افسانہ: دو دوست

کالم نگار: محمد اظہر شمشاد مصباحی
حمید نگر برن پور بنگالرابطہ نمبر 8436658850

مونو شرما جی کا بیٹا اعلی دماغ کا حامل تو تھا ہی ساتھ ہی بہت سمجھ دار بھی تھا روز کرکٹ کھیلنے دوستوں کے ہمراہ میدان جایا کرتا اور ذہن و دماغ کو تازگی بخشتا اس کا ایک عزیز دوست حامد جو اس کا ہم رفیق ہونے کے ساتھ ساتھ ہم درس بھی تھا دونوں طبیعت کے اعتبار سے کافی سلجھے ہوئے تھے کوئی اچھا کام ہو یا برا دونوں برابر کے شریک رہتے دیوالی میں مونو کے گھر حامد کی دعوت ہوتی اور عید میں حامد کے مونو کی دعوت ہوتی زندگی میں کوئی بھی پریشانی آتی دونوں ایک دوسرے کا ساتھ دے کر اسے پار کر لیتے یوں ہی وقت گزرتا گیا اور الیکشن کا زمانہ آ گیا مونو کے والد شرما جی سیاسی پارٹی کے کارکن بھی تھے اس لیے الیکشن کے زمانے میں اور بھی متحرک وفعال ہو جاتےاور اس بار کا الیکشن بھی کافی دلچسپ ہونے والا تھا کیوں کہ سرخیوں میں روز یہ خبر گردش کرتی کہ کیا اس بار ایک چائے والا بھارت کا پردھان منتری بنے گا کیا الیکشن جیت جانے کے بعد ایک چائے والا سوا ارب ہندوستانیوں صحیح و غلط طے کرے گا جب حامد کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو وہ اپنے خیالوں میں غوطہ زن ہو گیا اور سوچنے لگا کہ جب ایک چائے والا اتنا بڑا ہندوستان چلا سکتا ہے تو پھر ہمیں تعلیم حاصل کرنے کی کیا ضرورت کیوں کہ دیش چلانا کوئی چھوٹی بات نہیں اور میرے نزدیک تو سب سے بڑا کام یہی ہے وہ اپنے خیالوں میں زن تھا کہ باہر سے آواز آئی حامد! یہ آواز مونو کی تھی حامد فوراً باہر نکلا مونو چلو حامد کھیلنے چلتے ہیں حامد ہاں ہاں چلو کچھ دور چلنے کے بعد حامد نے اپنا خیال اپنے دوست کے سامنے پیش کیا اور کہنے لگا کہ ہم ایسے شخص کو ووٹ کیوں دیں اس سے بہتر ہے کہ ہم کسی پڑھے لکھے شخص کو ووٹ دیں کیوں کہ ایک عالم اور جاہل میں بہت فرق ہوتا ہے اور دونوں کبھی برابر نہیں ہو سکتے اور یہ ہمارے مقدس کتاب قرآن مجید میں بھی ہے کہ ایک جاہل اور عالم برابر نہیں ہو سکتے یہ بات مونو کے مزاج کے بر خلاف تھی اسے یہ بات پسند نہ آئی شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مونو کے پاپا اسی پارٹی کے کارکن تھے جس کے خلاف حامد بول رہا تھا مونو نے بات بدلتے ہوئے کہا چھوڑو یہ سب بات ابھی تو ہماری عمر بھی نہیں ہوئی ہے ووٹ دینے کی حامد ہاں بات تو صحیح ہے دونوں ہنستے ہوئے میدان کی طرف بڑھنے لگتے ہیں کچھ ہی دنوں بعد الیکشن کا رزلٹ بھی آگیا اور یہ تاریخی فیصلہ آیا کہ پہلی بار کسی ملک کا پردھان منتری ایک چائے والا بنا ہے ہندوستانی لوگوں نے ایک چائے والا کو پردھان منتری شاید یہ سوچ کر منتخب کیا ہوگا کہ ایک چائے بیچنے والے سے بہتر غریبی کون سمجھ سکتا ہے؟ اس نے غریبی کا دن دیکھا ہے اور غریب ہندوستانی لوگوں کے دکھ درد کو سمجھے گا کیوں کہ ایک غریب ہی غریب کا درد بہتر سمجھ سکتا ہے نہ کہ مالدار ادھر مونو بھی بہت خوش تھا اس کے پاپا شرما جی الیکشن جیت کر ودھایک بن چکے تھے اور خوب ڈو بانٹ رہے تھے مونو لڈو لے کر اپنے دوست حامد کے گھر آیا حامد نے بھی اس کے پاپا کے ودھایک بننے پر اسے مبارکباد دی پھر حسب معمول دونوں زندگی بسر کرنے لگیں تھے کہ ایک خبر نیشنل نیوز بن گئی کہ کچھ شرپسندوں نے ایک مسلمان شخص کو محض اس  مار ڈالا کہ انہیں یہ شک تھا کہ اس کے گھر میں گاۓ کا گوشت تھا اس خبر نے حامد کی طبیعت مضمحل کر دی چنانچہ اس موضوع پر حامد نے مونو سے گفتگو کی اور اس نے ان لوگوں کو برا بھلا کہا اس پر مونو برہم ہو گیا اور دونوں میں ہلکی نونک جھونک ہو گئی لیکن معاملہ زیادہ نہیں بگڑا پھر کچھ دنوں بعد لو جہاد کا شوشہ چھڑ گیا اس پر بھی دونوں میں نوک جھونک ہو گئی اب معاملہ یہ ہو گیا کہ روز کسی نہ کسی سیاسی موضوع پر دونوں میں بحث ہو جاتی ایک دن حامد کچھ زیادہ سخت ہو گیا اور اس نے موجودہ حکومت کی برائیوں کا انبار لگا دیا جس پر مونو کافی بھڑک گیا اور بات مار پیٹ تک پہنچ گئی آس پاس کے لوگوں نے دونوں کو الگ کرایا اور دونوں اپنے اپنے گھر چلے گئے اب دونوں کی محبت نفرت میں تبدیل ہو گئی کل تک جو ایک دوسرے کے بغیر رہ نہیں سکتے تھے اب ایک دوسرے کی شکل تک دیکھنا گوارہ نہ کرتے اب دونوں نے کھیلنا بھی چھوڑ دیا تھا اور دن بھر گھر ہی پر محفل جماۓ رکھتے پر حامد کے والد طبیعت شناس تھے انہوں نے حامد کی تکلیف پہچان لی اور وجہ دریافت کی پہلے تو حامد نے آنا کانی کی لیکن پھر ساری بات کہہ ڈالی جب یہ ساری باتیں حامد کے والد نے سنی تو ان کی طبیعت مچل گئی اور پہلے تو انہوں نے حامد کو ڈانٹ پلائی اس کے بعد سمجھاتے ہوئے کہنے لگیں ساری غلطی تمہاری ہے ہے حامد جھنجھلاتے ہوئے وہ کیسے؟ تب اس کے والد نے کہا بیٹا یہ بتاؤ یہ باتیں شروع کس نے کی تھی حامد نے فوراً کہا میں نے کیا وہ اس موضوع پر تم سے گفتگو کرنا چاہتا تھا حامد نے سر ہلاتے ہوئے کہا نہیں اس کے والد نے کہا اب غلطی کس کی ہوئی حامد ڈبڈباتی ہوئی آنکھوں کو بند کر کے میری پھر اس کے والد ناصحانہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ تمام چیزیں جو تم نے مونو سے کہی یہ ضرور نیوز سے سنی ہوگی حامد سر ہلاتے ہوئے ہاں حامد کے والد تبھی تو سب سے پہلی بات تو یہ کہ کوئی بھی مذہب ہمیں آپس میں لڑنا نہیں سکھاتا بلکہ سب امن و صلح کا درس دیتے ہیں لیکن سیاسی پارٹی کے لیڈران یہی چاہتے ہیں کہ ہم آپس میں لڑیں اور متحد نہ رہیں تاکہ یہ ہمیں لڑاکر بلا تکلف آسانی سے اپنی حکومت کو باقی رکھ سکیں اگر ہم آپس میں نہ لڑیں اور متحد ہو کر رہیں تو پھر ان کے پاس کوئی سیاسی موضوع نہیں رہ جاۓگا اور تب یہ ہندو مسلمان نہیں کر پائیں گے اور سب کا دھیان بے روزگاری اور سرکار کی نا کامیوں کی طرف ہو جائے گا اور لوگ سرکار سے سوال کرنے لگیں گے جس کا جواب سرکار کے پاس ہے ہی نہیں اور اس طرح ان کی سرکار گر جائے گی۔ سمجھ آئی بات حامد جی ابو حامد کے والد کیا سمجھ آیا حامد سب سے پہلی بات تو یہ کہ ہمیں نیوز چینل دیکھنا ہی نہیں چاہیے کیوں کہ ساری گندگی ہماری دماغ میں یہی ڈالتے ہیں اور دوسری بات تو یہ کہ ہمیں اس بے کار سی موضوع پر گفتگو کرکے آپس میں کبھی لڑنا نہیں چاہیے بلکہ ہمیں مل جل کر ایک ساتھ زندگی بسر کرنی چاہیے یہ کہتے ہوئے حامد دروازے کی طرف دوڑتا ہے حامد کے والد حامد! کہاں چلے حامد اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے ادھر مونو کی امی بھی کچھ اس طرح کی بات مونو کو سمجھاتی ہے اور کچھ نمکین دیتے ہوئے کہتی ہے اسے پاپا کے جو مہمان آۓ ہیں انہیں پیش کردو جیسے ہی وہ کمرے کے اندر داخل ہوتا ہےاور اس کی نظر اپنے پاپا کے مہمانوں پر پڑتی ہے وہ حواس باختہ ہو جاتا ہے اور سوچنے لگتا ہے کہ کیا واقعی یہ وہی الگ الگ پارٹی کے سیاسی لیڈران ہیں جو نیوز چینلوں میں ایک دوسرے پر طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں اور آپس میں دست و گریباں ہو جاتے ہیں اور یہاں انتہائی خلوص و محبت کے چاۓ کی سسکیاں لے رہے ہیں وہ اسی خیال میں گم تھا کہ دروازے کی گھنی بجتی ہے مونو وہ نمکین رکھ کر دروازے کی طرف جاتا ہے جیسے ہی دروازہ کھولتا ہے اسے سامنے حامد دکھائی دیتا ہے فوراً دونوں ایک دوسرے کو گلے لگا زاروقطار رونے لگتے ہیں اور دوبارہ کبھی نہ لڑنے اور ہمیشہ آپس میں مل جل کر رہنے کا عہد وپیمان کرتے ہیںیہ ملک ہندو مسلماں سبھی کا ہے اظہرامن سے رہنا سکھاتا ہے پیارا ہندوستاں 

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

لاک ڈاون اور سسکتی انسانیت

ازقلم: آصف جمیل امجدی (انٹیاتھوک،گونڈہ)9161943293 کل رات میرے پیٹ میں درد اٹھا، میں درد سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے