بد عنوان (corrupt) نیتا: جمہوریت کے چیمپیئن، دیکھیں قسمت کا کھیل!

تحریر: حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی
خطیب و امام مسجد ہاجرہ رضویہ، جمشید پور

رب تبارک و تعالیٰ نے انسان کی قسمت میں جو لکھا ہے،اچھا یا بُرا،نیک بختی یا بد بختی ہر وقت اس کے ساتھ رہتی ہے، جیسے گلے کا ہار کہ آدمی جہاں جاتا ہے وہ ساتھ ساتھ رہتا ہے، کبھی جُدا نہیں ہوتا۔ قسمت کے لکھے کو کوئی ٹال نہیں سکتا زندگی میں کئی موڑ آتے جاتے رہتے ہیں۔؎

قسمت کے کھیل نرالے میرے بھیا ٭ قسمت کا لکھا کون ٹالے میرے بھیا
قسمت کے ہاتھ میں دنیا کی ڈور ہے ٭ قسمت کے آگے تیرا نہ کوئی زور ہے

یہ شاعری نہیں حقیقت ہے۔
انسان تمام مخلوق میں اعلیٰ ہونے کے باوجود بہت سی کمزور یوں کا شکار ہے،قر آن مجید میں جابجا اس کا ذکر موجود ہے۔اس کی مادی وجود میں بہت سی کمزوریاں،کوتاہیاں رکھی گئی ہیں ۔ سورہ نساء کے یہ الفاظ اس حقیقت پر شاہد ہیں۔وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفاًَ۔’’ بنیادی طور پر انسان کمزور اور ضعیف پیدا کیا گیا ہے‘‘ انسانی کمزوریوں میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ فطری طور پر عجلت پسند ہے۔ جلد بازی کی فطرت کی وجہ سے انسان سے بہت سی غلطیاں بھی ہوتے رہتی ہیں،جیسے کسی کے پہچاننے میں ،یا اس کے نظریات کو سمجھنے میں بھول ہوجاتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
بد اچھا بد نام بُرا-آؤ مودی مودی-اور اویسی اویسی کھیلیں: بُرا آدمی اگر نظروں میں نہ بھی آئے،لیکن بدنام آدمی سب کی نظروں میں بُرارہتا ہے اور اس کو سبھی بُرا سمجھتے ہیں، چاہے اس سے کوئی گناہ سرزد ہوا ہویا نہ ہوا ہو ،رُسوا ( بے عزت، بدنام، ذلیل وخوار،) ہونا بد کاری سے بھی زیادہ خراب ہے۔
؎ بنائیں کیا سمجھ کر شاخِ گل پر آشیاں اپنا ٭ چمن میں آہ کیا رہناجو ہو بے آبرو رہنا (علامہ اقبال)
دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک،پریشان عوام ہمارا پیا ر املک ہندوستا ن 1947 میں آزاد ہوا تمام مذاہب وتمام ذات ،برادری کے لوگوں نے قربانیاں دیں،اپنا قانون، اپنی جمہوریت کے باوجود آج ملک میں بہت زیادہ بے چینی بدامنی پائی جارہی ہے۔ طرح طرح کے ظالمانہ، قانونوں کو لاکر اپنی من مانی کی جارہی ہے ، اس سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان کالے قانونوں کے خلاف عوام کا جو حق ہے” احتجاج” کا ہے اس کو بھی بزورطاقت دبایا جارہا اور چھینا جا رہاہے۔،caa,nrc,npr, اور جو کسانوں کے لیے نیا بل پاس ہوا ہے ،کسان ورودھی بتایا جارہاہے،اسطرح کے عوام مخالف قانونوں سے عوام کو شکنجوں میں کساجا رہا ہے۔ اسوقت ہمارے پیارے ملک ہندوسان میں آر ایس ایس نواز حکومت بی جے پی اپنا پورا سکہ جمائے ہوئے ہے،اس کے کپتان،captain, مسٹر نر یندر مودی جی ہندوستان کے وزیر اعظم ہیںاور وائس کپتان مسٹر امیت شاہ جی ہندوستان کے دوسرے بڑے عہدہ پر براجمان ہیں، پورے ملک کے ہر شعبے حتیٰ کہ عد لیہ تک میں اپنی بساط بچھائے اپنا کھیل پوری قوت سے کھیل رہے ہیں۔ ہمارے مہاشے بہنوں بھائیوں مودی جی اور نمبر ،2 پر قدم جمائے ہوئے ،امیت شاہ جی ت۔۔۔ڑ۔۔۔پا۔۔۔- کوکون نہیں جانتا گجرات فساد سے لیکر این۔ آر۔سی،این ۔پی۔آر،سی۔ اے۔ اے، کسان کی محنت سے کمائی روٹی کو زبردستی چھین کر کار پوریٹ،corporate, (متحد تجارتی ادارے، پونجی پتیوں) کو دینے کی پوری تیاری کرکے اپنے کھیل میں پہلے چوکا مارتے ہوئے پھرچھکا ماردیا۔بھلے ہی عوم کراہ رہے ہوں،تڑپ رہے ہوں کوئی احساس نہیں،کوئی فکر نہیں اور ہو بھی کیوں؟ گجرات فساد میں ہزاروں ہزار مارے گئے لوگوں پر کوئی افسوس،شر مندگی نہیں بلکہ ان مرے لوگوں کا موازنہ کتے کے پلے سے کردینا کتنی ہی گری بات ہے،”بد اچھا” (بد نام برا) کی جے جے کار ہورہی ہے،ہر ہر مودی،گھر گھر مودی،وغیرہ۔
کتے کی موت سے بھی مجھے تکلیف ہوتی ہے: بھارتی ریاست گجرات میں2002, jul-2013- -12- کے فسادات میں مسلمانوں کی ہلاکت کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے ،برطانیہ کی خبر رسان ایجنسی رائٹر،Reuter, کو دیئے گئے ایک انٹرو یو میں کہا’’ اگر میں کار چلا رہا ہوں اور میری کار کے نیچے ایک کتے کا پلا بھی دب جائے تو مجھے تکلیف ہوتی ہے‘‘- میں وزیر اعلیٰ ہوں- اگر کہیں پر بھی کچھ بُرا ہوتا ہے تو تکلیف ہونا فطری بات ہے۔‘‘ مسلمانوں کو کتے سے موازنہ کرنے پر مودی کے بیان پر ساری دنیا میںتھو،تھوتھو(بہت نفرت کرنا) مذمت ہوئی۔ ہزاروں ہزار بے گناہ انسانوں کی موت کا موازنہ، ( countr balance, ) ایک کتے کے چھوٹے سے بچے سے کر نا انتہائی تکلیف دہ اور شرمناک ہے۔ ان کے کھیل کی کمنٹری و اسٹوری پر سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور آنے والے دنوں میں لکھی جائیں گی،چھوٹے سے مضمون میں سب لکھنا ممکن نہیں۔ہزاروں مسلمانوں کی ہلاکت کا پلان اور درد ناک حالات کے جاننے کے لیے،مشہور صحافی اور مصنفہ محتر مہـ ـ ـ ” رعنا ایوب،Rana Ayyub,”پیدائش1مئی،1984,ممبئی ،کی بہت زیادہ بکنے والی ومشہور اور تحقیقی کتاب،گجرات فائلس،gujarat files, کا مطالعہ بہت ضروری ہے جو سارے کھیل کی ظالمانہ،اسٹوری،بال ، ٹو بال ball to ball” ” بتائے گی۔ مودی جی کے کھیل میں ان کی پوری ٹیم پوری قوت وطاقت سے لگی ہوئے ہے، سب اپنا اپنا کردار ذمہ داری سے نبھا رہے ہیں چاہے وہ بی جے پی کے ورکر ہوں یابی جے پی کی بنائی آئی ٹی سیل ہو اور آر ایس ایس کی پوری جماعت سے لیکر 3, تین سو سے زیادہ جماعتیں، مکتی باہنی،وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل وغیرہ وغیرہ، جن کو زمانے سے پالا پوسہ گیا(آر ایس ایس کی ماں کانگریس نے) اِنہیںاور اپنی سوتیلی بہن "بی جے پی” کو خوب دودھ پلایا تاکہ مسلمانوں کو ان سے ڈرا کر رکھا جائے اور مسلمانوں کو اپنا( رکھیل) ووٹر بناکر اپنا اُلو سیدھا کیا جا ئے۔ سبھی اپنی اپنی ڈیوٹی، اپنے اپنے، کام میں لگے ہیں- مودی مودی- ہر ہر مودی-گھر گھر مودی- مودی ہے تو ممکن ہے-وغیرہ کے جاپ( منتر پڑھنا، بھجن گانا، مالا پھیر نا،) الاپنے ،پڑھنے میں لگے ہیں۔ مودی مودی- کھیل کے حصہPart fo the game, میں ان کے سبھی چاہنے والے ان کے نظریات پر چلنے والے ان کی سجائی فیلڈنگ میں، فیلڈر ،بالر الیکشن کمیشن، حکومت سے لیکر عدلیہ تک سبھی مسٹر مودی جی کے کھیل میں دل وجان سے حصہ لے رہے ہیں اور بہت دلچسپی سے کھیل کا حصہ بنے ہوئے ہیں تبھی تو اُن کا کوئی بال بیکا نہیں کر پارہا ہے۔
تین لاکھ سے زیادہ کسانوں کی خود کشیاں:- حکومت کی ناکامی : کسانوں کی اس ہڑتال کو ملک کی24 مختلف پارٹیوں نے حمایت دی ہے، پورے ملک میں اتنی سخت سردی میں کسان اپنی جان جوکھم میں ڈالکر،اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی مانگیں مانگ رہے ہیں،88, کسان اب تک مر چکے ہیں، لیکن ابھی تک کچھ بھی کامیابی کی روشنی نہیں دکھائی دے رہی ہے، اس سے پہلے پورے ملک میں کسانوں کی پریشانیوں پر، اب تک تین لاکھ سے زیادہ کسان خود کشیاںکر چکے ہیں کوئی اور جگہ یا دوسراملک ہوتا تو پورا ملک ہل جاتا۔ نیتائوں سے لیکر عوام تک اور لکھنے و بولنے والے بھی حکومت سے ڈرے سہمے ہوئے ہیں (دوچار کو چھوڑ کر الاماشاللہ)
؎ اور سب بھول گئے حر فِ صداقت لکھنا ٭ رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا
نہ صلے کی نہ شتائش کی تمنا ہم کو ٭ حق میں لو گوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا
اس سے بڑھ کر مری تحسین کیا ہوگی ٭ پڑھ کے ناخوش ہیں مرا صاحب ثروت لکھنا (حبیب جالب)
ظالم حکمراں طاقت و غرور میں ظلم کابازار گرم کرتا ہے،پر وہ بھول جاتا ہے کہ وہ طاقتور تو ضرور ہے’’خدانہیں؟‘‘ دنیا کانظا چلانے والا خدائے بزرگ و برتر ظالموں کی پکڑ کی قوت رکھتا ہے۔تر جمہ: تم عنقریب جان لوگے کہ آخرت کے گھر کا (اچھا) انجام کس کے لئے ہے؟ بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے۔( القر آن سورہ، انعام:6آیت 135)
؎ عدل و انصاف فقط حشر پہ موقوف نہیں ٭ زندگی خود بھی گناہوں کی سزادیتی ہے (محمد شاہ عالم)
مودی مودی کے کھیل سے اویسی اویسی کا کھیل الگ ہے: انسان کو چا ک وچوبند رہنے کے لیے ’’کھیل ‘‘ ضروری ہے،کھیل بہت طرح کے ہیں،فٹبال،ہاکی،کبڈی جو ہمارا قومی کھیل ہے،کرکٹ وغیرہ وغیرہ کھیل صرف ایک تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ صحت مند رہنے کے لیے بھی ضروری ہے،کھیل سے دما غ بھی ترتازہ رہتا ہے،وغیرہ وغیرہ۔ جیسے کرکٹ،cricket, میں ٹوینٹی-20 ونڈے-ٹسٹ۔سب میں الگ الگ لمیٹیڈ اور کی بولنگ ،بیٹینگ فکس۔fix, ہے۔ پوری ٹیم 12,کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے، کیپٹن،وائس کیپٹن، وکٹ کیپر، بولر،بیٹس مین،امپائر ،تھرڈ امپائر اور سب سے اہم جز کھیل کے دیکھنے والے،تماش بین،بھیڑ،crowd, ہوتا ہے جن کے لیے یہ سب ڈرامہ رچا جاتا ہے۔ کھیل کے مقابلہ،competition, ہونے کے باوجود کھلاڑی اپنے مقابل سے رقابت(حسد،دشمنی) نہیں رکھتے۔ بلکہ سبھی اپنے اپنے مقابل سے خیر سگالی ،بھائی چارہ رکھتے ہیں۔
بد عنوانی کے ملزم جمہوریت کے چمپیئن:بُراہوسیاست کا سیاست کے کھیل میں بدعنوانی ،corruption, سے لیکرہر شعبے میں صرف اپنے فائدے اپنے نظر یئے کے لیے لڑتے ہیں اور اس لڑائی میں وہ کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں، ایک دوسرے کو اور اُس کے مردوں تک کی سات پشتوں کو بھی بُرا کہنے سے نہیں چوکتے،’’ جو بد ہے- بدنام بھی ہے‘‘ اُسے تو اس کے نظر یئے والے سر آنکھوں میں چڑھائے بیٹھائے ہیں۔ خواہ کسی پر49, کیس( مقدمے) چل رہے ہوں،خواہ کسی پر نصف سنچری سے زیادہ مقدمے ہوں، (خواہ کوئی ت۔۔۔- ڑ۔۔۔پا۔۔۔- ہی کیوں نہ رہ چکا ہو) دنیا میں مقبول انٹر نیٹ سرچ انجن گوگل،Google, پر بھارت کے دس بڑے ملزم کے نام#Top 10 crimnals, میں کس کا نام ہے،سرچ کرکے دیکھیں؟ہمارے مہاشے بہنوں بھائیوجی نمبر ون(1)پر براجمان ہیں۔ایسے بد اور بدناموں کو اُن کے نظر یئے والے جیتاکر ملک کی باگ ڈور تھمائے ہوئے ہیں۔
بُرا ہو سیاست کا،افسوس صد افسوس اگر کوئی مسلمان ہے اور الیکشن لڑ رہا ہے تو چاروں طرف سے اس کے درپے ہو جاتے ہیں، خواہ وہ نمازی پرہیز گار ہی کیوں نہ ہو،دوران الیکشن کمپین( مہم) میں اسٹیج پر ہی نماز پابندی سے ادا کر رہا ہواور اپنے جمہوری حق کو استعمال کر کے لڑائی لڑ رہا ہو، بس وہ خراب اور بہت بُرا آدمی ہے۔ مقابل یا اس کے نظریئے کا مخالف اُس کے خلاف بولے تو بات سمجھ میں آتی ہے،لیکن مسلمانوں میں بھی ایسے ناہنجار لوگ ہیں جو اپنے فائدے اور دلالی کے چکر میں رہتے ہیں۔’’ یہ ہے فرق بداچھا -بد نام بُرا‘‘ اپنے ہی اپنوں کا بیڑاغرق کر رہے ہیں۔
؎ خود کو بکھر تے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں ٭ پھر بھی لوگ خدائوں جیسی بات کرتے ہیں (افتخار عارف)
؎ بُرا بُرے کے علاوہ بھلا بھی ہوتا ہے ٭ ٍ ہر آدمی میں کوئی دوسرا بھی ہوتا ہے ( انور شعور)
ٍٍ جب جمہوری ملک بھارت کی پارلیمنٹ میں مسلمانوں کو ذلیل کیا جارہا ہو،طرح طرح کے مذہبی نعروں سے ہال گونج رہا ہو ،اُس وقت اللہ کا ایک بندہ ’’تکبیر-اَللَّہُ اَکْبر- اَللَّہُ اَکْبر‘‘کی آ واز بلند کر رہا ہو، آپ ﷺ کا فر مان ہے: جس نے’’ اَللَّہُ اَکْبر ‘‘کہا تو اُس کے لیے اِ س کے بدلے بیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور اُس کے بیس گناہ مٹا دیئے جائیں گے‘‘۔(،مسند امام احمد حدیث:8099, )جومسلمانوں کی آواز اٹھا رہا ہو،مسلمانوں کو ذلت سے بچا رہا ہو، اُسے برا کہنے میں ذرہ برابر تامل،غورو فکر نہیں کرتے۔ انتہائی افسوس اسوقت ہوتا ہے جب پیسوں کی لالچ میں،یا نجی دشمنی،حسد میں کچھ لوگ ، بیر سٹر اسدالدین اویسی(نقیبِ ملت) صاحب13, مئی، 1969,کو پیدا ہوئے، اُنہوں نے ایل ایل بی کی تعلیم لنکن ان لندن،انگلینڈ سے حاصل کی،15,ویں لوک سبھا میں مجموعی بہترین کار کردگی کرنے پر انہیں پارلیمنٹ رتن ایوارڈ سے نوازا گیا،آپ ہندوستان کی قومی سیا سی جماعت’’کل ہندمجلس اتحاد المسلمین کے قو می صدر ہیں‘‘ کی بُرائی کرنے میں بانس سے بھی اوپر تک لمبائی میںاور چاپا نل جو زمین کے اوپر تو 3 سے4فٹ رہتا ہے لیکن زمین کے اندر،200,سے300,فٹ(اور راجستھان میں تو 600,فٹ) اندر تک رہتا ہے،اتنی لمبائی تک برائی کرنے میں لگے رہتے ہیں۔حد ہو گئی ضمیر فروشی کی،شرم نہیں آتی مگر اُنہیں۔
؎ جو اس ضمیر فروش کے ماہر ین میں ہے ٭ وہ آدمی بھی سنا ہے مورخین میں ہے (اصغر مہدی ہوش)
؎ دیکھئے ضمیر ہم بھی ہیں عجب دیوانے ٭ چھوڑ کر حقیقت کو ہم جواب ڈھونڈ ے ہیں
کانگریس مسلمانوں کی ازلی دشمن رہی ہے آج بھی وہ اس میں پیچھے نہیں ہے،جس پر سینکڑوں کتابیں موجود ہیں ہزاروں ہزار اور بھی لکھی جائیں تو کم ہے۔آزادی کے بعد سے اُس نے مسلمانوں کو بے مول غلامی میں ڈرا کررکھا، جن سنگھ آجائے گی،جن سنگھ آجائے گی یاد رہے پہلے بی جے پی کا نام جن سنگھ تھا جس کے ایک یا دو ایم پی ہوا کرتے تھے۔ کانگریس ہمیشہ مسلمانوں کو بی جے پی کا ڈر دیکھاتی رہی اور مسلم دشمنی میں اپنی پوری طاقت بھی لگائے رہی،مسلمانوں کو ہر شعبے میں حاشیئے پر پر ڈالدی۔23,000, ہزار سے زیادہ بھیانک فسادت کرائے،بابری مسجد میں لگے تالے پوجا کرنے کے لیے کھلوائے،پھر اسے شہید کرواکر چین کی سانس لی اور رہی سہی کسر اُس کی سوتیلی بیٹی ،بی جے پی نے شیلا پوجن کراکر کام شروع کرا دیا،کانگریس کی ماں آر ایس ایس اور اس کی سہیلی،سہیوگی یوں نے بھر پور ساتھ دیا ، کانگریس نے صرف مبارک باد ہی نہیں دی بلکہ دل وجان سے ساتھی بنی ہوئی ہے اور بنی رہے گی۔ کانگریس نے سکھ فساداد کے لیے معافی مانگی،لیکن مسلمانوں کے ہزاروں قتلِ عام اور بابری مسجد گروانے کی معافی آج تک نہیں مانگی، آج بھی اپنا چہرہ مسلم دشمنی پر ہی چمکائے ہوئے ہے،
؎ یہ راکھ مکانوں کی ضائع نہ کرو ساغرؔ ٭ یہ اہل سیا ست کے رُخسار کا غازہ ہے ( ساغرؔ اعظمی)
؎ اندر سے سب قاتل ہیں سب خونی ہیں ٭ چہروں پے اخلاص کا جن کے غازہ ہے ( رہبر جونپوری)
بھارت کا الیکشن دنیا کا سب سے بڑا دنگل: ہندوستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا ملک ہے،بھارت میں 90, کروڑ سے زائد ووٹر ہے جو لوک سبھا کے لیے 543, اراکین کا انتخاب،کرتے ہیں۔
بھارتی الیکشن کمیشن سے منظور شدہ،الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ جماعتوں کی تعداد720,سے زیادہ ہے۔17 ویں لوک سبھا کے الیکشن میں 2,ہزار سے زیادہ سیا سی جماعتوں کے8,ہزار136,ار کان میدان میں اترے۔ بھارت کے انتخاب کو دنیا کا سب سے بڑا انتخابی دنگل بھی مانا جاتا ہے،کیونکہ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں 90,کڑوڑ افراد ،ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ دو ہزار سے زیادہ سیا سی جماعتیں الیکشن لڑیںکوئی بات نہیں،جہاںچاہیںاپناامیدوار کھڑاکریںان کا جمہوری حق ہے، لیکن آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین(AIMIM) اپنا امیدوار کھڑاکرے بس سبھی کے پیٹ میں در دہونے لگتا ہے۔سبھی کو یہ ڈر اور خوف ہوجاتاہے،اب ووٹ بٹ جائے گا کانگریس ہار جائے گی،بی جے پی جیت جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ کانگریس کو جتانا،بی جے پی کوہرانا صرف مسلمانوں کی ذمہ داری کیوں؟۔مودی مودی-اویسی اویسی- کے کھیل میں یہ بے ایمان امپائر،umpire, اپنی بھو میکا نبھانے لگتے ہیں۔ہار کاٹھیکرا اویسی کے سرپھوڑنے لگتے ہیں،ان کانگریسی ایمان رکھنے والے دلالوں سے دلائل کے ساتھ جواب مانگیں؟ کٹ حجتی سے نہیں) تو سمجھ میں آجائے گا۔ کانگریس کو جتانے کا ٹھیکہ مسلمانوں نے لے رکھا ہے کیا؟ جہاں جہاں کانگریس کا متبادل موجود ہے مسلمان خوب سوچ سمجھ کر ووٹ دیں۔2019, جھارکھنڈ میں جمشید پور میں ہم نے کانگریس امید وار شری بنا گپتا کو ہی ووٹ دیاتھا ،یہ ہمارا جمہوری حق ہے جسے چاہیں دیں۔ ہر پارٹی ووٹ کے ٹائم مسلمانوں کے اندر خوف کا ماحول پیدا کرتی ہے اور مسلمانوں کے ووٹ کو لیتی ہے۔مسلمان کب تک دوسروں کے سہارے رہیں گے؟ اویسی کی مخالفت دور اندیشی نہیں- زیادہ سیکولر بننے کے چکر میں اپنے پیروں پر کلہاڑی نہ چلائیں،سیکولرازم کے نام لیوائوں نے دوغلے پن کا ثبوت دیا ہے،جس کی سب سے بڑی چمپیئن کانگریس ہے۔
؎ جلنے والے جلا کریں ٭ قسمت ہمارے ساتھ ہے
؎ اپنے ہاتھ کی لکیریں نہ مٹا رہنے دے ٭ جو لکھا ہے وہی قسمت میں لکھا رہنے دے (مبارک شمیم)
؎ جو دل کا زہر تھا،کاغذپہ سب بکھیر دیا ٭ پھر اپنے آپ طبیعت سنبھلنے لگی
اللہ مودی مودی- اویسی اویسی کھیل میں مسلمانوں کو سمجھ عطا فر مائے آمین ثم آمین:

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے