نعت رسول: ہے مرے دل پہ تری یاد کا پہرہ مضبوط

نتیجۂ فکر: محمد عبدالمبین فیضی، مہراج گنج

ہے مرے دل پہ تری یاد کا پہرہ مضبوط
اس لیے تو ہے مرے عشق کا قبلہ مضبوط

آسماں پر مہ و خورشید یوں نغمہ زن ہیں
روئے جاناں کی تجلی کا ہے ہالہ مضبوط

شہر جاناں میں تو خود پر نہیں ہوگا قادر
چاہے جتنا بھی تو کر اپنا ارادہ مضبوط

تیرا دیوانہ ہوں دیوانہ حقیقت ہے یہی
نام کا تیرے مرے دل پہ ہے کتبہ مضبوط

ہے وہاں جلوہ فگن نعمت مولیٰ کا قسیم
ہم فقیروں کا مدینے سے ہے رشتہ مضبوط

وہ بَلندی کا ہوا کُوہِ ہِمَالَہ بیشک
جس نےبھی تم سے رکھا اپنا علاقہ مضبوط

آسماں کے مہ ِ تاباں نے بھی سینہ چیرا
تیری انگلی کا ہے کس درجہ اشارہ مضبوط

تو جسے ایک نظر دیکھے وہ تیرا ہوجائے
اس قدر دل پہ ترا ہوتا ہے قبضہ مضبوط

تیرے عشاق کے زمرے میں جب آیا فیضی
واقعی ہوگیا اس کا بھی نصیبہ مضبوط

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تبصرہ بر "شعر کیسے بنتا ہے” از شہزاد احمد کھرل شاذ

الحمدللہ آج بتاریخ 17/ اپریل 2021 بروز سنیچر استاد محترم جناب شہزاد احمد کھرل شاذ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے