مول نواسی اقوام کے مشہور قائدین

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

ماضی قریب میں بھارت کی مول نواسی اقوام میں متعدد سماجی وسیاسی مصلحین نے جنم لیا،جنہوں نے برہمنی نظام کے ذات پات سسٹم اور منوسمرتی کے اصول وقوانین کی سخت مخالفت کی۔جیوتی باپھولے،سوامی پیریار اور ڈاکٹربھیم راؤامبیڈکرکے نام بہت مشہور ہیں۔

بھارت میں آرین اقوام وسط ایشیا سے آئی ہے۔اگر بھارت کے اصلی باشندگان یعنی مول نواسی اقوام تعلیم پاکر باشعور ہوگئے تو برہمنی سازشوں کے ٹوٹنے میں دیر نہیں لگے گی۔ ہندومسلم فسادات میں مو ل نواسی قوموں کوورغلا کرمسلمانوں پر حملے کرائے جاتے ہیں۔اب چوں کہ یہ لوگ تعلیم پا کر برہمنی سازشوں سے واقف وآشنا ہوچکے ہیں،اس لیے فرقہ وارانہ فسادات کم ہوتے ہیں۔ان میں کچھ بیداری آچکی ہے۔

مول نواسی قوموں کے سماجی قائدین پھولے،پیریار اورامبیڈکر کاذکر درج ذیل ہے۔

جیوتی با پھولے:

مول نواسی اقوام میں ایک مشہورنام جیوتی باپھولے (Jyotiba Phule)کا ہے۔مہاراشٹر کے مقام کاٹگن ضلع ستارہ(Katgun; Satara) میں جیوتی با پھولے(1827 -1890)کی پیدائش ہوئی۔پونے (Pune)مہاراشٹر میں موت ہوئی۔

جیوتی با پھولے نے برہمنوں کے خودساختہ ذات پات کے نظام(Caste System) کی پرزور مخالفت کی۔چھوت چھات (Untouchabliity)کے عقیدہ ودیگر برہمنی خرافات کے خلاف آواز بلند کی۔

عورتوں کو سیاسی وسماجی وانسانی حقوق دلانے کی کوشش کی۔ 24:ستمبر 1873کو اس نے ستیا شودھک سماج (Satyashoodhak Samaj)نامی تحریک کی بنیاد رکھی۔اس کے ذریعہ اس نے پسماندہ اقوام کے لیے دیگراونچی ذات (Upper Caste)والی قوموں کے برابر حقوق کے نظریہ کوفروغ دیا۔
اس نے متعددمضامین ورسائل لکھے۔اس کی مشہورکتاب ”غلام گیری“ہے۔یہ کتاب دلت وپسماندہ اقوام کو غلام بنانے کی سازش کو بے نقاب کرتی ہے،اور غلامی سے باہر نکلنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

پیریار

پیریار: ای وی راماسامی (Periyar E.V.Ramasamy)(1879-1973)نے ایک سماجی کارکن اورسیاسی رہنما کی حیثیت سے شہرت پائی۔ریاست تمل ناڈو کے ضلع ایروڈ (Erode)میں پیدائش ہوئی،اورتمل ناڈوکے شہر ویلور میں موت ہوئی۔پیریارنے برہمنی نظام کے خلاف اعلانیہ آوازبلند کی۔ عورتوں کے حقوق کی آواز اٹھائی، ہندوازم کی مخالفت کی۔
اس نے سلف ریسپیکٹ مومنٹ(Self Raspect Movement)کے نام سے ایک سماجی تحریک کا آغاز کیا، اور ڈراوڈرکاگزم (Daravidar Kazhagam)نامی سیاسی تحریک شروع کی۔

چنئی اورتمل ناڈومیں ڈراوڈ قوم کی تحریکیں اسی کے نظریات پر قائم ہوئیں۔ڈراوڈ قوم بھار ت کی اصلی اقوام میں سے ہے،جن کو مول نواسی کہا جاتا ہے۔ یہ قوم ساؤتھ انڈیا میں آباد ہے۔ ڈراوڈ قوم بھی برہمنی نظام میں شودرقرار پائی تھی۔

جیوتی با پھولے اور پیریار دونوں نے اسلام کی جانب اپنا رجحان ظاہر کیا،لیکن دونوں اسلام سے محروم رہے۔جیوتی باپھولے نے ایک منظوم کتاب مانو محمد ﷺ(ManaV Muhammad)لکھی اور پیریار نے بھی اسلام کے بارے میں عمدہ خیالات کا اظہارکیا۔جی الوسیس (G Aloysius)نے ایک کتاب پیریار آن اسلام(Periyar on Islam) لکھی ہے۔

اس میں اسلام سے متعلق پیریار کے خیالات منقول ہیں۔یہ دونوں گرچہ ہندودھرم میں پیدا ہوئے تھے،لیکن آخرکار دونوں نے ہندوازم کی مخالفت کی تھی۔

ڈاکٹر امبیڈکر نے بھی ہندو دھرم کی مخالفت کی اورہندودھرم چھوڑکر بدھ دھرم کواختیار کرلیا۔چوں کہ بدھ مذہب کے بہت سے طورطریقے ہندودھرم سے مطابقت رکھتے ہیں،اس لیے اس نے بدھ مذہب کواختیار کیا اور اسلام مذہب کو اختیار نہ کیا۔عہد ماضی میں بھی مول نواسی قومیں بدھ دھرم اختیار کرتی رہی ہیں۔آج بھی بھارت کی مول نواسی اقوام کے تعلیم یافتہ افراد خود کو ہندوتسلیم نہیں کرتے،گرچہ حکومت کی نظر میں وہ ہندوہیں۔

ڈاکٹربھیم راؤ امبیڈکر:

ڈاکٹر امبیڈکرکی پیدائش14:اپریل 1891 کومہو،مدھیہ پردیش(Mhow, MP)میں ہوئی۔ 6: دسمبر1956 کودہلی میں موت ہوئی۔آزادی ہندکے بعد29:اگست 1947 کو ڈاکٹر امبیڈکر کو دستوری ڈرافٹنگ کمیٹی کا چیئر مین منتخب کیا گیا۔ امبیڈکرکاتعلق مہاراشٹرکی ہندودلت(Dalit) قوم سے تھا،جومہر (Mahar) کہلاتی ہے۔

ہندومذہب میں چھوت چھات (Untouchability) کے رواج کے سبب ڈاکٹرامبیڈکرنے 14:اکتوبر1956کوناگپور (مہاراشٹر) میں ہندومذہب کوترک کرکے بدھ مذہب کوقبول کرلیا۔

امبیڈکر کی تبدیلی مذہب کودیکھ کر اس کے دلت معتقدین میں سے قریباً پانچ لاکھ لوگوں نے بدھ دھرم کو قبول کرلیا۔چھوت چھات کے خلاف امبیڈکر کی تحریک 1920 سے اپنی موت تک جاری رہی،لیکن خاطرخواہ کامیابی نہیں مل سکی۔امبیڈ کرکا شمار مشہور دلت لیڈروں میں ہوتا ہے۔
کانشی رام:کانشی رام(1934-2006) نے بھی مول نواسی اقوام کوجگا نے کی بہت کوشش کی۔ روپ نگر (Rupnagar) پنجاب میں اس کی پیدائش ہوئی اوردہلی میں موت ہوئی۔

کانشی رام نے سماجی بیداری کے لیے 1971میں بام سیف (BAMCEF) بنائی، اور 14: اپریل 1984کو بہوجن سماج پارٹی (BSP)کی تشکیل کی۔مول نواسی قومیں ایک حدتک بیدار ہوچکی ہیں،پتہ نہیں مسلمان کب جاگیں گے؟

اوبی سی قائدین:

مول نواسی قوموں کو تین بڑے حصوں میں تقسم کیا جاتا ہے۔(1)ایس سی(SC) (2)ایس ٹی (ST) (3)بیک ورڈ کلاس (BC)
اوبی سی میں متعدد سیاسی قائدین ہوئے۔ لالو پرساد یادو،ملائم سنگھ یادو مشہور نام ہیں۔ملائم سنگھ یادو نے 04:اکتوبر 1992 کو سماج وادی(SP) پارٹی کی بنیاد رکھی۔اترپردیش میں کئی سالوں تک اس پارٹی کی حکومت رہی۔لالوپرساد یادو نے 05:جولائی 1997 کو راشٹریہ جنتا دل(RJD) بنایا۔ ریاست بہار میں کئی بار اس پارٹی کی حکومت ہوئی۔

بھارتی کسانوں کی بڑی تعداداوبی سی ہے۔ابھی کسانوں کا احتجاج ملک کے مختلف علاقوں میں پھیلا ہوا ہے اور خاص کر دہلی میں لاکھوں کسان احتجاج کے لیے کئی دنوں سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔یہ لوگ مرکزی حکومت کے بنائے ہوئے زرعی قانون کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں۔

یہ حقیقت بالکل عیاں ہے کہ بی جے پی دراصل آرایس ایس کی آغوش میں پروردہ ایک سیاسی پارٹی ہے۔وہ محض آرین اقوام کی خیر خواہ ہے۔جس طرح ایک قانون کے آنے پر ساراملک روڈ پراترچکا ہے۔

اگر اسی قسم کی تحریک اوراحتجاج الیکشن کے موقع پر ہوجائے توساری کلفت کا خاتمہ ممکن ہے۔انتخابات کے موقع پرایک سیٹ پر متعدد امیدوار قسمت آزمائی کرتے ہیں۔ووٹ تقسیم ہوجانے کے سبب سیکولر پارٹیاں ہار جاتی ہیں اور بی جے پی جیت جاتی ہے۔ایسی صورت میں لازم ہے کہ تمام سیکولر پارٹیاں متحد ہوجائیں اور سیٹوں کی تقسیم کر کے الیکشن لڑیں۔اگر سیاسی پارٹیاں نہ سمجھیں توہرحلقہ کے سیکولر عوام متحد ہوکر ایک امیدوار کو ووٹ دیں،تاکہ ووٹ تقسیم نہ ہوسکے اورسیکولر امیدوار جیت جائے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

تحریر: کامران غنی صبااسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو نیتیشور کالج، مظفرپور میں یقین کے ساتھ کہہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے