سماج کی ترقی اور خوشحالی آپسی اتحاد و اتفاق اور دینی تعلیم کے ذریعہ ہی ممکن: مفتی سہراب قاسمی

جامع مسجد دھرم باڑی میں امارت شرعیہ پٹنہ کے نائب ناظم مفتی سہراب قاسمی کا پُر مغز خطاب

پورنیہ۔ 12؍دسمبر 2020(پریس ریلیز) گزشتہ روز بتاریخ 10/دسمبر ۲۰۲۰ء؁ بروز جمعرات کو ضلع پورنیہ کے بیسہ بلاک میں واقع کھپڑہ پنچایت کے دھرم باڑی گاؤں میں امارت شرعیہ کے نائب ناظم حضرت مولانا مفتی سہراب قاسمی وندوی صاحب کی قیادت میں امارت شرعیہ کے علماء کرام کے ایک موقر دعوتی و اصلاحی وفد کی آمد ہوئی،جسمیں بیسہ بلاک علماء،حفاظ اور دانشوروں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔اور سب نے امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ سے اپنے قلبی لگاؤ اور والہانہ محبت کا اظہار کیا۔۔امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم کی ہدایت پر دھرم باڑی کی جامع مسجد میں منعقد اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےحضرت مولانا و مفتی سہراب صاحب نے تاریخ و واقعات کی روشنی میں امارت شرعیہ پٹنہ کی سو سالہ خدمات و کارکردگی کا تعارف کراتے ہوئے علماء کرام اور دانشوران کو امارت شرعیہ سے اپنا رشتہ مزید مضبوط و مستحکم کرنے کی طرف راغب کیا۔اور عوام الناس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالات حاضرہ اور موجودہ حکومت کی مسلم دشمنی کو دیکھتے ہوئے ہندوستان کے مسلمان صبر و تحمل سے کام لیں اور آپس میں اتحاد و اتفاق اور محبت و بھائی چارہ کو عام کریں۔انہوں نے وضاحت کرکے فرمایا کہ اطاعت ایک اہم ایمانی تقاضہ ہے،اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایمان والوں کو مخاطب کرتے ہوئے اپنی اوراپنے رسول ﷺ کی اطاعت کے ساتھ دینی امیر کی اطاعت کا حکم دیاہے، اوراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جس نے اپنے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اورجس نے اپنے امیر کی تابعداری نہیں کی اس نے گویامیری پیروی نہیں کی،غرض امیر شرعی کی اطاعت اوران کی تابعداری ایک اہم ایمانی ذمہ داری کی حیثیت رکھتی ہے،بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ کے مسلمان خوش نصیب ہیں کہ اللہ نے انہیں امارت شرعیہ کی برکت سے ایک امیر شرعی کے سایہ میں زندگی گذارنے کا موقع نصیب فرمایاہے،اورآیت قرآنی کے تقاضہ پر عمل کی توفیق بخشی ہے۔یہ ایک عظیم مذہبی نعمت ہے،اس لئے ہرمسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے امیر شریعت کی مکمل تابعداری اوران کے احکام کی بجاآوری کے لئے عملی طورپر تیارر ہے، ایک امیر کی ماتحتی میں دینی زندگی گذارنے سے اجتماعی قوت بھی حاصل ہوگی اور دینی امور کو منظم اوربہتر طورپر انجام دینا بھی آسان ہوگا۔ یہ ہم سب کی خوش قسمتی ہے کہ اس وقت امارت شرعیہ کو مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم جیسا،جرأت مند، صاحب بصیر ت ،صاحب تقویٰ ، عالی نسب، دور رس و دور بیں قائد عطا کیا ہے،جن کی رہنمائی اور سر پرستی میں امارت شرعیہ کے ہر شعبہ میں توسیع اورترقی ہوئی ہے اور اس کے اعتبار و اعتماد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امارت شرعیہ تمام لوگوں کے مجموعہ کا نام ہے،فرد کا نام نہیں ہے،آج حضرت والا کے حکم سے امارت شرعیہ کے علماء کرام کا وفد یہاں فروکش ہے،حضرت امیر شریعت کی ہدایت ہے کہ ہم صرف مالی استحکام کے لیے نہیں بلکہ معاشرے اور اس علاقہ کے دینی و فکری اصلاح کے لیے جائیں۔پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کو تنہا نہیں رکھا ہے بلکہ لوگوں اور سماج سے جوڑا ہے،ماں باپ سے، بیوی سے، بھائی بہن سے،پڑوسیوں سے ، ضلع و ریاست اور ملک سے جوڑا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو ایک لمبی دنیا دے کر بھیجا ہے ، صرف اپنے بارے میں سوچنا اللہ اور دین کی تعلیم نہیں ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا پڑوسی بھوکا رہے وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ حضرت امیر شریعت جیسی شخصیت ہمارے پاس ہے جو دن رات ہماری فکر میں رہتے ہیں،اور وہ چاہتے ہیں کہ ہم ہر وقت متحرک رہیں۔ اس لاک ڈاؤن میں امارت شرعیہ نے بہت سے فرقہ وارانہ فساد کو روکا ہے، اور اس کا سد باب کیا ہے،حضرت امیر شریعت اپنی رہنمائی میں کام کر وا رہے ہیں اور ہم اور آپ کی ذمہ داری ہے کہ ان کے چشم و ابرو کے اشارے کو سمجھتے ہوئے کام کریں۔امارت شرعیہ کا یہ وفد یہاں اس لیے آیا ہے کہ یہاں کے لوگوں کی وابستگی امارت شرعیہ سے مضبوط ہو اور امارت شرعیہ کا پیغام عام ہو۔امارت شرعیہ کا پیغام ہے کہ اتحاد و اتفاق قائم کیا جائے ، آپسی جھگڑوں کو ختم کیا جائے ، دار القضاء کے نظام کو مضبوط کیا جائے ، تعلیم کو عام کیا جائے،مسلم معاشرے کو بنیادی دینی تعلیم سے آراستہ کیا جائے ۔سماج کی ترقی آپسی اتحاد و اتفاق اور تعلیم کے ذریعہ ہی ممکن ہے ۔مفتی سہراب صاحب نے کہا کہ اس وقت قوم مسلم جن حالات سے گذر رہی ہے ،اس کے اسباب میں دو وجہیں بالکل صاف ہیں۔ایک آپس کا انتشار اور دوسرے معیاری تعلیم کی دولت سے محرومی، اگر آج بھی ہم اپنی اتحادی قوت کو مضبوط بنا لیں اور معیاری تعلیم کا شعور سماج میں عام کریں تو ملت کے حالات کی تصویر یقیناً بدل جائے گی ، انہوں نے اجلاس میں شریک افراد سے کہا کہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ وفد کی آمد کی اہمیت کو سمجھیں،اور اپنے امیر شریعت کے پیغام کو عملی طور پر زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کریں۔انہوں نے اس موقع پر امار ت شرعیہ اوراس کے موجودہ تعمیری و توسیعی منصوبوں کا جامع تعارف بھی کرایا۔خاص طور پر بنیادی دینی تعلیم کو عام کرنے کے لیے امارت شرعیہ کے خود کفیل نظام مکاتب کی تحریک کو ہر گاؤں میں عام کرنے اور زیادہ سے زیادہ خود کفیل مکاتب قائم کرنے کی اپیل کی۔۔امارت شرعیہ کے اس وفد میں حضرت مولانا و مفتی سرور عالم صاحب قاسمی،حضرت مولانا و مفتی فضل نورانی صاحب قاسمی مدرس دارلعلوم امور،حضرت مولانا ابو صالح صاحب قاسمی جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء ضلع پورنیہ،مولانا اختر حسین شمسی صاحب،مولانا مزمل حسین قاسمی،مولانا فضل الباری صاحب باسول،حافظ تحمید الہی صاحب مدرس مدرسہ حسینیہ سر جاپور و دیگر مقامی علماء وغیرہ بھی شریک تھے۔مفتی صاحب نے مرحوم آفاق عالم صاحب کمہروا بائسی جو مولانا صادق قاسمی دھرم باڑی نائب صدر جمعیت علماء ضلع پورنیہ کے خُسر تھے،ان کے انتقال پر کافی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کئے۔اجلاس میں شریک مولانا مطیع الرحمٰن صاحب،حافظ شاہ ظفر صاحب سملباڑی،حافظ ارشد اسعدی،حافظ ساجد حسین،جناب صابر حسین،جناب ماسٹر نور عالم،جناب حاجی قمر الزماں،جناب اقبال حسین دھرم باڑی قابل ذکر ہیں۔پروگرام کے کنوینر مولانا صادق قاسمی دھرم باڑی اور ان کے اہل خانہ کو کافی حوصلہ افزائی اور نیک دعاؤں سے نوازا گیا۔مفتی سہراب صاحب کی رقت آمیز دعا پر اجلاس بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں محمد شعیب رضا

محمد شعیب رضا نظامی فیضی ہماری آواز اردو،ہندی ویب پورٹل و میگزین کے بانی و چیف ایڈیٹر ہیں۔ رابطہ نمبر: 09792125987 (ادارہ)

یہ بھی پڑھیں

افق ادب کے درخشندہ ستاروں کا ٹوٹنا جہان ادب کے لیے نیک فال نہیں

عظیم صحافی ریاض عظیم آبادی,ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی,فکشن نگار مشرف عالم ذوقی,شاعرہ ادیبہ محترمہ تبسم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے