توبہ، حقوق اللہ اور حقوق العباد

تحریر: ریاض فردوسی، پٹنہ 9968012976

اے لوگوں جو ایمان لائے ہو!اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرو، خالص توبہ۔ تمہارا رب قریب ہے کہ تم سے تمہاری برائیاں دورکردے اورتمہیں داخل کردے ان باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں،اس دن اللہ تعالیٰ نبی کواوراُن لوگوں کوجواُس کے ساتھ ایمان لائے ہیں،رُسوانہ کرے گا،اُن کانوراُن کے آگے اوراُن کی دائیں جانب دوڑرہا ہو گا،وہ کہیں گے: اے ہمارے رب!ہمارانور مکمل کردے اور ہمیں بخش دے،بلاشبہ تو ہر چیزپرپوری قدرت رکھنے والا ہے(سورہ تحریم۔آیت۔8)
اور وہی ہے جواپنے بندوں سے توبہ قبول کرتاہے اور برائیوں سے درگزرکرتاہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب جانتا ہے(سورہ الشوریٰ۔آیت۔25)
توبہ کے مفہوم کو مولانا مودودی یوں واضح کرتے ہیں،اصل میں توبۃً نصوحاً کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ نصح کے معنی عربی زبان میں خلوص اور خیر خواہی کے ہیں ۔ خالص شہد کو عسل ناصح کہتے ہیں جس کو موم اور دوسری آلائشوں سے پاک کر دیا گیا ہو ۔ پھٹے ہوئے کپڑے کو سی دینے اور ادھڑے ہوئے کپڑے کی مرمت کر دینے کے لیے نصاحۃ الثوب کا لفاظ استعمال کیا جاتا ہے۔ پس توبہ کو نصوح کہنے کا مطلب لغت کے اعتبار سے یا تو یہ ہو گا کہ آدمی ایسی خالص توجہ کرے جس میں ریاء اور نفاق کا شائبہ تک نہ ہو ۔ یا یہ کہ آدمی خود اپنے نفس کے ساتھ خیر خواہی کرے اور گناہ سے توبہ کر کے اپنے آپ کو بد انجامی سے بچا لے۔ یا یہ کہ گناہ سے اس کے دین میں جو شگاف پڑ گیا ہے، توبہ کے ذریعہ سے اس کی اصلاح کر دے۔ یا یہ کہ توبہ کر کے وہ اپنی زندگی کو اتنا سوار لے کہ دوسروں کے لیے وہ نصیحت کا موجب ہو اور اسکی مثال کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اسی کی طرح اپنی اصلاح کرلیں ۔ یہ تو ہیں توبہ نصوح کے وہ مفہومات جو اس کے لغوی معنوں سے مترشح ہوتے ہیں ۔ اسی کا شرعی مفہوم تو اس کی تشریح ہمیں اس حدیث میں ملتی ہے جو ابن ابی حاتم نے زر بن حبیش کے واسطے سے نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب ؓسے توجہ نصوح کا مطلب پوچھا تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے یہی سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد یہ ہے کہ جب تم سے کوئی قصور ہو جائے تو اپنے گناہ پر نادم ہو ، پھر شرمندگی کے ساتھ اس پر اللہ سے استغفار کرو اور آئندہ کبھی اس فعل کا ارتکاب نہ کرو ۔ یہی مطلب حضرت عمر، حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی منقول ہے، اور ایک روایت میں حضرت عمر ؓنے توبہ نصوح کی تعریف یہ بیان کی ہے کہ توبہ کے بعد آدمی کا اعادہ تو درکنار، اس کے ارتکاب کا ارادہ تک نہ کرے(ابن جریر) مولیٰ ٰ علی کرم اللہ وجہ نے ایک مرتبہ ایک بدو کو جلدی جلدی توبہ و استغفار کے الفاظ زبان سے ادا کرتے سنا تو فرمایا یہ توبۃ الکذابین ہے۔ اس نے پوچھا پھر صحیح توبہ کیا ہے؟ فرمایا اس کے ساتھ چھ چیزیں ہونی چاہیں (1) جو کچھ ہو چکا ہے اس پر نادم ہو ۔ (2) اپنے جن فرائض سے غفلت برتی ہو ان کو ادا کر(3) جس کا حق مارا ہو اس کو واپس کر(4) جس کو تکلیف پہنچائی ہو اس سے معافی مانگ(5) آئندہ کے لیے عزم کر لے کہ اس گناہ کا اعادہ نہ کرے گا(6) اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت میں گھلا دے جس طرح تو نے اب تک اسے معصیت کا خوگر بنائے رکھا ہے اور اس کو طاعت کی تلخی کا مزا چکھا جس طرح اب تک تو اسے معصیتوں کی حلاوت کا مزا چکھاتا رہا ہے(کشاف)
توبہ کے سلسلہ میں چند امور اور بھی ہیں جنہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ اول یہ کہ توبہ درحقیقت کسی معصیت پر اس لیے نادم ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی ہے۔ ورنہ کسی گناہ سے اس لیے پرہیز کا عہد کر لینا کہ وہ مثلاً صحت کے لیے نقصان دہ ہے، یاکسی بدنامی کا، یا مالی نقصان کا موجب ہے، توبہ کی تعریف میں نہیں آتا۔ دوسرے یہ کہ جس وقت آدمی کو احساس ہو جائے کہ اس سے اللہ کی نافرمانی ہوئی ہے، اسی وقت اسے توبہ کرنی چاہیے اور جس شکل میں بھی ممکن ہو بلا تاخیر اس کی تلافی کر دینی چاہیے، اسے ٹالنا مناسب نہیں ہے۔ تیسرے یہ کہ توبہ کر کے بار بار اسے توڑتے چلے جانا اور توبہ کو کھیل بنا لینا اور اسی گناہ کا بار بار اعادہ کرنا جس سے توبہ کی گئی ہو، توبہ کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ توبہ کی اصل روح گناہ پر شرمساری ہے، اور بار بار کی توبہ شکنی اس بات کی علامت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی شرمساری موجود نہیں ہے۔ چوتھے یہ کہ جو شخص سچے دل سے توبہ کر کے یہ عزم کر چکا ہو کہ پھر اس گناہ کا اعادہ نہ کرے گا، اس سے اگر بشری کمزوری کی بنا پر اسی گناہ کا اعادہ ہو جائے تو پچھلا گناہ تازہ نہ ہو گا البتہ اسے بعد والے گناہ پر پھر توبہ کرنی چاہیے اور زیادہ سختی کے ساتھ عزم کرنا چاہیے کہ آئندہ وہ توبہ شکنی کا مرتکب نہ ہو ۔ پانچویں یہ کہ ہر مرتبہ جب معصیت یاد آئے، توبہ کی تجدید کرنا لازم نہیں ہے، لیکن اگر اس کا نفس اپنی سابق گناہ گارانہ زندگی کی یاد سے لطف لے رہا ہو تو بار بار توبہ کرنی چاہیے یہاں تک کہ گناہوں کی یاد اس کے لیے لذت کے بجائے شرمساری کی موجب بن جائے۔ اس لیے جس شخص نے فی الواقع خدا کے خوف کی بنا پر معصیت سے توجہ کی ہو وہ اس خیال سے لذت نہیں لے سکتا کہ وہ خدا کی نافرمانی کرتا رہا ہے۔ اس سے لذت لینا اس بات کی علامت ہے کہ خدا کے خوف نے اس کے دل میں جڑ نہیں پکڑی ہے۔
لیکن لوگ بندوں کے حقوق کو ادا کرنے کی کوئی اہمیت نہیں سمجھتے بندوں کے حقوق کا معاملہ ہی اہم ہے حقوق اللہ سے زیادہ حقوق العبادیعنی بندوں کا حق ہے اللہ تعالی رحیم وکریم ہے،عفو اور درگزرکرنے والاہے، وہ اپنے فضل و کرم سے اپنے بندوں پر رحم فرما کر اپنے حقوق کو معاف فرما دے گا انشاء اللہ (آمین) بندوں کے حقوق کو اللہ تعالی اس وقت تک نہیں معاف فرمائے گا جب تک بندہ اپنے حقوق کو معاف نہ کر دے۔بندوں کے حقوق کو ادا کرنا، یا معاف کرا لینا بہت ضروری ہوتا ہے ورنہ روز محشر میں بڑی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔دنیاوی عیش و عشرت کی خاطر ہم لوگ ہر ظلم و ستم کر کے دنیاکی چند روزہ زندگی کے لئے مال ودولت حاصل کر کے عیش وعشرت کا سامان مہیا کر لیتے ہیں،ہمیںآخرت کا کچھ خوف نہیں ہوتا ہے کہ اللہ تعالی بروز حشر ہمارے کئے ہوئے اعمال کی پرسس کرے گا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا روز قیامت تمہیں اہل حقوق کو ان کے حقوق ادا کرنے ہوں گے یہاں تک کہ کہ جس بکری کا معاملہ اگر بکری سے ہوا ہوگا تو ہو اس کا بدلہ بھی دلایا جائے گا یعنی سنگھ والی بکری اگر بے سنگھ والی بکری کو سنگھ سے مارا ہوگاتو اس کا بھی انصاف ہوگا (اوکما قال ﷺ۔مسلم شریف۔کتاب البر والصلۃ،باب تحریم الظلم،ج۔2،ص۔320،مجلس البرکات)
حقوق العباد (بندوں کے حقوق) کے معاف ہونے کے دو راستے ہیں۔ پہلا جو اگر ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ فوراً ادا کر دے،دوسرا اگر ادا کرنے کا متحمل نہیں ہو،چ اور جس پر ظلم کیا ہے،جس کے حقوق کی پامالی کی ہے، ان سب سے جا جاکر باری باری معافی مانگے۔اگر ان میں سے کچھ لوگ انتقال کر چکے ہو تو ان کے بیٹوں،رشتے داروں سے رجوع کرے۔اگر سب لوگ دنیا میںنہ ہو تو سب کے لئے دعائیں مغفرت کرے،اور معاملہ اللہ کے حوالے کر د۔مخدوم شرف الدین ؒ فرماتے ہیں کہ جو انسان پیدائش سے لے کر موت تک گناہ کرے وہ انسان نہیں شیطان ہے ،جو انسان پیدائش سے موت تک صرف نیکی کرے وہ بھی انسان نہیں وہ فرشتہ ہے ،آدم اور آدم کے بیٹوں سے غلطی ہونا بڑی بات نہیں لیکن آدم کے بیٹے اپنی غلطی پر فوراََ نادم ہوتے ہیں اور گناہوں کی توبہ کرتے ہیں ،صاحب معاملہ سے معافی مانگتے ہیں۔بابا آدم علیہ السلام اور ابلیس ملعون میں گناہوں پر شرمندگی اور ندامت کا فرق ہے،آدم رونے لگے اور ملعون اپنے تکبر اور بڑاہونے کے گھمنڈمیں برباد ہوا۔اگرچہ بابا آدم نے بھی اللہ کی نافرمانی کی لیکن باوجود نافرمانی کہ بارگاہ بے کس پناہ میں سجدہ ریز ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگے،ابلیس اپنے گناہ پر شرمندہ نہ ہونے اور اللہ کے آگے تکبر کرنے سے ملعون بارگاہ خدا وندی ہوا ہے۔اللہ کا ظرف اتنا کمزور نہیںکہ بندوں کے گناہوں پر فوراََ عذاب کاکوڑا برسائے ،یہ ایمان رکھے کہ اگر بندہ پورے کائنات جتنی یا اس سے بڑھ کر بھی گناہ کرے اور سچے اور پاک دل سے توبہ کرے اس پناہ دینے والے رب کے حضور ،جس کی بارگاہ میں ہر گنہگار ،خطاکار،معصیت کے سیاہ لباس میں ملبوس لوگوں کو بھی پناہ ملتی ہے۔جس کا در کبھی اپنے بندوں کے لئے بند نہیں ہوتا،جہاں سارے دروازے بند ہوجاتے ہیں اس کا در ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ بندہ جس سمت سے بھی، جس طرف سے بھی اس کو پکارتا ہے، اس کی رحمت فوراََ لبیک کہ کر حاضر ہوتی ہے۔وہ اپنے بندوں سے بے انتہا محبت کرتا ہے،بس بندے کو چاہئیے جتنا بھی گناہ کر لیں(جانے یا انجانے میں)اس کے آگے اپنی ناک رگڑے ،اس کے سامنے گھمنڈ نہ کرے۔تکبر نہ کرے۔نادم اور شرمندہ ہو۔ابلیس نہ بنو آدم بنو
(حوالہ۔۔۔۔۔۔تفسیر ابن کثیر،تفہیم القرآن،تفسیر،کشاف، فیوض الرحمان،فتاویٰ رضویہ )
آخر میں!
دنیا اگر اللہ کے سچے دین سے بے خبر ہے تو سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کی ذمہ داری کس کے اوپر آتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر نہیں جو بے خبر ہیں۔ بلکہ اس کی ذمہ داری صرف ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو اس سے باخبر ہیں، مگر انہوں نے عوام و خواص کو خبردار نہ کیا،لوگوں کے طعنہ زنی کے ڈر سے حقیقی دین پر نہ خود عمل کیا نہ لوگوں کو اس کی طرف بلایا۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے