غزل: ہجر میں جینا ہے دسمبر میں

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان

کچھ نہیں لینا ہے دسمبر میں
کچھ نہیں کہنا ہے دسمبر میں

سرد راتیں یاد ہیں سب سردی کی
یار نے ملنا ہے دسمبر میں

دینی بیوی نے نہیں ہے اب لسی
چائے ہی پینا ہے دسمبر میں

دن خوشی کے سب گئے ہیں اب چلے
کرب بس سہنا ہے دسمبر میں

سب وہ قرضے دے دیئے ہیں دوستو
کچھ ابھی دینا ہے دسمبر میں

لاش زندہ بن چکا ہوں پہلے سے
خون بس بہنا ہے دسمبر میں

چھوڑ کے فیضان جائے گا چلا
ہجر میں جینا ہے دسمبر میں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تبصرہ بر "شعر کیسے بنتا ہے” از شہزاد احمد کھرل شاذ

الحمدللہ آج بتاریخ 17/ اپریل 2021 بروز سنیچر استاد محترم جناب شہزاد احمد کھرل شاذ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے