غزل: جلنا،تڑپنا اشک بہانا فضول ہے

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان

کس نے کہا کہ دل کا لگانا فضول ہے
جلنا، تڑپنا اشک بہانا فضول ہے

کس طرح میرے نام پہ مرتے تھے وہ کبھی
اُس بے وفا کو یاد دلانا فضول ہے

دن بھر وہ میرے ساتھ رہے تھے خفا خفا
یعنی کہ اُن کا خواب میں آنا فضول ہے

میں نے کہا کہ درد میں رہتا ہوں مبتلا
اُس نے کہا کہ درد پرانا،فضول ہے

بیشک رہا نہ کوئی یہاں مستقل کبھی
اِس عارضی جہاں میں ٹھکانہ فضول ہے

کیوں کر وہ میرے حال سے رہتا ہے بے خبر
اپنی زباں سے حال بتانا فضول ہے

فیضان تمہارے ہاتھ کا کنگن نہیں رہا
اب چوڑیوں سے ہاتھ گھمانا فضول ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بزمِ ایوانِ غزل کا ماہانہ طرحی مشاعرہ کا انعقاد

سعادت گنج/بارہ بنکی:6اپریل، ہماری آواز(پریس ریلیز) بزمِ ایوانِ غزل کا ماہانہ طرحی مشاعرہ آئیڈیل انٹر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے