شان رسالت میں گستاخی اور ہماری ذمہ داری

تحریر: ظفر کبیر نگری، چھبرا، دھرم سنگھوا بازار، سنت کبیر نگر یوپی

آج پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو خطرناک اور مختلف قسم کی مشکلات و پریشانیوں کا سامنا ہے، دراصل اہل ِمغرب نے اچھی طرح یہ اندازہ کر لیا ہے کہ ہم مسلمانوں کو قوّتِ شمشیر اور زورِبازو سے شکست نہیں دے سکتے، اس لئے انہوں نے اسلام کے خلاف ذہنی جنگ شروع کی، تاکہ مسلمانوں کو اسلام کی نعمت سے محروم کر دیا جائے، ان کی یہ کوششیں جو کئی صدی پہلے شروع کی گئی تھیں، آج اپنے شباب پر ہیں، سال گزشتہ ماہ اکتوبر کے آغاز میں فرانس کے اندر سیموئیل نامی تاریخ و جغرافیہ کے استاد کا اپنی کلاس میں طلبہ کے سامنے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے دکھائے جانے سے ناراض ایک اٹھاره سالہ چیچنیائی شخص نے سر قلم کر دیا، یہاں پر یہ بھی جان لینا ضروری ہے کہ قرآن وسنت کی نصوص اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے واقعات سے یہ بات صاف طور پر معلوم ہوتی ہے کہ نہ صرف شانِ رسالت میں گستاخی کی سزا قتل ہےبلکہ نبی کریمﷺ نے خود ایسی قبیح و شنیع حرکتیں کرنے والوں کو قتل کرنے کا براہِ راست حکم صادر فرمایا، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایسی گستاخی کرنے کے جواب میں اُن کو قتل کرنے کی دعوتِ عام دی، اور ایسے کام انجام دینے والے جانثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ آپ نے اُن کی مدد کے لئے دعا بھی فرمائی، مذکورہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مذکورہ استاذ اپنے اسکول کے باہر موجود تھے، حملہ آور نے قتل کے بعد وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن وہاں موجود لوگوں نے فوراً پولیس کو اطلاع دے دی اور پولیس کا جائے وقوعہ کے قریبی علاقے میں ہی حملہ آور سے سامنا ہو گیا اور جب انھوں نے اسے گرفتاری دینے کا کہا تو حملہ آور کے منع کرنے پر پولیس اہلکاروں نے حملہ آور کو گولی ماری اور کچھ دیر بعد وہ ہلاک ہو گیا۔ مقتول ٹیچر کلاسوں میں اپنے شاگردوں اظہار آزادی کے نام پر اس طرح کے خاکے دکھاتے ہوئے مسلمان طالب علموں سے کہتا تھا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ خاکے ان کے لیے ناقابل برداشت یا اشتعال انگیز ہیں تو وہ انھیں نہ دیکھیں اور اپنی نظریں پھیر لیں. 
فرانس کے صدر نے اس حملہ کو اسلامی شدت پسندی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ٹیچر کو اس لیے قتل کیا گیا کہ وہ آزادی رائے کے اظہار کا درس دے رہا تھا، وہیں دوسری طرف لاکھوں لوگوں نے آزادیِ اظہار اور ٹیچر کے حق میں ریلیاں نکالیں،  واضح ہو کی شان رسالت مآب میں گستاخی کی یہ مجرمانہ اور مذموم حرکت پہلی بار نہیں کی گئی ہے، بلکہ دشمنان اسلام اور تشدد پسند عناصر کا ایک ٹولہ اکثر ایسی گھناؤنی حرکتیں کرتا رہتا ہے، ان کے اس ناپاک اقدام اور ذلیل حرکتوں پر غور کرنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان کی اس مذموم دریدہ دہنی کا مقصد اسلام کے خلاف نفرت کا اظہار کرنا، معاشرے میں اسلام کی طرف مائل لوگوں کو دینِ حق سے بدظن کرنے کی کوشش کرنا اور مسلمانوں کو مشتعل کرنا ہے، تاکہ اسلام کے دیوانوں کو مشتعل کر کے ان پر سخت کاروائی کا جواز فراہم کیا جا سکے، اہل مغرب اور دشمنان اسلام یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ مسلمان اپنے اوپر ہر سختی برداشت کر سکتا ہے لیکن شان رسالت مآب میں گستاخی اس کے لیے قابل برداشت نہیں، یقیناً ناقابل برداشت ہے، اور اس طرح کے واقعات پر ایک مسلمان کو برا لگنا، بلکہ اس بارے میں شدید تکلیف و اذیت محسوس کرنا فطری ہے، ایسا نہ ہو تو ایمان میں کمی ہے،   کیونکہ  مسلمانوں کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات کے بعد سب سے زیادہ قابل عزت و قابلِ احترام حضرت رسول اللہ ﷺکی ہستی مبارک ہے، اور مسلمان کے لئے اس کی زندگی کی سب سے قیمتی متاع دین کا احترام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور ان کی ناموس مبارک کی حفاظت ہے، یہ بڑی قیمتی اور مبارک چیز ہے کہ ایک مسلمان اللہ کے رسول کی ناموس مبارک کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کو اپنے لئے بڑی سعادت کی بات سمجھتا ہے اسی جذبہ ایمانی سے اس کی زندگی میں رونق اور حسن ہے اور یہی اس کے ایمان کا محافظ اور یہی اس کے لئے ابدی سعادت اور جنت کے حصول کا ذریعہ ہے، لیکن اس تکلیف اور اذیت کے عالم میں اس بارے میں کس کی کیا ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کے تناظر میں میں کس کو کیا ردعمل ظاہر کرنا ہے یہ خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ سے سیکھنا اور اس پر عمل کرنا ہے.
احتجاجی مہم چلائیں:  اس قسم کی غلیظ حرکتوں کے خلاف ہم مسلمانان عالم اکٹھے ہو کر احتجاجی میدان میں جمع ہو کر گستاخی کرنے والوں کو یہ پیغام دیں کہ دنیا کا کوئی بھی مسلمان کسی بھی حوالے سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتا اور اس سلسلے میں دنیا کے ہر خطے کے مسلمانوں کے جذبات ایک جیسے ہیں، اس کے علاوہ اس بارے میں مستقل طو رپر کوئی پروگرام بنائیں جس سے ہم عالمی سیکولر لابیوں کی اس مہم کا سنجیدگی کے ساتھ مستقل طو رپر سامنا کر سکیں اور اس کے سد باب کا کوئی معقول راستہ تلاش کر سکیں۔ اگر مسلم حکومتیں اس سلسلے میں کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو دینی قوتوں کو ہی باہمی مشاورت کے ساتھ اس کا اہتمام کر لینا چاہیے، اسلامی ممالک کے سربراہان پر یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے ممالک کے ساتھ سخت معاشی بائیکاٹ کے علاوہ توہینِ رسالت پر سخت سے سخت سزا کا عالمی سطح پر قانون منظور کروائیں، تمام اختلافات بھلا کر مذہبی، سیاسی، سفارتی اور عملی اقدامات کے حوالے سے ایک ہو جائیں، سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے گروپس میں منقسم ہونے کی بجائے ایک آواز ہو کر دنیا تک اپنا واضح پیغام پہنچائیں، کیونکہ مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا پر جب تک مسلمان سربراہان مملکت مل کر اقدام نہیں اٹھائیں گے اس میں اضافہ ہوتا رہے گا اور اس کا سب سے بڑا نقصان ان ممالک میں اقلیت میں رہنے والے مسلمانوں کو ہوگا، اور اگر اسلاموفوبیا کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تو یہ بیماری بڑھتی جائے گی جو امن عالم کے لئے انتشار کا باعث ہوگی. 
صبر و تحمل: مسلمان اگر گستاخی رسالت کرنے والوں سے مقابلہ اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانے  کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو صبر سے کام لیں، جیسا کہ عہد رسالت میں مسلمان جب ایسے شاتمانِ رسالت کی سرکوبی کی قوت نہ رکھتے تھے، حتیٰ کہ بیت اللہ میں نماز سرعام پڑھنے سے بھی بعض اوقات گریز کرنا پڑتا تھا، تو اُس دور میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس اذیت پر صبر وتحمل کی تلقین کی او رنبی کریم ﷺ کو خود دلاسہ دیا کہ آپ کی شان میں دریدہ دہنی کرنے والے دراصل اللہ کی تکذیب کرتے ہیں، جنہیں اللہ ہی خوب کافی ہے، عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب پتہ چل جائے گا کہ کون مجنوں اور دیوانہ ہے، قرآنِ کریم میں صحابہ کو ایسے وقت صبر وتحمل کی ہدایت کی گئی: ”البتہ ضرور تم اپنے مالوں اور جانوں کے بارے میں آزمائے جاؤگے اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے اذیت کی بہت سی باتیں سنو گے۔ اگر تم صبر کرو او راللہ کا تقویٰ اختیار کرو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے۔”(آل عمران:186)، حضرت اُسامہ بن زید روایت کرتے ہیں کہ ”نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کے حکم کی بنا پر ان کے بارے میں درگذر سے کام لیتے تھے حتیٰ کہ اللہ نے آپ کو ان کے بارے اجازت دے دی۔ پھر جب آپ نے غزوۂ بدر لڑا اور اللہ تعالیٰ نے اس غزوے میں قریش کے جن کافر سرداروں کو قتل کرنا تھا، قتل کرا دیا۔”
سیرت رسول سے واقفیت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے "تم میں سے اس وقت تک کوئی شخص مو من نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے والد، اس کی اولاد اورتما م لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں”، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد مبارک سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک مسلما ن کے مکمل ایمان کے لئے ضرور ی ہے کہ اس کے دل میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اتنی زیادہ ہو کہ وہ تمام حقیقی رشتوں اور محبتوں سے بالاتر نظر آئے، اس کے لئے ضروری ہے کہ امت کا ہر فرد خاص طور پر نوجوان طبقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے واقف ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت انسانی زندگی کے تمام گوشوں اور شعبوں میں رہنمائی فراہم کرتی ہے، ایک سپہ سالار، ایک کامیاب جج، ایک کامیاب معلم، ایک کامیاب رہبر، ایک کامیاب سیاسی قائد، امانت دار تا جر اور سچا معاہدہ کرنے والا، غرض یہ کہ اللہ کے رسول کی سیرت زندگی کے تمام گوشوں پر محیط ہے اور ہر داعی، ہر رہبر، ہر باپ، ہر شوہر، ہر دوست، ہر مربی، سیا ستداں، سربراہ مملکت وغیرہ کے لیے بہترین نمو نہ ہے، اس قدر مکمل اور جامع رہنمائی کہیں نہیں ملتی، تاریخ ہمارے سامنے جن افراد کو کامیاب بنا کر پیش کرتی ہے وہ زندگی کے کسی ایک ہی میدان میں نمایاں ہوئے اور اس میں شہرت پائی، وہ تنہا انسان جو تمام طبقوں، گروہوں اور ہر فرد کے لیے نمونہ بن سکتا ہے بس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ہی ہے۔
دعوت پر خصوصی توجہ : اللہ تعالی کا ارشاد ہے، "اور اس سے بہتر کس کی بات ہے جس نے لوگوں کو الله کی طرف بلایا اور خود بھی اچھے کام کیے اور کہا بے شک میں بھی فرمانبرداروں میں سے ہوں”،(فصلت:33)، یعنی جو اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلائے اور خود بھی نیکی کرے اسلام قبول کرے اس سے زیادہ اچھی بات اور کس کی ہوگی ؟ یہ ہے جس نے اپنے تئیں نفع پہنچایا اور خلق اللہ کو بھی اپنی ذات سے نفع پہنچایا۔ یہ ان میں نہیں جو منہ کے بڑے باتونی ہوتے ہیں جو دوسروں کو کہتے تو ہیں مگر خود نہیں کرتے یہ تو خود بھی کرتا ہے اور دوسروں سے بھی کہتا ہے۔ حضرت حسن بصری اس آیت کو پڑھ کر فرماتے ہیں یہی لوگ حبیب اللہ ہیں۔ یہی اولیاء اللہ ہیں یہی سب سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ ہیں یہی سب سے زیادہ اللہ کے محبوب ہیں کہ انہوں نے اللہ کی باتیں مان لیں پھر دوسروں سے منوانے لگے اور اپنے ماننے میں نیکیاں کرتے رہے اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتے رہے یہ اللہ کے خلیفہ ہیں، بھلائی اور برائی نیکی اور بدی برابر برابر نہیں بلکہ ان میں بیحد فرق ہے جو تجھ سے برائی کرے تو اس سے بھلائی کر اور اس کی برائی کو اس طرح دفع کر۔ حضرت عمر کا فرمان ہے کہ تیرے بارے میں جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے تو تو اس کے بارے میں اللہ کی فرمابرداری کر اس سے بڑھ کو کوئی چیز نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا کرنے سے تیرا جانی دشمن دلی دوست بن جائے گا. 

اسلامی تعلیمات پر عمل : قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ "اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ”، یعنی اس طرح نہ کرو جو باتیں تمہاری مصلحتوں اور خواہشات کے مطابق ہوں ان پر تو عمل کر لو دوسرے حکموں کو نظر انداز کر دو، اس طرح جو دین تم چھوڑ آئے ہو اس کی باتیں اسلام میں شامل کرنے کی کوشش مت کرو بلکہ صرف اسلام کو مکمل طور پر اپناؤ، اس سے آجکل کے سیکولر ذہن کی تردید بھی جو اسلام کو مکمل طور پر اپنانے کے لئے تیار نہیں بلکہ دین کو عبادت یعنی مساجد تک محدود کرنا اور سیاست اور ایوان حکومت سے دین کو نکال دینا چاہتے ہیں، حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ کے مطابق آج مسلمان کے پستی کی طرف جانے کے ظاہری وباطنی نقصان کا سبب اسلامی تعلیمات سے دوری ہے، جتنا زیادہ مسلمان ان تعلیمات سے دور ہوتا گیا اتنا ہی معاشرے کی اس تاریک بھول بھلیوں میں پھنستا گیا، اب اگر مسلمان دونوں جہانوں میں کامیابی اور کامرانی کی آغوش میں آنا چاہتا ہے تو اُسے ایک ایسا نظام زندگی ترتیب دینا ہوگا جو ہر طرح سے کامل ومکمل ہو اور ایسا نظام زندگی ہمیں اسلامی تعلیمات سے ملتا ہے، ہم سے گزشتہ لوگوں نے اسلامی تعلیمات سے زندگی گزارنے کے ایسے رہنما اُصول نکالے ہیں جن کو اپنانے سے انسان فلاح و بہبود کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوجائے، اس مکمل نظام زندگی کو اس اُمّت کے محسن علمائے کرام اورسلف صا لحین نے اپنی عالمی فکرسے ترتیب دیا ہے اور ایمان کو پانچ بڑے حصوں پر تقسیم کیا ہے، جن میں عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاقیات شامل ہیں، ایک مسلمان اگر اپنے لیے یہ نظامِ زندگی بنالے تو دنیا میں کسی بھی میدان میں خسارے کا منہ نہیں دیکھنا پڑے گا اور آخرت میں بھی خوشی خوشی رب کی رضا کے ساتھ جنت کی لازوال نعمتوں سے لطفِ اندوز ہو گا.
اخیر میں برادران ملت اسلامیہ سے عرض ہے کہ ایسے مواقع پر ہم سب اپنے قول و عمل، سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم، ہورڈنگ، اخبارات و رسائل میں نبی اکرم کے اخلاقی اور عفو و درگزر کے واقعات کی کثرت سے اشاعت اور مناسب مقامات پر اخلاقی تعلیمات سے متعلق مختصر احادیث کے کتبے آویزاں کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی تعلیمات کو خوب عام کریں، اسی طرح مسلم ممالک لک کے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے توہین رسالت مآب صلی الله علیہ وسلم کے مرتکب کو کیفر کردار تک پہنچانے کی کوشش کرکے خود کواللہ کی گرفت وپکڑ سے بچائیں، کیونکہ ہم سب کو اللہ کے حضور پیش ہونا ہے، اور قیامت کے روز رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے ملاقات کرنی ہے، لہذا اہل ایمان اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ دشمن کے ان ہتھکنڈوں کے جواب میں ان کی تہذیب و تمدن سے عملی طور سے نفرت کا اظہار کریں، ان کا معاشی بائیکاٹ کریں اور زندگی کے ہر شعبہ میں سیرت نبوی صلی الله علیہ وسلم کا مکمل اتباع کریں، اپنے آقا و محبوب صلی الله علیہ وسلم پر کثرت سے درود و سلام بھیجیں، تا کہ دشمن اپنے مذموم مقاصد میں ناکام و نامراد ہوجائے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے