غزل: میں سستی چیز کے پیچھے کبھی بھاگا نہیں کرتا

نتیجۂ فکر: محمد اظہر شمشاد، برن پور بنگال

کبھی پہلے کسی کو میں کہیں چھیڑا نہیں کرتا
جو مجھ کو چھیڑ دے اس کو کبھی چھوڑا نہیں کرتا

بہت سے لوگ کہتے ہیں بہت ہی خوب رو ہو تم
مگر لوگوں کا کہنا میں کبھی مانا نہیں کرتا

جہاں خاطر نہ ہو دل سے محض یوں ہی دکھاوا ہو
کبھی پھر اس گلی میں میں کبھی جایا نہیں کرتا

تیرے ناز و ادا پہ لوگ مرتے ہیں بہت لیکن
میں سستی چیز کے پیچھے کبھی بھاگا نہیں کرتا

میں صبح وشام تیرا نام لیتا تھا مگر جاناں
کسی محفل میں تیرا اب کبھی چرچا نہیں کرتا

جو کہتا ہوں وہ کرتا ہوں یہی انداز ہے اپنا
اظہر اے دوستوں جھوٹا کبھی دعویٰ نہیں کرتا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بزمِ ایوانِ غزل کا ماہانہ طرحی مشاعرہ کا انعقاد

سعادت گنج/بارہ بنکی:6اپریل، ہماری آواز(پریس ریلیز) بزمِ ایوانِ غزل کا ماہانہ طرحی مشاعرہ آئیڈیل انٹر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے