خطیب البراہین اور آپ کی تصنیفات

تحریر: محمد طاہرالقادری مصباحی نظامی، بستی

حضور حا فظ ملت علیہ الرحمۃ والر ضوا ن فر ما یا کر تے تھے،سب سے مشکل کا م تدریس ہے ، تصنیف و تقریر کو در میا نی در جہ حا صل ہے،حضور خطیب البرا ہین علیہ الرحمہ کے تد ریس کا اندا ز کیسا تھا اس کو میں نے آپ کے ہی شا گر دوں کی تحریر کے حو ا لے سے گزشتہ او را ق میں تحریر کر دیا ہے۔
اب ہم ذیل میں آپ کی تصا نیف کا ایک خا کہ پیش کر نے کی سعا دت حا صل کررہے ہیں جن کتا بو ں میں آپ نے معلو ما ت کا وا فر ذخیرہ اکٹھا کیا ہے،در س و تدریس دعو ت و تبلیغ،رشد و ہدا یت کی کثیر مصرو فیات کے باوجودکسی ذات کی اتنی مقدار میںٹھوس تصنیفات کاہوناآج کے دورمیں کسی کرامت سے کم نہیںہے،تولیجیے اب حضورخطیب البراہین علیہ الرحمہ کی تصنیفات اور اس میں موجودہ علمی ذخیرے کی ایک جھلک پیش خدمت ہے ملاحظہ فرمائیے۔
فضا ئل زکوٰۃ
یہ کتا ب زکوٰۃ کے مو ضو ع پر ایک معلو ما تی کتا ب ہے،جو ۶۰ ؍صفحا ت پر مشتمل ہے جس میں حضو ر خطیب البرا ہین نوراللہ مرقدہٗ نے زکوٰۃ کی اہمیت و فضیلت اور اس کی ترغیب و تر ہیب نیز اس کے اغرا ض ومقا صد پر مختصر مگر جا مع رو شنی ڈا لی ہے او ر اس مو ضو ع پر اپنی اس کتا ب کو مبرہن کر نے کے لیے۱۲؍آیا ت قر آنیہ،۲۵؍احا دیث مبا رکہ،متعدد اقوا ل فقہا وبزر گا ن دین کے سا تھ ہی سا تھ عبرت انگیز واقعا ت کاتذ کرہ کیا ہے،آپ اس کتا ب کا آغا ز ان جملوں سے کر تے ہیں۔
نما ز، روزہ اورحج کی طرح زکوٰۃ بھی دین اسلا م کا عظیم رکن ہے،جو اللہ رب العزت کی جا نب سے مقر رشدہ فر یضہ اور مہتم بالشا ن عبادت ہے،قرب خدا وندی فو ز و فلاح کا عظیم ذریعہ ہے،اس کی اہمیت ایک مسلم حقیقت ہے،کیوںکہ ہر ملک میں خوا ہ وہ معا شی طو ر پر تر قی یا فتہ ہی کیو ں نہ ہو ،وہا ں ایک ایسا طبقہ ضرور ہو تا ہے،جوبعض نا گزیر وجو ہا ت کی باعث افلا س و تنگدستی کا شکا ر ہو تا ہے ،ایسے لو گوں کی کفا لت کی ذمہ دا ری اللہ عز و جل نے صا حب حیثیت لو گوں پر ڈا لی ہے اور اپنی عبا دت کر نے کے سا تھ ساتھ حا جت مندکی اعا نت کر نے کا حکم بھی دیا ہے۔
ایک جگہ زکوٰۃکے اغرا ض و مقا صد پر رو شنی ڈالتے ہو ئے یوں رقم طرا ز ہیں :
زکوٰۃ انسا نو ں کی صلا ح و فلا ح اور اقتصا دی بحرا ن کے خا تمہ اور با ہمی امدا دو اعا نت کا ایک مکمل نقشہ ہے،جس سے معا شرے میں اجتما عیت اور اتحا د کا ما حو ل پیدا ہو تا ہے ،اس سے ما لدا ر حضرا ت حرص وبخل اور حسد جیسی برا ئیوں سے محفو ظ ہو کر خدا کا احسا ن اور اپنی مغفر ت کا سا ما ن جا نیں گے کہ ان کو غریبوں کی ضرو رتوں کو پو را کر نے کی سعا دت نصیب ہو گی اور پر ور دگا ر عا لم نے انھیں اپنے دین کی خد مت کا اہل بنا یا او ر مفلس و نا دا ر لو گوں کے د لو ں میں ان محسنوں کی محبت اور ان کے لئے جذبہ تعا ون پیدا ہو گا،الغر ض معا شرہ، طبقا تی کشمکش سے محفو ظ رہے گا۔ ( فضائل زکوٰۃصفحہ۱۶)
اس طرح ایک جگہ امت مسلمہ کو اپنے ما ل کو جا ئزجگہ خر چ کر نے کی تلقین کر تے ہو ئے یوں رقم طرا ز ہیں:
مسلمانو!تمہارے پاس جو کچھ بھی مال ومنال ہے،دولت وسرمایہ ہے،یہ سب اللہ ہی کا عطا کیا ہوا ہے،یہ اس کا احسان ہی ہے کہ وہ تم سے اپنی ہی چیزلے کے تمھیں صلاح وفلاح سے ہم کنار کررہا ہے۔لہٰذا تم مال ودولت کو غلط جگہ پر نہ استعمال کرو،ناچ گانے اورفحش امورپر اسے استعمال کرکے عتاب خداوندی کے سزاوار نہ بنوبلکہ یتیم ومسکین ،بیوااور بے سہارا لوگوںپر اسے خرچ کرکے کامیابی سے ہم کنارہوجاؤ۔
مزید آگے ان مسلما نو ں کو جو لو گ زکوٰۃ ہی نہیں نکا لتے یا نکا لتے ہیں مگر پو ری نہیں نکا لتے ہیں ،انھیں پیا رو محبت سے سمجھا تے ہو ئے ایک جگہ یوں تحریر فر ما تے ہیں:
اے مسلما نو ! اگر تم سے کو تا ہی ہو گئی تو گھبرا نے اور پریشا ن ہو نے کے بجا ئے سر تسلیم خم کر دو اور ما ل و دو لت کو پا ک کر لو انشا ء اللہ تعا لیٰ تم سے حزن و غم کا فو ر ہو جا ئے گا کیوں کہ تو بہ کر نے وا لا بندہ اللہ عز و جل کو بہت محبو ب ہے۔حدیث پا ک میں ہے : اَلتَّا ئِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لاَذَنْبَ لَہٗ یعنی گنا ہو ں سے تو بہ کر نے و ا لا بندہ ایسے ہی ہے جیسے کو ئی گنا ہ ہی نہیں کیا۔ (فضا ئل زکوٰۃ صفحہ۲۲)
یہ حضو ر خطیب البرا ہین علیہ الرحمہ کی تصنیف کر دہ کتاب فضا ئل زکوٰۃ کا مختصر تعا رف ہے۔ زکوٰۃ کے مو ضو ع پر مستحکم اور جا مع معلو ما ت حا صل کر نے کے لیے ایک با راس کتا ب کا ضرو ر مطا لعہ کریں۔
فضا ئل تلا وت قرآ ن مبین
یہ کتا ب ۷۰ ؍صفحا ت پر مشتمل ہے،اس کتا ب میں آپ نے قرآنی آیا ت ،بخاری، مسلم تر مذی ، ابن ما جہ ،ابو دائود،مر قا ت شرح مشکوٰۃ ،تفسیر رو ح البیان،الاتقان فی علوم القرآن ، مفتا ح السعا دہ، مصباح السیا دہ فی مو ضو عا ت العلو م ،شرح الصدور ، الترغیب والترہیب ، اشعۃ اللمعات اور کنز الایما ن وغیرہ سے متعدد قرآنی آیا ت و احا دیث طیبہ،واقعا ت ومسا ئل قرآن ، تلا وت قرآن ،تا لی قرآن کی فضیلت و اہمیت کو ثا بت کیا ہے، نیز قرآن کو بھلادینے وا لوںپر جو وعیدیں ہیں،اس کا بھی مکمل تذ کرہ کیا ہے ،آئیے بطو ر تبر ک حضو ر خطیب البرا ہین علیہ الرحمہ کی ا س کتا ب سے چند اقتباس آپ کی خد مت میں پیش کر نے کی سعا دت حا صل کر رہا ہوں،آپ بھی مطا لعہ فر ما کر اپنے ذہن و فکر کو جلا بخشیں آپ تلا وت قرآن کی طر ف مسلما نو ں کو رغبت دلا تے ہو ئے یوں رقم طرا ز ہیں:
قرآن کریم اللہ کا نا زل کر دہ ابدی اور آخری پیغا م ہے،جس کوپڑھ کر او ر اس پر عمل کر کے ہی ہم عرو ج و ار تقا کی منزل کو طے کر سکتے ہیں اگر ہم اس کے فر ما ن کے مطا بق نہ چلیں او ر اس کی تلا وت کر نا چھو ڑ دیں تو پھر ہما رے لئے رسوا ئی ہے بلکہ حضور ﷺنے تو ہم کو یہا ں تک بتا دیا ’’اِنَّ اللّٰہَ یَرْ فَعُ بِھٰذَاالْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖ آخِرِیْنَ ‘‘ ( مسلم شریف ج ۱ صفحہ ۲۷۲)
تر جمہ:۔بیشک اللہ تعا لیٰ اس کتا ب کے ذریعہ بہت سے لو گوں کے مر تبہ کو بلند کر تا ہے اور اس سے دو سرے بہت سے لو گوں کو نیچے گرا دیتاہے۔
تو پتہ چلاکہ اگرہم قرآن کو پڑھیںگے اور اس پر عمل پیرارہیںگے تو ہمارے لیے بلندی ہے اور اگر اس کی تلاوت کو چھوڑدیاتوہمارے لیے رسوائی ہے۔
(فضائل تلاوت قرآن مبین صفحہ ۴۱)
عصر حا ضر میں فر زندا ن اسلا م کی تلا وت کلام سے بیزا ری کو دیکھتے ہو ئے ان کے حا ل پر افسوس کر تے ہو ئے ایک جگہ یوں رقم طرا زہیں۔
لیکن ہمیں اور آپ کو اب تلا وت کا مو قع نہیں ملتا توگننے اور شما ر کر نے کا مو قعہ کہاں سے ملے گا،ہما رے اسلا ف ان اولیائے کا ملین میں سے تھے جو دن را ت قرآن کی تلا وت کر تے اور صرف قرآن کی تلا وت ہی نہیں کر تے بلکہ قرآن پا ک کی آیتوں کو گِن لیا ،زبر زیر پیش کو گِن لیا یہا ں تک کہ حرو ف ِقرآن پا ک کی تعدا د کو بھی بتا دیا کہ قرآن پا ک کے اندر کل کتنے حرو ف ہیں۔(فضا ئل تلا وت قرآن مبین صفحہ۴۸)
آپ فضا ئلِ تلا وت ِقرآن ِپا ک پر شرح الصدو ر کے حو ا لے سے ایک زند ہ دل اہل اللہ کا ایک وا قعہ یوں تحریر فر ما تے ہیں:
اللہ کے ایک نیک بندے تھے ،تلا وت کلا م پا ک کے بڑے پا بند تھے اور ہر روز اپنے رب کی با رگا ہ میں دعا کر تے تھے،مو لیٰ تعا لیٰ ہمیں خا تمہ بالخیر نصیب فرمااور جس طر ح دنیا میں تو نے مجھے تلا وت ِقرآن کی تو فیق بخشی ایسے ہی ہما رے لیے قبر میں بھی تلا وت کر نے کی اجا ز ت مرحمت فر ما ، چو ںکہ تلا وت کے بعد دعا مقبو ل ہو تی ہے اس لیے آپ پو ری زند گی یہی دعا کرتے رہے،آگے کی تفصیل خو د حضور خطیب البرا ہین نور اللہ مرقدہٗ کی تحریر میں ملا حظہ فر ما ئیں۔
چنانچہ ان کا انتقا ل ہوا قبر تیا ر ہو ئی ،دفن کے بعد لو گ وا پس جا نا چا ہتے تھے،تو رب تعا لیٰ کو منظو ر ہوا کہ اپنے اس بندے کا حا ل دیکھا ئیں ،اس وقت ایک کچی اینٹ ایک طرف سے گر گئی،روشنی ظا ہر ہو ئی،دو عظیم محد ث وہا ں مو جو د تھے،انھوں نے ذرا سا جھا نک کر دیکھا تو قبر ان کی وسیع ہو چکی تھی رو شنی ظا ہر ہو رہی تھی او ر صا حب قبر جن کو لو گ ابھی دفن کر کے فا ر غ ہو ئے ہیں ان کا لبا س تو بہت ہی عمدہو گیا ہے اور یہ بھی دیکھا کہ جیسے کو ئی زندگی میں تلا وت کر تا ہے،تو اس کے بدن میں حر کت ہو تی ہے،ایسے ہی ان کو دیکھا کہ حر کت کی وجہ سے ان کے کپڑے ہل رہے رہیںاور بغو ر دیکھا تو سنہرے حرو ف میں لکھا ہوا قرآن پا ک بھی ان کے سا منے مو جو د تھا ، وہ کتا ب اللہ کی تلا وت کر رہے تھے۔راوی فر ما تے ہیں جب ہم نے جھا نک کر دیکھا،فَرَ فَعَ رَا سَہٗ اِلَیَّ قَالَ لِیْ: اَقَا مَتِ الْقِیَامَۃُ؟،انھوں نے سر کو میری جا نب اٹھا یااور مجھ سے کہا کہ کیا قیا مت قا ئم ہو گئی ،اے میرے بھا ئی کیا اپنی قبر سے نکل کر میدا ن محشر میں جا رہے ہو ،کیا قیا مت قا ئم ہو چکی ہے،قُلْتُ لاَ،میں نے کہا نہیںابھی قیا مت قائم نہیں ہو ئی ہے اس پر انھو ں نے فرمایا اچھا اینٹ رکھ دواورجائو۔
(فضا ئل تلا وت قرآن مبین ۵۲؍۵۱)
اس کتا ب میں حبیب العلما حضرت علا مہ حبیب الر حمٰن صا حب قبلہ کاابتدا ئیہ بھی نہایت ہی معلو ما تی ہے ،جس کو انھوںنے ۴۲ آیا ت کریمہ کے ذریعہ آرا ستہ کیا ہے ،جس میں تلا وتِ قرآن تا لی قرآن ،قا ری ِقرآن نیز اس کی عزت کر نے وا لو ں کے فضا ئل و ثوا ب کو بیا ن کیا ہے نیز قرآن کے سپا رے ،سو رتیں ،منزلیں ،رکو ع، آیا ت ،کلما ت و غیرہ کی تعدا د کے سا تھ ساتھ حرو ف وغیرہ کابھی تفصیلی ذکر کیا ہے ، تفصیل کے لیے کتا ب کی جا نب رجو ع کریں۔
اختیا رات اما م النبیین
یہ کتا ب کل ۸۶؍صفحا ت پر مشتمل ہے ،جس میں حضو رسرورکائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اختیا را ت کے با رے میں تفصیلی گفتگو کی گئی ہے اس کے علاوہ علمِ غیب مصطفی ﷺ کے با رے میں حضو ر خطیب البرا ہین نوراللہ مرقدہٗ نے قرآن پا ک کی آیات،بخاری،مسلم، ترمذی طحاوی، شفا شریف،نسیم الریاض ،فتا ویٰ عا لمگیری،جا مع صغیر،سبع سنا بل شریف ، اخبار الاخیار ،جیسی مستند و معتبر کتا بو ں کے حوا لوں سے مزین فر ما کر لو گوں کو یہ پیغا م دیا ہے کہ اختیا را ت مصطفی ﷺ اور علم غیب مصطفیﷺ کے بارے میں وہی عقیدہ درست ہے جس عقیدے کو اما م اہلسنت امام احمد رضا فا ضل بریلوی نو را للہ مرقدہٗ نے بیا ن فر ما یا ہے ، اسی پر صحا بہ کرا م اور جمہو ر علمائے اہل سنت کا اجماع ہے،جگہ جگہ مو قع محل کے اعتبار سے سیدناسر کا ر اعلیٰ حضرت کے اشعا ر کا بھی تذ کر ہ کیا ہے، اس کتا ب کا آغا ز قرآن پا ک کی اس آیت مبا رکہ سے فر ما تے ہیں ’’مَااٰتَا کُمُ الرَّ سُوْ لُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھَا کُمْ عَنْہٗ فَا نْتَھُوْاہ وَاتَّقُوْا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَا بِ‘‘
تر جمہ مع تفسیر:۔اور جو کچھ رسو ل تمہیں عطا فر ما دیں اسے لے لو اور جس سے رسو ل رو ک دیں اس سے رک جا ئواور اللہ سے ڈرو یعنی نبی کریم ﷺ کی مخالفت نہ کرو اور ان کے حکم کی تعمیل کرنے میں سستی نہ کرو بیشک اللہ کا عذا ب بہت سخت ہے۔
آ پ آگے تحریر فر ما تے ہیں : اس اٰیا ت مبا رکہ سے یہ با ت وا ضح ہو گئی کہ خدا کے فضل و کر م سے ہما رے اور آپ کے پیا رے نبی ﷺخدا کے حکم سے عطا فر ما تے ہیں ،پھر خو د سوا ل قا ئم کرتے ہیں کہ حضور کے پا س کیا ہے جو وہ عطا کر تے ہیں او ر ہم امتیوں کو ان سے کیا لینے کا حکم ہے،پھر اس کا جواب بیان فرماتے ہیں:۔
مفسرین کرا م خو د تحریر فر ما تے ہیں،مَا اٰ تَا کُمْمیں کلمہ ما عمو م کے لیے ہے،گو یا حکم ہو رہا ہے کہ جو جو تمہیں رسو ل دیتے جا ئیںاسے تم لیتے جا ئو،مزید اس نظریہ کی تا ئید میں بخاری شریف جلد اول صفحہ؍۴۳۹کی ایک حدیث بھی نقل کر تے ہیں کہ رسو ل کریم ﷺنے ار شا د فر ما یا ’’اِنَّمَا اَنَا قَا سِمٌ وَ خَا زِ نٌ وَ اللّٰہُ یُعْطِی‘‘یقینا میں قا سم ہوں اور خا ز ن ہو ں اور اللہ دیتاہے۔پھر سید نا سر کا ر اعلیٰ حضر ت کا یہ شعر تحریر فر ما تے ہیں۔
وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہم تن کر م بنا یا
ہمیں بھیک ما نگنے کو تیرا آستاں بتا یا
تجھے حمد ہے خدا یا
(ماخوذ ص؍۲۴؍۲۵؍۲۶؍)
آپ نے اس کتا ب میں علم غیب نبی ﷺ کے مو ضو ع پر بھی ضمنًا گفتگو فر ما ئی ہے او ر دلائل کی روشنی میں عقا ئدِ اہل سنت کو سمجھا نے کی کو شش کی ہے،آپ تحریر فر ما تے ہیں۔
آئو سچے دل سے سو چو ،یہ اختلا ف پیدا کر نے کی با ت نہیں،دشمنی کی با ت نہیں ، بلکہ اختلا ف ختم کر نے کی با ت ہے ،آئو اہل سنت وجما عت کاعقید ہ قرآن و احا دیث کی روشنی میں جو ہے اسے اپنا لو ۔
آپ نے اہل سنت وجما عت کا عقیدہ بخاری شریف کے حو ا لے سے نہا یت ہی تفصیل کے سا تھ بیا ن فر ما یا ہے ہم ذیل میں اس کی تلخیص پیش کر رہے ہیں ملا حظہ فرمائیں،آپ تحریر فر ما تے ہیں۔
آپ بخا ری میں پڑھ کر دیکھو ،حضور ﷺ نے فر ما یا ،سلو نی یعنی مجھ سے جو چا ہو پو چھو فَقَا لَ رَجُلٌ مِّنَ النَّا سِ اَیْنَ مَدْخَلِیْ یَا رَسُوْ لَ اللّٰہِ،یا رسو ل ا للہ! میرا ٹھکا نہ کہا ں ہے،یعنی جب دنیا سے لو گ جا ئیں گے کہیں نہ کہیں سب کا ٹھکا نہ ہو گا،کو ئی کہیں ہو گا کو ئی کہیں ہو گا ،میرا ٹھکا نہ کہا ں ہو گا ،قَالَ اَلنَّارُ،حضو ر نے فر ما یا تیرا ٹھکا نہ جہنم ہے۔
پھر ایک لمبے تبصرے کے بعد تحریر فر ما تے ہیں :
میں ڈھونڈھو نگا کہ رسو ل اللہ ﷺ نے ایسا کیوں فر ما یا ؟ رسو ل اللہ ﷺ کے پیچھے نما ز پڑ ھنے وا لے منا فقین بھی تھے،انھیں میں سے تو نہیں تھا،لیکن اپنی طرف سے کیوں کہاجائے ، خو د بخا ری شریف کے حا شیہ پر لکھا ہوا ہے ،اِنَّہٗ کَا نَ مُنَا فِقًا،رسو ل کریم نے پہچا ن لیا ، اس کا دل دیکھ لیا تو فر ما دیا،جب تو منا فق ہے ،تیرا عقیدہ ٹھیک نہیں ہے،تو تیرا ٹھکا نہ جہنم ہے ، اس مو قع پر سر کا ر اعلیٰ حضرت فر ما تے ہیں ہما رے رسو ل کریم کا حا ل تو دیکھو۔
سر عرش پر ہے تیری گزر، دل فرش پر ہے تیری نظر
ملکوت وملک میں کو ئی شی نہیں جو تجھ پر عیاں نہیں
(اختیا را ت اما م النبیین ص ۵۱؍۵۲؍۵۳)
مذ کو رہ با لا حدیث کو ایک با ر اور پڑھیں،پھر حضو ر خطیب البرا ہین کی محد ثا نہ بصیرت اور احادیث کے تتبع و تلاش کو د یکھیں کہ ’’سَلوْ نِیْ فَقَا لَ رَجُلٌ اَیْنَ مَدْ خَلِیْ یَا رَسُوْ لَ اللّٰہِ‘‘یہ حدیث شریف بخا ری شریف جلد ثا نی ص۱۰۸۳؍پر ہے جبکہ’’اِنَّہٗ کَانَ مُنَا فِقًا‘‘ جلد اول ص۵۱۰؍ پر ہے،اس سے اندا زہ ہو تا ہے کہ حضو ر خطیب البرا ہین کی نظرکتبِ احا دیث پر کتنی گہری تھی۔
اس طرح اس کتا ب میں بہت سے مو ضو عات پر ضمناً بحث آگئی ہے،جن پرآپ نے اتنا معقو ل بحث کیا ہے کہ قا ری کو مکمل تسلی ہو جا تی ہے،آپ بھی اپنی معلو ما ت میں اضا فہ کے لیے اس کتا ب کا مطا لعہ ضرو ر کریں ۔
دا ڑھی کی اہمیت
یہ رسا لہ دا ڑھی کی اہمیت وفضیلت اور اس کی شر عی مقدا ر پر ایک مستند اور ٹھو س رسالہ ہے،یہ اگر چہ مختصر مگر اپنے مو ضو ع کے اعتبار سے نہا یت مفید اور کا ر آمد ہے،اس کے کل ۳۲؍ صفحا ت ہیں لیکن ہر صفحہ دلا ئل و برا ہین سے بھرا ہوا ہے جیسا کہ محقق مسا ئل جد یدہ حضرت علا مہ مفتی محمد نظا م الدین رضوی صدر شعبہ افتا الجا معۃ الا شرفیہ مبا رکپو ر اعظم گڑھ یو پی،کتا ب کی تقدیم میں اس رسا لہ کے متعلق یوں رقم طرا ز ہیں۔
’’را قم الحرو ف نے اس کتا ب کو جستہ جستہ ایک سر سری مطا لعہ کر لیا ہے ،پو ری کتا ب احا دیث و آثا ر،قصص،معمو لا ت ابرا ر و ارشا دا ت فقہا سے بھری پڑی ہے۔
(دا ڑھی کی اہمیت ص ۴)
اس رسا لے کو حضو ر خطیب البرا ہین علیہ الرحمۃ والرضوان نے۱۹۸۰ئ؁ کے آس پا س تحریر کیا تھا جو ۴۰۰۴ئ؁ میںمنظر عا م پر آسکی،اس کتا ب میں قرآ ن پا ک،بخا ری،مسلم ،تر مذی،ابن ما جہ، ابودائود، نسا ئی،طحا وی ،بیہقی، طبرا نی کبیر ،لمعۃ الضحیٰ،شر ح معانی الاٰثا ر ، دلا ئل النبو ۃ،شفا شریف،انوار غوثیہ ، فتح القدیر،بحر الرا ئق، لمعا ت ،الدر المختار ،کتا ب اٰثار ،الا بداع فی مضا رع الابتدائ،تفسیر روح البیان ، احیا ء العلو م ،کے علا وہ اور بہت سی کتا بو ں کے حوا لے سے دا ڑھی کی اہمیت ، مقدا ر ا فضیلت پر سیر حاصل بحث فرمائی ہے اور اسے سنت کی حد سے کم کروانے اور منڈانے وا لو ں پر وعیدوں کا ذ کر کیاہے،اس کتا ب کی ابتداحضور خطیب البرا ہین نے ان جملوں سے کی ہے:
مسلم تو مسلم کفا ر پر بھی رو ز رو شن کی طرح عیا ں ہے کہ دا ڑھی مسلما نو ں کا دینی شعار ہے، اس کے فضا ئل و منا قب ،اس قدر وا فر ہیں جس کا احصا نہیں کیا جا سکتا ۔آپ جب اسلا ف کا مطا لعہ کریں گے ا ور ان کی حیا ت کے سنہرے ابوا ب اور جاذبِ نظر حا لا ت کا جا ئزہ لیں گے تو آپ سے یہ مخفی اور پو شیدہ نہیں رہے گاکہ صحا بہ کرا م اہل بیت عظا م ،ائمہ اعلا م اور ہر قرن و طبقہ کے اولیا ئے امت وعلما ئے ملت داڑھی کی کتنی اہمیت دیتے تھے۔(دا ڑھی کی اہمیت ص۹)
ہما رے اسلا ف کو دا ڑھی کتنی محبوب تھی،اس پر حضرت احنف بن قیس کے اصحا ب کا ایک وا قعہ حضور خطیب البرا ہین نے یو ں ذکر کیا ہے:
’’قَا لَ اَصْحَابُ اَحْنَفَ بْنِ قَیْسٍ وَددْنَاانْ اِشْتَرَیْنَا لِاَ حنفِ لِحیۃً بِعِشْرِیْنَ اَلْفًا‘‘ حضرت احنف بن قیس کے اصحا ب کہا کرتے تھے کہ اگر بیس ہزا ر میں بھی دا ڑ ھی ملتی تو ہم احنف کے لیے خرید لا تے۔ (دا ڑھی کی اہمیت ص ۱۲)
حضرت احنف بن قیس کبارِ تا بعین میں سے تھے ،اللہ رب العزت نے آپ کو غضب کا قو ت حا فظہ عطا فر ما یا تھا ، آپ ذہا نت میں یکتا ئے رو ز گا ر تھے،آپ کے علم و فضل کی بنیا د پر حضرت امیر معا ویہ جو کبا رِ صحا بہ اور کا تبِ وحی ہیں آ پ کی بہت قد ر کیا کر تے تھے،حضرت احنف بن قیس کے پا ئو ں میں کجی تھی اور ایک آنکھ کی رو شنی بھی چلی گئی تھی اور پیدا ئشی طو ر پر آپ کو دا ڑ ھی نہیں تھی،مگر آپ کے اصحا ب آنکھ کے جا نے ، پیر کی کجی کو چھو ڑ کر دا ڑھی کو خریدنے کی با ت کیا کر تے تھے،جس سے آپ اندا زہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے اسلا ف کی نظرو ں میں دا ڑھی کتنی محبو ب تھی ،یہی وجہ ہے کہ حضو ر خطیب البراہین نے ان لو گوں کے با رے میں جو خو د تو دا ڑھی نہیں رکھتے اور رکھنے وا لو ں پر طنز کر تے ،ان کا ٹھٹھا اڑا تے ہیں ایسے لوگوں سے خدا کی پنا ہ ما نگتے ہو ئے یوں تحریر فرماتے ہیں۔
چوری اور سینہ زوری والوںسے خدا کی پنا ہ کہ وہ دا ڑھی رکھنے وا لوں پر قہقہہ اڑاتے ہیں اور اگر کو ئی رکھے تو اس کو سفیہ اور بیو قو ف گر دا نتے ہیں ،شعا ئرِ اسلا م کے ساتھ ساتھ نفس ِاسلا م کو بھی مو نڈ ھ کر پھینک دیتے ہیں۔ ( داڑ ھی کی اہمیت )
اسی طرح ایک مشت سے کم دا ڑھی رکھنے وا لوں یا سرے سے صا ف کر نے وا لوں کے بارے میں لمعۃ الضحیٰ کے حوا لے سے ایک جگہ یوں تحریر فر ما تے ہیں:
اگر دا ڑھی ایک مشت سے کم ہو تو اس سے کچھ لینا(یعنی کا ٹنا)جس طر ح بعض مغر بیت زدہ اور پھو ہڑ قسم کے لو گ کر تے ہیں ،تو یہ کسی کے نز دیک جا ئز نہیں ہے اور پو ری دا ڑھی کا صفا یا کر نا تو یہ مجو سیوں،یہو دیوںاور بعض فر نگیوں کا عمل ہے۔(دا ڑھی کی اہمیت ص۲۸)
آپ کے دل میں قو م مسلم کے لیے کس قدر درد اور تڑپ تھی ،اس کا اندا زہ آپ مندرجہ ذیل ناصحا نہ کلمات سے لگا سکتے ہیں، آپ تحریر فر ما تے ہیں ۔
آج ہم تو مغرب کے دلدا دہ ،اس کے زلف عنبریں کے اسیر اور مکمل طو ر پر اس کے دا من تزویر میں آ چکے ہیں یعنی یہو دیوں ،عیسا ئیوں ،مجو سیوں ،فرنگیوں اور ہندئوں کے طریقہا ئے کار ہما رے امو ر دینی میں شریک ہو ئے جا رہے ہیں ،مسلما نو ! سنبھلو ، بچو،ورنہ جب سفینہ حیا ت ڈوب جا ئے گا ،تو شو ر وغو غا مچا نا بے سو د ہو گا ،عمیق قعر مذلت میں گر نے کے بعد تمہا ری صدا ئے با ز گشت بھی سنا ئی نہ دے گی‘‘۔(دا ڑھی کی اہمیت)
اس کتا ب میں دا ڑھی کے متعلق موا د کا ایک ذخیرہ ہے جس کے مطا لعہ سے آدمی قلیل وقت میں دلا ئل و برا ہین کے ایک معتبرذخیرے سے روشنا ش ہو سکتا ہے ۔اپنی معلو ما ت میں بیش بہااضا فہ کے لئے ایک مر تبہ اس کا مطا لعہ ضرور کریں۔
کھا نے پینے کا اسلا می طریقہ
یہ کتا ب کل ۴۷ ؍ صفحا ت پر مشتمل ہے،تمہید چھو ڑ کر، کل ۱۸؍عنو ا نا ت پر قرآن پاک کی آیات مقدسہ اور دیگر۱۹ ؍ثقہ کتا بوں کے حو ا لے سے مزین کیا گیا ہے،جس میں کھا نے پینے کے طریقے اس کی مقدا ر ،اسلا می اصول سے ہٹ کر کھا نے کے نقصانا ت کا مفصل ذکر ہے ، اس کتا ب کے شروع میں جما عتِ اہل سنت کی دو عظیم شخصیتوںکی تقریظات بھی شا مل ہیں ، نیز مرتب مو صو ف کا پیش لفظ بھی ،اس کتا ب میں جہا ں ایک طر ف قرآن پاک، بخاری شریف، مسلم ،تر مذی ابو دائو د،ابن ماجہ ،طبرانی ، دیلمی، مشکوٰۃ،نو ی شرح مسلم،کے حو الے ملیںگے ،وہیںدر مختار ،رد المختا ر، فتاویٰ عا لمگیری،بہا ر شریعت کے فقہی مسا ئل بھی شامل ہیں ، ان کے علاوہ مدا را ج النبوۃ،احکا مِ دعوت ،الملفوظ او ر نزہۃ المجا لس کے اقتباسات سے کتاب کو آراستہ کیا گیا ہے،یہ کتا ب پہلی با ر ۲۰۰۵؁ء میں شا ئع ہو ئی جسے عوام و خواص نے خوب سراہا ۔ تو لیجیے آ پ بھی بطورتبرک چند اقتبا سا ت ملاحظہ فر ما لیجیے،اس کتا ب کی ابتدا ان جملوں سے کی گئی ہے۔
صحت و تند رستی اور طا قت و توا نا ئی کے لیے صحیح طریقہ سے غذا ئو ں کا استعما ل کرنا،غلط اور ضرر رسا ں طریقوں سے پر ہیز کر نا لا زم و ضرو ری ہے کیوں کہ غلط طریقوں کو بروئے کا ر لا نے سے قسمہا قسم کی بیما ریاں رو نما ہو تی ہیں ،اور صحیح و سا لم جسم بیما ریوں کا معدن بن جا تا ہے۔ (کھا نے پینے کا اسلا می طریقہ ص۱۱)
ایک مسلما ن کو کھا نے کے وقت کیا نیت کر نی چا ہیے،اسے رد المحتا ر علیٰ در المختا ر کے حوا لے سے حضو ر خطیب البرا ہین یو ں وا ضح فر ما تے ہیں :
کھا نا کھا تے وقت یہ نیت کر نی چا ہیے کہ اس لیے کھا تا ہوں کہ عبا دت میں قو ت پیدا ہو اس نیت سے کھا نے وا لا مطیع و فر ما بر دا ر شما ر کیا جا ئے گا،کھا نے کا مقصد تلذذ اور تنعم ہر گز ہر گز نہیں ہو نا چا ہیے،کہ یہ بری صفت ہے اللہ تعا لیٰ نے کا فروں کی مذمت میں بیا ن کیا ہے (کھا نا کھا نے کا اسلا می طریقہ ص۱۳)
کھا نا کھا نے سے پہلے ہاتھ دھلنے کا سنت طریقہ ،یوں تحریر فر ما تے ہیں :
بعض لو گ ایسے ہو تے ہیں جو صرف ایک ہا تھ دھو تے ہیںیافقط انگلیوںپراکتفاکرتے ہیں اور کچھ لو گ صرف چٹکی پر مختصر پا نی ڈال لیتے ہیں ،اس سے سنت ادا نہیں ہو تی ،بلکہ اد ئے سنت کے لیے ضرو ری ہے کہ دونو ں ہا تھ گٹوں تک دھو ئے جا ئیں۔
(کھا نے پینے کا اسلا می طریقہ ص ۱۴)
کھا نا کھا نے کا اسلا می طریقہ کیا ہے ؟اسے کس طرح کھا یا جا ئے؟اس وقت بیٹھنے کا اندا ز کیا ہو نا چا ہیے؟اس کا مسنون انداز کچھ اس طرح رقم فر ما تے ہیں:۔
کھا نا کھا نے کا اسلا می طریقہ یہ ہے کہ زمین پر بیٹھ کر بلا ٹیک لگا ئے کھا ئے اوربا یا ں پا ئوں بچھا دے ،دا ہنا کھڑا رکھے ، یا پھر سرین پر بیٹھے اور دو نوں گھٹنے کھڑا رکھے۔
مزید آگے تحریر فر ما تے ہیں:
کر سی وغیرہ پر بیٹھ کر جو تے پہنے ہو ئے پیر لٹکا کر کھا نا عیسا ئیوں کا طریقہ ہے، مسلمانوں پر لا زم ہے کہ سلفِ صا لحین کے طریقوں پر عمل کریں اور فر شِ زمین پر بیٹھ کر سکو ن واطمنا ن کے سا تھ کھا ئیں،اسلا م اوراہل اسلا م کے دشمنوں ،یہو دیوں اور نصرا نیوںکی روش سے گریز کریں ۔( کھا نے پینے کا اسلا می طریقہ ص۱۷)
اسی طرح پا نی پینے کے متعلق اسلا می طریقہ کیا ہے ،آپ کچھ اس طر ح رقم طرا ز ہیں:
حضور ﷺ نے ارشا د فر ما یا،کہ ہر گز ہرگز تم میں کاکو ئی با ئیں ہا تھ سے کھا نا نہ کھا ئے اور نہ ہی با ئیں ہا تھ سے پا نی پیے۔ (کھا نے پینے کا اسلا می طریقہ)
پا نی کس طرح پینا چا ہیے اس کے متعلق تر مذی شریف کی ایک حدیث نقل کر تے ہوئے لکھتے ہیں:۔
حضور ﷺ نے ار شا د فر ما یاکہ ایک سا نس میں پا نی نہ پیو جیسا کہ ا و نٹ پیتا ہے،بلکہ دو یا تین مر تبہ میں پیئو،جب شرو ع کرو تو بسم اللہ کہواور جب بر تن سے منھ ہٹائو تو اللہ کی حمد کرو۔(کھا نے پینے کا اسلا می طریقہ)
اسی طرح جو لو گ بے تو جہی میں با ئیں ہا تھ سے پا نی پی لیتے ہیں ایسے لو گوں کو نصیحت کر تے ہو ئے تحریر فر ما تے ہیں :۔
اس زما نے میں بعض لو گ با ئیں ہا تھ میں گلا س وغیرہ لے کر پا نی پیتے ہیں خصو صا کھا نا کھا تے وقت داہنے ہا تھ پا نی پینا خلا ف تہذیب جا نتے ہیں ،ان کی یہ تہذیب ،تہذیبِ نصا ریٰ ہے ،اسلا می تہذیب نہیں ، اسلا می تہذیب تو دا ہنے ہا تھ سے پینا ہے۔
(کھا نے پینے کا اسلا می طریقہ)
یہ تو اس کتا ب کی چند جھلکیاںہیں ،مزید معلو ما ت کے لیے اصل کتا ب کی جا نب رجوع کریں ،تا کہ کھا نے پینے کے متعلق آپ کو صحیح معلو ما ت حا صل ہو سکے۔
بر کا ت مسوا ک
یہ کتا ب اپنے مو ضوع پر نہا یت مفید او ر کا ر آمد کتا ب ہے،آج جبکہ لو گ سنتوں سے دور ہو رہے ہیں ،ایسے پرفتن دورمیں لو گوں کو سنتوں کے فوائد سے روشناش کرانااور اس پر عمل کر نے کی دعوت دینایقینابہت عظیم کارِ ثواب ہے،چو نکہ حضور خطیب البرا ہین ایک عا مل بالسنۃ شخصیت کا نا م ہے ، جو پوری زندگی ہر ممکن طورپر سنت نبوی ﷺ پر عمل کر نے کی کو شش کر تے رہے ، جس کی ایک کڑی مسوا ک پر مدا ومت بھی ہے ،آپ نے اپنی اس کتا ب میں مسوا ک کے مسنو ن ہونے پر دلا ئل وبراہین کا انبا ر لگا دیا ہے،یہ کتاب بھی مختصر او ر صر ف ۴۵؍ صفحا ت پر مشتمل ہے ،پھر بھی بخا ری ،مسلم،ابن ما جہ ،سنن بیہقی،جا مع صغیر ، طحا وی،شرح الصدو ر ،احکا م شریعت اور فتا ویٰ رضویہ کے سا تھ سا تھ ۲۵ ؍ سے زا ئد کتا بوں کے حوا لوں سے مزین ہے اور مسوا ک کے دینی و دنیوی دو نو ں فوا ئد کا مفصل ذکرموجود ہے،اس کتا ب کے چند اقتباسا ت ہم ذیل میں نقل کر نے کی سعا دت حا صل کر رہے ہیں ،ملا حظہ فر ما ئیں:۔
مسوا ک کے متعلق حضو ر ﷺ کا پاکیزہ عمل کیا تھا ؟اس کا ذکر حضرت عا ئشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے حوا لے سے یوںبیان فرماتے ہیں:۔
’’عَنْ عَا ئِشَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺکَا نَ اِذادَخَلَ بَیتَہ بَدَائَ بِالسِّوَا کِ‘‘حضرت عا ئشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فر ما تی ہیں کہ حضور گھر میں با ہر سے جب تشریف لا تے تو سب سے پہلا کا م مسوا ک کر نا ہو تا ۔(بر کا ت مسوا ک ص۱۷)
اسی طرح کشف الغمہ کی ایک روایت مسوا ک کے تعلق سے یوں نقل کر تے ہیں:
’’لَوْ لاَ اَنْ اَشُقَّ عَلیٰ اُمَّتِیْ لفرضتُ عَلَیْھِمُ السِّوَا کُ وَالطِّیْبُ عِنْدَ کُلِّ صَلاَ ۃٍکَمَاْفرضتُ عَلَیْھِمُ الْوُضُوئَ‘‘
یعنی اگر یہ با ت نہ ہو تی کہ میری امت پر شا ق ہو گا تو میں ہر نما ز کے وقت مسوا ک اور خو شبو کوان پر فر ض فر ما دیتا،جس طرح کہ میں نے ان پر وضو فر ض فر مایا۔
(بر کا ت مسوا ک ص۱۶)
مسوا ک ،رضا ئے الٰہی کا سبب ہے ،اس پر جا مع صغیر کی ایک عبا رت یوں پیش فر ما تے ہیں ۔
’’اَلسِّوَا کُ یَطِیْبُ الْفَمَ وَیَرْ ضیٰ الرَّبَّ‘‘مسوا ک منھ کو ستھرا بنا تی ہے اور رب تعا لیٰ کو را ضی کر تی ہے۔
اسی طرح آپ نے نظامِ شریعت کے حوا لے سے مسوا ک کے دس فوا ئد کا تذ کرہ کیا ہے پھر طبیبوں کی بھی را ئے کو اس باب میں شامل کیا ہے ، ایک جگہ مسواک کے فضا ئل و منا قب بیا ن کر تے ہو ئے قو م مسلم سے یوں مخا طب ہیں :
قا رئین کرا م! دیکھا آپ نے مسوا ک کتنی عظیم سنت ہے اور اپنے اندر کس قدرفوا ئد کو جذب کیے ہو ئے ہے ،تا کید پر تاکید کی جا رہی ہے کہ مسوا ک کرو مسوا ک کرو،اس میں اتنے فوا ئد ہیں ، رضا ئے مو لیٰ تعا لیٰ کا سبب ہے ،لیکن آج کے اس ہو ش ربا ماحو ل اور پر فتن دور میں تقریبا یہ سنت ختم ہو نے کے قریب ہے، عصری ایجا دا ت کے دلدل میں پھنس کر مسلما نو ں نے اپنا اصلی سر ما یا کھو دیاہے اور اسلام سے دورہو تے چلے گیے ،یہی وجہ ہے کہ آج وہ ذلت و خوا ری سے دوچا ر ہیں اور انھیں کہیں سرچھپا نے کو بھی جگہ نہیں مل پا رہی ہے ، قو م مسلم کے جیا لو!خیر امت کے نو نہا لو! اٹھو اور کمر بستہ ہو جا ئو کچھ بھی ہو جا ئے تمہیں سنت رسو ل کی حفاظت کر نی ہے اور اس پر عمل کر کے تمہیں بتا دینا ہے کہ ابھی بھی ہما رے دلو ں میں عشق رسو ل کا بحرِ ذخار مو جز ن ہے۔( بر کا ت مسو اک )
یہ بر کا ت مسوا ک کا مختصر تعا رف ہے ،تفصیلی معلو ما ت کے لیے اصل کتا ب کی طرف رجو ع کریں انشاء اللہ تعا لیٰ رو ح کو تا ز گی حا صل ہو گی۔
حقو ق وا لدین
حقوق کی دو قسمیں ہیں (۱) حقوق اللہ(۲)حقو ق العبا د،حقوق العباد میں ایک اہم حق وا لدین کا ہے،جس کا تذ کرہ پر ور دگا ر عا لم نے اپنے کلا م پا ک میں نصف درجن سے زا ئد جگہ کیا ہے،احا دیث نبو یہ کی کتا بو ں میں ان کے حقوق کا تفصیلی تذ کرہ مو جو د ہے اور دیگر مذہبی و دینی کتا بوں میں نصیحت آمو ز وا قعا ت اور ان کے فضا ئل و منا قب کا تذکرہ وافر مقدار میں مو جو د ہے، اس مو ضو ع پر حضو ر خطیب البرا ہین کا یہ رسا لہ نہا یت ہی مفید ہے ، کیوں کہ اس کتا ب میں قرآن کریم کے علا وہ دو درجن سے زائد کتا بوں کے حوا لے سے بحث کی گئی ہے،اس میں جہا ں ایک طرف اطا عت والدین پر رغبت دلا نے والی آیا ت ِطیبا ت اور احا دیثِ کریمہ، آثارِمبا رکہ اور واقعات مو جو د ہیں ،وہیں والدین کی نا فرما نی کرنے والے لو گوں کے لیے بطور نصیحت وعیدوں کا بھی ذکر ہے ،یہ کتا ب کل ۴۰ ؍ صفحا ت پر مشتمل ہے مگر اتنی ٹھو س ہے کہ اگر ان حوا لوں کو تھو ڑا سا پھیلا دیا جا ئے تو ایک ضخیم کتا ب تیا ر ہو سکتی ہے ،گویا کوزے میں سمندر بھر دیا گیا ہے ،اب یہ اپنے ظرف کی بات ہے کہ اس بحر بے کنارسے غواصی کر کے کو ن کتنی مو تی نکال سکتا ہے ،تو لیجیے اس کتا ب کے چند اقتباسات آپ بھی ملا حظہ کیجیے۔
حضورخطیب البراہین نوراللہ مرقدہٗ وا لدین کی اطا عت و فر ما نبر دا ری پر تر مذی شریف کی ایک حدیث یوں نقل فر ماتے ہیں:
حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مر وی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا پر ور د گار عا لم کی خو شنو دی و رضا مندی با پ کی رضا مندی و خو شنو دی میں ہے اور پر ور دگا ر عا لم کی نا را ضگی با پ کی نا ر اضگی میں ہے۔
اسی طرح ایک حدیث پا ک ابن ما جہ کے حوا لے سے یوں نقل کر تے ہیں۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مر وی ہے کہ ایک شخص نے عر ض کیا یا رسو ل اللہ ﷺ وا لدین کا او لا د پر کیا حق ہے ؟آپ نے جو اباً ار شا د فر ما یاوہ دو نوں تیری جنت اور دو زخ ہیں یعنی اگر ان کو را ضی رکھنے سے جنت ملے گی تو ان کو نا را ض کر نے سے دو زخ میں جا ئو گے۔
اسی طرح والدین کی خد مت کر نے سے دنیا میں جو فوا ئد ہیں اس کا بھی آپ نے تذکرہ کیا ہے،مثلا عمر میں بر کت ہو تی ہے،مصیبتوں سے نجا ت ملتی ہے،سما ج میں عزت ملتی ہے اور بڑھا پے میں اللہ تعا لیٰ اس شخص کے لیے خد مت گا ر متعین کر تا ہے۔
والدین کی خدمت کی اہمیت پرآپ نے حضرت سیدنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی زندگی کایہ عظیم واقعہ بھی تحریرکیاہے کہ آپ حضورﷺسے ملاقات نہ کرسکے جس کی وجہ والدہ کی خدمت تھی۔
سا تھ ہی سا تھ وا لدین کی نا فر ما نی کر نے وا لوں کے لیے درد نا ک انجا م کا بھی آپ نے تذ کرہ کیا ہے اور قرآن و احا دیث سے ثا بت کیا ہے کہ وا لدین کے نا فر ما ن دارین کی سعا دتوں سے محرو م رہتے ہیں، ان کے لیے خسا رہ ہی خسا رہ ہی خسا رہ ہے، دنیامیں ذلیل و رسوا ہو تے ہیں، ان کی عبا دتیں با ر گا ہ الٰہی میں قبو ل نہیں ہو تیں ،والدین کا نا فر ما ن جنت سے محرو م رہے گا،اس کو ملعو ن قرا ر دیا گیا ہے ،ہر ایک کے متعلق آپ نے حوا لوں سے گفتگو کی ہے۔
اخیر میں قو م مسلم کو جھنجھو ڑتے ہو ئے کتا ب کا اختتام ان جملوں پر کر تے ہیں۔
مسلما نو! غور کرو والدین کی نا فر ما نی کا وبا ل کیسا ہے ،لیکن افسو س ،آج یہ عا م روا ج ہو چکا ہے ، ہما رے نو جوان شا دی ہو تے ہی اپنے والدین کو بالکل فرا مو ش کر دیتے ہیں ،ان کی شا ن میں گستا خیاں کر تے ہیں ،ان کی خد مت تو در کنار ان کو ما ر نے پیٹنے اور گا لیاں دینے سے بھی گریز نہیں کر تے۔آہ !مسلما ن تجھے کیا ہو گیا ہے ، کیا تمہیں اپنے ما لک حقیقی کے با ر گا ہ میں حا ضر نہیں ہو نا ہے ،کیا تمہیں قبر کی تا ریک کو ٹھری میں جا کر نہیں سو نا ہے ،کیا تم ہمیشہ اس فا نی دنیا میں رہو گے؟
حضو ر خطیب البرا ہین نے اس کتا ب کو تقریبا دودرجن کتا بو ں کے حوا لو ں سے مبرہن کیا ہے ،جس میں کچھ کا نا م حسب ذیل ہے۔
قرآن پا ک،بخا ری ،مسلم ،ترمذی،ابن ماجہ،مسند ابو یعلیٰ،مشکوٰۃ شریف ، ابودائود،دار قطنی،تفسیر رو ح البیان ،آداب الاخیار،روضۃ الریا حین ،فتاو یٰ عالمگیری،فتا ویٰ رضو یہ ،طبرا نی ابن عساکر،شرح الصدور، شرح الحقوق،اس کے علا وہ اس کتا ب میں دیگر دینی و مذہبی کتا بو ں کے حوا لے بھی آپ کو اس کتا ب میں دیکھنے کو ملیں گے ، مو قع ہاتھ لگے تو اس کا مطا لعہ ایک مر تبہ ضرور کریں۔
خطبا ت خطیب البرا ہین
یہ کتاب ۱۲۸؍صفحا ت پرمشتمل ہے،جو حضو خطیب البرا ہین کی تقریروں کا حسین مجمو عہ ہے، جسے آپ نے مختلف مواقع پر ملک کے مختلف گوشو ں میں مسلما نو ں کی اصلاح اور ان کے فکر و اعتقاد کے استحکام کی خا طر کیا تھا ،جس کی وضا حت فا ضل مرتب حضرت مفتی شکیل الرحمٰن مصبا حی نے ان جملو ں میں کی ہے:
زیر نظر کتا ب آ پ کے چند خطبا ت کا مجمو عہ ہے،جنھیں آڈیو کیسٹ سے نقل کرکے راقم نے مر تب کیا ہے،آپ کی تقریروں کا تر تیب دیناایک اہم کا م تھا،کیوں کہ تمام تقا ریر میں قرآن و احا دیث، اقوال ائمہ اور دلا ئل فقہاکے حو الے بکثرت تھے۔
(خطبا ت خطیب البرہین ص۱۱)
اس کتا ب میں کل سا ت مو ضوع پر دلا ئل وبرا ہین سے لبریزتقا ریر کا حسین گلدستہ آپ کو دیکھنے کو ملے گا،جن سا ت مو ضو عا ت پر یہ کتا ب مشتمل ہے وہ حسب ذیل ہیں۔
(۱)مقا م مصطفیﷺ(۲)دو نوں جہا ں ہے آپ کے قبضہ و اختیا ر میں(۳)وسیلہ مصطفی ﷺ(۴)اختیا را ت مصطفیٰﷺ(۵)علم غیب مصطفیﷺ(۶)ذا ت مصطفیﷺ احسا ن عظیم (۷) اہل بیت مصطفی۔
اس کتا ب پر ممتا ز الفقہا ،محد ث کبیر حضرت علا مہ ضیا ء المصطفیٰ قا دری دا مت برکاتہم العا لیہ سا بق صد ر المد رسین وشیخ الحدیث الجا معۃ الاشرفیہ مبا رکپو ر اعظم گڑھ یوپی،با نی جا معہ امجدیہ گھو سی اورمحقق عصر بحر العلو م حضرت علا مہ عبد المنا ن صا حب قبلہ اعظمی نو ر اللہ مر قد ہ کی تقریظا ت او ر حضرت مو لا نا عبد المبین نعما نی صا حب کی تقدیم بھی ہے۔
اس کتاب میں ہر مو ضوع پر قرآن کریم کی آیا ت، احا دیثِ نبویہ اورکتب ِفقہ و سیر کے حو ا لو ں سے تفصیلی گفتگو کی گئی ہے او ر جا بجا قرآن و حدیث کے حوا لو ں کے بعدمو قع و محل کے اعتبارسے سید نا سر کا ر اعلیٰ حضرت کے اشعا ر بھی پیش کیے گیے ہیں ،عشق رسو ل میں ڈو ب کر حا لا ت اورواقعا ت کو اس طرح پیش کیا گیاہے ،گو یا بو لنے والا ان حا لا ت و واقعات کا مشاہدہ کر رہا ہے،اسی کی نشا ن دہی کر تے ہو ئے بحرالعلوم حضرت علا مہ عبدالمنان اعظمی نو راللہ مر قدہ یوں تحریر فر ما تے ہیں:
مو لا نا اپنے بیان کی کیفیا ت میں خو د ڈوب جا تے ہیں ،اور سننے وا لوں کا یہ حا ل ہے کہ ہر شخص حیران ششدرٹکٹکی باندھے ان کا چہرہ دیکھ رہا ہے اور ان کی با تیں سن رہا ہے اور دل میں سو چ رہا ہے یا اللہ کتنا وسیع مو لا نا کا علم ہے اور کتنا قو ی ان کا حا فظہ ہے،بقول کسے ع
زبان عشق دل کی بات وہ بھی بزم واعظ میں
در و دیوار جھوم اٹھتے ہیں منبر رقص کر تا ہے
یہ کتا ب مدا ر س عربیہ کے طلبا اور اہل سنت و جما عت کے خطبا کے لئے انتہائی مفید ہے،جیسا کہ محدث کبیر علا مہ ضیا ء المصطفیٰ صا حب قبلہ قا دری با نی جا معہ امجدیہ گھو سی تحریر فر ما تے ہیں: ۔
اس طر ز تقریر میں آپ ہندوستا ن کے علمامیں امتیا زی شا ن رکھتے ہیں ،مقر رین و واعظین کے لیے صو فی صا حب کا اند زِ بیان اور ان کی روش ،اسو ہ حسنہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ (خطبا ت خطیب البرا ہین ص۷)
حضرت مو لا نا محمد نظا م الدین نو ری ایڈیٹر سہ ما ہی نو ری نکا ت بستی اس کتاب کے با رے میں یوں تحریر فر ما تے ہیں:
پڑھ کر خطبا تِ محد ث بستوی کہنا پڑا
تر جما ن اعلیٰ حضرت ہیں محد ث بستوی
(محد ث بستوی نمبرص۱۸۴)
بر کا ت روزہ
اس کتا ب کو حضورخطیب البر ہین نوراللہ مرقدہٗ نے ۱۹۷۵؁ء میں تحریرفرمایا تھا،جس کو حضرت مفتی شکیل الرحمٰن مصباحیؔ صا حب نے ۲۰۰۴؁ء میں مکتبہ بر کا تیہ نظا میہ سے پہلی با ر شائع کیا ،یہ کتاب کل ۷۲؍ صفحات پر مشتمل ہے،جس میں قرآن پا ک کے ساتھ ساتھ تفسیر ، حدیث،فقہ کی کل ۳۴؍ کتا بوں کے حوا لے مو جود ہیں،ان کتا بوں میں بخا ری،مسلم،ترمذی ابن ما جہ،ابو دائود،تفسیر کبیر،تفسیر روح البیان ،تفسیر احمدی ، تفسیر نعیمی،در مختار،فتا ویٰ رضویہ ، شا می،احیاء العلو م جیسی معتبر و ثقہ،کتا بیں شا مل ہیں،گو یا کہ طا لبا ن علم و فضل وتزکیہ نفس کے لیے معلو ما ت کا ایک بیش بہا خزا نہ ہے، جیسا کہ حضرت مو لا نا فرو غ احمد اعظمی صد ر ا لمد رسین دا رالعلو م علیمیہ جمداشا ہی بستی،اس کتا ب کی تقدیم میں کچھ اس طرح رقم طرا ز ہیں:
حو ا لو ں کا اس قدر بھر ما ر ہے کہ اگر ان حوا لوں کے درمیا ن ان کی مختصر اوردلپذیرشرح اور سا د ہ و جا مع تبصرے نکا ل دیجیے،تو بس حوا لے ہی حوا لے ہیں،اصل عربی عبا رت کے سا تھ ان کے تر جمے بھی ہیں۔(بر کا ت رو زہ ص۱۴)
اس کتاب میں آبرو ئے اہل سنت ،تا ج الشریعہ حضرت علا مہ الحا ج اختر رضا خا ن ازہری قاضی القضاۃ فی الہند کی تقریظ دعا ئو ںکے سا تھ مو جود ہے۔
اس کتاب میں روزہ ترک کرنے پر وعید ،سحر و افطار ،روزے کی قضاکے علا وہ کل ۲۴؍ عنو ان پر سیرحا صل گفتگو کی گئی ہے،رو زے کی فضیلت کے با رے میںآپ کچھ اس طر ح تحریر فر ما تے ہیں۔
رو زہ ۱۰ ؍شوا ل المکرم ۲ہجری میں فر ض ہوااور چو ںکہ رو زہ نفس پر دشوا ر تھا،اس لیے اسے آسا ن کر نے کے لئے فر ما یا گیاکہ یہ تم پر ہی فر ض نہیںبلکہ اگلی امتوںپر بھی فر ض تھا ، ذرا ہمت سے کا م لینا،کہیں اگلی امتوں کی طرح فیل نہ ہوجا ئو۔(بر کا ت رو زہ ص ،۲۵)
رو زے کی فر ضیت کے با رے میںمشکوٰ ۃ شریف کی ایک حدیث یوں نقل کی ہے۔
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَقَالَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کُلُّ عَمَلِ اِبْنِ آدَمَ یُضَاعَفُ الْحَسَنَۃُ بِعَشْرِاَمْثَالِہَا اِلیٰ سبْعِ مَائَۃٍ ضِعْف،ٍ قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ اِلَّاالصَّوْمُ فَاِنَّہٗ لِیْ وَاَنَااَجْزِیْ بِہٖ، یَدْعُ شَہْوَتَہٗ وَطَعَامَہٗ مِنْ اَجْلی، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَان،ِ فَرْحَۃٌ عِنْدَ فِطْرِہٖ وَ فَرْحَۃٌ عِنْدَ لِقَائِ رَبِّہٖ وَلَخَلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ (مشکوٰۃ ص۱۷۳)
ہر عمل کا بدلہ دس سے سا ت سو گنا تک دیا جا تا ہے،اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا مگر رو زہ میرے لیے ہے،میںخو د اس کا بد لہ دو ن گا ،بندے نے اپنی خوا ہشا ت اور کھا نے کو میرے لیے تر ک کیاہے،رو زہ دا ر کے لیے اس میں دو خو شیا ں ہیں ،ایک افطا ر کے وقت اور ایک اپنے رب سے ملا قا ت کے وقت ،رو زہ دا ر کے منھ کی بو اللہ تعا لیٰ کے نزدیک مشک سے زیا دہ پا کیزہ اور بہتر ہے۔(بر کا ت رو زہ ص ۳۱)
رو زہ نہ رکھنے وا لو ں پر وعید کا تذ کرہ کر تے ہو ئے ایک جگہ تر مذی شریف کی ایک حدیث یوں نقل فر ما تے ہیں۔
’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَ ۃَ قَا لَ قَالَ رَسُوْ لُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ اَفْطَرَ یَوْ مًا مِنْ رَمْضَا نَ مِنْ غَیْرِ رُ خْصَۃٍوَلاَ مَرَ ضٍ لَمْ یَقْضِ عَنْہٗ صَومُ الدَّھْرِ کُلَّہٗ اِنْ صَا مَہٗ‘‘
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مر وی ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے ار شا د فر ما یا جس نے رمضا ن کے ایک دن کا رو زہ بلا رخصت و مر ض افطار کیا( یعنی نہیں رکھا ) تو زما نے بھر کا رو زہ اس کے ایک دن کے رو زہ کا قضا نہیں ہو سکتا اگر چہ رکھ لے۔(بر کا ت رو زہ ص۳۵)
مذ کو رہ با لا حدیث کی رو شنی میں رمضا ن کے مہینوں میں کھلے عا م کھا نے پینے وا لوں کو نصیحت حا صل کر نا چا ہیے اور ما ہ رمضان اور اس کے روزوں کی قدر کر نی چا ہیے۔
رو زہ افطار کس چیز سے کریں،ابو دا ئو د شریف کے حوا لے سے آپ یوں تحریر فرماتے ہیں :
’’عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَا مِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْ لُ اللّٰہِﷺ اِذَا اَفْطَرَ اَحَدُ کُمْ فَلْیُفْطِرْ عَلیٰ التَّمْرِ فَاِ نْ لَمْ یَجِدِ التَّمَرَ فَعَلیٰ الْمَا ئِ فَاِ نَّ الْمَائَ طُھُوْرٌ‘‘
حضرت سلما ن بن عا مر رضی اللہ عنہ سے مر وی ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے ار شا د فر ما یاکہ جب تم میں سے کو ئی رو زہ افطا ر کرے تو کھجو ر سے افطا ر کرے اور اگر کھجو ر نہ پا ئے تو پا نی سے افطا ر کر ے کیو ںکہ پا نی پا ک ہے۔ (بر کا ت روزہ ص ۵۷)
افطا ر کی دعا کب پڑھی جا ئے اس کی وضا حت فتا ویٰ رضویہ کے حوا لے سے آپ یوں پیش فر ما تے ہیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فا ضل بریلوی قدس سرہ نے اس مو ضوع پر ایک رسا لہ مسمیٰ بہ ’’العروش المطا ر فی زمن دعوت الافطا ر‘‘تحریر فر ما یا جو فتا ویٰ رضویہ جلد چہا رم صفحہ ۶۵۲؍پر مو جو د ہے،اس میں آپ نے دلا ئل و برا ہین کی رو شنی میں اس امر کو عیاں کیا ہے،کہ حضورﷺکا معمو ل افطا ر کے بعد دعا کر نے کا تھا،مقتضا دلیل یہ ہے کہ دعا رو زہ افطار کر کے پڑھے۔ (بر کا ت رو زہ ص۵۹)
اس طرح رو زے کے متعلق مسا ئل کا تفصیلی ذکر اس کتاب میں موجود ہے ، مز ید معلو ما ت کے لیے اصل کتا ب کی جا نب رجو ع کریں۔

فلسفہ قر با نی
اس کتا ب کو حضور خطیب البرا ہین نوراللہ مرقدہٗ نے ۱۹۸۲؁ء میں مر تب کیا تھا،جو ۲۰۰۴؁ء میں پہلی با ر زیور ِطبع سے آرا ستہ ہو کر منظر عا م پر آئی۔یہ کتا ب ۴۸؍ صفحا ت پر مشتمل ہے،جو قر با نی کے مو ضوع پر نہا یت ہی ٹھو س اور جا مع دستا ویز ہے ،اس کتا ب کو حضور خطیب البرا ہین علیہ الرحمہ نے ۴۰ ؍کتا بو ں سے زا ئد حو ا لوں سے مزین کر کے تیا ر کیا ہے، جن میں صحاح ستہ کے علا وہ کتب ِتفسیر ،فقہ اور تا ریخ کی کتا بیںشا مل ہیں ،اس کتا ب میں قر با نی کی تا ریخ، قر با نی کے وجو ب ، اس کی فضیلت اور نہ کر نے پر وعیدوں کے ذکر کے سا تھ سا تھ قر با نی کے مسا ئل پر بھی رو شنی ڈ الی گئی ہے، آپ نے اس کتا ب میں ان مخا لفینِ اسلا م کی بھی خبر لی ہے جو اپنی فکری آوا رگی کی بنیا د پر قربا نی کر نے پر سو ا لیہ نشا ن لگا تے ہیں اور یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ قربا نی کر نے سے کیا فائدہ ہے؟ اگر جا نور ذبح نہ کر کے اتنی رقم قو م مسلم کی فلا ح و بہبو د کے لئے خر چ کر دیا جا ئے تو قو م کا کو ئی بڑے سے بڑا کا م ہو سکتا ہے،ایسے لو گوں کا تعا قب کر تے ہو ئے آپ ایک جگہ یوں تحریر فر ما تے ہیں:۔
انسا نی فلا ح و بہبو د ،کا میابی وکا مرا نی ،سعا دت مندی و فیرو زبختی کا را ز اطا عتِ خدا وندی میں مضمر ہے،اگر اسے کو ئی ضیاعِ وقت اور ضیاع ما ل کا نا م دے تو وہ محض اسلا م کی دشمنی ہے یعنی قربا نی جو اطا عت ہی اطا عت ہے ،ضیا ع ما ل گر دا ننا اسلا می اصو ل سے لا علمی اور اسلا م دشمنی کی وجہ سے ہے۔(فلسفہ قر با نی ص۱۳)
کو ن قر با نی اللہ کے با رگا ہ میں مقبو ل ہو تی ہے اس کے با رے میں آپ یوں تحریر فر ما تے ہیں:۔
قربا نی وہی مقبو ل ہو تی ہے جس میں اخلا ص ہو جیسا کہ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ الْمُتَّقِیْنکی تفسیر میں علا مہ سید نعیم الدین مر ا دا با دی علیہ الرحمہ تحریر فر ما تے ہیں ،ہا بیل کے اس مقو لہ کا مطلب یہ ہے کہ قربا نی کا قبو ل کر نا اللہ تعا لیٰ کا کا م ہے،وہ متقیوں کی قر با نی قبو ل کر تا ہے۔
مزید آگے یوں تحریر فر ما تے ہیں:
لَنْ یَّنَا لَ اللّٰہَ لُحُوْ مُھَا وَلاَ دِمآؤُھاوَلٰکِنْ یَّنَا لُہُ التَّقْویٰ مِنْکُمیعنی اللہ تعا لیٰ کو ہر گز ہر گزنہ ان کے گو شت پہو نچتے ہیں نہ ان کے خو ن ہاں تمہا ری پر ہیز گا ری اس تک با ریاب ہو تی ہے،یعنی قربا نی کر نے وا لے صرف نیتِ اخلا ص او ر شرو ط ِتقویٰ کی رعا یت سے اللہ تعا لیٰ کو را ضی کر سکتے ہیں۔(فلسفہ قر با نی ص۱۷)
قر با نی کا ثواب ذکر کر تے ہو ئے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی ایک روایت یوں نقل کر تے ہیں ۔
’’کَا نَ زَیْدُ بْنُ اَرْقَمٍ یَقُوْ لُ قُلْتُ یَا رَسُوْ لَ اللّٰہِ ﷺمَا لَنَا فِیْ الْاَ ضَا حِیْ فَقَا لَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍحَسَنَۃٌ قُلْتُ فَالصُّوُفُ فَقَا لَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍمِّنَ الصُّوْ فِ حَسَنَۃٌ‘‘
حضرت زید ابن ارقم رضی اللہ عنہ نے با رگا ہ رسا لت ﷺمیں عرض کیا یا رسو ل اللہ ﷺ ہما رے لیے قر با نی میں کیا ثوا ب ہے؟ تو آپ نے ارشا د فر ما یا ہر با ل کے عو ض نیکی ہے، میں نے عر ض کیا، اُون کا کیا حکم ہے؟ تو فر ما یا اُون کے ہر با ل کے بد لے نیکی ہے۔
(فلسفہ قر با نی ص۱۹)
اور جو بخل او ر تسا ہلی سے کا م لیتے ہیں قر با نی وا جب ہو نے کے با وجو د قر با نی نہیں کر تے ایسے لو گو ں کے با رے میں آپ یوں تحریر فر ما تے ہیں:۔
مسلما ن ،عا قل ،با لغ، مقیم پر قر با نی کے دن جو ما لک ہوقر با نی وا جب ہے ،ہما ری دلیل ابن ما جہ اور حا کم کی وہ روایت ہے جو حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مر وی ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے ارشاد فر ما یا ’’مَنْ کَا نَ لَہٗ سَعَۃًوَ لَمْ یَضِحْ فَلاَ یُقَرَّبَنَا مُصَلاَّنَا‘‘یعنی جس کو وسعت ہو او ر قر با نی نہ کر ے وہ ہمار ی عید گا ہ کے قریب نہ ہو (صفحہ ۲۱)
آج کل جو لو گوں میں یہ روا ج ہے کہ قربا نی کے دنو ں میں ہما رے ملک ہندو ستا ن میں اپنے غیر مسلم دو ستوں کو کھلا تے ہیں اور بطو ر تحفہ گوشت بھی دیتے ہیں آپ ایسے لو گوں کو منع کر تے ہو ئے حکم شرع یوںسنا تے ہیں:۔
قر با نی کا گو شت یہا ں کے کا فرو ں کو نہ دیں کہ یہاں کے کفا ر حر بی ہیں۔
اس کے علاوہ قربا نی کے متعلق دیگر مسا ئل کا وا فر ذخیرہ اس کتا ب میں مو جو د ہے جو متلا شیا ن علو م اسلا میہ کے لیے قا بل مطا لعہ ہے۔
فضا ئل مدینہ
یہ کتا ب ۳۲؍ صفحا ت پر مشتمل ہے، جس میں بشمو ل قرآن عظیم کل ۲۲؍کتا بوں کے حوا لے درج ہیں،اس کتا ب میں مدینہ طیبہ کی فضیلت ،اس کی بر کت اور اس سرزمین کے تقدس کے با رے میں قرآن پا ک ،احا دیث ِصا حبِ لو لا ک اورتوا ریخ و فقہ کی کتا بوںکے حوا لے سے مفصل بحث کی گئی ہے۔
اس میں حضو ر خطیب البرا ہین نو ر اللہ مر قد ہ نے مند رجہ ذیل عنو ا ن با ندھا ہے (۱)فضائل مدینہ(۲)مدینہ افضل ہے(۳)خا ک مدینہ کی انفرا دی خوبیاں (۴) مدینہ اور محبت رسول (۵) مدینہ میں اقا مت کی فضیلت(۶)محبت مدینہ اور سلف صالحین(۷)ایک شبہ کا ازا لہ اور ہر ایک مو ضوع پر مفصل بحث کی گئی ہے،یہ کتاب مختصر مگر جا مع ہے جو مدینہ منو رہ کی اہمیت و فضیلت جا ننے وا لوں کے لیے نہایت ہی مفید ہے۔
مدینہ شریف اور مکہ شریف میں کو ن افضل ہے ؟حضو ر خطیب البرا ہین علیہ الرحمہ ایک حو الہ یوں تحریر فر ما تے ہیں:
ذَھَبَ اَہْلُ مَکَّۃَ وَالْکُوْ فَۃِ اِلیٰ تَفْضِیْلِ مَکَّۃَوَھُوَ قَوْ لُ عَطَاوَ اِبن وَھَبٍ وَاِبْن حَبِیْبٍ مِنْ اَصْحَا بِ مَا لِکٍ وَ حَکَا ہُ شَا جِیْ عَنِ الشَّا فَعِیْ ۔
(شفاء شریف)
اہل کو فہ اور اہل مکہ معظمہ کا مذہب یہ ہے کہ مکہ مکر مہ مدینہ منو رہ سے افضل ہے اور یہی قو ل اما م ما لک کے اصحا ب میں سے عطا ابن وہب اور ابن حبیب کا بھی ہے، جس کو شا جی نے امام شا فعی سے حکا یت کی ہے۔
اور جن لو گوں نے مدینہ کی افضلیت کا قو ل کیا ہے ، اس میں سید نا عمر فا روق رضی اللہ تعا لیٰ عنہٗ ، سید نا اما م ما لک رضی اللہ تعا لیٰ عنہ اور ان کے مذہب کے جمہو ر علما ہیں ، حضو ر خطیب البرا ہین اس کی تفصیل یوںبیان کر تے ہیں۔
’’ذَھَبَ اِمَا مُ مَا لِکٍ وَ اَصْحَابہ اِلیٰ تَفْضِیْلِ الْمَدِیْنَۃِ وَھُوَ مَذْھَبُ عُمْرَ بْنِ خَطَّا بٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہٗ وَ کَثِیر مِّنَ الصَّحَا بَۃِ وَاَکْثراَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ‘‘(الجا مع اللطیف فی فضل مکۃ و اہلھابنا ء البیت الشریف ص ۱۵۳)
یعنی سیدنا امام ما لک اور آپ کے جمہو ر اصحا ب کا مذ ہب یہ ہے کہ مدینہ منو رہ افضل ہے اور یہی سید نا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ ، اکثر صحا بہ کرا م اور اکثر اہل مدینہ کا مسلک ہے ،علما ئے کرا م و مشا ئخ عظا م، مدینہ منو رہ کا کس قدر احترا م کر تے تھے حضور خطیب البرا ہین نو ر اللہ مر قد ہٗ شفا شریف کے حوا لے سے کچھ اس طرح نقل کر تے ہیں بعض مشا ئخ نے فر ما یا :
’’ لَوْ قَدَّ رْ تُ انْ اَمْشِی عَلیٰ رَا سِیْ مَا مشیْتُ عَلیٰ قَدْ مِیْ‘‘
یعنی اگر میں سر کے بل چل سکتا تو قد مو ں پر مدینہ کی سر زمین پر نہ چلتا۔
(فضائل مدینہ ص۱۸ )
حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا
ارے سرکا موقع ہے او جا نے والے
اسی طر ح ایک جگہ امام ما لک کا عمل یوں نقل کر تے ہیں:
کَا نَ مَا لِکٌ لاَ یَرْ کَبُ بِا لْمَدِیْنَۃِ دَآ بَّۃً وَ کَا نَ یَقُوْ لُ اسْتَحْیِ مِنَ اللّٰہِ تَعَا لی انَ اَطَا ئَ تربۃ فِیْھَا رَسُوْ لُ ا للّٰہِ ﷺبِحَا فِرٍ دَا بَّۃٍ۔
(فضا ئل مدینہ ص۱۸)
یعنی سید نا امام ما لک رضی اللہ تعا لیٰ عنہ مدینہ شریف میں سوا ر ہو کر نہیں چلتے اورفر ما تے ہیں کہ مجھے ا للہ تعا لیٰ سے شر م آتی ہے کہ سوا ری کے جا نو ر سے اس مقد س سر زمین کو پا ما ل کرو ں جہاں اللہ کے رسو ل ﷺرو نق افرو ز ہو ں۔
خو د حضو ر اکرم ﷺمدینہ منو رہ سے بے حد محبت کر تے تھے،آقا ئے کریم ﷺکو مدینہ منو رہ سے کس قدر محبت تھی ایک جگہ یو ں تحریر فر ما تے ہیں:۔
حضو ر نبی کریم ﷺ جب کسی سفر سے تشریف لا تے اور مدینہ منو رہ کے قریب پہو نچتے تو اپنی سوا ری کو کما ل ِشو قِ وصو لِ مدینہ سے تیز کر دیتے اور چا در مبا رک اپنے دوش ِمبا رک سے گرا دیتے اور یوں دعا ما نگتے ہو ئے اس میں دا خل ہو تے’’ اَللَّھُمَّ اجْعَلْ لَنَا بِھَاقَرَاراً وَ رِزْقًا حَسَنًا‘‘(رواہ شیخا ن)
اے اللہ! اس شہر کو ہما رے لیے قرا ر گا ہ بنا دے اور ہمیں خو ب صو رت رزق عطا فر ما ۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو مدینہ سے کس قدر محبت تھی آپ تحریر فر ما تے ہیں۔
حضرت عمر فا روق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اکثر دعا کر تے تھے’’ اَللَّھُمَّ ارْزُقْنِی قِتَا لاً فِیْ سَبِیْلِکَ وَ اجْعَلْ مَوْ تِیْ فِیْ بَلَدِ رَسُوْ لِکَ‘‘(روا ہ بخا ری)
یعنی یا اللہ مجھ کو اپنی را ہ میں شہا دت عطا فر ما اور میری مو ت اپنے رسو ل کے شہر میںکر۔
(فضا ئل مدینہ ص۲۵)
خا ک مدینہ کے با رے میں آپ یوں تحریر فر ما تے ہیں:
حدیث شریف میں ہے حضور ﷺنے ارشا د فر ما یا’’تُرْ بَۃُ اَرْضِنَا یَشْفِی سَقِیْمَنَا‘‘۔
(مرا ۃجلدچہارم صفحہ۲۰۲)
سچ کہا کسی کہنے وا لے نے ؎
نہ ہو آرا م جس بیما ر کو سا رے زما نے سے
اٹھا لے آئے تھو ڑی خا ک ان کے آستا نے سے
لگا لوں گا آنکھوں میں سرمہ سمجھ کر
جو مل جائے مجھ کو غبار مدینہ
خاک طیبہ اگر ملے طاہرؔ
اپنی آنکھوں میں ہم لگا ئیں گے
مختصر یہ کہ اس کتا ب میں بھی بہت کچھ ہے ہم نے بطو ر تبر ک چند جگہوں سے کچھ عبا رتوں کو نقل کر دیا ہے مزید تفصیل کے لیے اصل کتا ب سے رجو ع کریں انشا ء اللہ آپ کا دل مدینہ کے انو ر و تجلیات سے روشن و منو ر ہو جا ئے گا۔
حضورخطیب البراہین کا سفرآخرت
حضرت آدم علیٰ نبینا علیہ الصلاۃ والتسلیم سے لے کر اب تک لوگوں کی آمدورفت کا سلسلہ چلا آرہا ہے اور تاقیامت یہ سلسلہ چلتا رہے گا،جب بھی کسی ذی روح کی حیات کا وقت ختم ہوجاتا ہے تو وہ اپنی جان، جانِ آفریں کو سپرد کردیتاہے اور اپنے خالق ومالک کے اس فرمان’’اِذَا جَآئَ اَجَلہُمْ فَلاَیَسْتَقْدِمُوْنَ سَاعَۃً وَّلاَیَسْتَاخِرُوْنَ‘‘کے مطابق راہی ملک عدم ہوکر’’ کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ‘‘ کی حقیقی وسچی تفسیر بن کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملتا ہے۔ہم ان کے جانے کا غم مناتے ہیں مگر ان کے لبوں پر یہ ترانہ ہوتا ہے
آج پھولے نہ سمائیں گے کفن میں آسیؔ
جس کے جویاں تھے ہے اس گل سے ملاقات کی رات
کچھ اسی طرح کا حادثہ، ۱۴؍مارچ ۲۰۱۳؁ء مطابق یکم جمادی الاول ۱۴۳۴؁ھ بروز جمعرات صبح آٹھ بجے ہوا جب یہ المناک خبر پہونچی کہ حضور خطیب البراہین حضرت علامہ الحاج الشاہ صوفی مفتی محمدنظام الدین صاحب قبلہ رضویؔ مصباحیؔ علیہ الرحمہ اس دارفانی سے کوچ کرکے اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ذکی احمد، شخصیت اور شاعری: ایک مطالعہ

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے