ایمرجنسی اورملک کے موجودہ حالات

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

1971 کے لوک سبھا الیکشن میں اندراگاندھی (1917 -1984)نے”غریبی ہٹاؤ“کا نعرہ دیا اور کانگریس نے352: سیٹ حاصل کی اورحکومت سازی کی۔
سال 1971 ہی میں ہندوپاک جنگ شروع ہوگئی۔ اسی درمیان بنگلہ دیش، پاکستان سے الگ ہوکرایک نیا ملک بن گیا۔

اندراگاندھی نے بنگلہ دیش کے قیام اورپاکستان کی تقسیم میں اہم کردار اداکیا۔بھارت بھی جنگ میں شریک ہوگیاتھا۔ان جنگوں کے سبب ملک میں مہنگائی بڑھ گئی۔

چوں کہ اندراگاندھی کو قوم نے غریبی ہٹانے کے نام پر ووٹ دیاتھا،جس میں کانگریس پارٹی ناکام رہی۔

12:جون 1975کوالہ آباد ہائی کورٹ نے اندرا گاندھی کے ایفائے عہدنہ کرنے کے سبب اسے انتخابی جرم (Electoral Malpractices)قراردیتے ہوئے 1971 کے الیکشن کو ناقابل اعتماداورغیر معتبرقرار دیا۔

اندارگاندھی نے فیصلہ کو کوسپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ سپریم کورٹ نے 24:جون 1975کواپنے فیصلہ میں الٰہ آبادہائی کورٹ کافیصلہ برقرار رکھا اور اندراگاندھی کی وزارت عظمیٰ اورپارلیامنٹ کے کاموں میں اس کے حصہ لینے پرپابندی لگادی۔

اندرا گاندھی نے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دینے کی بجائے صدرجمہوریہ مسٹر فخرالدین علی احمد (1905 -1977)سے ”ایمرجنسی“کا اعلان کروا دیا۔

25: جون 1975 سے21: مارچ1977 تک ملک میں ایمرجنسی(Emergency) نافذ رہی۔

ایمرجنسی کے عہدہی میں سال 1977 کا لوک سبھا الیکشن 16:مارچ تا 20: مارچ ہوا۔ کانگریس پارٹی کو شکست ہوئی اور جنتادل نے حکومت بنائی۔یہ کانگریس کی پہلی شکست تھی، اوریہ ایمرجنسی کا نتیجہ تھا۔

اندرا گاندھی بہت طاقتور وزیر اعظم تھی۔ اسے آئرن لیڈی کہا جاتا تھا۔ آزادی کے بعد اب تک مسلسل کانگریس کی حکومت تھی۔ کانگریس کے پاس لوک سبھا کی352: سیٹ تھی۔ان سب حقائق کے باوجود ہائی کورٹ نے اندرا گاندھی کے انتخابی وعدہ کو مکمل نہ کرنے کے سبب حکومت کوناقابل اعتماد قرار دیا،حالاں کہ جنگ کے سبب بھارت کی اقتصادی حالت متاثر ہوگئی تھی۔مرکزی حکومت کایہ عذر بھی کورٹ نے تسلیم نہ کیا۔

بھاجپائی حکومت کا حال یہ ہے کہ صرف 303:لوک سبھاسیٹ اس کی ہے۔ای وی ایم میں تخریب کاری کا الزام بھی ہے۔ بھاجپائی لیڈروں کی کذب بیانی اورفرقہ وارانہ بیانوں کے سبب اہل ملک پریشان ہیں۔

اقتصادی حالت انتہائی خراب ہے۔ہرسال دوکروڑ لوگوں کونوکری دینے کا وعدہ بھی ایک فریب ثابت ہوا،بلکہ سال 2018:میں ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کی ملازمت ختم ہوگئی۔اب تو حکومتی اثاثے بھی پبلک ہاتھوں میں فروخت ہورہے ہیں۔

سپریم کورٹ کے متعددفیصلے بھی بھاجپا کے حق میں ہیں۔وجہ کیا ہے؟ کیا سپریم کورٹ بھی دہشت میں مبتلا ہے؟ ملک کے موجودہ حالات ایمرجنسی کی یاد دلاتے ہیں۔

کمزوروں،غریبوں اوراقلیتوں کے حالات انتہائی ناقابل بیان ہوچکے ہیں۔لاک ڈاؤن کے سبب بھارت کی معیشت تباہ ہوچکی ہے۔بھاجپائی حکومت آئے دن ایسے ایسے قوانین بنارہی ہے کہ سال کے اکثر حصوں میں ملک گیر احتجاج ہوتے رہتے ہیں۔کبھی مسلمان روڈ پر نظر آتے ہیں تو کبھی کسان۔کبھی دلت میدان میں ہوتے ہیں توکبھی کوئی اورطبقہ۔

ملک کا امن وامان حدددرجہ متاثر ہوچکا ہے۔ کل کیا ہوگا،کوئی نہیں بتا سکتا۔ عجب افراتفری اوربے اطمینانی کا ماحول ہے۔ایسا ماحول کسی جمہوری ملک کے لیے یقینا سازگار نہیں۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے