ریاست کیرلا کا ایک روشن ستارہ

از قلم: طارق انور مصباحی، کیرالہ

نبراس العلما حضرت علامہ اے کے عبد الرحمن مسلیار علیہ الرحمۃ والرضوان ریاست کیرلا کے ایک مشہور عالم دین اور صوفی صفت قائدورہنما تھے۔آپ کی زندگی کا اکثر حصہ تعلیم وتدریس ،تبلیغ دین ،امامت وخطابت ،رشدوہدایت ودیگر دینی خدمات میں صرف ہوا ۔

آپ انتہائی پاکیزہ اوصاف وخصائل سے آراستہ اور سنت وشریعت کے پابند تھے۔آپ کے تلامذہ کی تعداد چارہزارسے زائد ہے۔آپ کی حیات وخدمات کا اجمالی خاکہ درج ذیل ہے۔

ولادت باسعادت: آپ کا اسم گرامی اے کے عبد الرحمن ،اورلقب نبراس العلما ہے۔آپ کی ولادت باسعادت بروزجمعہ 08:شعبان المعظم 1361 مطابق 21:اگست 1942کو فروک ضلع کالی کٹ کے پاس اینڈی کاڈن نامی گاؤں میں ہوا۔اسی نسبت سے آپ کو اے کے(A.K.) کہا جاتا ہے۔

تعلیم وتربیت: آپ نے ابتدائی تعلیم پانچ کلاس تک اپنے گاؤں میں حاصل کی۔اس کے بعد مندرجہ ذیل تین اساتذئہ کرام کے پاس دینی تعلیم حاصل کی۔ان میں سے اول الذکرآپ کے چچا محترم ہیں۔

(1)کنیارامٹی مسلیار نوراللہ مرقدہ (2)کے پٹا بیران کٹی مسلیار(3)اوکے زین الدین کٹی مسلیار

اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے جامعہ نوریہ (پٹی کاڈ،فیض آباد:ملا پورم )میں داخل ہوئے اور 1968 میں جامعہ نوریہ سے سند حاصل کی۔
تعلیمی فراغت کے بعد آپ نے مختلف مقامات میں امامت وخطابت اور تعلیم وتدریس کے فرائض انجام دئیے ۔
نبراس العلما اورجامعہ سعدیہ
مدرسہ رحمانیہ (کڈمیری )میں کچھ مدت تک تعلیم وتدریس کی خدمت انجام دینے کے بعد 1985میں جامعہ سعدیہ (کاسر گوڈ)بحیثیت استاذ رونق افروز ہوئے۔اس وقت پی اے استاذ جامعہ سعدیہ کے پرنسپل تھے۔

پی اے استاذکی وفات کے بعد 1996 میں نبراس العلما کو جامعہ کا پرنسپل منتخب کیا گیا ،اورتادم اخیر آپ اس منصب پر فائز رہے۔آپ نے قریباً 30 : سال تک جامعہ سعدیہ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔

آپ ایک مشفق استاذومعلم ،عمدہ خطیب اوربے نظیر مدرس تھے۔آپ مخاطب کے اعتبارسے کلام فرماتے کہ ہرسامع اس کے مطالب ومفاہیم کو سمجھ لیتا۔تعلیم وتدریس میں بھی آپ کا طریق کار انتہائی سہل ہوتاکہ طلبہ کتاب کے مسائل کو آسانی سے سمجھ لیتے۔عربی زبان وادب میں بھی آپ کو عمدہ مہارت تھی ۔آپ زاہد وتقویٰ شعار تھے۔

تصانیف وتالیفات: آپ علم فلک میں بہت ماہر تھے۔ علم الفلک میں آپ کی دو مشہور تصانیف ہیں ۔(1)اطلالۃ علیٰ علم الفلک (2)المدخل فی علم الفلک۔مؤخر الذکر کتاب جامعۃ الہند الاسلامیہ کے نصاب تعلیم میں شامل درس ہے۔آپ نے ملیالی زبان میں بہت سے مضامین ومقالات تحریر فرمائے ،جو کیرلا کے مختلف رسائل وجرائد میں شائع ہوئے۔

سمستھا کیرلا کی رکنیت وعہدہ: آپ1989 میں ریاست کیرلا کی مشہورتنظیم ’’سمستھاکیرلاسنی جمعیۃ العلما‘‘کی مجلس شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے ،پھر2011 سے تادم اخیر آپ سمستھا کیرلا کے نائب صدر کے عہدہ پر فائز رہے،اوردین وسنت کی خدمات سرانجام دیتے رہے۔

آل واولاد: تین فرزند اور دو صاحبزادیاں آپ کی یاد گار ہیں۔اللہ تعالیٰ ان تمام کواپنے حفظ وامان میں رکھے :آمین

وفات و مقبرہ: 05:صفرالمظفر 1440 مطابق14:اکتوبر2018 ،بروز اتوار رات کو گیارہ بج کربیس منٹ پر اپنے وطن میں آپ کا وصال ہوا۔ اپنے گھر کے پاس ’’کنیارا مٹی مسلیارمیموریل قرآن اسٹڈی سنٹر ‘‘کے آگے اپنی زمین میںآپ مدفون ہوئے۔اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے ،اور ہم تمام کوآپ کے فیوض وبرکات سے مستفیض فرمائے:آمین ثم آمین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

صدر الافاضل کا مناظرانہ مقام

تحریر : نازش المدنی مرادآبادی مفسر قرآن، صاحب خزائن العرفان، امام الہند، صدر الافاضل، فخر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے