مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی

ازقلم: محمد محبوب رضوی
امرڈوبہا سنت کبیر نگر

عصر حاضر میں پوری دنیا جس برق رفتاری کے ساتھ ترقی کی جانب گامزن ہے، اور نت نئے ایجادات لوگوں کے سامنے نمایاں کر رہی ہے، اس نےہرذی شعور پر تعلیم کی اہمیت و افادیت کونقش کردیا ہے،تعلیم طاعت خداوندی کا صحیح اور کامل عرفان عطا کرتی ہے،تعلیم ہی سے تہذیب وسلیقہ مندی آتی ہے،حیوان اورحیوان ناطق کے مابین تفریق تعلیم ہی کی وجہ سے ہوتی ہے، انسان کو اشرف المخلوقات کا تمغہ تعلیم کی وجہ سے دیا گیا ہے،تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کے لئے ترقی کی ضامن ہے، تعلیم کے بغیرکوئی بھی تحریک و تنظیم یا دین و مذہب نہ محفوظ رہ سکتا ہے اور نہ ہی ترقی کا سفیر ہوسکتا ہے،جن قوموں نے یہ اسرار ما قبل میں محسوس کیا اور زندگی کے ہر شعبے میں تعلیم کی طرف کماحقہٗ توجہ دی،تو آج ان کی شمولیت ترقی یافتہ قوموں میں ہو رہی ہے،اور جن قوموں نے تعلیم کی جانب اغماض و چشم پوشی اختیار وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہیں، اور ان کا شمار پسماندہ قوموں میں ہو رہا ہے۔
ترقی یافتہ اقوام و ممالک اگر نئی نئی ایجادات و حیرت انگیز سائنسی اقدامات ان کی قدم بوسی کر رہی ہے، تواس کی واحد وجہ ان کی اعلی تعلیم ہے،اسی طرح اس کے برعکس جو قومیں غربت و افلاس کی شکار ہیں تو یہ محض ان کی اپنی تعلیمی پسماندگی اور علوم دینیہ ودنيویہ کی طرف عدم توجہی جس نے انہیں اس قابل نہیں رکھا کہ کائنات میں تدبّر اور آفاقی تفکّر کے ذریعہ قدرت کے مخفی خزانوں کو دریافت کر سکیں۔
سچر کمیٹی کی رپورٹ اگر حقائق پر مبنی ہے،تو وہ نہایت حیرت انگیز اور المیہ خیز ہے،تعلیم کے علمبردار ہونے کے باوجود مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی نا قابل ذکر ہے،مسلمانوں کے تعلق سے یہ تصور عام رہا کہ وہ اپنے بچوں کو عموماً مذہبی تعلیم سے ہی آراستہ کراتے ہیں،لیکن سچر کمیٹی نے اس حقیقت کا بھی انکشاف کر دیا ہے کہ مسلمانوں کے صرف چار فیصد بچے ہی مدارس میں داخل درس ہوتے ہیں،یہ اعداد اغیار تو کجا خود مسلمانوں کے لئے تشویش ناک ہے کہ جب کہ آبادی کے لحاظ سے یہ اعداد نصف ہونی چاہيے،لیکن مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا یہ عالم ہے کہ دینی تعلیم تو کجا دنیوی تعلیم میں تساہلی کے شکار ہیں۔ ہندوستان کی مجموعی آبادی کے لحاظ سے عصری درسگاہوں،اسکولس،کالیجیز، یونیورسٹیز میں ہماری تعداد انگلیوں پر ہے، اسی کے پیش نظر آج غیر قومیں مسلمانوں کو "پنچر چھاپ” جیسے القاب سے ملقب کرتے ہیں،میرا اپنا نظریہ ہے کہ اس لقب میں کچھ تو حقانیت ہے جو اس طرح کے جملے ہمیں برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
عموماً یہ تصور عام رہا کہ اعلیٰ تعلیم سے چہ فائدہ، اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے خطیر رقم درکار ہے،اگر کسی طرح سے اتنی لمبی رقم دستیاب ہو جائے تو فراغت کے بعد سرکاری ملازمت کا ہونا غیر یقینی ہے،تو پھر اتنی لمبی رقم حصول علم کے لئے ضائع کیوں؟ اگر ہم اتنی خطیر رقم کسی مشاغل میں صرف کردیں تو ہمارا یہ مشغلہ بتدریج ایک کامیاب انسان کی شکل میں منتقل کر دے گا،یہ آج کی ہماری جدید فکر ہے کسی صاحب نے بہت ہی عمدہ جملہ قرطاس کیا تھا کہ ” اگر حصول علم کا مقصد نوکری ہو تو اس قوم میں نوکر ہی پیدا ہونگے قائد ملت نہیں” مسلم معاشرے میں مذکورہ تصور عام رہا جس کی وجہ سے حصول علم کا تشنہ فرات کے ہوتے ہوئے بھی لبوں میں رطوبت نا پاسکا۔
عموماً حصول علم کو اس بنا پر ترک کر دیا جاتا ہے کہ ہم پڑھکر کیا کرینگے ،ہم مسلمان ہیں ہمارے نام کے آگے محمد” احمد” ہے،جس کی بنا پر سرکاری ملازمت کا حصول غیر یقینی یہ فکر ذہن میں محفوظ کرکے ہم تعلیم کو مفقود کر دیتے ہیں،اور مورد الزام حکومت کو ٹہراتے ہیں کہ ان کے ساتھ غیر برابری کا فعل انجام دیتی ہے، خیر یہ ایک منفرد بحث ہے،لیکن جہاں جو سہولیات مستقل ہیں کیا ہم اُن کا صحیح طور پر استعمال کر رہے ہیں؟جہاں ہم سے تساہلی ہو رہی ہے،کیا اس کی ذمے دار حکومت ہے؟ہماری تعلیمی پسماندگی کا ذمےدار حکومت نہیں بلکہ ہم خود ہیں، آپ خود تصور کریں کہ کیا حکومت نے ہمیں تعلیم حاصل کرنے کے لئے منع کیا ہے، کونسا ایسا تعلیمی ادارہ ہے جہاں پر محمد”احمد” کے نام پر آپ کا داخلہ مسترد کر دیا جاتا ہو، اگر ایسا ہوتا تو اُن مسلم طلبہ کیا جو اپنی اعلیٰ تعلیم کے باعث عظیم مراتب پر فائز ہیں
مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ مسلم طلبہ احساس کمتری کے شکار ہو چکے ہیں، اسی لیے اعلیٰ مقابلاتی امتحان میں قدم رکھنے سے گھبراتے ہیں اس احساس کمتری کا سبب کچھ بھی ہو اس نے مسلم طلبہ کو راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے،اس ملک میں جہاں مسلمانوں نے بہت سے فلاحی ادارے قائم کئے ہیں،ضرورت ہےکہ ہر شہر اور صوبےمیں ایسے ادارے قائم کئے جائیں جو ان طلبہ کی ہر طرح کی اخلاقی امداد کر سکیں، جس کے ذریعے اُن کے عزم و حوصلے بلند ہو، اور ہر طرح کے اعلیٰ مقابلاتی امتحان میں شریک ہوکر اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔
تعلیمی پسماندگی کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ بہت سے ایسے طلبہ ہیں جی اپنی اعلیٰ تعلیم کے ذریعے منفرد المثال شخصیت ہو کر نمایاں کارنامہ انجام دے سکیں، مگر معاشی حالت کی وجہ سے ان کی تعلیم متروک ہو جاتی ہے، اگر آپ اپنے گاؤں،علاقے اور شہر کا تفصیلی جائزہ لیں تو آپ کو با آسانی ایسے نادار اور مفلس طلبہ ملینگے جن کے اندر صلاحیت وقابلیت تو كشاں کشاں ہیں لیکن گھر کی معاشی بدحالی کی وجہ سے وہ اپنی تعلیم آگے تک نہیں لے جا سکتے، ان میں سے کچھ طلبہ خود ٹیوشن پڑھاکر سلسلہ برقرار کئے ہوئے ہیں،طلبہ کی ایک بڑی تعداد کو یہ فکر ہے کہ آگے کی مزید تعلیم کیسے پوری ہوگی۔
اور کچھ طلبہ رمضان المبارک میں مدرسے کی رسید کے معاوضے سے اپنے اخراجات کی تکمیل کرتے ہیں، اور کچھ طلبہ تراویح کی اجرت صرف اس لیے بھی لیتے ہیں تاکہ وہ آگے کی تعلیم با آسانی پوری کر سکیں۔مگر ان سب چیزوں سے قطع نظر ہمارا معاشرہ جلسے،جلوس اور مشاعرے میں کروڑوں روپے صرف کر رہے ہیں،گہنگہرج اور غیر مصلح فلوسی مقررین و شعراء کو ایک ایک منٹ کے ہزار روپئے کی خطیر رقم پیش کر رہے ہیں ،جس کے ذریعہ مذہب و ملت کا کوئی فروغ نہیں،(خیر ہمیں ان سے کوئی شکوہ نہیں) یہاں سوال یہ ہے کہ ایسے میں امت کے قابلیت و صلاحیت سے مرکب ان طلبہ پر ہماری نظر کیوں نہیں جاتی؟ہمارے خیال میں یہ کیوں نہیں آتا کہ ہم ان طلبہ کی تعلیم کے لیے بھی اس طرح معاشرے کے درمیان درمیان ایک مہم چلائیں اور با ہمی تعاون سے اُن کی تعلیم کے اخراجات اکٹھا کریں، کیا یہ نام و نمود کے جلسے، جلوس، مشاعرے ان طلبہ کی تعلیم سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے؟یہ بات قابل فکر ہے کہ تعلیمی نا خواندگی جلسے ،جلوس،مشاعرے سے دور نہیں ہو سکتی (مذہبی جلسے جلوس کا میں منکر نہیں)بلکہ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ تعلیمی پسماندگی کیسے دور ہوگی؟۔
مذہب و ملت کے نام پر ہماری خانقاہوں کے سجادگان قوم کے سنجیدہ مسلمانوں کا مالی استحصال کر رہے ہیں،کیا ان خانقاہوں سے دین و مذہب کا وہ کام ہو رہا ہے، جس کی ہمارے اکابرین نے تلقین کی ہے، ان خانقاہوں میں مالی امداد کی فراہمی تو ہے مگر تعلیمی بیداری کا کوئی اہم کردار سر انجام نہ ہوا(الاّ ماَشاءاللّه)
اس لیے ہمیں اپنی بیداری کا ثبوت پیش کرتے ہوئے تعلیمی اخراجات میں اضافہ کے لئے فضول اخراجات سے اجتناب کرکے خطیر رقم جمع کریں اور ہر فرد کو تعلیم جوڑنے کی کوشش کریں تا کہ قوم ومُلک کا فروغ ہو۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تعلیم سے ہی بدلے گی قوم کی تصویر

تحریر: محمد ہاشم اعظمی مصباحینوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یو پی 9839171719 انسان کو دیگر مخلوقات …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے