مسلم،ہندو متحدہ محاذ: سال1857

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

پہلی جنگ آزادی: 1857 کوئی اتفاقی حادثہ نہ تھا،بلکہ آزادی وطن کی ایک منظم کوشش تھی،جو بعض غداروں کے سبب ناکام ہوگئی۔ اس میں مسلم و ہندو رہنما، بادشاہ دہلی، نواب و حکام، بہت سے راجا ومہاراجا شریک تھے۔ فوجیوں کوبھی خبرکردی گئی تھی۔

مؤرخ تاراچند نے لکھا:
”میسورکے جڈیشیل کمشنرمسٹر ایچ بی ڈورو کے سامنے بیان دیتے ہوئے سیتارام باوا نے کہا:

”ناناصاحب اورمان سنگھ نے دہلی کے بادشاہ سے خط و کتابت کی،اوریہ طے ہواکہ بادشاہی مسلمانوں کوملے اوردیوان گیری ہندؤں کے حصے میں آئے۔ان بیانوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نانا صاحب کوشش کررہے تھے کہ شہنشاہ کے ساتھ مل کرکام کریں۔پٹنہ،الٰہ آباد،لکھنو،کانپور،فرخ آباد،بریلی وغیرہ کے حکمراں اپنے القاب کی تصدیق کے لیے دہلی پر نظریں جمائے ہوئے تھے،اوردہلی کی کوشش تھی کہ تمام طبقوں میں تال میل پیدا کیاجائے۔

وہ ہندوستانی سپاہیوں کی رجمنٹ ہوں یاہندوستانی راجہ،نواب اورامیر۔شہنشاہ نے فوجوں کوہدایتیں جاری کیں اورشمالی ہندوستان کی کئی حصوں سے عرض داشتیں قبول کیں یعنی راجپوتانہ،مالوہ،صوبجات متوسط، شمال مغربی صوبجات اور اودھ اور بہارسے۔ پٹیالہ اور گوالیار کے راجوں،راجستھان کے راجوں،کشمیر کے مہاراجہ گلاب سنگھ اوردوسرے ہندومسلم سرداروں کو نجی خط بھی لکھے گئے۔کچھ نے اطاعت ظاہر کی،لیکن بہت سوں نے یاتو کوئی بہانہ بنادیا یاراست عمل سے گریز کیا،اس لیے کہ ان کے خیال میں بغاوت کی کامیابی کے امکانات بہت کم تھے،اورناکامی کی صورت میں ان کی تباہی لازمی تھی“۔
(تاریخ تحریک آزادی ہندجلددوم:ص94)

اس جنگ میں شکست کی دو بڑی وجہ تھی:
(۱)فوجی قیادت کی نااہلی
(۲)بھارتیوں کی غداری۔

بادشاہ دہلی بہادرشاہ ظفر نے اپنے خاندان کے بعض ایسے لوگوں کو سپہ سالاری سونپ دی جو اس کے لائق نہیں تھے۔فوج کے دیگر قائدین بھی اس قیادت سے ناراض تھے،لیکن بادشاہ نے اس میں تبدیلی نہ کی۔دوسری وجہ یہ ہوئی کہ بہت سے غدار شاہی فوج کی خبر یں انگریزوں تک پہنچاتے رہے۔برہمنوں اور راجپوتوں کا طبقہ ہمیشہ سلطنت مغلیہ کو ختم کرنے کے لیے زور لگاتا رہا تھا،وہ اس سنہرے موقع کو ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتے تھے۔ان لوگوں نے درپردہ انگریزوں کی حمایت کی۔گرچہ بہت سے برہمن وراجپوت بادشاہ دہلی کے ساتھ تھے،لیکن سب لوگ ساتھ نہیں تھے۔

پنچابیوں نے اعلانیہ طورپر انگریزوں کا ساتھ دیا۔ان کے ساتھ مل کر ملکی فوجیوں سے جنگیں لڑیں۔آزادی ہند کے وقت بھی مسلمانوں پر سب سے زیادہ ظلم وستم پنجابیوں نے ڈھایا تھا۔انہیں امید تھی کہ پنجاب سے مسلمانوں کا صفایا کردیا جائے تو پنجابیوں کو ایک الگ ملک مل جائے گا۔آپریشن بلیو اسٹاراسی خواب کی تعبیر تھی اور مسلمانوں پر ظلم وجبر کے سبب قہر خداوندی کا ایک نمونہ،جس نے سکھوں کوبہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔

جب کانگریسی حکومت نے پنجابیوں کے خلاف امرتسر گولڈن ٹیمپل پر جون 1984میں (03:جون تا 08:جون) آپریشن بلو اسٹار کیا،جس میں بہت سے سکھ مارے گئے اور بہت سے سکھ جوانوں ونوجوانوں کوحکومت مخالف سرگرمیوں میں حصہ داری کے شبہہ میں گرفتار کرلیا گیا،تب ان کی آنکھیں کھلیں اوربرہمنی سازشوں سے واقف ہوئے کہ ہمیں مسلمانوں کے خلاف ورغلایا جاتا ہے اور جب ضرورت پڑتی ہے تو ہمیں بھی گاجرمولی کی طرح کاٹ دیا جاتا ہے۔اس کے بعد سکھ قوم مسلمانوں کے حق میں نرم پڑ گئی۔

جس وقت سکھوں کے خلاف کاروائی ہورہی تھی،اس وقت ملک کا صدر جمہوریہ گیانی ذیل سنگھ بھی سکھ ہی تھا اور سکھوں پر یلغار کرنے کے لیے بھیجی گئی فوج کے کمانڈر بھی سکھ ہی تھے،یعنی سکھوں کے ہاتھوں سکھوں کو کچل دیا گیا۔

فوجی کمانڈر میجر جرنل کلدیپ سنگھ برار پنجابی تھا اورلیفٹنینٹ جرنل رنجیت سنگھ دیال (2012-1928)سکھ تھا۔

گیانی ذیل سنگھ کی مدت صدارت 25: جولائی 1982سے25:جولائی 1987تک تھی۔

31:اکتوبر1984کواندرا گاندھی کو اس کے سکھ باڈی گارڈ نے گولیوں سے ہلاک کر دیا۔اس کے بعد ملک بھر میں سکھ مخالف فسادات بھڑک اٹھے۔ملک بھر میں بے شمار سکھ مارے گئے۔اب سکھ بیدار ہو گئے۔

دراصل برہمنی سیاست یہی ہے کہ جس قوم کو تباہ کرنا ہوتا ہے،اس قوم کے کسی فرد کو بڑا عہدہ دے دیا جاتا ہے،تاکہ اس قوم کے لوگ سمجھیں کہ اگر ہم سے دشمنی ہوتی تو ہماری قوم کو اتنا بڑا عہدہ کیسے دیا جاتا۔

آپریشن بلو اسٹار اچانک نہیں ہوا۔کئی سالوں سے سکھوں کا ایک گروہ سکھ کمیونٹی کے لیے خالصتان کے نام سے جدا گانہ ملک کا مطالبہ کررہا تھا۔ممکن ہے کہ اسی گروہ کی ناکہ بندی کرنے کے مقصدسے ایک سکھ کو صدر جمہوریہ بنا دیا گیا ہو۔

بسااوقات کسی قوم کو کچل دینے کے بعدبھی اس قوم کے کسی فرد کو بڑا عہدہ دے دیا جاتا ہے،یا اس قوم کی بھلائی کے لیے کوئی قانون پاس کردیا جاتا ہے،تاکہ اس قوم کے افرادمطمئن ہوجائیں اوریہ قانون کاغذتک محدود رہتا ہے۔

دراصل یہ محض ظاہری ہم دردی ہوتی ہے۔اس کے پس منظر میں کوئی اصلیت یا مقصد خیر نہیں ہوتا۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

تحریر: کامران غنی صبااسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو نیتیشور کالج، مظفرپور میں یقین کے ساتھ کہہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے