غزل: تم ہمیں یاد آ تے ہو تنہائی میں

خیال آرائی: شمس الحق علیمی، مہراج گنج

تم ہمیں یاد آ تے ہو تنہائی میں
دل کی دھڑکن بڑھاتے ہو تنہائی میں

اشک بہہ جاتے ہیں آ کے رخسار پر
جب نزاکت دکھاتے ہوئے تنہائی میں

اب ملو تم کسی روز آ کے ہمیں
دور سے ہی ستاتے ہو تنہائی میں

کیا تمہیں اب مری یاد آتی نہیں
جب کبھی مسکرا تے ہو تنہائی میں

آہ شمسی نے لے کے کہا تھا کبھی
تم سبھی کو جلاتے ہو تنہائی میں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تبصرہ بر "شعر کیسے بنتا ہے” از شہزاد احمد کھرل شاذ

الحمدللہ آج بتاریخ 17/ اپریل 2021 بروز سنیچر استاد محترم جناب شہزاد احمد کھرل شاذ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے