہوں،  دیوڑی نے کہا کہ اروند کیجریوال نے یوپی میں اپنی طاقت آزمائی ہے،  ان کے تمام رہنماؤں کی ضمانت ضبط ہوگئی تھی اور اگر وہ اسمبلی انتخابات لڑتے ہیں تو پھر وہی انجام ہو گا، ابھیمنیو تیاگی جو اترپردیش کانگریس کی عوامی تحریک کمیٹی کے انچارج تھے، انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی بی جے پی کی بی ٹیم ہے،  انہوں نے دہلی اور آپ کے سیکولر ووٹروں کو تقسیم کرکے کانگریس کو کمزور کرنے کی سازش کی ہے،  اب وہ اترپردیش میں بھی یہی استعمال کرنا چاہتے ہیں، لیکن اترپردیش کے ووٹر بالکل مختلف ہیں اور آپ کی سیاست یہاں کامیاب نہیں ہوگی، تیاگی نے کہا کہ یہ عام آدمی پارٹی ہے، جس نے کورونا دور میں یوپی کے لوگوں کو آنندویہار بارڈر پر چھوڑ دیا تھا، 
لیکن تیاگی جی یہ نہیں بتایا کہ لاک ڈاؤن نے جب راتوں رات ہزاروں افراد کو پناہ گزین بنا کر رکھ دیا تھا، ان کے کام کی جگہیں بند ہوگئیں اور زیادہ تر ملازمین اورٹھیکیدار جو انھیں ادائیگی کرتے تھے اب وہ خود جا چکے ہیں، تب کہاں تھے یہ لوگ جو دوسروں پر الزام تراشی کرتے ہیں، اس وقت وزیر اعظم نے جو تقریر کی تھی اس میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں تھا کہ جب تعیمراتی کام رک جائیں گے، بازار اور دیگر روز گار بند ہوجائیں گے تو یہ روز کمانے اور روز کھانے والے لوگ کیا کریں گے، لاک ڈاؤن میں مودی کی ناکام منصوبہ بندی نے غریبوں کو دربدر رلنے پر مجبور کر دیا، اس تمام تر صورتحال کے باوجود مودی سرکار غریبوں کی پروا کے بجائے ہندوتوا کے پرچار میں لگی ہوئی ہے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے پردیس میں روزگار چھوٹا تو بے آسرا مزدوروں نے جیسے تیسے آبائی علاقوں کا رخ کیا، گود میں بچے لیے مائیں پیدل سفر کرتی نظر آئیں، کھانا پینا تو کیا ملتا یہ جہاں سے گزرے وہاں انہیں دھتکار دیا گیا، اس سے بھی بدتر یہ ہوا کہ راجستھان میں ایک شخص سڑک پر مردار جانور کا گوشت کھاتا دکھائی دیا، عام آدمی پارٹی کے انتخابات لڑنے کے اعلان کے بعد سے بی جے پی قائدین نے کیجریوال کے خلاف محاذ کھول دیا ہے لیکن ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس خاموش ہیں،  سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ یوپی میں کیجریوال کا آنا سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کے لئے نہیں بلکہ ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس جیسی پارٹیوں کے لئے چیلنج ہو گا، کجریوال نے یوپی کی سیاسی زمین کو ہموار کرنے کے لئے اپنے سب سے قابل اعتماد ساتھی سنجے سنگھ کو اتر پردیش کا انچارج بنا دیا ہے،  ریاست کے سلطان پور ضلع سے تعلق رکھنے والے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ یوپی کا چارج سنبھالنے کے بعد سے ہی سرگرم ہیں اور انہوں نے سی ایم یوگی کے خلاف محاذ کھول دیا ہے،  نہ صرف یہ کہ سنجے سنگھ بھی وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ پر ریاست میں ٹھاکرسٹ اور برہمن مخالف کے خلاف لگاتار الزام لگا رہے ہیں  انہیں ریاست میں بی جے پی کو سڑک سے پارلیمنٹ تک گھیرنے کی کوشش کرتے دیکھا گیا ہے،  سنجے سنگھ کے جارحانہ انداز کی وجہ سے وہ یوپی میں پارٹی کیڈر میں سرگرم ہوگئے ہیں  یہی وجہ ہے کہ کجریوال نے اب دہلی ماڈل اتر پردیش میں اپنانے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے، اس میں انہیں کتنی کامیابی ملتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے