فروعی اختلافات کے نام پر امت کو تقسیم کرنا غیر مناسب

✍طارق مسعود رسولپوری

درخشندہ روایات کی حامل امت مسلمہ اس وقت جس زوال، انحطاط اور باطل طاغوتی قوتوں کے جبر و استبداد کا شکار ہے وہ بڑا ہی عبرت انگیز ہے۔ اس وقت 57 سے زائد چھوٹی بڑی مسلمان حکومتوں کا وزن دنیا کے پلڑے میں ایک تنکے سے بھی کم ہے اور اس کی بنیادی وجوہات میں سے اہم ترین وجہ امت مسلمہ کا باہمی انتشار و افتراق ہے۔
حیرت اس بات پرنہیں کہ عالم کفر ان کو ذلیل و رسوا کرنے اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے متحد ہوچکا ہے کیونکہ صادق و مصدوق نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو پہلے ہی الکفرملة واحدة فرما کر ان کے اتحاد کی خبر دے چکے، حیرت اور دکھ اس بات پر ہے کہ وہ امت جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔
اَلْمُوْمِنُ للمؤمن کَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُه بَعْضًا وَشَبّک بَيْن اَصَابِعه.

’’مومن ایک ایسی دیوار کی مانند ہیں جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے (پھر مثال سمجھانے کے لئے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر جال کی طرح بنایا‘‘۔
مطلب یہ تھا کہ جس طرح انگلیاں الگ الگ وجود رکھتی ہیں لیکن ایک ہاتھ کے اجزا ہونے کی وجہ سے آپس میں مل کر ایک قوت ہیں اسی طرح مومن بظاہر الگ الگ وجود رکھتے ہیں لیکن عقیدہ توحید و رسالت کے ذریعے ایک طاقت ہیں اور مل کر ایک مضبوط دیوار کی مانند ہیں۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور موقع پر امت مسلمہ کو جسد واحد قرار دیا کہ جس کا ایک عضو بیمار ہوتو سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔
امت مسلمہ کے باہمی نزاعات و اختلافات اور تفرقہ بازی نے جو صورت اختیار کرلی ہے اسے دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ وہی امت ہے جس کے بارے میں قرآن مجید نے فرمایا تھا :
وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا ۪ وَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ کُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِہٖۤ اِخۡوَانًا ۚ

” اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو ( ف۱۸٦ ) اور آپس میں پھٹ نہ جانا ( فرقوں میں نہ بٹ جانا ) ( ف۱۸۷ ) اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم میں بیر تھا اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے "

علمی و تحقیقی اختلاف اور اسلاف کا عمل

دشمنی اور بغض و عناد پر مبنی مخالفت و گروہ بندی اور بات ہے جبکہ علمی اختلاف رائے بالکل ہی الگ چیز ہے۔ علم و تحقیق میں رائے کا مختلف ہونا ایک فطری امر ہے اور یہ شریعت کے منافی بھی نہیں۔ اسلام میں اس کی گنجائش ہے کیونکہ علمی اختلاف رائے سے ہی علم کے افق وسیع ہوتے ہیں اور خوب سے خوب تر کا سفر جاری رہتا ہے۔ تاریخ اسلام کا مطالعہ کریں تو ہمیں ایک طرف فقہی دنیا میں علمی اختلاف رائے کی بنا پر شافعی، مالکی، حنفی اور حنبلی وغیرہ فقہی مکاتب فکر نظر آتے ہیں تو دوسری طرف تصوف کی دنیا میں چشتی، قادری، نقشبندی، سہروردی اور اویسی سلاسلِ طریقت دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن ایسا کبھی نہ تھا کہ ان کے مابین علمی و فکری اختلاف فتنہ و فساد برپا کرنے یا امت کا شیرازہ منتشر کرنے کا باعث بنا ہو۔
ان مختلف علمی مکاتب فکر کے باوجود امت کا شیرازہ بکھرنے سے محفوظ رہا تو اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنے اپنے نقطہ نظر کو صرف اولیٰ قرار دیا تھا، اسے کفر اور اسلام کی جنگ نہیں بنایا تھا۔ ہمیں تاریخ میں ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملتا کہ کسی ایک خانقاہ نے اٹھ کر دوسری خانقاہ کو جلا دیا ہو یا کسی حنفی نے کسی شافعی کے مدرسے پر حملہ کرکے اس کے علمی ذخیرے کو نذر آتش کر دیا ہو۔
امام محمد بن حسن شیبانی, امام ابو یوسف اور امام زفر نے ہزاروں مسائل میں اپنے استاذ امام ابو حنیفہ سے اختلاف کیا علاوہ ازیں خود اعلی حضرت فاضل بریلوی نے سیکڑوں مقامات پر اسلاف سے اختلاف رائے کیا مگر ان حضرات نے کبھی ادب کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ دیا اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ان کے مابین مروت، رواداری، تحمل و برداشت اور دیگر اخلاقی قدریں اخلاص کے ساتھ موجود تھیں۔ وہ ایک دوسرے سے ملتے، علمی استفادہ کرتے دوسرے مکتب فکر کے شیوخ کو بھی اپنے شیخ کی طرح جانتے اور ان کے ادب و احترام میں کوئی فرق نہ کرتے۔

٭ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ بغداد میں حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضر ہوتے ہیں، ان کی مسجد میں نماز ادا کرنے لگتے ہیں تو رفع یدین نہیں کرتے۔ کسی نے استفسار کیا کہ حضرت آپ کے نزدیک رفع یدین ضروری ہے لیکن آج آپ نے خود اپنی تحقیق پر عمل نہیں کیا، کیا آپ نے اپنی رائے سے رجوع کر لیا ہے، فرمایا : نہیں بلکہ مجھے اتنے بڑے امام کی بارگاہ میں آکر ان کے مسلک کے خلاف عمل کرتے شرم آتی ہے۔

٭ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ دونوں علم و فضل فقہی بصیرت اور زہد و اتقاء میں بلند مقام رکھتے تھے، بہت سے مسائل میں ان کے مابین شدید علمی اختلاف بھی ہوا لیکن حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے بھائی فوت ہوئے تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ تعزیت کے لئے ان کے ہاں چلے گئے، حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے آگے بڑھ کر استقبال کیا اور انہیں بڑی عزت و تکریم کے ساتھ لاکر اپنی مسند پر بٹھایا اور خود بڑے ادب کے ساتھ ان کے سامنے بیٹھ گئے

یہ تحقیق و تنقیح کا وہ خوبصورت دور تھا جہاں ہر صاحب علم کو اختلاف رائے کا حق حاصل تھا اور فریقین اپنی تحقیق کو ایک دوسرے پر مسلط کرکے تضلیل و تکفیر نہی کرتے تھے بلکہ اپنے فریق کو بھی اختلاف رائے کا مستحق سمجھتے تھے
مقام تکفیر میں ان کی احتیاط کا عالم یہ تھا کہ معتزلہ کے عقائدہ خبیثہ کے باوجود ان کی تکفیر نہی کی بلکہ ان کو مسلمان ہی رکھا
عقائد مضلہ کے باوجود معتزلہ حکم تکفیر سے محفوظ رہے یہ صرف علماء متکلمین کی وسعت علمی کا ہی نتیجہ تھا ورنہ یہ بات اہل علم پر مخفی نہی کہ انہیں عقائد کو اگر آج کے نو آموز فضلاء کی عدالت میں پیش کر دیا جائے تو قائلین پر اتنی جہات سے حکم کفر عائد کر دیں گے کہ ان کی آنے والی نسلیں تک ان فتووں کا بوجھ محسوس کریں گی
اسلاف کی کتب میں بے شمار ایسے اختلافات ملتے ہیں کہ جنکو اہل النزاع کے سپرد کر دیا جائے تو ایسی ایسی شقیں نکالیں کہ فریقین کفر کی زد میں آ جایں مثلا سورت کے شروع والی بسملہ قرآن کا جزء ہے یا نہی اس بارے میں احناف و شوافع کا اختلاف ہے امام شافعی کے نزدیک یہ بسملہ بھی قرآن کا جزء ہے جبکہ احناف اس کو قرآن کا حصہ نہی مانتے اب مذہب شافعی کے مطابق احناف کی جانب سے قرآن کی ایک آیت کا انکار لازم آیا اور جو قرآن کی کسی آیت کا انکار کرے وہ ؟؟
اس کے برعکس مذہب حنفی کے مطابق شوافع بسملہ کو قرآن کا حصہ مانتے ہیں جو کہ غیر قرآن ہے اور غیر قرآن کو قرآن کا حصہ ماننا کیسا ؟
یہ اہل النزاع کی وہ شقیں ہیں جن سے یہ امت کو انتشار میں ڈال دیتے ہیں مختلف فیہ مسائل میں بھی اگر ان کی تحقیق کے مطابق کسی پر حکم کفر عائد ہو رہا ہو تو یہ اپنے فتوے کو "من شک فی کفرہ فقد کفر” کے ساتھ موکد کر دیتے ہیں جس کے بعد اگر کوئ ان کے فتوے پر عمل نہ کرے تو یہ اسے بھی کافر سمجھتے ہیں کیوں کہ اس نے ان کے مکفر (باالفتح) کے کفر میں شک کیا جبکہ تاریخ میں ایسی بے شمار نظیریں ملتی کہ ایک عالم نے کسی کی تکفیر تو کی مگر اس سے اختلاف رائے رکھنے والے کو کافر نہ کہا جیسا کہ بعض علماء نے یزید کو کافر تو کہا مگر اس کے کفر میں شک کرنے والے کی تکفیر نہی کی,جمہور نے ابو طالب کے کفر پر کتابیں لکھیں مگر من شک فی کفرہ فقد کفر کے تحت ایمان ابی طالب کے قائل کی تکفیر نہی کی,کفر و ایمان جیسی مباحث پر بھی اسلاف نے اعتدال کا دامن تھامے رکھا
مگر آج فروعی اختلافات کے نام پر بھی فریقین دست و گرے باں نظر آتے ہیں چہ جائے کہ اصولی اختلاف,
آج اگر کوئ عالم کسی فرعی مسئلہ میں کسی پیر یا عالم سے اختلاف رائے پیش کرے تو اس پر طعن و تشنیع کا بازار گرم ہو جاتا ہے کہ یہ فلاں بزرگ کا گستاخ ہو گیا,اسے اپنے علم پر گھمنڈ ہے , یہ سستی شہرت کا طالب ہے, کیا یہ اتنا بڑا ہو گیا کہ اسلاف سے اختلاف کرے وغیرہ وغیرہ, گویا ,اختلاف امتي رحمة, کا حکم اب منسوخ ہو گیا ہو, شخصیت پرستی عروج پر ہے, مریدین اپنے پیر اور متعلمین اپنے شیخ کو منصب عصمت پر فائز کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں دلائل کی دنیا سے در کنار ان کا صرف یہی مشغلہ ہے کہ کیسے اپنے شیخ کو حق اور فریق کو باطل ثابت کریں تقلید کا مفہوم اس قدر وسیع کر دیا گیا کہ شیخ دلائل سے معذور بھی کوئ بات کرے تو مرید تقلیدا اس کو صحیح ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں, جہالت کا اس قدر بول بالا ہے کہ عقیدت, شرع پر غالب نظر آتی ہے
کسی ایک شخصیت سے اختلاف رائے کو اختلاف سنیت قرار دیا جاتا ہے
کسی فرد معین پر کفر کا فتوی لگ جائے تو یہ طائفہ جاہلہ من شک فی کفرہ فقد کفر کے تحت اس کے لاکھوں کروڑوں متعلقین کو بھی کافر و مرتد بنا دیتے ہیں جب کہ ان کو اس کا صحیح مطلب تک پتہ نہی ہوتا کہ اس ضابطہ کے تحت کب کسی کی تکفیر کی جائے گی
علم سے دوری کی بنیاد پر تکفیر کو بھی تقلیدی موضوع بنا ڈالا کہ جو ان کے تکفیری فتوے پر عمل نہ کرے وہ بھی کافر ہو جائے گا کیوں کہ ان کے پاس من شک فی کفرہ فقد کفر کا قاعدہ جو ہے جبکہ اہل علم جانتے ہیں کہ فتاوی عالمگیری پر اپنے حاشیہ میں بے شمار مقامات پر فاضل بریلوی نے کہا کہ ” قال المصنف من قال ھذا فھو کافر والحق لا ” مصنف کہتے ہیں جس نے یہ بات کہی وہ کافر ہے مگر حق یہ ہے کہ یہ کفر نہی اب یہ طائفہ جاہلہ من شک فی کفرہ فقد کفر کے تحت اعلی حضرت پر حکم کفر لگانے کی جرات کر سکتی ہے ؟
بعض حضرات کا تو یہ عالم ہے کہ وہ جب بھی قلم اٹھاتے ہیں تو ان کی سیاہی سے چاپلوسی کی بو آتی ہے ان کا مقصد صرف ممدوح کی شان میں مبالغہ آرائ کرنا ہوتا ہے انہیں قرآن و سنت سے کوئ شغل نہی
فرعی اختلاف کے نام پر علمی مباحث کے بجائے مکابرہ و مجادلہ کی شکل اختیار کرنا امت کے لئے نہایت نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے اور عوام کے دلوں سے علماء کی محبت و عقیدت کم ہوتی جا رہی ہے
لہاذا ہر ذہ علم کو چاہئے کہ اگر آپ کو کسی سے اختلاف رائے ہے تو صرف دلائل کی روشنی میں ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی رائے رکھیں, مختلف فیہ مسائل میں ایک دوسرے پر طعن و تشنیع نہ کریں,تضلیل و تکفیر کی ڈور صرف علماء متکلمین کے ہاتھوں میں رہنے دیں, ہر دار الافتاء کو تکفیر کا مرکز نہ بنائیں وقت کے تقاضوں کو سمجھیں اگر کسی کی بات سے اختلاف رائے ہو تو دلائل کی روشنی میں اپنی بات رکھیں اب یہ عوام کا فیصلہ ہے کہ وہ دلائل کے اعتبار سے کس کی بات کو ترجیح دیتے ہیں جس کے دلائل قوی ہوں گے اس کی بات بھی وزنی ہوگی بہر کیف ہر حال میں امت کی وحدت کو برقرار رکھیں یہی وقت کا تقاضہ ہے اور اسی میں سالمیت ہے

اللہ تعالی ہمیں اخلاص کی دولت عطا فرمائے( آمین)

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

اغراض و مقاصد کی تکمیل کے اہم نقاط

تحریر: آبیناز جان علیموریشس 2011کی ایک پرانی ڈائری کی ورق گردانی کرتے ہوئے مجھے پرودکٹیومسلم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے