سید افضل میاں کی شخصیت ہر طبقۂ انسان میں مقبول تھی: ڈاکٹر محمد احسان الحق جامعیؔ

ایم۔ایس۔او۔ کی جانب سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے آفتاب ہال میں ایصال ثواب و تعزیتی محفل کا انعقاد

علی گڑھ؍ ۱۸ دسمبر/ ہماری آواز(نامہ نگار) گزشتہ دو روز قبل ۱۶ دسمبر کی رات ہندوستان کی ایک مانی جانی شخصیت حضرت سید افضل میاں برکاتی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ہوا۔ ملک و بیرون کے عقیدت مند بے حد رنج و ملال میںمبتلا ہیں۔ دل کو یقین نہیں ہو رہا ہے کہ وہ ہمارے بیچ سے چلے گئے ہیں۔ ملک کے مختلف گوشوں میں ان کے لئے ایصال ثواب اور تعزیتی محافل کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ان کی ناقابل فراموش خدمات ہیں۔ اس یونیورسٹی کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں ان کی بھی قربانیاں ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ کی فعال، دینی و ثقافتی تنظیم’ مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن‘ (ایم۔ایس۔او) کی جانب سے گذشتہ روز بعد نماز جمعہ آفتاب ہال میں ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ پہلے قرآن خوانی کی گئی اور پھر حضرت علامہ ڈاکٹر سلمان رضا علیمیؔ صاحب کی تلاوت قرآن سے محفل کا آغاز ہوا۔ڈاکٹر محمد احسان الحق نے نعتیہ اشعار پیش کئے، وہیںمولانا ڈاکٹر عقیل صاحب نے منقبت کے اشعار پیش کئے۔ اس موقعے پر حضرت علامہ و مولانا ڈاکٹر محمد احسان الحق جامعیؔ نے ایک پرمغز خطاب فرمایا، جس میں سید افضل میاں کی شخصیت اور علمی لیاقت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اپنی گفتکو کے دوران انہوں نے کہا کہ سید افضل میاں رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت عوام و خواص بلکہ ہر طبقہ ٔ انسان میں مقبول تھی۔ مزید انہوں نے کہا کہ سید افضل میاں نے اپنی پوری زندگی علمی حلقے میں گزاری۔ انہوں نے اپنی قلیل عمر میں بے حد خدمات انجام دیں۔ غریبوں کی امداد کرنا، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ان کا طرۂ امتیاز تھا ۔ وہ دوران طالب علمی میں اے ایم یو میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ کئی خطابات دوران طالب علمی میں اپنے نام کئے اور جب آئی پی ایس افسر بنے تو بہت سے اوارڈ حکومت ہند کی جانب سے انہوں نے اپنی ایمان داری اور خلوص کی بنیاد پر اپنے نام کیے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سید افضل میاں علماء کرام کے نزدیک بھی بے حد معزز تھے جس طرح مفکرین کے نزدیک معزز تھے، یہ مقام آپ کو اس لئے ملا کیوں کہ آپ اخلاق کے دھنی انسان تھے، گفتار میں نرمی ہوتی تھی۔ وہ نیو جنریشن کے طلبہ کے لئے ایک مثالی انسان تھے۔ اس وقت ہر طالب علم کو اپنے آپ سے عہد لینا چاہئے کہ بہر حال ہم سید افضل میاں کی طرح اپنی خدمات میںایمانداری اور دیانت داری دکھائیں گے۔ پھر صلاۃ و سلام اور فاتحہ خوانی اور دعا ئے مغفرت کے ساتھ محفل کا اختتام ہوا۔ اس موقعے پر ڈاکٹر مصعب علمی صاحب، ڈاکٹر فرحان دیوان صاحب، ڈاکٹر شاہد صاحب، ڈاکٹر عقیل صاحب، ڈاکٹر سلمان رضا علیمی صاحب، مولاناغلام مرسلین جامعی صاحب، ڈاکٹر ساجد صاحب اور ایم ایس او کے دیگر اراکین کے ساتھ ساتھ عوام بھی کافی تعداد میں موجود تھے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مانک پور: عرس سید راجی حامد شاہ مانکپوری رحمۃ اللہ علیہ سے علما کا خطاب

مانکپور/کنڈہ/پرتاپ گڑھ: 2اپریل، ہماری آواز(ضٰاءالمصطفیٰ ثقافی) کنڈہ تحصیل کے مانکپور میں ہر سال کی اس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے