حضرت علی :شیر خدا بھی،باب علم بھی

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

رات آہستہ آہستہ گہراتی جارہی تھی کہ اچانک بستر پر لیٹے ہوئے جوان کو اس کے کفیل نے بیدار کیا۔کچھ ذمہ داریاں سپرد کیں اور اپنے ہی بستر پر لٹا دیا۔عمر کا 23واں سال تھا۔والد کا سایہ سر پر تھا نہیں۔جس مہربان مربی کی کفالت میں تھے وہ خود شہر چھوڑ کر جارہے تھے۔باہر دشمن ننگی تلواریں لیے اسی "مربی” کے منتظر تھے۔رات کے خوف ناک سناٹے میں موت کی خاموش آہٹ صاف سنائی دے رہی تھی۔کسی بھی وقت بستر پر ننگی تلواریں گر سکتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اس نوجوان نے اپنا بستر چھوڑ کر اپنے "کفیل” کا بستر سنبھالا۔خوف ودہشت کے مہیب سناٹے کے درمیان اس نوجوان نے دشمنوں کی تلواروں کا ذرہ برابر خیال نہیں کیا اور نہایت بے خوفی کے ساتھ بستر پر لیٹ گیا۔

آپ جانتے ہیں دشمنوں کے بیچ بے خوفی سے لیٹنے والا نوجوان کون تھا؟؟

یہ نوجوان شیر خدا، باب مدینۃ العلم سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم تھے اور ان کے کفیل ومربی تاجدار کائنات جناب محمد رسول اللہ تھے !!

اس کارنامے پر فخر کرتے ہوئے آپ کہا کرتے تھے:
وَقَیتُ بِنَفسی خَیر من وطی الثریٰ
وَمَن طاف بِالبَیت العتیق وبِالحجر
"میں نے اپنی جان خطرے میں ڈال اس ذات گرامی کی حفاظت کی جو اہل زمین اور کعبہ وحطیم کا طواف کرنے والوں میں سب سے بہتر بلند رتبہ ہیں۔

آپ کی ولادت عام الفیل کے تقریباً 30 سال بعد 13 رجب المرجب کو ہوئی۔آپ کے والد ابوطالب بن عبدالمطلب اور والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ بنت اسد تھیں۔جناب ابو طالب حضور اقدس ﷺ کے سگے چچا تھے۔اس رشتے سے حضرت علی آپ ﷺ کے چچازاد بھائی بھی ہوتے ہیں۔
جس وقت حضور مادرِ شکم میں تھے تو والد کے سایے سے محروم ہوئے۔چار سال کی عمر میں مشفقہ والدہ اور چھ سال کی عمر میں شفیق دادا بھی رخصت ہوگئے۔امتحان وآزمائش کے زمانے میں جناب ابوطالب نے آگے بڑھ کر یتیم بھتیجے کے سر پر دست شفقت رکھا۔اپنی اولاد سے بڑھ کر پیار دیا۔زندگی کے کسی لمحے مہربان باپ کی کمی کا احساس نہ ہونے دیا۔قدرت کے کھیل بھی عجیب ہوتے ہیں۔وقت نے پلٹا کھایا اور ابو طالب مالی مشکلات کا شکار ہوئے۔مہربان چچا کی مشکلات دیکھ حضور اکرمﷺ نے آگے بڑھ کر حضرت علی کو اپنی کفالت میں مانگ لیا۔اس طرح حضرت علی حضور علیہ السلام کی تربیت میں پروان چڑھے۔جس ذات کی پرورش اور تربیت نور نبوت کے جلووں میں ہوئی ہو اس کی علمی وروحانی رفعتوں کا اندازہ بھلا کون لگا سکتا ہے؟

__جس وقت حضور علیہ السلام نے اعلان نبوت فرمایا تو آپ دس سال کے تھے۔عرب معاشرے میں بت پرستی عام تھی مگر اپنی سلجھی ہوئی طبیعت اور نبی کونین کی تربیت کی بدولت کفر وشرک کی گندگی سے ہمیشہ دور رہے۔معاشرے کی دیگر خرابیاں بھی آپ کے دامن عفت پر کوئی داغ نہ لگا سکیں اور آپ تمام برائیوں سے محفوظ رہے۔زمانہ کفالت میں ایک روز آپ نے حضورﷺ اور سیدہ خدیجہ کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا۔عمر بھلے ہی کم تھی مگر آپ کی فہم وفراست نے سمجھ لیا کہ یہ طریقہ عبادت اہل مکہ سے جدا اور منفرد ہے۔آپ نے حضور سے سوال کیا۔عموماً اس عمر کے بچوں کو جواب کی بجائے ٹال دیا جاتا ہے۔کیوں کہ بچوں کا ذہن گہری اور بڑی بات کا متحمل نہیں ہوتا۔مگر حضور جانتے تھے کہ علی کم عمر ضرور ہیں مگر اعلی درجے کے فہیم وذکی ہیں۔اس لیے حضور علیہ السلام نے آپ پر دعوت اسلام پیش کی۔پیغام اسلام سن کر آپ نے غور کرنے کے لیے کچھ وقت مانگا۔غور وفکر کے بعد اسلام کی حقانیت نے آپ کے دل کے دروازے کھول دئے اور آپ کلمہ پڑھ کر دامن رسالت سے وابستہ ہوگئے۔حضرت زید ابن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اَوّل من اَسلَم مَعَ رَسُول اللّه ﷺ عَلِیّ۔(مصنف ابن ابی شیبہ۔263/7)
"رسول اللہ ﷺ پر سب سے پہلے ایمان لانے والے حضرت علی ہیں۔”

حضرت عبداللّه بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
وَکان اَوّلُ من اَسلم مِن النّاس بَعْد خَدِیجة۔(مسند احمد 331/1)
"حضرت علی نے سیدہ خدیجہ کے بعد سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔”

ان روایتوں کے مطابق حضرت علی نے سب سے پہلے یا حضرت خدیجہ کے بعد اسلام قبول کیا۔بعض روایتوں کے مطابق سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق نے اسلام قبول کیا، امام ترمذی لکھتے ہیں:
وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الرِّجَالِ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَسْلَمَ عَلِيٌّ وَهُوَ غُلَامٌ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النِّسَاءِ خَدِيجَةُ۔
(سنن ترمذی:رقم الحدیث 3734)
"سب سے پہلے ایمان لانے کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے، بعض راویوں نے کہا ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق نے اسلام قبول کیا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ سب سے پہلے حضرت علی اسلام لائے ہیں اور بعض اہل علم نے کہا ہے: بڑے مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر نے اسلام لائے اور علی جب اسلام لائے تو وہ آٹھ سال کی عمر کے لڑکے تھے، اور عورتوں میں سب سے پہلے سیدہ خدیجہ نے اسلام قبول کیا۔”

ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آئے کہ آخر ان روایتوں میں اتنا فرق کیوں ہے؟
جواب بڑا سادہ سا ہے حضرت خدیجہ آپ کی شریک حیات تھیں اور حضور ﷺ کی بدلتی ہوئی کیفیت کی عینی شاہد بھی!
آپ نے ہی سب سے پہلے حضور کی رسالت کا اقرار کیا۔لیکن یہ گھر کا معاملہ تھا۔گھر کے باہر سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق ہی وہ شخص تھے جو معاشرے میں ایک پہچان رکھتے تھے۔اس لیے جب آپ نے قبول اسلام کیا تو پورے مکے میں اس بات کا چرچا ہوا۔حضرت علی اس وقت نوعمر تھے اس لیے ان کے ایمان کی شہادت گھر کے قریبی افراد نے ہی دی جبکہ حضرت ابوبکر کے قبول اسلام کا سارے مکے کو پتا تھا۔بس ہر ایک نے اپنی معلومات کے حساب سے روایت بیان کی۔اور بہترین بات وہی ہے جسے امام ترمذی نے بیان کیا ہے۔

_جنگ خیبر کا معرکہ گرم تھا۔کئی حملوں کے بعد اخیر میں اسلامی لشکر کا عَلَم سیدنا علی المرتضی کے حصے میں آیا۔آپ فوج لیکر قلعہ قموص پہنچے اور یہودیوں کو اسلام کی دعوت پیش کی۔مسلمانوں کی پر امن دعوت کا جواب اینٹ پتھروں سے دیا گیا۔اس سے بھی جی نہیں بھرا تو قلعہ کا سردار مُرحّب پورے دَل بَل کے ساتھ مقابلے پر اترا۔چہرے پر زرد رنگ کا نقاب اور سر پر پتھر کا خَود پہن کر اتراتے ہوئے کہا:
قَد عَلِمت خَیبَرُ اَنّی مُرَحّب
شَاکیَ السّلاح بَطَل مُجرّب

"خیبر اچھی طرح جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں۔اسلحہ پوش اور اعلی درجے کا تجربہ کار بہادر ہوں۔”

عقل مند کہتے ہیں کہ اصل جنگ ہتھیار سے نہیں دماغ سے لڑی جاتی ہے۔ایک بار فریق مخالف کے دماغ میں مد مقابل کا خوف بیٹھ جائے تو معمولی وار سے بھی طاقت ور دشمن کو زیر کیا جاسکتا ہے۔مرحب ایک تجربہ کار فوجی تھا۔اس نے مولی علی پر اسی نفسیاتی وار کا حملہ کیا تاکہ آپ مرعوب ہوجائیں۔مگر آج مرحب کا برا دن تھا۔اس کا مقابلہ اس جوان سے تھا، جو بہادری کے ساتھ نفسیات جیسے کتنے ہی علوم کا ماہر بھی تھا۔مرحب کے نفسیاتی وار کو کاٹتے ہوئے آپ نے بڑی جواں مردی اور شان بے نیازی سے جواب دیا:
اَنا الّذی سَمّتنِی اُمّی حَیدرہ
کَلَیثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ المَنظَره

"میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر(شیر) رکھا ہے۔میں کچھار کے شیر کی طرح ہیبت ناک ہوں۔”

نفسیاتی وار خالی جاتے دیکھ مرحب نے تلوار نکالی اور آپ پر زبردست حملہ کیا۔آپ نے نہایت پھرتی سے خود کو بچایا۔اب باری آپ کی تھی، ذوالفقار حیدری بجلی کی طرح چمکی ابھی نگاہ ڈھنگ سے ٹھہر بھی نہ پائی تھی کہ تلوار مرحب کے سر پر قہر خداوندی بن کر ٹوٹ چکی تھی۔وار کی شدت کا عالم یہ تھا کہ تلوار نے پہلے خَود کو کاٹا، پھر مغفر اور سر کو کاٹتی ہوئی مُرحب کے دانتوں تک اتر آئی۔ایک ہی وار میں مرحب لاش میں بدل چکا تھا۔

شاہ مرداں ، شیر یزداں ،قوت پروردگار
لا فتی الا علی ، لا سیف الا ذوالفقار

_سیدنا علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ کے ان اہم افراد میں شامل تھے جو تعلیم کا ماحول نہ ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے کا اعلی ذوق رکھتے تھے۔صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمانوں اور کافروں کے مابین جو صلح نامہ لکھا گیا وہ آپ نے ہی لکھا تھا۔اسی موقع پر نبی اکرم ﷺ کی ذات سے آپ کی بے لوث محبت کا ایک عدیم المثال منظر بھی سامنے آیا۔معاہدہ لکھتے ہوئے آپ نے تحریر فرمایا:
هَذَا مَا كَاتَبَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّهِ۔
"یہ معاہدہ ہے جس پر محمد رسول اللّه نے تحریری صلح فرمائی۔”

کفار مکہ کے سفیر سہیل بن عمرو نے "رسول اللہ” کے لفظ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے اور ہمارے درمیان اسی بات کا تو جھگڑا ہے۔اگر ہم آپ کو رسول مانتے تو اس صلح کی ضرورت ہی کیا تھی؟
فَلَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللّهِ لَمْ نُقَاتِلْكَ۔
"اگر ہم جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ سے ہرگز نہ لڑتے۔”
حضور نے یہ سن کر حضرت علی کو لفظ "رسول اللہ” مٹانے کا حکم دیا۔اب حضرت علی کے لیے آزمائش کا مرحلہ تھا۔عقل کا اصرار تھا کہ وہ لفظ مٹا دیا جائے مگر عشق کہتا تھا جس ذات کو "رسول اللّه” کو مان کر ابدی عزت ملی ہے، اس لفظ کو کس طرح مٹاؤں؟
عقل و عشق کے مابین جنگ چھڑ گئی آخر عشق بازی لے گیا اور آپ نے بہ بکمال ادب عرض کیا:
مَا أَنَا بِالَّذِي أَمْحَاهُ۔
"سرکار! میں اس لفظ کو نہیں مٹا سکتا۔”
حضرت علی عشق کے ہاتھوں مجبور تھے۔دلوں کے حال جاننے والے مصطفیٰ جان رحمت سے علی کی کیفیت پوشیدہ نہ تھی اس لیے آپ نے حضرت علی کے عشق کو عزت بخشتے ہوئے خود ہی اس لفظ کو مٹا دیا:
فَمَحَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ۔
"آخر رسول اللہﷺ نے اس لفظ کو اپنے ہاتھ سے مٹا دیا۔”
(صحیح مسلم،رقم الحدیث: 4629)

__نبی رحمت کی بارگاہ سے ہر صحابی کو ایک منفرد مقام ومرتبہ حاصل ہوا۔سیدنا علی اس لحاظ سے بڑے خوش نصیب ثابت ہوئے کہ آپ کو "أنا مدينة العلم، وعلي بابها۔” کا مقام رفیع عطا ہوا۔یمن کی قضا سونپتے وقت آپ نے حضرت علی کے سینے پر ہاتھ رکھ یہ دعا فرمائی:
"الّلهم اهدِ قَلبَه، وَثَبّت لِسانَه، فَوالّذِي فلق الحَبّة مَا شَككت فِي القَضَاء بَينَ اثنَين۔”(ایضاً ص137:)
"اے اللّه! اس کے دل کو روشن فرما دے۔اور زبان کو تاثیر عطا فرما۔حضرت علی فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے حکم سے بیجوں سے درخت پیدا ہوتے ہیں، اس دعا کے بعد مجھے کسی فیصلے میں کوئی شک یا تردد نہیں ہوا۔بغیر کسی شک و شبہ کے میں نے ہر مقدمے میں درست فیصلہ دیا۔”

اِجابت کا سہرا عنایت کا جوڑا
دُلہن بن کے نِکلی دُعائے مُحَمَّد

دعائے محمدی کا اثر ہی تھا کہ اصحاب رسول میں حضرت علی کی علمی رفعتوں کے چرچے ہوتے تھے۔حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
کُنّا نَتحدث أن أقضى أهل المدينة عَلِي۔
(تاریخ الخلفا للسيوطي 137)
"ہم لوگ آپس میں چرچا کرتے تھے کہ سارے مدینے میں حضرت علی سب سے زیادہ علم والے ہیں۔”

مراد رسول سیدنا عمر فاروق اعظم فرماتے تھے:
عَلِي أَقضَانَا۔
"حضرت علی ہم سب میں سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں۔”

صحابی رسول حضرت سعید ابن مسیب فرماتے تھے:
لَم يَكُن أَحَد مِّنَ الصّحَابَة يَقول: سَلُونِي إلّا عَلِي۔(ایضاً،ص:137)
"حضور سید عالم ﷺ کے صحابہ میں سوائے حضرت علی کے کوئی نہیں تھا جو یہ کہہ سکتا ہو کہ جو چاہو مجھ سے پوچھ لو۔”

سیدنا ابوطفیل کی روایت ہے،سیدنا علی المرتضٰی فرماتے ہیں:
سَلُونِي عَن كِتَابِ اللّه ، فَواللّه مَا مِنْ آيَةٍ إِلاّ وَأنَا أعْلَمُ أبِلَيل نُزلَت أَم بِنَهَارٍ، أَم فِي سَهلٍ أم فِي جَبَلٍ۔(تاریخ دمشق 398/42)
"مجھ سے قرآن کے بارے میں جو چاہو پوچھ لو ، میں تمام قرآنی آیات کے بارے میں جانتا ہوں کہ کون سی آیت دن میں نازل ہوئی اور کون سی آیت رات میں۔کون سی آیت عام جگہ نازل ہوئی اور کون سی آیت پہاڑ میں نازل ہوئی۔”

_سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کے بعد آپ کو خلیفہ منتخب کیا گیا۔حالانکہ آپ انکاری تھے مگر اہل مدینہ کے مسلسل اصرار پر آپ کو منصب خلافت سنبھالنا پڑا۔حضرت علی کی شجاعت وبہادری، زہدو تقوی، صبرو قناعت اور علم وفضل سے امید تھی کہ مسلمان عروج وارتقا کی ایک نئی داستان لکھیں گے۔جس طرح آپ کے پیش رو خلفاے ثلاثہ کو پر سکون اور سازگار حالات ملے تو انہیں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں سے اسلامی مملکت کو خوب وسیع کیا مگر اب حالات بالکل بدل چکے تھے۔مسلمانوں میں خانہ جنگی کا ماحول بنا ہوا تھا۔خاندانی رقابت سر اٹھا رہی تھی۔ایسے ماحول میں منصب خلافت کانٹوں بھرا تاج تھا۔ملت اسلامیہ ایک خطرناک موڑ پر کھڑی تھی۔حضرت علی کے کاندھوں پر بڑی ذمہ داری آن پڑی تھی۔کاش حضرت علی کو سکون کے چند لمحات ملے ہوتے تو تاریخ کچھ اور ہی ہوتی!
مگر مرضی مولیٰ از ہمہ اولیٰ

ذوالحج 35ھ میں آپ خلیفہ مقرر ہوئے۔منصب خلافت سنبھالتے ہی آزمائشوں کا دور شروع ہوگیا۔پہلے جنگ جمل (36ھ) اس کے بعد جنگ صفین (37ھ) اور پھر جنگ نہروان (38ھ) نے آپ کو کسی طور چین سے بیٹھنے نہیں دیا۔جنگ جمل اور جنگ صفین تو نہایت تکلیف دہ جنگیں تھیں جن میں دونوں طرف اجلہ صحابہ کرام موجود تھے۔جو تلواریں کبھی کفر وشرک کے خلاف چمکتی تھیں آج وہی تلواریں ایک دوسرے کے خون میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ایک دوسرے کے سگے ماں جائے رشتے دار ایک دوسرے کے خلاف شمشیر بکف تھے۔ان جنگوں نے مسلمانوں کی عسکری طاقت کو ہی کمزور نہیں کیا بلکہ اس رشتہ اخوت پر بھی ضرب لگائی جو رسول ہاشمیﷺ نے باندھا تھا۔ان جنگوں کے زخم سوکھنے نہ پائے تھے کہ مقام نہروان پر خوارج سے جنگ لڑنا پڑی۔بڑے سے بڑا بہادر سپہ سالار بھی ان اعصاب شکن جنگوں سے ٹوٹ گیا ہوتا مگر قدرت نے شاید مولیٰ علی کو اسی موقع کے لیے ہی چُنا تھا۔آپ نے نہایت صبر وتحمل کے ساتھ ناموافق حالات کا مقابلہ کیا۔اپنے پیارے ساتھیوں کی تلواروں کا سامنا بھی کیا۔مگر کمال ضبط کے ساتھ حالات کو سازگار بنانے میں جٹے رہے۔اس زمانہ آزمائش میں وہ لمحہ انتہائی تکلیف دہ تھا جب حالات کی سختیوں سے تنگ آکر آپ کو مدینہ چھوڑنے کا ارادہ کرنا پڑا۔اس وقت سیدنا علی المرتضٰی ٰکے دل پر کیا گزری ہوگی، وہی جانتے ہیں۔
جس ذات نے غزوہ تبوک کے سوا کبھی حضورﷺ سے جدائی اختیار نہ فرمائی۔آج اسے مدینے سے جانے پر مجبور ہونا پڑا۔غم واندوہ اور آزمائشوں کا یہ دور تقریباً چار سال نو ماہ چلا یہاں تک کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔
17 رمضان المبارک 40ھ کو اپنے شہزادے امام حسن سے فرمایا:
رأيت اليلة رسول اللّهﷺ فقلت: يا رسول الله، ما لقيت من أمتك من الأود واللدد ،فقال لي: ادع الله عليهم، فقلت: اللهم أبدلني بهم خيرا لي منهم وأبدلهم شرا لهم مني۔
(تاریخ الخلفا للسيوطي ص:140/141)
"رات میں نے خواب میں رسول پاک ﷺ کی زیارت اور آپ سے امت کی شکایت کی کہ آپ کی امت نے میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔سخت جھگڑا برپا کردیا ہے۔حضور نے جواب دیا کہ تم ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔لہٰذا میں نے دعا کی: اے اللہ! تو مجھے ان لوگوں سے بہتر لوگوں میں پہنچا دے اور ان لوگوں پر مجھ سے بدتر حاکم مسلط فرما دے۔”

ابھی آپ خواب بیان فرما ہی رہے تھے کہ اذان کی آواز آئی۔آپ نماز پڑھانے کے لیے گھر سے مسجد کی جانب نکلے۔مسجد میں چھپے ہوئے ابن ملجم خارجی نے زہر بجھی تلوار سے آپ پر ایک کاری وار کیا۔دنیا کے بہادروں کو دھول چٹانے والے شیر خدا زخمی ہوکر زمین پر گرے۔اسی زخم سے لڑتے ہوئے 21 رمضان المبارک کو اہل دنیا کی بے وفائی سے تنگ آکر اپنے پیارے آقا اور اپنے عزیز دوستوں کے ساتھ جا ملے۔

شیرِ شمشیر زَن شاہِ خَیبر شِکَن
پَرتَوِ دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام

4 جمادی الاول 1442ھ
20 دسمبر 2020 بروز اتوار

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں محمد شعیب رضا

محمد شعیب رضا نظامی فیضی ہماری آواز اردو،ہندی ویب پورٹل و میگزین کے بانی و چیف ایڈیٹر ہیں۔ رابطہ نمبر: 09792125987 (ادارہ)

یہ بھی پڑھیں

ضلع مئو کے پانچ باحیات مصنفین کتب کثیره

: محمد سلیم انصاری ادروی ضلع مئو ویسے تو رقبے کے حساب سے کافی چھوٹا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے