اپنے کو اچھا ثابت کرنے کے لیے کیا دوسروں کی بُرائی کرنا ضروری ہے؟

تحریر: حافظ محمد ہا شم قادری مصباحی ،جمشید پور

مذہب اسلام نے تمام انسانوں کو زندگی گزار نے کا طریقہ بتایا، اسلام دین فطرت اور دین انسانیت ہے، اس کی تمام تعلیمات انسانی فطرت(By Nature )کے عین مطابق ہیں۔ اسلام کو دنیا کے تمام مذاہب میں اس لحاظ سے ایک امتیازی( وہ حقوق جو کسی خاص شخص یا جماعت کو حاصل ہوں) حیثیت ومقام حاصل ہے کہ اس کے سوا دنیا کے دیگر مذاہب اور تہذیبیں ایسا ضابطۂ حیات پیش کرنے سے قاصر ہیں،جس میں انسان کی ا نفرادی زندگی سے لے کر پور ے انسانی معاشرے کی اصلاح( اخلاق وخیالات کی برائیاں دور کرنا،یا صحیح راستے پر ڈالنا) کی ضمانت دی گئی ہو۔ اسلام نے معاشرے کی اصلاح کے جو طریقے بتائے ہیںوہ نہ مغربی تہذیب میں ہیںاور نہ ہی کسی دوسری تہذیبوں میں ہیں۔ دین فطرت اسلام نے معاشرت میں(مل جل کر زندگی بسر کرنا) اجتماعی زندگی گزارنے کاڈھنگ ،سبھی انسانوں کا احترام سکھایا اوربتا یا۔اسلام والدین کے حقوق،بڑوں کا ادب واحترام،چھوٹوں پر شفقت ومحبت،رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھے برتائو ،ہر فرد سے بلا تمیز رنگ ونسل حسن سلوک اور حسن معاشرت کی تعلیم دیتا ہے۔افسوس کہ آج اسلام کے ماننے والے ہی اسلامی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں،حیرت تو اس بات پر ہے جو لوگ دین کی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ،وہ بھی اسلامی قدروں سے بہت دور ہوتے جارہے ہیں۔
عزت و احترام کی قدریں بدل گئیں:اسلام نے جو عزت ،وقار کا طریقہ بتا یا، آ ج زیادہ تر لوگ اُس کے خلاف کررہے ہیں۔ اب دنیا کے اندر جو باوقعت ہے، جو اونچے مقام اور منصب والا ہے،جو روپیہ ،پیسہ والاہے اس کی عزت بھی ہے، اس کا اکرام بھی ہے،اس کی طرف توجہ بھی ہے۔جو شخص دنیا وی اعتبار سے کمزور ہے، اس کے پاس پیسے نہیں ہیں،یا معمولی پیشے والا ہے، نہ تو دل میں اس کی عزت ہے،نہ اس کا احترام ہے، نہ اس کی طرف توجہ ہے۔ بلکہ اس کے ساتھ حقارت کا معاملہ کیا جاتاہے۔ یا درکھئے اس طرز عمل کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی کے ساتھ تعلق ہو گیا، خواہ سیاسی ہو ،یا دینی تو اس کو اس طرح بانس میں چڑھاتے ہیں کہ اب اس کے اندر کوئی عیب ہی نظر نہیں آتا۔ اس بات پربڑا تعجب یہ ہے کہ اگر کسی نے اُ س کی کمی ، غلطی کی نشاندہی کر دی تو غضب ہو گیا ،اس کو سننا گوارا نہیں ہوتا، اور اس کے بارے میں رائے قائم کر لی جاتی ہے کہ یہ معصوم عن الخطاء ہے۔’’یا درہے دنیا میں صرف انبیائے کرام،رسولان عظام ہی معصوم عن الخطاء ہیں اور انبیا ء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عصمت پر اجماعِ اُمت ہے۔ تمام انبیا کفر و شرک، کبائر و صغائر سے پاک ہیں‘‘(ان میں سے کسی ایک چیز کا منکر علما ئے حق اہل سنت و الجماعت سے خارج ہے۔) اپنے چاہنے والے کی نشاندہی کرنے والے کی برائی کرنا ،اپنا فرض سمجھنے لگتے ہیں۔ جیسے کہ آج سیاست میں ہے، اگر آپ الیکشن میں کھڑے ہو جائیں ،بس پھر دیکھئے آپ اور آپ کی کئی پشتوں کے ُمردوں تک کی بُرائیاں نکال دیتے ہیں اور خوب پھیلاتے ہیں یہ سب سیا ست میں تو چلتا ہے،’’غلط تھا غلط ہے‘‘ لیکن افسوس صد افسوس !اب دین کے ذمہ داران نے اس کا بیڑا( کسی کام کو کرنے کا ذمہ لینا) اٹھارکھا ہے،سبھی تو نہیں مگر زیادہ تر، الا ماشا اللہ۔ کیا ایسے لوگ اسلامی حسن معاشرت،حسن اخلاق کی تعلیم سے نا آشنا( نا واقف، لا علم،بے خبر، انجان،) ہیں؟ اگر معلوم ہے تو پھر نفس اور شیطان کو اپنا پیر کیوں بنائے ہوئے ہیں؟۔صرف نماز روزے کا نام دین تو نہیں ہے بلکہ یہ بھی تو دین ہے کہ محبت کرو تو اعتدال کے ساتھ اور دشمنی بھی کرو تو اعتدال کے ساتھ، اللہ کے نیک بندے ان باتوں پر عمل پیرا ہیں۔
مرنے والوں کو بُرا مت کہو: اسلامی معاشرت ،حُسنِ سلوک میں انسانوں کی عزت و تکریم کی بہت اہمیت ہے،زندہ انسانوں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور ان کی بُرائی غیبت کرنے سے منع کیا گیا ہے، کلام الٰہی میں اس کی سخت وعید اور مذمت آئی ہے۔
تر جمہ: اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بیشک کوئی گمان گناہ ہو جاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو ،کیا تم میں کوئی پسند کرے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہو گا اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ بہت توبہ قبول کر نے والا مہر بان ہے۔( کنز الایمان)
غیبت اگر چہ عربی لفظ ہے،لیکن ہر خاص و عام اس کا مفہوم سمجھتا اور روز مرہ کی گفتگو میں اس کا استعمال کرتا ہے اور لُطف کی بات یہ کہ اسے کوئی بھی فردِ انسانی اچھا نہیں سمجھتا پھر بھی زیادہ تر لوگ اس موذی اور کریہہ گناہ کے عادی ہیں۔استغفر اللہ!،حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں’’ اے انسان! تو اپنے اوپر خدا کے ذکر کو لازم کر کیوں کہ وہ شفا ہے، اور غیبت سے بچ کیوں کہ یہ بیماری ہے۔‘‘ پھر فرماتے ہیں’’ جو غیبت سے توبہ کر کے مرا، وہ سب سے بعد میں جنت میں جائے گا اور جو شخص بلا توبہ مرا، وہ سب سے پہلے دوزخ میں جائے گا۔‘‘ مرنے والوں تک کو بُرا کہنے سے منع کیا گیا ہے،تو زندہ کی برائی کب روا ہو گی؟حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ﷺ نے فر مایا: ’’ جن لوگوں کا انتقال ہو چکا ہے،اُن کو بُرا مت کہو، اس لئے کہ مُردوں کو برا کہنے سے زندہ لوگوں کو تکلیف ہو گی۔ (ترمذی،باب ماجاء فی الشتم)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فر مایا:’’فوت شدہ لوگوں کو بُرا بھلا مت کہو،کیونکہ انہوں نے ( اچھے یا بُرے) جو اعمال آگے بھیجے ہیں، وہ اُن ( بدلے) تک پہنچ چکے ہیں۔‘‘(صحیح بخاری: 1393)۔ جب مُردوں کی برائیوں کا ذکر منع ہے تو تو کیا زندوں کی کرنا صحیح ہے؟ افسوس !آج ہمارا بہت محبوب مشغلہ بن گیاہے، اپنی تعریف کرنا کرانا، پسند کرنا،بھلے اس کے لیے دوسروں کی برائی ہی کیوں نہ کر نا پڑے۔استغفراللہ!اللہ بچائے۔
احترامِ انسانیت کی بنیاد اسلام نے ڈالی: اگر کسی مسلمان بھائی کے اندر کوئی دینی خرابی ہے تو پیار ومحبت سے اس کو بتانا چاہیے کہ آپ کے اندر یہ خرابی ہے، اسے دور کریں۔ نہ کہ اس کی برائی کرتے پھریں، اس سے اس کی برائی تو دور نہیں ہوگی بلکہ آپ کے رویہ سے وہ اور دوسرے لوگ آپ سے نفرت کر نے لگیںگے۔ دین اسلام نے جو احکام ہم پر اورآپ پر عائد کئے ہیں، وہ پانچ شعبوں سے متعلق ہیں:
(1) عقائد: اللہ رب العزت پر ایمان لانا ،اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرنا، نبی آخر الزماں ﷺ پر ایمان لانا کہ آپ ﷺ اللہ کے نبی ورسول ہیں۔ (2) عبادات(3) معاملات(4) معاشرت( 5) اخلاق۔ لوگ عبادت کو ہی دین سمجھتے ہیں،یا اس جانب توجہ دیتے ہیں۔ معاملات، معاشرت و اخلاق پر توجہ بہت کم دیتے ہیں،جب کہ یہ بھی دین اسلام کا اہم حصہ ہیں،خاص کر معاشرت اور اخلاق دین اسلام کی بنیاد ہیں۔ ابو بکر زکریا یحییٰ بن شرف (امام) النو وی بہت بڑے علامہ، فقیہ،محدث اور مصنف تھے ۔ آپ نے اپنی کتابوں میں معاشرت کے الگ الگ باب قائم فر مائے ہیں، معاشرت کے پہلے باب میں آپ لکھتے ہیں۔ دین اسلام ان پانچ شعبوں سے مکمل ہوتا ہے،اگر ان میں سے ایک کو بھی چھوڑدیا جائے تو پھر دین مکمل نہیں ہوگا لہٰذا عقائد بھی درست ہونے چاہئے،عبادات بھی صحیح طریقے سے کرنا چاہئے،لوگوں کے ساتھ لین دین اور خرید و فروخت کے معاملات بھی شریعت اسلامیہ کے مطابق ہونے چاہئے،اور اخلاق بھی اچھے ہونے چاہئے۔ آقا ﷺ نے اخلاقی اقدار کی تکمیل کو ہی وجہ بعثت قرا دیتے ہوئے فر مایا:’’انما بعثت لا تمم مکارم الاخلاق۔‘‘۔ سنن کبری للبیہقی،ج10،:ص192) اور زندگی گزار نے کے طریقے بھی درست ہونے چاہئے جس کو معاشرت کہا جاتاہے،’’معاشرت‘‘ کی اصلاح کے بغیر دین ناقص ہے۔ ائمہ کرام نے اس کی بہت اہمیت بتائی ہے۔ معاشرت کے دوسرے باب میں امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’کمزور مسلمانوں کی فضیلت کے بیان میں‘‘ باب قائم فر مایا ہے۔ ’’باب فصل ضعفۃ المسلمین والفقراء والخا ملین‘‘ یعنی ایسے مسلمان جو مالی اعتبار سے سے کمزور ہیں، منصب اور عہدے کے اعتبار سے کمزور ہیں،جسمانی اعتبار سے کمزور ہیں، ان کے فضائل کے بارے میں بہت سی احادیث کوڈ فر مائی ہیں پہلی حدیث یہ نقل فر مائی ہے۔
حضور ﷺ نے صحابہ کرام سے خطاب کرتے ہوئے فر مایا: کیا میں نہ بتائوں کہ جنتی کون ہے؟ پھر فر مایا کہ وہ ہر شخص جو کمزور ہے اور لوگ بھی اسے کمزور سمجھتے ہیںیا تو جسمانی اعتبار سے کمزور ہو، یا مالی اعتبار سے کمزور ہو، یا حیثیت اور رتبے کے اعتبا رکمزور ہو ، یعنی دنیا والے اس کو کم حیثیت اور کم رتبہ والا سمجھتے ہیں، لیکن وہ کمزور شخص اللہ کے یہاں اتنا محبوب ہے کہ اگر وہ اللہ کے اوپر کوئی قسم کھالے تو اللہ تعالیٰ اس قسم کو پورا کر دیتا ہے، یعنی اگر وہ شخص یہ قسم کھالے کہ فلاں کام اس طرح ہو گا تو اللہ تعالیٰ وہ کام اسی طرح کرا دیتا ہے۔ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے،اور اللہ تعالیٰ اس کی محبت اور اس کی قدر کی بناپر ایسا ہی کر دیتا ہے۔( بخاری،کتا ب الا دب،باب الکبر،حدیث:6071)
احادیث پاک کے ذخیرے میں بہت سی احادیث موجود ہیں،آپ ﷺ کی تعلیمات سے ہم مسلمانوں کو سبق لینا چاہئے اور اپنے معاملات،لین دین اور اخلاق کا محاسبہ کر نا چاہئے اور جو کمی ہے، اسے درست کرنا چاہئے۔
مقتداکی اَنا،پد رم سلطان بود کا نشہ: پدرم سلطان بود،(لفظاً: میراباپ باد شاہ تھا) ایسے مو قع پر بولتے ہیں جو شخص خود تو کسی حیثیت کا مالک نہ ہو اور اپنے باپ ،دادا کی بڑائی بیان کرتے پھر تا ہے۔ فارسی کا یہ مشہور محاورہ ان تنِ آسان جانشینوں کی سوچ کا آئینہ دار ہے، جو اپنی زند گی اپنے آباء و اجداد کی عظمت کی دلفریب کہانیوں کے خواب میں گزار دیتے ہیں،ایسے حضرات اپنی تعریف کے بھوکے اور چھچھورے(کم ظرف،ذلیل، خود نمائی کااظہار کرنے والا) ہوتے ہیں۔ اس چاہت میں ایسے لوگ دوسروں کی بُرائی کر نا اپنا محبوب مشغلہ بنالیتے ہیںاور سماج میں اپنی عزت کھودیتے ہیں اور احکم الحاکمین کی بار گاہ کے بھی مجرم ہوتے ہیں، حیرت تو جب ہوتی ہے کہ بڑے بڑے القاب والے مقتدا(پیش امام،وہ شخص جس کی لوگ پیروی کریں) حضرات بھی انا کی بیماری میں مبتلا نظر آتے ہیں،ہمارے ہی شہر کی ایک مسجد میں امام صاحب خدمت انجام دے رہے تھے،کئی وجوہات کی بنا پر اُن کو مسجد میں امامت کی خدمت سے کمیٹی نے ہٹا دیا۔ (یہ عام طور پر ہوتے رہتا ہے،کہیں امام چلا جاتا ہے،کہیں کمیٹی امام صاحب کو نکال دیتی ہے)۔ امام صاحب کثیر العیال ہیں، موجودہ حالات سے پریشان ہیں،نئی جگہ کی تلاش بہت زوروں سے کر رہے ہیں۔ایک ملا قات میں اُنہوں نے بتایا کہ میں اب اُس مسجد میں نماز پڑھنے نہیں جاتا ہوں ،گھر ہی میں نماز ادا کر رہا ہوں اور جمعہ کی نماز فلاں مسجد میں پڑھنے جا تا ہوں۔ میں نے کہا کیوں،کیا امام صاحب متشرع( شرع کا پابند، دین کے احکام پر عمل کرنے والا) نہیں ہے کیا؟ کوئی شرعی قباحت ہے کیا؟ کہا نہیں حضرت میں اب اس مسجد میں کیسے نماز پڑھ سکتا ہوں جہاںمیں پانچ سالوں سے مقتدا(امام) تھا،با دشاہ تھا ۔لوگ میرے پیچھے نماز پڑھتے تھے ،اب میں وہاں مقتدی بنوں؟ میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا۔ استغفراللہ،استغفراللہ!۔
یہ حال ہے ہمارے ذمہ داران کا۔اب آںجناب نے پوری کمیٹی بستی کے کئی معتبر حضرات کی’’ بُرائی کرنے‘‘ کابیڑا اٹھارکھا ہے، میں نے بہت سنجید گی سے سمجھایاایسا نہ کریں۔ اس سے آپ کی اور عزت کم ہوگی۔محبت سے پیش آئیے، ان شا ء اللہ تعالیٰ حالات بدل جائیں گے۔ بقول شاعر
؎ وہ میرے چہرے تک اپنی نفرتیں لایا تو تھا ٭ میں نے اس کے ہاتھ چومے اور بے بس کردیا (وسیم بریلوی)
؎ بہت غرور ہے تجھے اپنی انا پر ٭ جا ہم تجھے جانتے ہی نہیں (حبیب جالب)
کیا ہمارے لیے رب کا فر مان بہترین راستہ نہیں۔(تر جمہ) اور اچھائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔برائی کو بھلائی کے ساتھ دور کرو تو تمہارے اور جس شخص کے درمیان دشمنی ہوگی وہ اس وقت ایساہو جائے گا کہ جیسے وہ گہرا دوست ہے۔( القرآن،سورہ،41آیت34) حضور ﷺ کے اخلاق مبارک میں برائی کو بھلائی سے ٹال دینے کی بہت عالی شان مثالیں موجود ہیں۔ اپنی پیار بھری نظریں ڈالیے تو حسن اخلاق ، حسن معاشرت سے پُر عمل تو کریں ،آپ کو کسی کی برائی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اسلامی کتب کا مطالعہ فر مائیں اور اپنے بچوں کو اپنا دین ،اپنا مسلک خوب بتائیں ۔اس پر ان کو عمل کرنے کو کہیں۔والیکن خدارا،خدارا اسلامی تعلیم حسن معاشرت،حسن اخلاق کی تعلیم بھی ضرور دیں،اپنی خوبی خوب بیان کریں لیکن دوسروں کی برائی سے بچنے کی تعلیم بھی دیں۔اللہ خیر فر مائے۔ آمین ثم آمین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے