غزل: حال دل کا سنانا نہ آیا مجھے

خیال آرائی: شمس الحق علیمیؔ، مہراج گنج

حال دل کا سنانا نہ آیا مجھے
تیرے غم کو بھلانا نہ آیا مجھے

زخم تم سے ملا جو مجھےاب تلک
ہاں کبھی بھی دکھانا نہ آیا مجھے

قسم کھا کر جو روٹھا ہمیشہ اسے
آج تک پھر منانا نہ آیا مجھے

یاد ہے مجھکواب بھی وہ ہراِک ستم
بھول کر بھول جانا نہ آیا مجھے

عشق کے راستے میں کسی موڑ پر
جھوٹی باتیں بنانا نہ آیا مجھے

دل کی بستی کو جلتا ہوا دیکھ کر
اشک سے پھر بجھانا نہ آیا مجھے

بولے شمسی سے آ کر یہی راہ میں
تم سے نظریں ملانا نہ آیا مجھے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تبصرہ بر "شعر کیسے بنتا ہے” از شہزاد احمد کھرل شاذ

الحمدللہ آج بتاریخ 17/ اپریل 2021 بروز سنیچر استاد محترم جناب شہزاد احمد کھرل شاذ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے