غزل: رات کے وقت کھلا ہے وہ دریچہ کس کا

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان

کس کی آمد ہے کوئی اتنا ہے پیارا کس کا
رات کے وقت کھلا ہے وہ دریچہ کس کا

جھلملاتا ہے تصور اسے کیسے دیکھیں
گھومتا رہتا ہے نظروں میں یہ چہرہ کس کا

کون ہے جس کو میری فکر لگی ہے اتنی
میری حرکت پہ لگا رہتا ہے پہرہ کس کا

کچھ پریشان ہوں چہرہ بھی پسینے میں ہے تر
میری باتوں میں کہاں ذکر بھی آیا کس کا

اجنبی شہر ہے محتاط ہی رہنا ہے ہمیں
دھوکہ دے جائے کوئی کیا ہے بھروسہ کس کا

شور میں صاف سنائی نہیں دیتا ہے مجھے
دل کی وادی میں ابھی نام یہ گونجا کس کا

میری غزلوں سے تھی فیضان جسے دل چسپی
اس کے ہونٹوں پہ ابھی رہتا ہے نغمہ کس کا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بزمِ ایوانِ غزل کا ماہانہ طرحی مشاعرہ کا انعقاد

سعادت گنج/بارہ بنکی:6اپریل، ہماری آواز(پریس ریلیز) بزمِ ایوانِ غزل کا ماہانہ طرحی مشاعرہ آئیڈیل انٹر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے